اتنا عجیب ہوں کہ بس۔۔۔!!!
03 جولائی 2018 2018-07-03

8مئی کو اپنے کالم ”اربوں کے کمیشن سے ہزار کے ایزی لوڈ تک“ میں عرض کیا تھا کہ آئندہ عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کے ٹکٹ کے خواہش مند افراد کی تعداد بہت زیادہ کم ہو جائے گی اور مسلم لیگ (ن) کو شاید کئی حلقوں سے امیدوار نہ مل سکیں۔اسی کالم کی آخری نو سطروں میں عرض کیا تھا کہ چوہدری نثار علی خان اگلے انتخابات میں آزاد امیدوار کے طور پر حصہ لیں گے اور بعد میں یہ بھی لکھا کہ وہ دیگر آزاد امیدواروں کے گروپ کی سربراہی کرتے ہوئے بلوچستان کی نئی سیاسی جماعت اور جنوبی پنجاب کے امیدواروں کیساتھ مل کر اہمیت اختیار کر جائیں گے تو جناب چوہدری نثار علی خان آزاد حیثیت میں انتخاب میں سامنے آئے ہیں اور ان کو انتخابی نشان ”جیپ“الاٹ “ ہوا ہے اور کیا ”حسن اتفاق“ ہے کہ پنجاب میں بہت سارے امیدوار مسلم لیگ (ن) کی ٹکٹ واپس کر چکے ہیں اور کئی ایک نے تو ٹکٹ جمع نہ کرا کر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ایسا ہاتھ کیا ہے کہ وہ متبادل امیداوار بھی سامنے نہیں لا سکی اور ان امیدواروں میں سے اکثریت کا انتخابی نشان بھی ”جیپ“ ہے۔ ”جیپ“ کے نشان یا ”جیپ گروپ “ کی باتیں اب سارے ٹی وی چینلز بھی کرنا شروع ہو گئے ہیں اور کہا یہ جا رہا ہے کہ ”شیر“کا شکار ”جیپ“ پر بیٹھ کر کھیلا جائیگا ‘ اب سوال یہ ہے کہ شکار کس ہتھیار سے ہو گا تو سیدھے سوال کا سیدھا جواب تو ”تیر“ یا تلوار ہی بنتا ہے لیکن اب یہ کہانی لکھنے والے کی مرضی ہے کہ وہ یہ شکار ”تیر“ کے بجائے ”بلے“ کے ذریعے کرتے ہوئے کہانی میں دلچسپی قائم رکھنے کا سامان کرے کیونکہ ”تیر“ اور ”جیپ“ کے ملاپ کے لئے کئی غیر فطری افعال سرانجام دینے پڑیں گے اور کہانی میں الجھاﺅ رہے گا۔ کامن سینس کے مطابق میاں شہباز شریف ایسے کسی منظر نامے میں قائدحزب اختلاف یا اپوزیشن لیڈر کے طور پر اپنی صلاحیتوں کا اظہار کرتے نظر آئیں گے جبکہ بلاول بھٹو زرداری سیاست کے عملی رموز سے آشنائی حاصل کرنے کیلئے ان کے ساتھ کھڑے ہونگے،جبکہ شاطر کھلاڑی آصف علی زرداری ان کی پشت پناہی کیلئے دستیاب ہونگے ، اس طرح سے میاں شہبازشریف بھاءجی طرف سے کیے گئے نقصان کی تلافی اور اعتماد کی بحالی کیلئے کام کریں گے ، جب کہ بلاول موقع کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ان تمام سیاستدانوں کی چالوں کو دیکھ کر سمجھنے اور سیکھنے کی کوشش کریں گے ۔ اب اس تھیوری کے مطابق پنجاب بھی شریف برادران کے ہاتھوں سے نکل جائیگا ، کیونکہ جیپ اور بلے کی سودے بازے میں پنجاب بطور بارگین چپ استعمال ہو گا۔
28فروری 2018کے کالم ” نوازشریف کا نیا بیانیہ“ میں ہنگ پارلیمنٹ کی تھیوری تحریر کی تھی جس کے مطابق آئندہ انتخابات میں پہلے نمبر والی جماعت کے پاس سو کے لگ بھگ نشستیں ہو نگی ، لیکن ملک کی اقتصادی اور معاشی مشکلات کو دیکھتے ہوئے لگتا ہے کہ ”سکرپٹ رائٹر “ کچھ تبدیلیوں کا سوچ رہا ہے ۔ جس کے تحت اس بارے میں غور کیا جا رہا ہے کہ ہنگ پارلیمنٹ ہمارے موجودہ مسائل کا حل نہیں ، اور یہی سب کچھ دیکھتے ہوئے میاں شہبازشریف نے قومی حکومت بنانے اور نئے عمرانی معاہدے کی تشکیل پر بھی آمادگی ظا ہر کی ہے ، جس کا مطلب یہ ہے کہ شریف فیملی اپنے سابقہ بیانیے کے بارے میں اب کچھ زیادہ پر اعتماد نہیں رہی ۔ اسی لےے پنجاب کی ترقی کے نام پر ووٹ مانگنے کی مہم شروع کی جا رہی ہے لیکن میرے ذاتی خیال میں ترقیاتی کاموں کی بنیاد پر اگر ووٹ ملتے تو مسلم لیگ (ق)2008ءکے انتخابات میں کبھی شکست سے دوچار نہ ہوتی آج بھی لاہور کو نکال کر پنجاب میں پرویز الٰہی کے کئے ہوئے کام شہباز شریف سے زیادہ ہوں گے۔ میاں شہباز شریف کی یہ پیش کش تھوڑی تاخیر سے سامنے آئی ہے اور لگتا یہ ہے کہ مسلم لیگ (ن) کو میاں نواز شریف جو نقصان پہنچا سکتے تھے وہ پہنچ چکا ہے لیکن یہ بات بھی ذہن میں رکھیں کہ اگر میاں نواز شریف یا کم از کم مریم نواز شریف موجودہ انتخابات کی مہم میں خود شریک نہ ہوئے تو مسلم لیگ (ن) کا مزیدنقصان ہو جائے گا ایسی صورت میں شاید اپوزیشن لیڈر بھی مسلم لیگ (ن) اپنا نہ بنا سکے۔
گذشتہ روزبلاول بھٹو زرداری کے جلوس پرلیاری میں پتھراﺅ کے ذریعے ایک پیغام توعوام نے دیاکہ اب وہ اپنے مسائل کے حل میں مزیدتاخیربرداشت نہیں کرسکتے لیکن اس میں بین السطورایک اورپیغام بھی ہے کہ انتخابات کے انعقاد پرشکوک کے سائے ا بھی ٹلے نہیں ہیں ۔ملتان میں ”محکمہ خوراک“کی کارروائی نے مسلم لیگ(ن) کے احتجاجی غبارے میں سے ہوانکالنے کی کوشش کی ہے لیکن ایسی کارروائیاں مسلم لیگ(ن) کوانتخابات کے بائیکاٹ پر بھی مجبورکرسکتی ہیں کیونکہ طلال چوہدری ،احسن اقبال کیخلاف توہین عدالت کی سماعت ابھی جاری ہے جبکہ شنید یہ ہے کہ حلقہ 57سے شاہد خاقان عباسی کوملنے والا ریلیف بھی عارضی ہے ۔مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کے علاوہ کوئی سیاسی جماعت یا سیاستدان انتخابات کے بائیکاٹ کا نہیں سوچ رہا کیونکہ میاں نواز شریف کے پاس اب کھونے کے لئے کچھ بھی نہیں بچا۔باقی میاں شہبازشریف سمیت سب کوان انتخابات سے کچھ نہ کچھ ملنے کی امید ہے ،میاں نوازشریف جوکامرانی اورفتوحات کے گھوڑے پرسوارتھے بالآخر کسی یونانی یاہندوستانی قدیم دیومالائی داستان کے کردارکی طرح خود اس گھوڑے میں تبدیل ہوگئے ہیں جسے ”دولتی“مارنے کی عادت نے ”بم“کو”دولتی“مارنے پرمجبور کردیا تھا۔”کھیڈاں گے نہ کھیڈن دیاں گے“کی پالیسی نے میاں نواز شریف توافورڈ کرتے ہیں لیکن یہ عرض کرتاہوں کہ اگر اس بائیکاٹ یا کسی اوروجہ سے یہ انتخابات ایک مرتبہ مﺅخر ہوگئے تو پھر گیم سیاستدانوں کے ہاتھوں سے نکل جائے گی اورایسی صورت میں جو ”واحدشخصیت“انتخابات کے بروقت انعقاد پرتلی ہوئی ہے اس کی مدت ملازمت میں شاید یہ انتخابات نہ ہوسکیں۔رہے نوازشریف تو وہ جون ایلیا کے اس کلام کی چلتی پھرتی تفسیر ہیں۔
میں بھی کتنا عجیب ہوں
اتنا عجیب ہوں کہ بس
خود کوتبا ہ کرلیا
اورملال بھی نہیں


ای پیپر