Prime Minister, Imran Khan, basic needs, nation, PTI government
03 جنوری 2021 (13:36) 2021-01-03

حکمرانوں کو علم ہونا چاہیے کہ قوم اعدادوشمار کے گورکھ دھندے کی بجائے آتشِ شکم کی سیری چاہتی ہے۔ زمانہ بھی اُنہی کو یاد رکھتا ہے جو دریائے فرات کے کنارے مَر جانے والے کتّے کی روزِقیامت پُرسش سے لرزہ بَراندام ہوتے ہیں۔ قوم یہ نہیں سمجھتی کہ ’’جو جیتا وہی سکندر‘‘ بلکہ اُس کا سکندر تو وہی جو اُن کے پیٹ کی آگ بجھانے کی تگ ودَو کرے۔ وزیرِاعظم صاحب نے فرمایا کہ اُن کا 2 لاکھ روپے ماہانہ میں گزارا نہیں ہوتا حالانکہ گھر اُن کا اپنا اور حکومت کی طرف سے دنیاجہان کی ساری سہولیات میسر۔ پھر معمولی تنخواہ پانے والا ایک شخص کیسے گزارا کرتا ہوگا جس نے اپنے بچوں کا پیٹ بھی پالنا ہے، اُن کی صحت پر دھیان بھی دینا ہے، اُن کی تعلیم پر بھی خرچ کرناہے، مکان کا کرایہ اوریوٹیلٹی بلز بھی ادا کرنے ہیں۔ غریب تو اِس آس پہ جیتا ہے کہ حاکمانِ وقت اُس کی مجبوریوں کو سمجھتے ہوںگے لیکن یہ بھولے پنچھی کیا جانیں کہ سینکڑوں کنال پر محیط پُرتعیش محلوں میں رہنے والے جانتے ہی نہیں کہ مفلسی کا درد کیا ہوتاہے۔ 

وزیرِاعظم فرماتے ہیں ’’تبدیلی یہ ہے کہ جو بڑے بڑے نام ہیں وہ جیلوں کے چکر کاٹ رہے 

ہیں‘‘۔ کیا ایسی تبدیلی سے پیٹ بھرا جا سکتاہے؟۔ کیا یہی وہ تبدیلی ہے جس کا نعرہ لگا کر خاں صاحب مسندِ اقتدار تک پہنچے۔، کیا اِسی کو تبدیلی کہتے ہیں کہ قوم کو بھوک کی جیل میں ٹھونسنے کا ہر حربہ استعمال کیا جائے؟۔ چوروں، ڈاکوؤں کے دَور میں تو یہ عالم نہ تھا۔ 2014ء میں 300 ڈالر ماہانہ کمانے والوں کی تعداد لگ بھگ 5 ملین تھی جو ’’چوروں ڈاکوؤں‘‘ نے 2018ء تک 16 ملین کر دی اور ’’صادق وامین‘‘ نے صرف ایک سال (2019) میں پھر 5 ملین تک پہنچا دیا۔ یہ 11 ملین جو خطِ غربت سے نیچے پہنچے،اُس میں چوروں ڈاکوؤں کا تو کوئی قصور نہیں تھا اور نہ ہی اُس وقت تک کورونا پھیلاتھا۔ 100 دنوں میں قوم کی تقدیر بدلنے والے اب یہ کہتے ہیں کہ قوم میں صبر نہیں۔ واقعی قوم میں صبر نہیں جو کسی بھی انقلاب کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتاہے۔ اب ہر لب پہ یہی سوال ہے کہ کیا چوروں ڈاکوؤں کی حکومت بہتر نہیں تھی جس میں لوگوں کو کم ازکم پیٹ بھر کر کھانا تو نصیب ہوتاتھا۔ 

حکمرانوں کا دعویٰ ہے کہ پچھلی حکومتوں نے ملک کو قرضوں کے بوجھ تلے ایسا دبایا کہ جب زمامِ اقتدار اُن کے ہاتھ میں آئی تو اُن کے ہاتھ پاؤں پھول گئے اور حالت یہ ہو گئی کہ ’’نے ہاتھ باگ پر ہے نہ پا ہے رکاب میں‘‘۔ لیکن اعدادوشمار چغلی کھاتے ہیں کہ حقیقت اِس کے برعکس ہے۔ جب میاں نوازشریف کی حکومت کا خاتمہ ہوا تو پاکستانیوں کی مجموعی آمدن 312 ارب ڈالر تھی جو تحریکِ انصاف کے 2 سالوں میں 264 ارب ہوگئی۔ نوازلیگ نے جتنا 5 سالوں میں قرضہ لیا، تحریکِ انصاف کی حکومت نے اُتنا 2 سالوں میں لے لیا۔ یہ ’’اعزاز‘‘ بھی تحریکِ انصاف ہی کے حصّے میں آیا کہ اُس نے پاکستان کے لیے حاصل کیے گئے 70 سالوں کے قرضے میں 40 فیصد تک کا اضافہ کیا۔ قرضہ تو ہر حکومت نے لیا اِس لیے اگر تحریکِ انصاف کی حکومت نے آئی ایم ایف کا دَر کھٹکٹایا تو کچھ برا نہ کیا۔ سوال مگر یہ ہے کہ اتنا زیادہ قرضہ لینے کے باوجود مہنگائی نے تاریخِ پاکستان کی ساری حدیں کیوں پار کر دیں۔ اِس کا سیدھا سادا جواب تو حکمرانوں کی نااہلی ہے جسے وہ کبھی تسلیم نہیں کریں گے۔ اب اُن کا یہ بیانیہ کہ ’’نہیں چھوڑوںگا‘‘ اور ’’این آراو نہیں دوںگا‘‘ بھی پِٹ چکا۔ قوم ٹرک کی بَتی کے پیچھے لگنے کو تیار نہ اُس کا طفل تسلیوں پر اعتبار۔ یہی وجہ ہے کہ اپوزیشن جس کی ’’اپنی اپنی ڈفلی، اپنا اپنا راگ‘ ‘ عوام کی اُس کے جلسوں میں بھی بھرپور شرکت ہوتی ہے۔ اب حکمران نیب کے سہارے اپوزیشن رَہنماؤں کو جیلوں میں ٹھونس رہے ہیں لیکن اُنہیں ادراک ہی نہیں کہ اگر ساری اپوزیشن بھی جیلوں میں چلی جائے تو پھر بھی یہ تحریک اُس وقت تک نہیں رکے گی جب تک ہر پاکستانی کی روزی روٹی کا بندوبست نہیں ہوتا۔ اِس حکومت کی آدھی مدت گزر چکی لیکن تا حال بہتری کی کوئی صورت نظر نہیں آتی اور نہ ہی مستقبل میں اِس سے کوئی اُمید کی جا سکتی ہے۔ سوال یہ ہے کہ اگر یہ حکومت اپنی آئینی مدت پوری کر بھی لیتی ہے تو پھر بھی 2023ء کے عام انتخابات میں کیا مُنہ لے کر قوم کے پاس جائے گی۔ وزیرِاعظم صاحب نے اپنے گرد وہ سارے دوست اکٹھے کر لیے جو بیرونی ممالک سے پاکستان آئے۔ تحقیق کہ جب اِس حکومت کو زوال آیا تو وہ سبھی اپنے اپنے بیگ اُٹھا کر اپنے وطن کھسک جائیںگے اور باقی رہ جائے گی تحریکِ انصاف جس میں قوم کا سامنا کرنے کی ہمت نہیں ہوگی۔ 

اپوزیشن کی تحریک کو رکھئیے ایک طرف کہ وہ شاید مسندِ اقتدار کی تگ ودَو میں ہو لیکن کسی بھی حکومت کو کارکردگی کی بنیاد پر ہی ووٹ ملتا ہے۔ خاںصاحب کے اقتدار میں آنے سے پہلے پروپیگنڈا یہ کیا گیا کہ جونہی وہ اقتدار سنبھالیں گے سارے مسائل چٹکیوں میں حل ہو جائیں گے۔ سارا الیکٹرانک میڈیا خاںصاحب کی تعریف میں زمین آسمان کے قلابے ملاتا رہا۔ اُن کے جلسوں کی کئی کئی گھنٹے لائیو کوریج ہوتی رہی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش کی جاتی رہی کہ بیرونی ممالک میں پڑا ہوا 200 ارب ڈالر واپس لایا جائے گاجس سے نہ صرف سارے قرضے اُتر جائیں گے بلکہ ٹیکس فری بجٹ بھی پیش کیا جا سکے گا۔ خود خاںصاحب کا یہ فرمان تھا کہ بیرونی ممالک کے شہری پاکستان میں نوکریاں ڈھونڈنے آئیں گے۔ ملازمت کے سارے دَر کھُل جائیں گے اور ہر گھر کو چھت فراہم ہوگی۔ سکولوں کی حالت بہتر ہو جائے گی اور ہسپتال بین الاقوامی معیار کے ہوجائیںگے۔ وی آئی پی کلچر کا خاتمہ ہو گا اور تھانہ کچہری کا کلچر یکسر بدل دیا جائے گا۔ بصد ادب سوال ہے کہ کیا کوئی ایک شعبہ بھی ایسا تھا جس نے اپنی کارکردگی کے جھنڈے گاڑے۔ آج اُسی ڈی پی او عمرشیخ کی چھٹی کروا دی گئی جس کی تعریف خود وزیرِاعظم صاحب نے ایک انٹرویو میں کی ۔ ہسپتالوں کی حالت تو کیا بہتر ہوتی البتہ ادویات کی قیمتوں کو عوامی پہنچ سے دور کر دیا گیا۔ ملازمتیں دینے کی بجائے چھین لی گئیں اور گھروں کو مسمار کر دیا گیا۔ یوٹیلٹی بلوں میں ہوشربا اضافے نے شہریوں کی کمر توڑ دی۔ اشیائے خورونوش آسمان سے باتیں کرنے لگیں۔ آٹا نایاب ہوااور 53 روپے کلو بکنے والی چینی 110 روپے تک پہنچ گئی۔ کہا گیا کہ پاکستان میں چینی وافر مقدار میں موجود ہے اِس لیے ایک ملین ٹَن چینی برآمد کرنے کی نہ صرف اجازت دی گئی بلکہ اُس پر سبسڈی بھی دی گئی۔ جس کا بھرپور فائدہ تحریکِ انصاف کے رَہنماؤں نے اُٹھایا۔ جب چینی کی قلت ہوئی تو یہ دعویٰ کر دیا گیا کہ پاکستانیوں نے صرف ایک ماہ میں معمول سے پانچ گنا زیادہ چینی استعمال کی جس کی وجہ سے یہ بحران پیدا ہوا۔ گویا وہ پاکستانی جو 4 لاکھ ٹن چینی استعمال کرتے تھے، اُنہوں نے 20 لاکھ ٹن چینی استعمال کر لی۔ اب پاکستان میں گیس کا بحران ہے۔ اینکر شاہ زیب خانزادہ متواتر اِس بحران کی نشاندہی کرتا چلا آیا لیکن حکمرانوں کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگی۔ اب مہنگی ترین ایل این جی خریدی جا رہی ہے۔ گیس کی عدم دستیابی کی بنا پرڈیزل اور فرنس آئل سے مہنگی ترین بجلی پیدا کی جا رہی ہے۔ اِسی لیے بجلی کی فی یونٹ قیمت آسمانوں سے باتیں کر رہی ہے۔ حماقتیں حکمرانوں کی اور بھگتنے والے عوام کہ ہمیشہ نزلہ بَر عضوِ ضعیف می ریزد۔ 


ای پیپر