عوام کو امید کی وادی میں جھانکتے رہنا ہے!
03 جنوری 2019 2019-01-03

اس سہمے اور زرد موسم میں خوش نما پھولوں کے کھلنے کی آس بھی ہے مگر لوگ ہیں کہ ہر لمحہ اداس ہوتے جا رہے ہیں۔ ان کے اندر مایوسی کے جھکڑ چلنا شروع ہو گئے ہیں۔ وہ دیکھتے ہیں سو روز سے اوپر ہو گئے ان کے جیون میں نسیم صبح کے جھونکے امڈ امڈ نہیں آئے۔ وہی نظام ہے وہی پریشان کرنے والے ہتھکنڈے ہیں۔ جو سر کار کے کارند ے اختیار کر رہے ہیں۔ بڑے لوگ چند ایک کے سوا سب گرفتار ہونے کے بعد آسانی سے چھوٹتے جا رہے ہیں؟

مخلوق خدا کو ہر روز ایک نئے حکم کا سامنا ہے ایک نیا بیان سننے کو مل رہا ہے کہ کڑے وقت میں حوصلہ رکھیے، جلد زندگی کے دکھوں سے نجات ملنے والی ہے مگر وہ پوچھتے ہیں کہ انہیں ہی یہ مصائب کیوں ازیت دیتے ہیں ان کے ہی جسموں پر کیوں چرکے لگاتے ہیں؟ کوئی نہیں بتاتا کوئی نہیں غور کرتا؟

ایک جنگ ہے جو دو فریقوں کے مابین ہو رہی ہے ۔ اقتدار اور اختیار کی جنگ ، جس نے اب تک اکیس کروڑ عوام کا حلیہ تک بگاڑ دیا ہے انہیں بھوک اور مفلسی نے ادھ موا کر دیا ہے وہ کھل کر رو سکتے ہیں نہ ہنس سکتے ہیں۔ کیونکہ کبھی انہیں خوشحالیوں کا مثردہ سنایا جاتا ہے اور کبھی صبر کی تلقین کی جاتی ہے ۔

آغاز میں کہہ چکا ہوں اس سہمے اور زرد موسم میں خوش نما پھولوں کے کھلنے کی آس بھی ہے اس کا مطلب ہے موجودہ حکومت سے میں مایوس نہیں ہوا مگر دیکھتا ہوں کہ وہ منزل کی جانب بڑھتے ہوئے ایسے راہیوں کو بھی ہم راہ کیے ہوئے ہے جو راستے کی صعوبتوں کو برداشت نہیں کر سکتے۔ ان کا ماضی بتاتا ہے کہ وہ کبھی بھی ایک راہ پر نہیں چل سکے وہ راہیں بدلتے رہے اپنے لیے خزانے زمین سے تلاش کرتے رہے اور ادھر سے ادھر ہوتے رہے۔

اب جب سربراہ مملکت انہیں سیدھی راہ پر چلنے کو کہتے ہیں اور بار بار کہتے ہیں تو وہ کسی خاص مقام پر پڑاؤ ڈال بھی سکتے ہیں ایسی باتیں حکومتی مجلسوں میں ہو رہی ہیں؟ امکان غالب ہے کہ کسی وقت بھی کچھ ہو سکتا ہے ۔ یہ کیفیت واضح طور سے محسوس کی جا سکتی ہے کیونکہ کچھ بھی حکومت کے کنٹرول میں پوری طرح نہیں دیکھا جا رہا۔ سرکاری ادارے جن کا براہ راست عوام سے تعلق ہے وہ اپنی مرضی کرتے ہوئے دکھائی دیتے ہیں ۔ قانون کی

حکمرانی کہیں بھی نظر نہیں آ رہی سب بے مہار چل رہا ہے لہٰذا میرا دوست جاوید خیالوی کہتا ہے کہ در اصل’’ بادشاہ گروں ‘‘ نے انقلاب کا مطالبہ کرنے والوں کو تبدیلی کی آغوش میں بٹھانا تھا تاکہ وہ جزبات کی آخری سطح پر نہ پہنچ پائیں اور ایک نئے سورج کو نہ طلوع کر دیں جو اس معاشرے کو یکسر تبدیل کر کے رکھ دے لہٰذا آہستہ آہستہ ہی کچھ ہو گا ۔ فکر کی کوئی بات نہیں۔؟

ہو سکتا ہے ایسا ہی ہو، مگر اس وقت جو مجموعی تاثر ابھر رہا ہے اس سے یہ لگتا ہے کہ اب کی بار بھی گونگلوؤں سے مٹی جھاڑی جا رہی ہے ۔ اگرچہ عمران خان وزیر اعظم کو شک کی نگاہ سے نہیں دیکھا جا سکتا کیونکہ انہوں نے ایسا کوئی کام نہیں کیا یا کر نا چاہ رہے۔ جس سے یہ اندازہ لگایا جا سکتا ہو کہ وہ عوام سے کیے گئے وعدوں سے منحرف ہو رہے ہیں۔مگر ان کا ایسے لوگوں کو ساتھ لیکر چلنا جو عوام میں غیر مقبول ہوں یعنی ان کی ساکھ بہتر نہ ہو اور ہر طرف سے انگلیاں اٹھ رہی ہوں ذہن میں کئی سوالات کو جنم دینے کا سبب بن رہا ہے آنے والے دنوں میں ان کے یہ ساتھی بعض مشکلات پیدا کر سکتے ہیں بلکہ کر بھی رہے ہیں لہٰذا انہیں اس حوالے سے سوچنا ہو گا؟

حال ہی میں انہوں نے جو پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئر مین مقرر کیا ہے جس پر عدالت میں کیسز چل رہے ہیں سے بھی عوامی حلقوں میں چہ میگوئیاں ہو رہی ہیں کہ وزیر اعظم کس قسم کی سیاست کرنے جا رہے ہیں بد عنوانی کا خاتمہ کیسے ممکن ہو سکے گا؟

بہر حال چونکہ ابھی حکومت کو وجود میں آئے چند ماہ ہوئے ہیں لہٰذا حتمی طور سے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ کچھ نہیں کر سکے گی با وہ ناکام ہو گئی ہے مگر اسے انتظامی مشینری کو قابو میں کر کے عوامی مشکلات کو کم کرنے پر اس کی توجہ مرکوز کرانا ہو گی۔ بصورت دیگر شکوک و شبہات کی فضاء قائم ہو سکتی ہے ۔ جو ظاہر ہے کسی فریق کے لیے بھی ٹھیک نہیں ہو گا کہ موجودہ سیاسی منظر تبدیل ہو سکتا ہے لہٰذا ضروری ہے کہ عوامی بھلائی کے لیے ہر کوئی اپنا کردار ادا کرے حکمرانی کا اختیار کسی ایک کے پاس تادیر نہیں رہ سکتا۔ اب تک کی ملکی تاریخ سے اس امر کا بخوبی علم ہوتا ہے ۔ مگر نہیں کسی کو بھی یہ احساس نہیں۔ سوال یہ ہے کہ حکمرانی کے مزے لوٹنے والوں نے عوامی جمہوریت کے لیے کوئی کارنامہ سر انجام دیا۔ لوگوں کو آسودہ زندگی سے آشنا کیا؟ بالکل نہیں جس کسی نے بھی اقتدار سنبھالا وہ اسے دائمی بنانے میں مصروف ہو گیا۔ اس مقصد کو پس پشت ڈال دیا جس کو لیکر چلا تھا اور عوام سے ووٹوں کی درخواست کی تھی بعد ازاں انہیں مہنگائیوں اور ٹیکسوں کے ذریعے دباؤ میں رکھنے کی حکمت عملی اپنائی تاکہ وہ ان کے زیر اثر رہیں۔ ان کو دوبارہ اقتدار میں لائیں۔ یوں عوام کو مسائل سے چھٹکارا نہ مل سکا وہ کسم پرسی کی زندگی بسر کرتے رہے۔ انہیں سینہ زور سے لیکر قبضہ مافیا تک ہر کسی نے ہراساں کیے رکھا حکمران طبقہ مگر عیش و عشرت کے پنگھوڑے میں بیٹھا جھومتا رہا۔ یہ جو آج چند پبلک ریلیف ملے ہیں وہ عدلیہ کی جانب سے ہیں جناب چیف جسٹس ثاقب نثار نے ایسے فافیا پر ہاتھ ڈال رہے اور ایسے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کی ہے جنہیں کوئی چھو تک نہیں سکتا تھا سچ یہ ہے کہ لوگ سیاستدانوں و حکمرانوں کو فضول تصور کرنے لگے ہیں وہ کہتے ہیں کہ انہوں نے تو ان کے لیے گڑھے کھودے ہیں اور اپنے لیے ہر طرح کی سہولت پیدا کی ہے ۔ علاوہ ازیں عوام کی امانت میں خیانت کر کے کھربوں ذاتی تجوریوں میں لے گئے۔

اس قسم کی عوام میں سوچ ابھر رہی ہے تو سیاستدانوں کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے لہٰذا وہ جس چھینا جھپٹی اور دست و گریباں کا مظاہرہ کر رہے ہیں اس سے انہیں اجتناب برتنا چاہیے۔ مگر نقار خانے میں طوطی کی آواز کون سنتا ہے آج تک اہل اختیار نے جو چاہا کیا عوام تو انہوں نے اُلو باٹے سمجھ رکھے ہیں۔ ان کی حیثیت ہی کیا ہے ؟

اب بھی کچھ ایسا ہی نظر آ رہا ہے ۔ عمران خان انہیں بھی ترجیح دے رہے ہیں جو ان کے شدید مخالف تھے ۔ ان کارکنوں اور ہمدودوں کو نظر انداز کر رہے ہیں جنہوں نے خود کو پی ٹی آئی کے لیے وقف کر دیا تھا مخالفین کے خوف زدہ کرنے پر بھی وہ ڈٹے رہے مگر اب وہ آہیں بھر رہے ہیں لہٰذا اگر یہ سلسلہ جاری رہتا ہے وزیر اعظم کھوتے گھوڑے کی پہچان سے عاری ہو کر آگے بڑھتے ہیں تو انہیں راستے پُر خطر ملیں گے ۔ شاید یہ اس کا آغاز بھی ہو چکا ہے کہ جنہیں وہ رُلانے کی بات کرتے تھے وہ دھیرے دھیرے ان کی پہنچ سے باہر ہوتے جا رہے ہیں اور یہ کہنا غلط نہ ہو گا وہ چند مہینوں یا ہفتوں میں آزاد ماحول میں سانس لے رہے ہوں گے لہٰذا جو عمران خان چاہتے ہیں وہ نہیں ہو گا ہو بھی نہیں سکتا کیونکہ ابھی عوامی شعور میں اضافہ ہوا ہے طاقتور نہیں ہوا لہٰذا ابھی ان کے لیے آسانیاں بھی کہاں ؟ ابھی انہیں فقط جینا ہے جن آسائشوں کی وہ خواہش کررہے ہیں وہ انہیں میسر نہیں آ سکتیں مگر پھر بھی ان کو امید کی وادی میں جھانکتے رہنا ہے !


ای پیپر