سندھ میں ابھی کھیل ختم نہیں ہوا؟
03 جنوری 2019 2019-01-03

جے آئی ٹی رپورٹ کے بعد ملک کی سیاست میں طوفان کھڑا ہو گیا ہے۔ یہ محض ایک رپورٹ ہے۔ جیسا کہ خود سپریم کورٹ نے کہا ہے۔جے آئی ٹی رپورٹ میں قرار دیئے گئے ’’مشتبہ‘‘ افراد کو مجرم قرار دینے کے لئے ابھی ایک طویل قانونی سفر طے کرنا باقی ہے۔ اس رپورٹ کی ابھی سپریم کورٹ چھان بین کرے گی۔پی ٹی آئی کو آخراتنی کیا جلدی تھی؟ کہ اس نے جے آئی ٹی کے کہنے پر رپورٹ میں دیئے گئے نام فوری طور پر ای سی ایل میں ڈال دیئے؟ عدالت کی قائم کردہ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر عدالت اس رپورٹ کی عدلات کی جانب سے اسکروٹنی سے اور عدالتی احکامات کے بغیرحکومت کے کسی اقدام کی کیاقانونی حیثیت ہے؟ یہ ایک بڑا سوال ہے۔ جے آئی ٹی رپورٹ پر جلد بازی سے یہ نظر آیاکہ حکومت عدلیہ کا کام خود کررہی ہے۔جبکہ اپنے کاموں کے لئے متعدد بار وہ عدلیہ کے احکامات کی محتاج رہی۔س دلچسپ امر یہ ہے کہ ای سی ایل میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کا نام ڈالنے کے بعد وفاقی حکومت نے سندھ حکومت گرانے، گورنر راج لانے کی مہم شروع کی گئی۔

سپریم کورٹ نے حکومت کے اس اقدام کا نوٹس کیا، لسٹ پر نظر ثانی کے لئے کہا تو حکومت بضد رہی اور من وعن عدالت کے احکامات پر عمل کرنے کے بجائے ٹال مٹول سے کام لیا۔ اور ایک کمیٹی تشکیل دے دی۔ جس سے یہ تاثر مزید مضبوط ہوا کہ حکومت کے اس قدم کے پیچھے سیاسی مقاصد ہیں۔ اور سندھ میں ابھی کھیل ختم نہیں ہوا۔

پی ٹی آئی سندھ میں پانی ناپ کے دیکھ لیا۔ پی ٹی آئی نے پیپلزپارٹی کی سندھ میں حکومت کو ہٹانے کا پلان کرتے وقت سوچا ہی نہیں کہ وہ کیا کرنے جارہی ہے۔ پیپلزپارٹی صرف ایک صوبے میں ہی حکومت نہیں کرتی بلکہ ملک کی تیسری بڑی پارٹی ہے۔ جس کی سینیٹ میں موثر موجودگی ہے۔ ایسے میں حکومتیں بنانا اور توڑنا ایک خطرناک مظہر ہے۔ جو ملک کے نظام کے لئے کچھ بھی نہیں چھوڑے گا۔

جب سندھ حکومت کو گرانے کے لئے وفاداریاں تبدیل کرنے کی مہم شروع کی گئی تو پیپلزپارٹی نے بھی وفاقی حکومت کو دھمکی دی۔ بلاول بھٹو کہتے ہیں کہ اگر بڑا زرداری اجازت دے تو مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت گرائی جاسکتی ہے۔یعنی آپ ہماری صوبائی حکومت گراؤ گے تو ہم آپ کی مرکزی حکومت گرائیں گے۔ کیا 90 کی سیاست کو دوبارہ زندہ کیا جارہا ہے۔پی ٹی آئی چاہ رہی تھی کہ سندھ میں جام صادق علی ماڈل پر حکومت بنائی جائے۔ یعنی اکثریتی پارٹی کو نظر انداز کر کے چھوٹ چھوٹ گروپوں کو ملا کر انجنیئرنگ کر کے اپنا وزیراعلیٰ بنایا جائے۔ معاملہ چونکہ عدالتی تھا۔ا ور رپورٹ عدالت میں پیش ہوئی تو چیف جسٹس نے 172 افراد کے نام ای سی ایل میں ڈالنے کا نوٹس لیا۔اور کہا کہ سندھ میں گورنر راج

لگایا گیا تو ایک منٹ میں اسے اڑادیا جائے گا۔ سندھ میں اس غیر جمہوری اقدام کے خلاف عام رائے اٹھ کر کھڑی ہو گئی۔ روایتی خواہ سوشل میڈیا پر شور ہو گیا۔ موجودہ سندھ اسمبلی کو آسانی سے جوڑ توڑ ممکن نہیں ۔یہ 90 کا عشرہ نہیں تھا۔ اول یہ کہ عدلیہ کی ہدایات پر جے آئی ٹی نے کام کیا تھا۔ لہٰذا اس کی رپورٹ اور سفارشات کو حکومت کو نہیں بلکہ عدلیہ کو ہی آگے بڑھانا تھا۔ بلاشبہ اس کوشش کو ناکام بنانے میں آصف علی زرداری کے دورہ گھوٹکی ، کشمور اور خانگڑھ کا بھی حصہ ہے۔ پیپلزپارٹی کے ’’مشتبہ اراکین اسمبلی‘‘ کی جانب سے بھی وضاحتیں آئی۔ یہاں تک کہ فنکشنل لیگ نے بھی وضاحت کی کہ وہ پیپلزپارٹی کی حکومت کو توڑنے کا حصہ نہیں بنے گی۔

تحریک انصاف پہلے اچھی حکمرانی عام لوگوں کے حقوق اور تبدیلی کا نعرہ لگایا۔ پھر 2013 کے انتخابات میں دھاندلی کی مہم چلائی۔ لیکن ان کی یہ کوشش بارآور ثابت نہ ہو سکیں۔ ایسے میں پاناما لیکس آگئے۔ جس میں نواز شریف حکومت کو گھیر لیا گیا۔ تحقیقات اور مقدمے ہوئے۔بالآخر نواز شریف اور ان کی پارٹی کو اقتدار سے آؤٹ کردیا گیا۔اس پورے پلان میں پہلے نواز شریف سے وزارت عظمیٰ کا عہدہ چھینا گیا۔پھر پارٹی میں اختیارات ۔اب یہ نسخہ پیپلزپارٹی پرسندھ میں دہرائے جانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ ضروری نہیں کہ ہر نسخہ ہر وقت اور ہر ایک کے لئے نہیں استعمال کیا جاسکے اور اس کے مطلوبہ نتائج برآمد ہوں۔

پتہ نہیں کیوں تحریک انصاف کو غلط فہمی ہو چلی کی سندھ میں سیاسی تحریک ناگزیر ہو گئی ہے۔ یہ درست ہے کہ سندھ اسمبلی میں عددی لحاظ سے پی ٹی آئی دوسری بڑی پارٹی ہے۔ لیکن عوامی سطح پر وہ دوسرے نمبر پر نہیں ۔عام انتخابات کے کراچی کے نتائج کے بارے میں بھی لوگ انجنیئرنگ قرار دے رہے ہیں۔ صوبے کے شہری علاقوں میں خواہ کتنی ہی تقسیم در تقسیم ہو، ابھی تک ایم کیو ایم کی سیاسی سوچ موجود ہے۔ صوبے کے دو بڑے شہر چھوڑ کر باقی علاقوں میں پیپلزپارٹی نے اپنی جگہ نہیں چھوڑی ہے۔ اگر کوئی جگہ موجود بھی ہے تو ہو یا تحریک انصاف کے حق میں نہیں یا کم از کم پی ٹی آئی کے اس تحرک میں اس کے ساتھ نہیں ۔ لہٰذا تحریک انصاف کا کوئی ایسا تحریک انجنیہئرنگ تو ہوسکتا ہے لیکن اس کو سندھ میں قبولیت نہیں مل سکے گی۔ پی ٹی آئی کے حالیہ موقف کی نہ سیاسی اور نہ قانونی منطق ہے، وہ اس کو جائز قرار نہیں دے سکتی۔ دو صوبوں اور وفاق میں اپنی پارٹی کی مکمل اور ایک صوبے میں حصہ داری سے حکومت ہونے کی وجہ سے تحریک انصاف کو اپنی سیاسی اور آئینی ذمہ داریوں کا زیادہ مظاہرہ کرناچاہئے۔ پی ٹی آئی کی ناکام کوشش نے سیاسی پانی کو مزید گندا کردیا ہے۔اس کے چھینٹے وفاقی حکومت پر بھی پڑیں گے۔

کیا پی ٹی آئی ملک کے دوسرے بڑے صوبے کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینا چاہ رہی ہے؟ اس سے ان خدشات کو تقویت ملتی ہے کہ تحریک انصاف ملک کو ایک پارٹی کا نظام کی طرف دھکیل رہی ہے

اسٹبلشمنٹ کو ہمیشہ مضبوط مرکز اچھا لگتا رہا ہے۔ لہٰذا اٹھارویں آئینی ترمیم اور این ایف سی ایوارڈ اسٹبلشمنٹ کے نزدیک کو اتنی پسند نہیں ۔ مالی اور انتظامی اختیارات کی خود مختاری کو قومی سلامتی اور استحکام کے خلاف گردانا جاتا رہا ہے۔جس کا متعدد بار اظہار بھی کیا جاتا رہا ہے۔ پیپلزپارٹی اپنے رہنماؤں کے خلاف اقدام کو اٹھارویں ترمیم، قومی مالیاتی ایوارڈ سے منسلک کرنے میں کامیاب نظر آتی ہے۔ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں فریق نہیں تھی۔ اس لئے اس پارٹی کا ان دونوں چیزوں پر نہ کوئی کمٹمنٹ ہے اور نہ وعدہ۔ ویسے بھی کسی بھی مرحلے پر پی ٹی آئی نے مالی خواہ صوبائی خود مختاری کے حوالے سے خال خال ہی بات کی ہے۔ اگر وہ سرائیکی صوبے کی بات کرتی ہے تو اس کا کچھ اور پس منظر ہے۔

بامقصد پائیدار احتساب کے لئے منصفانہ اور مطلوبہ احتسابی عمل کی ضرورت ہے نہ سیاسی بیانات اور سیاسی انجنیئرنگ کی۔احتساب کو سیاست سے الگ کرنا ضروری ہے۔ سیاسی انجنیئرنگ کوئی حل نہیں ۔ اس طرح کی انجنیئرنگ نہ پہلے کبھی چل سکی ہے اور اب تو بالکل ہی نہیں چلے گی۔


ای پیپر