2019ء میں دخول
03 جنوری 2019 2019-01-03

لیجئے صاحبو 2018ء بھی اختتام ہوچکا اور ساتھ ہی 2019ء کا آغاز ہوچکا ہے۔ وطن عزیز میں 2018ء کا مجموعی تاثر انتخابات کا سال رہا۔ مارچ کے اوائل میں سینیٹ کے انتخابات ہوئے اور پھر جولائی کے مہینے میں قومی سطح پر عام انتخابات منعقد ہوئے جن کے نتیجے میں عمران خان کی پارٹی پاکستان تحریک انصاف کی پارٹی برسراقتدار آئی۔ بین الاقوامی پیمانے پر جائزہ لیں تو 2018ء نسبتاً ایک سیدھا سادا سا سال ثابت ہوا۔ یعنی طاقت کے توازن میں کوئی فرق نہیں آیا۔ البتہ سیاسی منظر نامے میں کچھ تبدیلیاں رونما ہوئیں۔ دنیا کی بڑی طاقت کے صدر ٹرمپ کی بین الاقوامی مقبولیت کی کمی تو بہرحال آئی۔ مگر ماننا پڑے گاکہ اندرونِ ملک ان کی مقبولیت میں اضافہ ہوا۔ اس کی وجہ وہاں ٹرمپ کے دورِ حکومت کے دوران بیروزگاری میں کمی کا آنا ہے۔ جبکہ وطن عزیز میں 2018ء کے دوران بیروزگاری میں شدید اضافہ ہوا۔ بیروزگاری کا یہی اضافہ عمران خان کی مقبولیت میں شدید کمی کا باعث بن رہا ہے۔ اب تک کاروبار میں کمی آنے کی بنا پر ہزاروں افراد بے روزگار ہوچکے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان کے علم میں یہ بات آچکی ہے کہ نجی کاروبار تیزی سے تنزلی کی جانب گامزن ہیں۔ جس سے ملک میں بڑے پیمانے پر بیروزگاری پھیل رہی ہے او رملک کی معیشت سخت خطرے میں ہے۔ عمران خان کے قریبی ذرائع کا بتانا ہے کہ عمران خان کو یہ تجویز بھی دی گئی ہے کہ وہ کسی قسم کی ایمنسٹی سکیم کا اعلان کریں تاکہ حکومتی اصلاحات کے تحت ملک بھر کی بزنس کمیونٹی کو اپنے اور اپنے کاروبار کو منظم کرنے کا موقع مل سکے۔ یہ ہیں 2018ء کے اختتامیہ وہ حالات جن میں وزیر اعظم کو خبردار کردیا گیا تھا کہ مارکیٹ تقریباً بند ہوچکی ہے اور اگر اب بھی بزنس کمیونٹی کا اعتماد بحال نہیں کیا گیا تو آئندہ چھ ماہ میں بڑے پیمانے پر بے روزگاری پھیلنے کا اندیشہ ہے۔ گویا دنیا کے لیے امریکہ کے خطرناک ترین صدر ٹرمپ کی اپنی ملک میں مقبولیت میں ا ضا فے کی و جہ روز گا ر میں اضا فہ ہے۔ اور اپنی ہردلعزیزی کی بنا پر پاکستان میں برسراقتدار آنے والے عمران خان کی غیر مقبو لیت کی وجہ بے روزگاری ہے۔ یعنی روزگار میں اضافہ اور کمی عوام کے رویہ میں تبدیلی لانے کا بہت بڑا سبب ہے۔ غور کرنے کی بات یہ ہے کہ آخر پاکستان میں بزنس کمیونٹی کے اعتماد میں کمی کی وجہ کیا ہے۔ تو اس کی وجہ ہے عمران خان کی سیاسی مخالفت میں اضافہ۔ دانشوروں کا ماننا ہے کہ سیاسی مخالفین کے باعث حکومتی پارٹی کو ایسی صورتحال پیش کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس میں سیاست کے باعث ملک بھر میں کاروبار اور تجارت متاثر ہونا شروع ہوجائے۔ یہاں

اگر ہم ماضی میں لوٹیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ دسمبر 1971 کے دل شکن حادثے کے بعد بیروزگاری کی تباہی کا سامنا ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت کو بھی ہوا تھا۔ تب ذوالفقار علی بھٹو نے اس کا انقلابی قد م یوں اٹھایا تھا کہ مشرق وسطیٰ کی جاب مارکیٹ پہ یلغار کی تھی۔ یہ کوئی آسان کام نہ تھا بلکہ ایک قسم کی چو مکھی کارروائی تھی کیونکہ ایک طرف تو عرب ممالک کو اعتماد میں لینا تھا، دوسرا ملکی قوانین میں نرمی پیدا کرکے باہر جانے والوں کے لیے پاسپورٹ اور ویزے کا حصول آسان بنانا تھا۔ مگر ذوالفقار علی بھٹو محدود دائرے کی سوچ سے باہر نکل کر یہ کام کر گزرے اور وطن عزیز ڈیفالٹ ہونے سے بچ گیا۔ مگر اب ہم دیکھ رہے ہیں کہ موجودہ وزیر اعظم عمران خان محدود دائرے کی سوچ سے باہر نکلنے کو ہرگز تیار نہیں۔ ان کی حکومت کے اعلیٰ وزراء کا فرض صرف اپوزیشن پہ الزامات لگانا رہ گیا ہے۔ لہٰذا اب ماحول کچھ یوں بن گیا ہے کہ حکومت کا واحد مقصد صرف گالیوں کے مقابلے میں فتح حاصل کرنا ہے۔ ضرورت مندوں کے لیے مکانات کی تعمیر نیک مقصد ہے مگر کیا صرف مکانات کی تعمیر سے روزگار کی تشنگی دور ہوسکے گی؟ یہ صرف خود کو دھوکا دینے والی بات ہوگی۔معیشت کی اگر ٹھو س ا عد ا دو شما ر میں با ت کی جا ئے تو ہم دیکھتے ہیں کہ گذ شتہ چھ ما ہ میں ٹیکس آ مد ن کی مد میں 150ارب روپے کی کمی ر یکا ر ڈ کی گئی ہے۔ز رِ مبا د لہ کے ذ خا ئر 30ارب ڈا لرسے گھٹ کر 14 ارب ڈا لر رہ گئے ہیں۔ گردشی قر ضے بڑھتے بڑھتے 1362ارب تک پہنچ چکے ہیں۔ یہا ں اگر سٹا ک ما ر کیٹ کی با ت کی جا ئے تو یاد دہانی کی غرض سے عر ض ہے کہ 2016میں پا کستا ن سٹا ک ایکسچینج کا شمار د نیا کے بہترین ایکسچینجز میں ہو نے لگا تھا ۔ مگر اب جبکہ ہم 2019میں دا خل ہو رہے ہیں تو اس بر ی خبر کے سا تھ کہ اب ہما رے اس ادا رے کا شما ر دنیا کے بد تر ین ایکسچینجز میں ہو نے لگا ہے کیو ں کہ اس کی ما لیت 77ارب ڈا لر سے کم ہو کر 55ا رب ڈا لر رہ گئی ہے۔

گو یا ہم جو 2019ء کے نئے سال میں داخل ہورہے ہیں تو ایک کم ہوتے معیار زندگی کے ساتھ داخل ہورہے ہیں۔ بے شک ابھی عوام بھوک سے نہیں مر رہے۔ مگر یہ دیکھیں کہ وہ کیا کھا کر زندہ رہ رہے ہیں۔ سب جانتے ہیں کہ خالص دودھ کا حصول عنقا ہوچکا ہے ۔ مگر جانتے بوجھتے اپنے بچوں کو کیمیکلز ملا دودھ پلا رہے ہیں۔ مجبوری کا نام شکریہ محکمہ صحت بھی لگتا ہے کہ اسی جانب سے مجبوراً آنکھیں بند رکھ رہا ہے۔ کیونکہ وہ بھی جانتا ہے کہ ستر روپے کلو دودھ تو گوالوں کو گھر میں بھی نہیں پڑتا۔ وہی بات کہ گنجی نہائے گی گیا اور نچوڑے گی کیا۔ نئے سال میں ہم یوں داخل ہورہے ہیں کہ ہمارے سربراہوں کے ہاتھ میں کشکول ہے اور وہ چھوتے چھوٹے ملکوں تک سے امداد کے نام پر بھیک مانگ رہے ہیں۔ اندرونِ ملک رئیل اسٹیٹ، ہاؤسنگ تنظیم، نجی سوسائٹیوں، ڈویلپرز، بلڈرز اور تعمیراتی کاروبار کی موجودہ حالت بہت بری ہے۔ اگر یہ تسلیم بھی کرلیا جائے کہ موجودہ حکومت ایمان دار ہے تو محض ایمان داری کی بنا پر ملک نہیں چلا کرتے۔ ایمان دار تو ہمارے محلے کا سبزی فروش بھی بہت ہے تو کیا ہم حکومت اس کو سونپ دیں؟ صنعتوں کا حال یوں بھی بدتر سے بدتر ہوئے جارہا ہے کہ ان کا پہیہ حرکت میں رکھنے کے لیے بجلی کی ضرورت ہوتی ے۔ لوڈشیڈنگ یوں تو گزشتہ حکومت میں ہوتی رہی ہے لیکن موسم سرما میں یہ نہ ہونے کے برابر ہوا کرتی ے۔ جبکہ اب 2019ء میں داخل ہوتے وقت صورتِ حال کچھ یوں ہے کہ آر ایل این جی کی عدم فراہمی پر بھکھی کے بعد بلوکی پاور پلانٹ بھی بند ہوچکا ہے اور اس کے بند ہونے سے مزید 1180 میگا واٹ بجلی سسٹم سے نکل چکی ہے جس کی بناء پر لوڈ شیڈنگ کا حال یہ ہے کہ بجلی کی سپلائی اب ایک گھنٹے ہونے کی بجائے ایک دفعہ میں �آٹھ آٹھ گھنٹے کے لیے ہونے لگی ہے۔ دونوں پاور ٹربائنز بند ہونے سے لیسکو کی بجلی کا کوٹہ کم کردیا گیا ہے۔ یوں گھریلو صارفین جو پہلے گیس کی لوڈ شیڈنگ سے تنگ تھے، اب بجلی کی کمی لوڈشیڈنگ سے ڈپریشن کا شکار ہوکر نئے سال کا جشن منا رہے ہیں۔


ای پیپر