ناز کی فطرت ۔۔۔ وارفتگی
03 جنوری 2019 2019-01-03

شاعری ہو یا نثری تحریر یا کوئی بھی صنف دراصل خداداد صلاحیت ہے ۔کوئی شخص دنیا کی کسی زبان میں پی ایچ ڈی ہو ادب پڑھا ہو لیکن شعر گوئی اگر اس کی سرشت اور ودیت میں شامل نہیں ہے تو پھر ایک شعر بھی تخلیق نہیں کر سکتا خشونت سنگھ کہتے ہیں دنیا کی کوئی یونیورسٹی یا ادارہ بندے کو لکھاری نہیں بنا سکتا گویا علم قائل کرتا عالم ہونا الگ بات ہے۔ تخلیق کار ہونا بالکل ہی الگ صلاحیت کا معاملہ ہے۔ ناز بٹ بیک وقت شاعرہ ، نثر نگار ، کالم نگار اور صحافتی خوبیوں سے مالا مال یعنی ایک ہمہ جہت شخصیت ہیں ، معیار کے لحاظ سے انہوں نے کسی بھی صنف پر سمجھوتہ نہیں کیا ،انہوں نے صرف اور صرف اپنی تخلیقی صلاحیتوں کے بل بوتے پر خود کو منوایا ، شہرت کے بجائے ہمیشہ اپنی عزت او وقار کو ترجیح دی اورایک مدت سے شعر و ادب کی دنیا سے وابستہ رہنے اور نیک نام ہونے کے باوجود وہ اپنا پہلا شعری مجموعہ اب منظرِ عام پر لائی ہیں

شاعر کبھی اپنے ذاتی احساسات کو سپردِ قرطاس کرتا ہے اور کبھی اس کے الفاظ و اشعار لوگوں کے جذبات اور احساسات کی ترجمانی کرتے ہیں۔ ناز بٹ نے اپنی کتاب میں خود کو محبت کی شاعرہ کہا ہے لیکن وہ صرف محبت کی شاعرہ نہیں ، ایک انتہائی حساس قلمکار ہیں جن کا دل ہر ذی روح کے دکھ کُڑھتا ہے ، ناز بٹ کی نظموں میں محبت کی لطافت اور سرشاری بھی ہے اور غم کی تیز آنچ بھی ، انسان دوستی ، معاشرتی رویوں اور انسانی المیوں کا بیان اس شدت سے کیا گیا کہ قاری کے وجود میں درد گُھلنے لگتا ہے

ناز بٹ کی شاعری میں غزل اور نظم دونوں ہی ہجر و صال کی طرح الگ الگ لذتیں بھی رکھتی ہیں اور عصری شعور کی غماز بھی ہیں ، جبکہ نثری اعتبار سے دیکھا جائے ان کی کتاب میں موجود ان کا مضمون یا دیباچہ "سرگوشی سے وارفتگی تک " ایک ایسا شہہ پارہ ہے جسے ہم نثر بھی کہہ سکتے ہیں اور نظم بھی ..... شاعرہ کے مزاج کی حساسیت ان کے مَن کی گہرائیاں سمجھنے کے لئے ان کی یہ ایک تحریر ہی کافی ہے ، بقول صدیق الفارق ، ناز بٹ کا یہ دیباچہ اتنا اچھوتا انداز لئے ہے کہ بہت سے لکھنے والوں کے لئے" مہمیز" کا کام بھی دے گا اور تمثیل بھی بنے گا

’’سرگوشی سے وارفتگی تک‘‘ میں اپنے بچپن ، والدین، اساتذہ، دوستوں اور وارفتگی کے مزاج کو نہ چاہتے ہوئے بھی بیان کر گئیں کہ ’’حساسیت کا یہ عالم تھا کہ ہر سال کلاس میں اول انعام حاصل کرنے پر مارے ندامت کے زمین میں ہی گڑی چلی جاتی۔ آنسو بہنے لگتے گویا میں نے دوستوں کا حق مار لیا ہو ’’دوستوں کے لیے دعائیں کرتی تھی کہ اللہ جی! پلیز مجھے اس بار سکینڈ کر دیں نا اور فرسٹ پوزیشن عائشہ یا طیبہ کو مل جائے۔۔۔

بچپن سے تتلیوں، پھولوں، سمندر سے عشق، خوشبو، شاعری، ڈائری لکھنے سے محبت کرنے والی کی فطرت میں ہی وارفتگی تھی ،اُن کی شاعری سے پہلے ’’سرگوشی سے وارفتگی تک‘‘ کو ضرور پڑھ لیا جائے تو شاعرہ کی شاعری کی روح تک اتر ا جا سکتا ہے، ناز بٹ کے والد مرحوم بھی شاعر تھے جو اپنا دیوان جل جانے کی تاب نہ لاتے ہوئے جان سے ہار گئے گویا شاعری اُن کی زندگی تھی نازبٹ کی کتاب میں جس جذب کے عالم میں انہوں نے یہ سب تحریر کیا دل جکڑنے کے لئے کافی ہے

اور شاعری میں"کُونج کا سفر " اور"مجھے کچھ دیر سونے دو کو ملا کر پڑھیں تو لمس و محبت، حساسیت و انسانیت کی شاعرہ کی شاعری میں نظموں، غزلوں، اشعار میں مرثیے، حسرت ، نوحے، امید، شگفتگی، پژمردگی کے جذبات و کیفیات اور حالات کا امتزاج ملے گا۔

الفاظ و خیالات کا پُر تاثیر اظہار ، ترتیب شاعری کو باقاعدہ مترنم بناتی ہے۔

اس کتاب اور شاعرہ کی شاعری پر بات کرتے ہوئے دل تو چاہتا ہے خود کتاب لکھ دوں ،

دراصل ناز بٹ بنیادی طور پر بہت ہی نیک اور متوفی روح کی مالکہ خاتون ہیں۔ ناز بٹ ہندوستان تک اور وطن عزیز کے معروف شہروں میں مشاعرے پڑھ چکی تھیں،ایک اہل قلم کلب کی ویمن ونگ کی صدر بنیں ایک اخبار کے اول جریدہ کی مدیر ہوئیں تو راقم نے انہیں مبارکباد دی۔ کچھ ہی دنوں بعد میں عمرہ پر چلا گیا اور جناب حضرت ابو طالب و ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰؓ کے آستانوں پر حاضری دینے جنت المعلیٰ گیا وہاں تصویر بنوائی اورسوشل میڈیاپر لگائی کسی شخص کا مرنے کو جی نہیں چاہتا یہ بات میں نے اپنی کتاب میں اور میری روح میں بھی لکھی کہ جنت المعلیٰ میں میں دو دفعہ گیا اور یہ دنیا کی واحد جگہ ہے جہاں میر ادل چاہا کہ کاش مجھے یہاں دفن ہونا نصیب ہو جائے۔جب یہ تصویر میں نے سوشل میڈیا پر لگائی تو ناز نے لکھا کہ

" یہ منظر دیدنی ہے .... پُل پر سے زیارت کی تھی ... گھنٹوں کے حساب سے وہیں کھڑے رہنے کو جی چاہتا رہا .. وہاں سے ہٹنے کو دل نہیں کیا "

اُن کی یہ روحانی بات میری روحانی کیفیات میں اتر گئی اور میں نے انہیں اپنے بہت قریب پایا۔ صوفی اِزم کے حوالے سے شاید ان کی شخصیت کے اس رُخ سے کوئی واقف نہ ہو۔

ان کا بیٹا میرے بیٹوں کی طرح ہے۔ ان کے میاں جناب طارق محمود بٹ صاحب اور میرے اجداد ایک سلسلہ خاندان سے تعلق رکھتے ہیں اور کاروباری اعتبار سے بھی ہمارے مراسم ہیں۔

" وارفتگی " کی تقریب کے لئیمیں نے مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی سے تذکرہ کیا کہ مجھے اور گلزار بھائی (گلزار بٹ صاحب) سینئر سپرنٹنڈنٹ جیل نے اس رونمائی میں جانا ہے۔ جسٹس صاحب نے بھی کہا کہ بہت وضع دار ، عزت دار، منفرد مگر سلجھے ہوئے سنجیدہ لب و لہجے کی شاعرہ ہیں ،میں چلوں گا ۔ اتفاق سے خلیل طوقار بھائی، کیول دھیر، جناب امجد اسلام امجد کے انٹرویوز جو نا ز نے کئے تھے ،جج صاحب کی نظر سے بھی گزر چکے تھے جبکہ ان کا کلام بھی گاہے گاہے پڑھ چکے تھے۔ لہٰذا کتاب کی رونمائی کی تقریب پر چلے گئے سٹیج پر گلزار بھائی فخر پاکستان ڈاکٹر آصف محمود جاہ (ستارۂ امتیاز)، جناب امجد اسلام امجد، گورنر پنجاب چوہدری سرور ، سجاد میر ، سلمان غنی ،محترمہ یاسمین حمید ، عباس تابش سٹیج پر موجود تھے جبکہ سامعین میں شعیب بن عزیز ، مجیب الرحمٰن شامی ، صدیق الفارق ،ایثار رانا ، قمر رضا شہزاد، محترمہ حمیدہ شاہین سمیت تاحدِ نظر انتہائی پروقار ، سنجیدہ ہر شعبہ زندگی سے تعلق رکھنے والے لوگ شامل تھے

کسی کتاب اور پھر شاعری کی پہلی کتاب کی تقریب اتنی بھاری بھر کم تقریب جس میں شعر و ادب ، سیاست ، صحافت ، مقننہ، شعبہ ء تدریس اور میڈیا سے نہایت اہم اور نمایاں شخصیات شریک ہوئی ہوں پہلے دیکھی نہ سنی گئی ،

بحرحال جب ہم پہنچے تو پروگرام چل رہا تھا مسٹر جسٹس علی اکبر قریشی تو بھی سٹیج پر دعوت دی گئی۔

تمام مقررین نے ناز کی شعری خوبیوں کے ساتھ ساتھ ان کی شخصی خوبیوں کا بھی کھلے دل سے اعتراف کیا

شاعرہ کی چنیدہ چنیدہ شاعری پڑھی سامعین نے خوب داد دی۔

وارفتگی کا نفیس سرورق وسیم عباس نے تخلیق کیا جبکہ ادراہ التحریر کے عمران اللہ نے یہ کتاب شائع کی ، ادارہ التحریرہی ہے جس نے احمد ندیم قاسمی کی جلال و جمال ، پروین شاکر کی خوشبو ، خودکلامی ، مستنصر حسین تارڑ کی نکلے تری تلاش میں شائع کیں

آج کی دنیا ایسی نہیں ہے کہ مرزا غالب کا کلام سننے والے مرزا غالب سے واقف نہ ہوں یا منیر نیازی کا شعر پڑھنے سننے والے ان سے واقف نہ ہوں آج ساری دنیا گوگل، یوٹیوب، نیٹ اور موبائل کی صورت میں ہر ایک کی مٹھی میں ہے۔ ایک منٹ میں تمام دنیا کے سامنے ہوتا ہے۔ ناز بٹ اپنی شاعری کی طرح پاکیزہ، باکردار ، شگفتہ، حساس، ہمدرد اور وارفتگی کی فطرت رکھنے والی درویش اور صوفی صفت خاتون ہیں۔ اللہ تعالیٰ ان کی تمام دعائیں قبول فرمائے۔ نازکی فطرت ۔۔۔ وارفتگی ۔


ای پیپر