” ایک بس کا وزیراعظم کے نام کھلا خط“
03 جنوری 2020 2020-01-03

جی ہاں جناب وزیراعظم ،میں ایک بس ہوں۔آپ سوچ رہے ہوں گے کہ بسیں بھلا کب بولتی ہیں، خط لکھتی ہیں۔ بات تو درست ہے کہ خط چاہے نہ لکھتی ہوں مگر بولتی تو بہت ہیں۔ سڑکوں پر فضول میں پاں پاں کرتی پھرتی ہیں،سوری ، واضح کر دوں کہ پاں پاں ضرور فضول کرتی ہوں گی مگر پھرتی ہرگز فضول نہیںہیں بلکہ روزانہ کروڑوں پاکستانیوں کو ان کے ان گھروں سے کام کی جگہو ں پر یا عزیزوں سے ملوانے کے لئے لے جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ جب ہمارا پہیہ جام ہوتا ہے تو بہت کچھ رک جاتا ہے اور کچھ ایسی ہی صورتحا ل آپ کے پیارے وزیرمواصلات مراد سعید کی وجہ سے پیدا ہو گئی ہے۔

جناب وزیراعظم ! مجھے علم ہے کہ آپ اس وقت جناب آرمی چیف کی مدت ملازمت کے حوالے سے قانون کی منظوری بارے پریشان ہیں مگر آپ کو ان کروڑوں عوام کی مشکلات اور پریشانیوںبارے بھی سوچنا چاہئے جنہیں حکومتی فیصلوں کے ردعمل میں سفری سہولتیں نہیں مل پا رہیں۔ آپ اندازہ نہیں لگا سکتے ہیں کہ آپ کی وزارت مواصلات اور موٹر وے پولیس کی وجہ سے ہم اور ہمارے مالکان کس اذیت کا شکار ہیں۔ وزارت مواصلات نے موٹرو ے پر ساڑھے سات سو روپے کا جرمانہ یکمشت ہی دس ہزار کر دیا ہے جبکہ ایک بس کی روزانہ بچت بھی اس سے زیادہ نہیں ہوتی۔ اب آ پ خود سوچیں کہ جب ہم لاہور سے پشاورجائیں تو مالکوں کی تمام تر بچت ایک ہی چالان میں ہار دیں تو ہمیں کون خریدے گا ، کون چلائے گا۔حال تویہ ہے کہ آپ کی حکومت نے لاہور ٹرانسپورٹ کمپنی کے تحت چلنے والی تمام بسیں بھی بند کر دی ہیں یعنی آپ کے بچوں جموروں سے سرکاری بسیںتو چلتی نہیں ہیں اور انہوں نے پرائیویٹ بسوں کے چلنے کو بھی کاروباری لحاظ سے ناممکن بنا دیا ہے۔

جناب وزیراعظم ! میں آپ کو بتانا چاہتی ہوں کہ موٹر وے پولیس جب تک موٹر ویز تک محدود تھی تب تک تو ٹھیک تھا مگرہائی ویز جیسے جی ٹی روڈ اورملتان روڈ پر آنے کے بعد بری طرح ایکسپوز ہو گئی ہے۔ آپ کسی روز ہوٹر بجاتی گاڑیوں کے ساتھ سڑک خالی کروائے بغیر سفر کر کے دیکھیں تو آپ کو لگ پتا جائے گا کہ جی ٹی روڈ پر سفر کیسے ہوتا ہے۔ ہمارے لئے کوئی لین ہی نہیں ہے کہ ہر طرف سلوموونگ وہیکلز نظر آتی ہیں اور اگر ہم لائن اور لین کی خلاف ورزی کریں تو چالان ہوجاتا ہے۔موٹروے پولیس کی خوش اخلاقی،ر ایمانداری اور پروفیشنل ازم ماضی کے ہی قصے ہوا کرتے تھے۔ آپ کی موٹر وے پولیس کے اہلکار ہمارے ڈرائیوروں کو گریبانوں سے پکڑتے ہیں، گھسیٹتے ہیں، گالیاں دیتے ہیں اور تھپڑ مارتے ہیں خاص طور پر ساہیوال والے لمبی داڑھی والے انسپکٹر صاحب کا رویہ تو بہت ہی گھٹیا ہے۔یقین کیجئے اگر چالان صرف قانون کی خلاف ورزی پر ہوں توکوئی اعتراض نہیں مگر مراد سعید کی وزارت، موٹر وے پولیس کو بریونیو کے باقاعدہ ٹارگٹ دیتی ہے جس کے بعد ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی ہو یا نہ ہو، بسیں قطار میں کھڑی کر لی جاتی ہیں اور چالانوں سے کمائی شروع ہوجاتی ہے ۔ یہ بھی ممکن ہے کہ لاہور سے ملتان تک موٹر وے پولیس کی تین بیٹس ہیں تو تین مرتبہ ریونیو پورا کرنے کے لئے چالان کروانا پڑجائے ۔ موٹر وے پولیس کے چالانوں کے لئے وحشی ہونے کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ ہر چالان پر پچیس فیصد موٹروے پولیس کو ملتا ہے جس میں آدھا چالان کرنے والا لے جاتا ہے جبکہ آدھا نئی گاڑیوں وغیرہ کے لئے رکھ لیا جاتا ہے،یہ موٹر وے پولیس کی کرپشن اور دیہاڑی کی وہ قانونی شکل ہے جس نے ظلم اور زیادتی کی انتہا کر دی ہے۔

جناب وزیراعظم ! میں ایک بس جتنا ٹیکس ادا کرتی ہوں پاکستان کا کوئی دوسرا شعبہ ادا نہیں کرتا۔ میں لاہور سے پشاور تک چلتے ہوئے مہینے میں دو لاکھ چالیس ہزار روپے ٹال ٹیکس ادا کرتی ہوں۔ میں ساڑھے تین سو کلومیٹر میں ہر لیٹر ڈیزل پر پینتالیس روپے ٹیکس دیتی ہوں اور یہی رقم ساڑھے آٹھ لاکھ بن جاتی ہے۔ میں اس کے علاوہ ٹوکن ٹیکس، اڈا فیس، فٹنس اور نہ جانے کون کون سے ٹیکسوں کے علاوہ بھتے اورمنتھلیاں بھی ادا کرتی ہوں۔ صرف ایک بس ایک مہینے میں سرکاری خزانے میں دس لاکھ روپے جمع کروا دیتی ہے۔نئی بس کی خریداری پر ٹیکس علیحدہ ہے اور اب آپ ہی مجھے بتائیں کہ ہمارے سوا کون ہے جو ایک برس کے اندر اپنی قیمت سے بھی زیادہ ٹیکس ادا کرتاہو۔ ستم تو یہ ہے میرا ڈرائیور اپنا لائسنس بنواتا ہے تو اس سے بیس سے تیس ہزار روپے رشوت بھی لی جاتی ہے۔ سرکاری فیس تو معاف ہو سکتی ہے مگر لاہور کے لاری اڈے پر یہ رشوت معاف نہیں ہوتی۔بات صرف چالانوں اور رشوت تک ہی محدود نہیں، آپ کی حکومت نے ہر ضلعے اور تحصیل کی سطح پر نئے ٹال پلازے بنا دئیے ہیں ، جی ہاں، پرانے پاکستان میں لاہور سے سیالکوٹ جاتے ہوئے کالاشاہ کاکو اور کامونکی پر دو ٹال پلازے آتے تھے مگر نئے پاکستان میں ان کی تعداد چار ہے مگر اس کے باوجود ہمارے لاری اڈے گندگی اور غلاظت سے بھرے پڑے ہیں۔

جناب وزیراعظم ! کہا جاتا ہے کہ بسیں بہت غلط طریقے سے چلائی جاتی ہیں مگر سوال یہ ہے کہ کیا ایک شخص کروڑ، سوا کروڑ کی بس لے کر ڈرائیور کو اجازت دے گا کہ وہ قانون کی خلاف ورزی کرے یا خطرناک ڈرائیونگ کرکے بس تباہ کرے، ہوتا ہے اور کیا ایک ڈرائیور جس کی دیہاڑی ہی ہزار، ڈیڑھ ہزار ہو وہ یہ رسک لے۔مسئلہ یہ ہے کہ جب چالان ہوتا ہے تو مالک ادا نہیں کرتاکہ ڈرائیور کی غلطی ہے ، یہ سوچیں کہ ڈیڑھ ہزار دیہاڑی والادس، دس ہزار کے چالان کیسے ادا کرے۔ یہ بھی کہاجاتا ہے کہ امریکا اور یورپ میں جرمانے بہت زیادہ ہیں اس لےے قانون کی خلاف ورزی نہیں ہوتی جبکہ حقیقت یہ ہے کہ امریکا اور یورپ میں سڑکوں کی صورتحال ہی اتنی اچھی ہے کہ وہاں خلاف ورزی کی ضرورت ہی نہیں ہوتی کہ وہاں سڑکوں پر کون سے چنگ چی اورریڑھے دوڑتے پھرتے ہیں۔ اس کا ایک پہلو یہ بھی ہے کہ وہاں فی کس آمدن ہی اتنی زیادہ ہے کہ زیادہ جرمانے ادا ہو سکتے ہیں مگر یہاں میرا ڈرائیور اگر مراد سعید کے جرمانے ادا کردے گا تو بچوں کے لئے روٹی کمانی تو ایک طرف رہی، اسے اپنا گھر بیچنا پڑجائے گا۔

جناب وزیراعظم ! ہم بسیں بھی آپ کے جلسوں اور دھرنوں میں جاتی تھیں تو آپ کی باتیں سن کر بہت انجوائے کرتی تھیں، بہت خواب دیکھتی تھیں کہ نیا پاکستان بنے گا تو ہمیں بھی نئی سڑکیں اور بہترین نظام ملے گا مگر عملی طور پر ایک برس میں آپ کی حکومت نے ایک سڑک نہیں بنائی، ایک فلائی اوور ایک انڈر پاس نہیں بنا مگر نواز شریف کی بنائی سڑکوں پر ٹال ٹیکس اور جرمانوں کی صورت میں لوٹ مار کا سب سے بڑا بازار گرم کر دیا گیا ہے اور اسی صورتحال کا سامنا میرے ٹرک بھائیوں کو بھی ہے جنہوں نے تنگ آکر منڈیوں میں سامان کی سپلائی بھی روک دی ہے۔

جناب وزیراعظم ! ہم بسیں آپ سے اپنے دونوں اگلے ٹائر جوڑ کر درخواست کرتی ہیں کہ جہا ں برس، ڈیڑھ برس میں سب کاروبار تباہ ہو گئے وہاں خدارا ہمارے کاروبار کو باقی رہنے دیں۔ آپ یقین نہیں کریں گے مگر یہ حقیقت ہے کہ صرف بھاری جرمانے کی رقم ادا نہ ہونے کی وجہ سے ایک ، ایک کروڑ کی بس سڑک پر کھڑی ہو گئی ہے۔ ہم نے مجبوری کی حالت میں اپنا پہیہ جام کیا ہے اور میں سوچ رہی ہوں کہ آپ کے پاس اور آپ کے وزیروں مشیروں کے پاس تو جہاز بھی ہیں اور بڑی بڑی موٹرکاریں بھی مگر غریبوں کے وہ بچے جو اپنے نانا ، نانی، ماموں ، پھپھو ،چاچو کی طرف چھٹیاں منانے گئے ہیں وہ گھر واپس کیسے جائیں گے، جن کی کوئی فوتگی ہو گئی ہوگی وہ اپنے پیاروں کا منہ دیکھنے کیسے جائیں گے، وہ جنہوں نے شادیوں پر جانا ہے وہ خود کو کتنے مجبور اور مایوس محسوس کر رہے ہوں گے۔ ایک بس کا دل یہ سب سوچ کرپریشان ہوتا ہے تو ہمارے مقابلے میں آپ ایک جیتے جاگتے اور بڑے انسان ہیں، بڑے انسانوں کا دل اوراس میں اپنے لوگوں کی محبت بھی بڑی ہونی چاہئے۔ کیا آپ بڑے دل کامظاہرہ کریں گے؟


ای پیپر