ٹکٹ منڈی!
03 جولائی 2018 2018-07-03

لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں عمران خان کے ایک خیرخواہ کی حیثیت سے عین انتخابات کے موقع پر جوکہ اس کی زندگی کے اہم ترین انتخابات ہیں، آپ بیرون ملک کیوں چلے گئے ہیں؟ آپ کو اس موقع پر پاکستان ہونا چاہیے تھا۔ قارئین میں ان دنوں دوماہ کے لیے کینیڈا اور امریکہ آیا ہوا ہوں۔ میرے بیرون ملک جانے کی دو بڑی وجوہات ہیں۔ ایک یہ کہ پاکستان میں اپنی بے پناہ مصروفیات کی وجہ سے میں اپنی فیملی کو ان کے حق کے مطابق وقت نہیں دے پاتا ، لہٰذا ہر سال بچوں کو جوکہ اب اچھے خاصے بڑے ہوگئے ہیں جیسے ہی گرمیوں کی چھٹیاں ہوتی ہیں میں اُنہیں لے کر بیرون ملک چلے جاتا ہوں۔ کینیڈا میں میرے سسرال ہیں جبکہ امریکہ میں بے شمار عزیزواقارب اور دوست ہیں۔ کسی برس میرا ارادہ نہ بھی ہو، وہ بہت اصرار کرتے ہیں اور مجھے ان کی ضد کے آگے ہتھیار پھینکنا پڑتے ہیں ،....اس برس بھی میرا ارادہ انتخابات کی وجہ سے پاکستان میں ہی رہنے کا تھا۔ مگر کینیڈا سے میرے عزیز بھائی شہاب جی مصطفیٰ، شاہد، عزیز ملک اور میری بہن عائشہ جی مصطفی نے میری ایک نہیں سنی،....اور سب سے بڑھ کر میرے بیرون ملک جانے کا سبب یہ بنا کہ پی ٹی آئی نے 25جولائی کو ہونے والے عام انتخابات کے لیے ٹکٹوں کی تقسیم کا عمل شروع کردیا تھا۔ عمران خان سے میرے ذاتی ودیرینہ روابط کے باعث پی ٹی آئی کے بے شمار رہنما بلکہ دوسری جماعتوں کے کچھ رہنما بھی یہ سمجھتے تھے، بلکہ انہیں یقین تھا ٹکٹ کے لیے ان کا میرٹ نہ بھی بنا میں عمران خان سے سفارش کرکے بڑی آسانی سے اُنہیں ٹکٹ دلوا سکتا ہوں، مجھ پر اس حوالے سے پریشر بڑھتا جارہا تھا۔ اس سے چھٹکارا حاصل کرنے کے لیے میں نے بیرون ملک جانے کا فیصلہ کرلیا۔ عمران خان کے بارے میں عمومی تاثر یہ ہے وہ کسی کی سفارش قبول نہیں کرتا۔ البتہ اس کے اردگرد بے شمار لوگ اب ایسے اکٹھے ہوگئے ہیں جو سفارش کے علاوہ بھی بہت کچھ قبول کرلیتے ہیں ۔ میں اس وقت سخت حیران ہوا جب ایک دولت مند نوجوان جو پی ٹی آئی میں تازہ تازہ شامل ہواتھا میرے پاس آیا اور کہنے لگا ”پی ٹی آئی کے فلاں رہنما ٹکٹ دلوانے کے تین کروڑ مانگ رہے ہیں۔ آپ کا ان سے بہت تعلق ہے تھوڑی رعایت کروادیں۔ میں نے عرض کیا ”یہ ان کا”کاروبار“ہے اور میں کسی کے کاروبار میں مداخلت نہیں کرسکتا، ویسے بھی آپ بڑے بے وقوف انسان ہیں، آپ نے اس معاملے میں مجھے شامل کرلیا تو جو ٹکٹ تین کروڑ روپے میں آپ کو مل رہا ہے وہ بھی نہیں ملے گا“۔....2013ءکے انتخابات میں ہمارے ایک محترم قلم کار بھائی بھی اس حوالے سے بڑے بدنام ہوگئے تھے۔ انہوں نے دو چار امیدواروں سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ دلوانے کے بدلے ایڈوانس بھاری رقوم پکڑلی تھیں۔ ایک دو ٹکٹیں انہوں نے دلوابھی دی تھیں۔ پھر یہ بات عمران خان کے نوٹس میں آگئی اور وہ ان کی سفارش پر ٹکٹ دینے کے معاملے میں ذرا محتاط ہوگئے۔ مجھے یاد ہے اس وقت مجھے ایک سابق آئی جی پنجاب نے فون کیا اور کہا اس قلم کار نے ان کے ایک عزیز سے پی ٹی آئی کا ٹکٹ دلوانے کے بدلے میں ایڈوانس پچاس لاکھ پکڑلیے ہیں۔ پچیس لاکھ بعد میں دینے تھے۔ وہ انہیں ٹکٹ نہیں دلوا سکے۔ اب پیسے بھی واپس نہیں کررہے، آپ اس سلسلے میں ہماری مدد کریں “.... میں نے ان کی خدمت میں عرض کیا ”اگر آپ کے اس عزیز نے پیسے مجھ سے پوچھ کر دیئے ہوتے میں ضرور اس کی مدد کرتا اور اس کو رقم واپس لے کر دیتا“ .... 2013ءکے انتخابات میں بھی عمران خان کے کچھ قریبی لوگوں نے ٹکٹوں کا کاروبار خوب چمکایا، اس بار تو انتہا ہی ہوگئی، حتیٰ کہ جن کے میرٹ پر ٹکٹ بنتے تھے انہیں بھی بھاری رقوم دینا پڑیں ،....عمران خان چونکہ خود ایماندار آدمی ہے وہ سب کو اپنی طرح کا ایماندار ہی سمجھتا ہے۔ یا پھر ممکن ہے وہ اس یقین میں مبتلا ہوگیا ہو سارے کا سارا معاشرہ ہی بے ایمان ہے وہ فرشتے کہاں سے ڈھونڈ کر لائے ؟۔ یہ بھی ہوسکتا ہے وہ یہ سوچتا ہو مجھے قبر میں صرف اپنی ایمانداری کا حساب دینا ہے لہٰذا میری ناک کے نیچے کچھ لوگ مسلسل بے ایمانی کررہے ہیں مجھے اس سے کیا فرق پڑتا ہے.... اس بار چونکہ اس کے بارے میں یا پی ٹی آئی کے بارے میں یہ تاثر قائم ہوگیا ہے کہ وہ اقتدار میں آنے والی ہے یا لائی جانے والی ہے تو اس سے نہ صرف پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کے خواہشمندوں کی تعداد اچانک بڑھ گئی ہے بلکہ ریٹ بھی پہلے سے دگنا ہوگیا ہے۔ پاکستان کے سیاسی کلچر میں اب بھاری رقوم لے کر ٹکٹیں جاری کرنے کے عمل کو بُرا نہیں سمجھا جاتا، کچھ روز پہلے کپتان نے اپنے ایک بیان میں فرمایا تھا ”نون لیگ
نے ڈیڑھ ڈیڑھ کروڑ میں ٹکٹ فروخت کیے“ شکر ہے اس نے یہ نہیں کہہ دیا ”ہم نے سارے کے سارے ٹکٹ میرٹ پر مفت دیئے ہیں ورنہ اس کے بارے میں تھوڑا بہت تاثر جو باقی رہ گیا ہے کہ وہ جھوٹ نہیں بولتا ہمیشہ کے لیے ختم ہوجاتا۔ ....ٹکٹوں کے حوالے سے کچھ اور ناانصافیاں بھی ہوئیں۔ پارٹی کے بے شمار پرانے اور مخلص کارکنوں اور رہنماﺅں کو نظرانداز کرکے ”اُوپر“ سے نازل ہونے والوں کو نواز دیا گیا۔ چوبیس سالہ سیاسی جدوجہد کے بعد ہمارا دوست عمران خان اب اس یقین میں مبتلا ہوگیا ہے، بلکہ اس پر ایمان لے آیا ہے کہ پاکستان میں ”فرشتوں“ کی مدد کے بغیر یا ان کی سرپرستی حاصل کیے بغیر اقتدار میں آنا یا وزیراعظم بننا ناممکن ہے۔ اب نظریاتی سیاست کو چھوڑ کر روایتی سیاست کے راستے پر چل پڑا ہے ، اصل میں وہ کسی صورت میں ہارنہ ماننے والا بڑے مضبوط اعصاب کا مالک انسان ہے ۔....میں اس کی جگہ ہوتا ایک پریس کانفرنس کرتا کہ ”چوبیس برسوں میں پوری کوشش کے باوجود میں اپنے عوام کے دل و دماغ بدلنے میں کامیاب نہیں ہوسکا۔ قرآن پاک کے اس فرمان کے مطابق کہ ”جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران اس پر مسلط کردیئے جائیں گے“ میں اب بھی اس یقین میں مبتلا ہوں میری جماعت اقتدار میں نہیں آسکتی ، یا میں وزیراعظم نہیں بن سکتا، لہٰذا بجائے اس کے خاص مقاصد رکھنے والے کچھ ”فرشتوں“ کے کندھوں پر سوار ہوکر یا ان کا سہارا وغیرہ لے کر میں اقتدار میں آﺅں، یا وزیراعظم بنوں، میں سیاست چھوڑنے کا اعلان کرتا ہوں“ بہرحال اب وہ جیسے بھی اقتدار میں آیا، اگر اس کی نیت واقعی ملک اور قوم کی تقدیر بدلنے کی ہے، ادارے مضبوط کرنے کی ہے۔ کرپشن ختم کرنے کی ہے، میرٹ دیانت اور انصاف کا بول بالا کرنے کی ہے ہم اس کے لیے دعا گو ہیں اور ہمارا تعاون بھی کسی نہ کسی صورت میں اسے حاصل رہے گا، اور اگر اقتدار میں آنے کے بعد اس نے بھی سابقہ حکمرانوں کے راستے پر ہی چلنا ہے جس کی ہمیں بہت کم اُمید ہے تو ہمارا قلم اس کے خلاف بھی ویسے ہی چلتا رہے گا جیسے سابقہ حکمرانوں کی بدنیتیوں اور بددیانتیوں کے خلاف چلتا رہا ہے، ہماری دعا ہے سیاسی مقاصد رکھنے والی خفیہ قوتوں کو بھی اللہ اب ہدایت دے اور وہ عمران خان کو اس کی سوچ کے مطابق کام کرنے کی اجازت عنایت فرما دیں اور اپنی اس روایت کو دفن کردیں کہ اپنی انفرادیت قائم رکھنے کے لیے کسی اور شخصیت اور ادارے کو پنپنے پا پھلنے پھولنے ہی نہیں دینا ،.... جہاں تک پی ٹی آئی کی ٹکٹوں کے حوالے سے ناانصافیوں کا شکار ہونے والے کارکنوں اور رہنماﺅں کا تعلق ہے اس پر اگلے کسی کالم میں تفصیل سے بات کروں گا، ان کے اس مو¿قف میں بڑی جان ہے کہ ہماری پارٹی ہمیں ٹکٹ نہ دیتی کم ازکم عزت تو دیتی !


ای پیپر