نیا سال اور حکومتی ترجیحات!
03 جنوری 2019 2019-01-03

نئے سال کو خوش آمدید کہنا اب ایک تہوار بن گیا ہے۔چند بر س قبل تک نئے سال کے شروع ہو نے سے پہلے ریاستیں ،حکومتیں اور ادارے اپنے لئے تر جیحات کا تعین کرتی تھیں۔گزشتہ سال کا محاسبہ ہو تا تھا کہ جو اہداف مقرر کئے تھے ان کو حا صل کیا گیا ہے کہ نہیں۔کا میابیوں پر خوشیاں مناتے تھے ۔ناکا میوں کی وجوہ کا تعین کرتے تھے۔لیکن گز شتہ چند سالوں سے ایسے لگ رہا ہے کہ نئے سال کو ویلکم کرنے کا تہوار رات بارہ بجے سے چند گھنٹے قبل اور بارہ بجے کے بعد چند گھنٹوں تک سڑکوں پر غل غپاڑے، آتش بازی اور ڈانس پارٹیوں تک محدود رہ گیا ہے۔اب ریاستیں نئے سال کے لئے ترجیحات کا تعین نہیں کر تی۔گزشتہ سال کا جائزہ نہیں لیا جاتا۔یہی حال حکومتوں کا بھی ہے۔ وہ بھی نئے سال کے آغاز پر اپنے لئے اہداف مقرر نہیں کر تی۔گز شتہ سال میں کیا کھو یا کیا پا یا ۔اس کا جائزہ نہیں لیا جاتا۔ادارے بھی اب نئے سال کے آغاز پر تر جیحا ت شائع نہیں کر تے اور نہ ہی گز شتہ سال کا جائزہ رپورٹس جاری کرتے ہیں کہ ان کی کارکردگی کیا رہی ۔

سال نو کے آغاز سے چند روز قبل ہی پولیس منصوبہ بندی کر تی ہے کہ کس طر ح اسی رات سڑکوں پر دندناتے او ر بپھرے ہوئے بے لگام نوجوانوں کو کنٹرول کرنا ہے۔اس بات کو یقینی بنانے کی کو شش کی جاتی ہے کہ کوئی زہریلی شراب انڈیل نہ لے۔ہسپتالوں میں ایمرجنسی لگائی جاتی ہے۔ڈاکٹروں ، نرسوں ،پیرامیڈیکل سٹاف اور دیگر اہلکاروں کی چھٹیاں منسوخ کی جاتی ہیں۔ہسپتالوں میں یہ تمام انتظامات اس لئے کئے جاتے ہیں کہ ان کو معلوم ہو تا ہے کہ خوشی کے اس موقع پر کوئی بھی جان لینے کی کوشش کرسکتا ہے۔غرض سال نو کا آغاز مثبت کی بجائے منفی سرگرمیوں سے کیا جاتا ہے۔بعض گھرانوں کے لئے خوشی کی رات ماتم کی رات بن جاتی ہے۔کیا ایسا نہیں ہو سکتا کہ اس رات کو پرامن طور پر گھروالوں کے ساتھ خوشی کے ساتھ منا یا جائے؟کیا سڑکوں پر غل غپاڑہ کئے بغیراس رات کو نہیں منایا جاسکتا؟کیا آتش بازی کے بغیر یہ خوشی حا صل نہیں ہو سکتی؟ کیا نئے سال کی رات زہریلی شراب پی کر مرنے سے بہتر نہیں کہ اس سے اجتناب کیا جائے اور نئے سال میں زندگی سے لطف اندوز ہوں؟

پاکستان میں بھی مو جودہ حکومت اپنے پہلے سال کا آغاز کر چکی ہے۔ضروری تھا کہ حکومت ترجیحات کا اعلان کرتی۔لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔وزیر اعظم عمران خان نے اس عزم کا اظہار ضرور کیا کہ غربت، جہالت، ناانصافی اور کرپشن کا خاتمہ کرینگے، لیکن کوئی ٹھوس لا ئحہ عمل نہیں دیا، بلکہ یوں سمجھ لے یہ ایک رسمی کارروائی تھی جو انھوں نے پوری کردی۔پاکستان کو اس وقت جن مسائل کا سامنا ہے ۔اس میں معاشی استحکام سرفہرست ہے۔ معیشت کے استحکام کے لئے ضروری ہے کہ نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لا یا جائے۔برآمدات میں اضا فہ کیا جائے۔لیکن وفاقی وزیر خزانہ اسد عمر اور ان کی ٹیم نے آسان حل یہ نکال لیا ہے کہ پہلے سے موجود ٹیکسوں میں اضافہ کیا جائے۔بجلی،پیٹرولیم مصنو عات ،گیس اور ایل این جی کی قیمتوں میں اضافہ کرکے وقتی طور پر بندوبست کیا جائے۔وفاقی وزارت خزانہ کو چاہئے کہ نئے سال کے لئے ترجیحات کا تعین کرے۔معاشی استحکام کے لئے ضروری ہے کہ بر آمدات کو بڑھا یا جائے۔اس لئے ضروری ہے کہ تمام صوبوں کا سروے کیا جائے کہ کون سی مصنو عات ایسی ہیں کہ جن کو بر آمد کیا جاسکتا ہے۔جن ممالک کو ضرورت ہو وہاں ملک کے سفیر وں کو فوری طور پر متحرک کیا جائے۔ان کو اہداف دئیے جائیں۔خلیجی ممالک ، افغانستان ،چین اور ایران کے ساتھ تجارت کو فروغ دینے کو تر جیحات میں شامل کیا جائے۔ چین چونکہ تجارتی ملک ہے ۔وہ مال کے بدلے مال یا مال کے بدلے پیسہ کو پسند کرتا ہے۔ وہ بھیک دینے یا کسی دوسرے ملک کا خالی خزانہ بھرنے کو پسند نہیں کر تا اس لئے ضروری ہے کہ ان کے ساتھ پائیدار تجارتی پالیسی بنائی جائے۔افغانستان کے ساتھ زمین کے راستے تجارت آسان اور سستی ہے۔اس لئے اس طر ف توجہ کی ضرورت ہے۔ طورخم اور چمن بارڈر کو ریگولر کرنے کی ضرورت ہے تاکہ سمگلنگ کو روکا جاسکے اور پیسہ ذاتی اکاونٹس میں جانے کی بجائے قومی خزانہ میں جمع ہو۔ایران پر عالمی پابندیاں ضرور ہیں ،لیکن پڑوسی ملک ہو نے کے ناطے ان سے تجارت کرنے میں آسانی ہے۔ پہلے سے موجود ٹیکس کو بڑھانے کی بجائے حکومت کو چاہئے کہ وہ نئے شعبوں کو ٹیکس نیٹ میں لائے۔

معاشی استحکام کے بعد انصاف کی فراہمی معاشروں کی ضرورت ہو تی ہے۔عشروں سے مقدمات عدالتوں میں ہیں۔لیکن فیصلے نہیں ہو رہے ہیں۔حکومت کی ذمہ داری ہے کہ اعلی عدلیہ کے ساتھ بیٹھ کر اس کا حل نکالا جائے۔ایک سیدھا سادھا طریقہ کار تو یہ ہوسکتا ہے کہ سپریم کورٹ اور تمام ہائی کورٹس آپس میں یہ عزم کر لیں کہ اسی سال وہ تمام مقدمات نمٹانے ہیں کہ جو گز شتہ سالوں سے زیر التوا ہے۔کوئی ازخود نوٹس نہیں لیا جائے گا۔کسی بھی سیاسی کیس کو ہاتھ نہیں لگا یا جائے گا۔ماتحت عدالتوں میں جتنے بھی دیوانی مقدمات ہیں ان کا فیصلہ اسی سال کیا جائے گا۔کسی کے لئے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نہیں بنا ئی جائے گی۔کرپشن کے خاتمے کے لئے ایف آئی اے اور نیب کو فعال کیا جائے گا تاکہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹس پر دباو کم ہو ۔

پو لیس چونکہ صوبائی معاملہ ہے۔لیکن اسلام آباد کی پو لیس براہ راست وزیر اعظم عمران خان کے ماتحت ہے۔کیوں نہ سال نو پر اس بات کا عزم کیا جائے کہ اسلام آباد پولیس کو حقیقی معنوں میں صوبوں کے لئے ماڈل کے طور پیش کیا جائے۔چاروں صوبوں میں تھانہ کلچر اب بھی پوری طرح فعال ہے۔ عا م آدمی پولیس سے اب بھی خوف زدہ ہے۔ کیا ضرروری نہیں کہ اس سال پو لیس کو عوام دوست بنانے کے لئے کام کا آغاز کیا جائے۔اگر اس کار خیر کا آغاز کیا جاتا ہے تو ممکن ہے کہ پانچ سالوں میں حکومت پولیس کو عوام دوست بنانے میں کامیاب ہو جائے۔اگر حکومت پولیس کو عوام دوست بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو اس سے عدالتوں پر مقدمات کا بوجھ بھی کم ہو جائے گااور جرائم میں بھی کمی ہو جائے گی۔

تعلیم اور صحت بھی صوبائی معاملات ہیں۔لیکن وفاقی حکومت اگر چاہے تو صوبوں کی رہنمائی کرسکتا ہے۔یکساں نظام تعلیم۔مطلب یکساں نصاب اور ایک جیسا یونیفارم ۔کیا اس کے لئے ایک سال کافی نہیں؟ نئے تعلیمی ادارے بنانے پر پابندی ۔مو جودہ تعلیمی اداروں میں تمام سہولیات کی مکمل فراہمی۔نئے ہسپتال بنانے پر پابندی۔مو جودہ ہسپتالوں میں صحت کی تمام سہولیات کی مکمل فراہمی۔میں نئے تعلیمی اداروں اور ہسپتال بنانے پر پابندی کا اس لئے حامی ہوں کہ عمارتیں تو ہم نے بہت بنالی ،لیکن وہاں سہولیات نہیں ہیں۔اس لئے میرے خیال میں اگر حکومت پہلے سے موجود عمارتوں میں سہولیات فراہم کرے تو یہ نئی عمارتیں بنانے سے زیادہ بہتر ہو گا۔بجلی اور گیس کا بحران بھی حکومتی ترجیحات میں شامل ہو نا چاہئے۔اس بات پر تحقیق کی ضرورت ہے کہ توانائی بحران کو حل کیسے کرنا ہے؟اس شعبے میں ہمارے مسائل کیا ہیں۔نئے ذخیرے بنانا یا دریافت کرنا یا ان کی ترسیل۔ ترجیحات کی فہرست تو کافی لمبی ہے ،لیکن حکومت اگر ان چند شعبوں پر بھی توجہ دے تو اگلا سال ہمارے لئے خوشیوں کا باعث بن سکتا ہے۔


ای پیپر