درانی اور میرانی
03 جنوری 2021 2021-01-03

 آج کل سابق وزیر اطلاعات جناب محمدعلی درانی ملکی سیاست میں کافی فعال نظر آرہے ہیں اور ٹی وی کا جو بھی چینل کھولا جائے، وہ آپ کو ارشاد احمد بھٹی کی طرح ہرجگہ بیٹھے دکھائی دیتے ہیں، تاہم ارشاد احمد بھٹی سے وہ اس حوالے سے قدرے مختلف ہیں کیونکہ بھٹی صاحب تو تبصرہ کرتے ہوئے واضح جواب اور اپنی رائے دینے کے بجائے خوبیاں خامیاں گنوانے کی نظم سنا کر مثلاً بال بچاﺅ، مال بچاﺅ، کھال بچاﺅ، کہہ کر اور الفاظ کے گورکھ دھندوں میں ناظرین وسامعین کو اس طرح سے الجھا دیتے ہیں اگر پیچھے میوزک لگا دیا جائے، تو لوگ سٹوڈیووالے بھی ان کو بلالیں گے۔ اور خود طرح دے کر بال کی کھال نکالنے کے جرم بے لذتی سے نکل جاتے ہیں شاید وہ حضرت ابوسفیانؓ کے مریدین حسن ظن سے ہیں، جو یہ فرماتے ہیں کہ عمل صالح وہ ہے کہ جس پر لوگوں کی ثنا کی امید نہ رکھی جائے، قارئین، ایک بات جو میں اب سمجھنے سے قاصر نہیں، بلکہ آپ کی طرح مجھ کو بھی سمجھ آتی جارہی ہے کہ نہ تو ارشاد احمد بھٹی کا تجربہ، ملک کے سینئر ترین تبصرہ نگار ،کالم نگار اور ناقدین میں ہوتا ہے، تو پھرکون سی ایسی طاقت ہے، کون سی ایسی خلائی مخلوق ہے، اور کون سا ایسا محکمہ زراعت ہے، جو ان کی پشت تھپتھپاتا نظرآتا ہے، ویسے ”چڑیا“ کو بیچ میں ڈالے بغیر آپس کی بات ہے، کوئی طاقت تو ہے، کہ جو بیرون ملک سے بدیسی بندہ بلا کر اسے وزارت عظمیٰ کی مسند پہ لا بٹھاتی ہے، اس کے لیے ایک دانشور اور کالم نگار، مسلط کردینا کون سی بڑی بات ہے۔ 

ہماری تاریخ بتاتی ہے کہ وطن عزیز میں حکومت، اور حزب اختلاف ”لفظ اختلاف“ پہ ذرا غور فرمائیے، کہ اختلاف اس قدر بڑھ جاتا ہے کہ 1965ءاور 1971ءکی پاک بھارت جنگ یاد آجاتی ہے، قارئین کرام، میری بھٹی صاحب سے کوئی ذاتی دشمنی نہیں ہے، مگر یہ وہ سوال ہے کہ جو میرے ہم عصر کبھی کبھی مجھ سے پوچھ لیتے ہیں کہ جس روزنامے میں وہ کالم لکھتے ہیں، ان میں تو ان سے زیادہ سینئر صحافی موجود ہیں، تو پھر وجہ پذیرائی کیا ہے؟ چلیں چھوڑیں اگر ارشاد احمد بھٹی بھی کسی کو ناراض نہیں کرتے تو میں ان کوکیوں ناراض کروں، ذکر اگر کرنا ہی تھا، تو دُلا بھٹی کا ذکر کرلیتا، جسے میرے ہم وطن دیکھتے ہی دیکھتے فراموش کرنے لگ گئے ہیں، دلا بھٹی اکبر بادشاہ کے دور کے ایک حقیقی کردار ہیں، اکبر بادشاہ اور ان کے بیٹے شیخو، شیخو ، پیار سے اکبر بادشاہ جہانگیر کو کہتے تھے، اکبر بادشاہ چونکہ خود ایک متنازعہ شخصیت رہے ہیں، کیونکہ ان کے بارے میں مسلمان اور ہندو دونوں مختلف رائے رکھتے ہیں، دلا بھٹی اور جہانگیر بادشاہ ہم عمرتھے اور ایک ہی دن پیدا ہوئے تھے، اکبر بادشاہ کو حساب کتاب لگانے والے جوتشیوں نے بتایا، کہ اگر جہانگیر کو راجپوت خاندان کی کوئی عورت دودھ پلائے، تو وہ بہادر اور دلیر بنے گا، اس لیے جہانگیر کو دلا بھٹی کی والدہ کے سپرد کردیا گیا اور اس نے انہیں دودھ پلانا شروع کردیا، اور اس طرح سے تو دلا بھٹی اور جہانگیر رضاعی بھائی بھی بن گئے تھے، مگر قارئین یہاں یہ بات آپ کیلئے شاید نئی اور دلچسپ ہوگی کہ اکبر بادشاہ نے چونکہ بہت زیادہ ٹیکس لگادیا تھا تو دلا بھٹی کے باپ دادا نے اس پر شدید احتجاج کیا تھا، جس کی بناپر اکبر نے ان کو قتل کرادیا تھا۔ لہٰذا دلا بھٹی نے اس کے خلاف علم بغاوت بلند کردیا، دلا بھٹی کا تعلق چونکہ پنجاب سے تھا، اس لیے وہ پنجابیوں کا ہیرو بن گیا، اس کے بارے میں بھی بیک وقت نظریات سامنے آئے، حکومت وقت نے اس کو باغی اور ڈاکو قرار دیا، جبکہ وہ عوام الناس میں سخی، دلیر اور ہیروسمجھا جاتا تھا، کیونکہ وہ امیروں اور قافلوں کو لوٹ کر وہ غریبوں میں بانٹ دیا کرتا تھا، اور اس طرح سے انہوں نے پنجاب کے لوگوں کا دل جیت لیا تھا، اور پنجابی بھی ان پہ دل چھڑکتے تھے، اور اس کے لیے ہمیشہ دعاگورہتے تھے، یہ بات اکبر بادشاہ کے لیے انتہائی دکھ اور قلق کے باعث تھی اور اس کی شہرت اکبر بادشاہ کے دل میں کانٹا بن کر چبھتی رہتی تھی، بالآخر جب اس سے برداشت نہ ہوسکا، تو اکبر بادشاہ نے سرعام اس کو پھانسی پہ لٹکا دیا، اور پھانسی بھی اس کو لاہور میں دی گئی۔ دلابھٹی نے اکبر جیسے شہنشاہ کے سامنے رعایا پہ لگے، اور خصوصاً پنجاب پہ لگے ٹیکس کے خلاف نعرہ مستانہ بلند کیا تھا کیا موجودہ دور کے ارشاد احمد بھٹی کا دل انہیں موجودہ حکومت کی مسلط کردہ مہنگائی جو صرف اور صرف روپے کے مدر ڈالر کے مقابلے میں یک دم چار گنا کم کردینے سے بے پناہ اور ناقابل برداشت اضافہ کردیا جس کی وجہ سے اشیائے ہائے ضروریات کی قیمتیں آسمان کو چھونے لگیں ہیں حتیٰ کہ ریاست مدینہ کا نام لینے والے کے وطن میں دریائے دجلہ کے کتے کی بات چھوڑیں، شہر لاہور کے دریائے راوی کے کنارے بندے خودکشیاں کرنے لگے ہیں کچھ دن پہلے مہنگائی کے ہاتھوں جس شخص نے اپنی، بیوی، بچوں کو نہر میں پھینک کر ہلاک کردیا تھا، کیا روز محشر اس کا جواب اللہ سبحانہ وتعالیٰ ذمہ داران خودکشی سے نہیں لے گا ؟

 مختصراً محض میں یہی گزارش کروں گا کہ ارشاد احمد بھٹی اور مسلم لیگ فنکشنل کے محمدعلی درانی جو خاصے عرصے کے بعد فنکشنل ہوگئے ہیں ان کے دورکے ان سے بہتر آفتاب شعبان میرانی نکلے جن پہ کوئی انگشت نمائی نہیں کرسکتا۔ دوطرفہ طاقت وروں سے آشیر باد لینے کے بعد اب عوام کے حق میں دلابھٹی والا کردار ادا کرکے ہمیشہ کے لیے تاریخ پاکستان میں اپنے مثبت کردار کی وجہ سے امر ہو جائیں، ویسے بھی تو محمدعلی درانی ”آمروں“ کے دور میں زیادہ فعال ہو جاتے ہیں، جیسے ایس ایم ظفرہرآمر کے دور میں اس کے وزیر رہے ہیں، مگر بات ہمیشہ آمروں کے خلاف کرتے ہیں، اگر یقین نہ آئے تاریخ پاکستان پڑھ لیں قول وفعل کا تضاد نظر آجائے گا۔ بہرکیف جنوبی پنجاب کے شہر بہاولپور سے تعلق رکھنے والے درانی صاحب قوم کو بتائیں کہ انہوں نے صوبہ پنجاب کے لیے شاہ محمود قریشی کی طرح اب تک کیا کیا ہے؟ اور اسی طرح ارشاد احمد بھٹی صاحب بیشک بیرسٹر احتشام صاحب سے مشورہ کرکے بتائیں کہ انہوں نے ملک کے ایک بڑے روزنامے کے مالک میر شکیل الرحمن کو اکبر بادشاہ کی طرف سے ”زنداں“ سے نکلوانے کیلئے کیا کیا تھا ؟؟؟


ای پیپر