رحمت اور مہلت!
03 جنوری 2019 2019-01-03

2018بھی بیت گیا ، 2019بھی نہیں رہے گا، ہرچیز کو فنا ہے، وقت بھی اُس میں شامل ہے، کائنات کی کوئی چیز مستقبل نہیں، رہے نام اللہ کا۔ رات آتی ہے چلی جاتی ہے، دِن بھی نہیں رہتا، ایسے ہی انسان کی زندگی میں خوشی آتی ہے، چلی جاتی ہے، غم بھی نہیں رہتا ، درختوں پر پھل لگتے ہیں پھرپتے بھی نہیں رہتے، شاخوں پر پھول آتے ہیں، پھر جھڑ جاتے ہیں، بہارآتی ہے اور خزاں بھی نہیں رُکتی، نہ آنے والوں کو کوئی روک سکتا ہے نہ جانے والوں کو .... آنے والے آتے رہتے ہیں، جانے والے جاتے رہتے ہیں۔ کائنات کا نظام مگر نہیں رُکتا ، انسان خود کو بڑا طاقتور اور ناگزیر سمجھتا ہے، وہ سمجھتا ہے وہ جب نہیں ہوگا اُس کے بغیر کائنات کا نظام رُک جائے گا۔ کائنات کا نظام انسان نہیں چلاتے ورنہ کائنات کا نظام واقعی رُک جاتا، انسان کے لیے ایک مقامِ شکریہ بھی ہے کائنات کا نظام اللہ نے اپنے اختیار میں رکھا، زندگی، موت، دُکھ ، سُکھ ، مقدر، رزق سب اپنے اختیار میں رکھے، ان میں سے کوئی معاملہ انسانوں کے سپرد کیا ہوتا کائنات کا نام ونشان اب تک مِٹ چکا ہوتا ....وقت کتنی تیزی سے گزرتا ہے اِس کا احساس گزشتہ جمعة المبارک کی نماز ادا کرتے ہوئے بڑی شدت سے مجھے ہورہا تھا، یوں محسوس ہورہا تھا میں پچھلے جمعہ یہاں آیا تھا ابھی تک یہیں بیٹھاہوں ہمارے بزرگ اکثر کہتے تھے قیامت کی نشانیوں میں ایک بڑی نشانی یہ ہے سال مہینوں کی طرح، مہینے ہفتوں کی طرح، ہفتے دِنوں کی طرح، دِن گھنٹوں کی طرح، گھنٹے منٹوں کی طرح اور منٹ سیکنڈوں کی طرح گزریں گے، پھر ایسے ہی زندگی گزر جائے گی، نہ انسان اپنی مرضی سے دنیا میں آتا ہے نہ مرضی سے جاتا ہے، نہ مرضی سے زندگی گزارتا ہے، کبھی کبھی یوں محسوس ہوتا ہے بدن روح کی قید میں ہے اور زیست بے جُرم سزا ہے، مگر اُن لوگوں کے لیے زیست یقیناً ایک انعام ہے جو سیدھی راہ اختیار کرتے ہیں، سیدھی راہ کا اعلیٰ ترین مقام انسانیت کی خدمت ہے، ہم میں سے اکثر یہ سمجھتے ہیں چاردِن کی زندگی اللہ نے ہمیں صرف موج مستی کرنے کے لیے عطا کی ہے، ایک حد میں رہ کر موج مستی کرنے میں بھی حرج نہیں، مگر زندگی کا اصل مقصد انسانیت کی خدمت ہے جس کی توفیق خوش نصیب لوگوں کو ہی ملتی ہے، اللہ نے اربوں کھربوں انسانوں کو پیدا ہی اِس لیے کیا ہے وہ ایک دوسرے کا وسیلہ بنیں، ہم سمجھتے ہیں ہم صرف نمازیں پڑھ لینے سے ہی بخشے جائیں گے، یا حج، عمرے کرنے سے ہی بخشے جائیں گے، مجھے یہاں اپنے والدِ محترم یاد آرہے ہیں، اِک روز میں عشاءکی نماز پڑھنے کے بعد اُن کے پاس آکر بیٹھ گیا، وہ مجھ سے کہنے لگے ”سارا زور نمازوں پر ہی نہ رکھنا “ ....مجھے اُن کی بات سُن کر بڑی حیرت ہوئی، میں نے عرض کیا ”ابوجان آپ تو ہمیشہ پانچ وقت کی نماز پڑھنے پر بڑا زور دیتے ہیں، یہ آج آپ کیا کہہ رہے ہیں ؟“ وہ اُس روز خاص کیفیت میں تھے، وہ بولے ” فرمایا گیا قیامت کے روز سب سے پہلا سوال نماز کے بارے میں ہوگا، اللہ مرضی کا مالک ہے، ممکن ہے روز قیامت وہ تم سے یہ پوچھ لے فلاں روز فلاں وقت جب تم اپنے گھر میں بیٹھ کر انواع واقسام کے اعلیٰ وعمدہ کھانوں سے اپنا پیٹ بھررہے تھے، کچھ ہی فاصلے پر یتیم بچے بھوک سے بلک رہے تھے، تمہیں معلوم بھی تھا، پھر تم نے اُن کے لیے کیا کیا ؟؟؟، کیا تم آگے سے یہ کہہ سکو گے”اے میرے مالک مجھے بتایا گیا تھا قیامت کے روز سب سے پہلے سوال نمازوں کا ہوگا، میں پانچ وقت کی نمازیں پڑھتا رہا ، آپ مجھ سے اِس بارے میں پوچھیں ؟؟“....2018ءکی آخری رات حضرت داتا گنج بخش ؒ کے مزار مبارک کی مسجد میں بیٹھا اپنے والد محترم اور دوسرے بزرگوں کو یاد کرتے ہوئے جہاں میں اپنی پاک پروردگار کی سینکڑوں نعمتوں پر شُکر ادا کرنے کی ناکام کوشش کررہا تھا وہاں یہ ندامت بھی میرے سرپر سوارتھی 2018میں اور اُس سے پہلے میرا ایک عمل ایسا نہیں جِسے میں اِن سینکڑوں نعمتوں کے مقابلے میں رکھ سکوں،.... انسان کی بدقسمتی وہ یہی سوچتا رہتا ہے زندگی ابھی بہت پڑی ہے ، زندگی مگر بہت مختصر ہے، میں نے ایک بار لکھا تھا جب کوئی انسان بطور مسلمان پیدا ہوتا ہے اُس کے کان میں اذان دی جاتی ہے، اُس اذان کی نماز نہیں ہوتی، پھر جب کوئی انسان بطور مسلمان انتقال کرجاتا ہے اُس کی نماز پڑھائی جاتی ہے اُس نماز کی اذان نہیںہوتی، گویا زندگی اذان اور نماز کے درمیان وقفے کا نام ہے، میری یہ غلط فہمی بھی دُور ہوگئی، 2011ءمیں میری والدہ محترمہ میرے دیکھتے

دیکھتے چند سیکنڈز میں انتقال فرما گئیں پہلی بار مجھ پر یہ انکشاف ہوا زندگی اور موت کے درمیان اتنا وقفہ بھی نہیں جتنا اذان اور نماز کے درمیان ہوتا ہے۔ جی ہاں انسان کی بدقسمتی مگر یہ ہے وہ ہمیشہ اِس یقین کا شکار رہتا ہے زندگی ابھی بہت پڑی ہے، بس کوئی کوئی ہوتا ہے جو یہ نہیں سمجھتا، میرا چھوٹا بھائی محمد ثاقب بٹ ہے، اگلے روز کھانا میز پر پڑا ہوا تھا، اُس نے عشاءکی نماز پڑھنی شروع کردی، وہ نماز پڑھ کر فارغ ہوا، میں نے اُس سے کہا ”یار عشاءکی نماز میں تو بہت ٹائم ہوتا ہے، اگر گھر پر ہی پڑھنی ہے کچھ دیر بعد بھی پڑھی جاسکتی ہے“۔ وہ بولا ” بھائی جان موت کا مگر کوئی ٹائم نہیں ہوتا کیا خبر کب آجائے اور ہماری ایک نماز رہ جائے “....اُس کا ایمان تازہ اور درست تھا، میں کِسی اور طرف نکل گیا، میں نے عرض کیا ”پانچ وقت کے نمازیوں کو یہ موقع مرنے کے بعد بھی شاید ملتارہے کہ انسان مرتا نہیں، اُس کا انتقال ہوتا ہے، وہ ایک جگہ سے دوسری جگہ ”منتقل “ ہوتا ہے، احمد ندیم قاسمی مرحوم کا بڑا زبردست شعر ہے ....”کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مرجاﺅں گا .... میں تو دریا ہوں سمندر میں اُتر جاﺅں گا “ ....میں تو کہتا ہوں ” کون کہتا ہے کہ موت آتی ہے مر جاتے ہیں .... ہم تو بھٹکے ہوئے ہیں لوٹ کر گھر جاتے ہیں“ .... گھر وہ ہوتا ہے جہاں ماں ہوتی ہے اور ہم بھٹکے ہوئے لوٹ کر اُس ”گھر“ میں جاتے ہیں جہاں ماں سے ستر گنا زیادہ پیار کرنے والا ہوتا ہے “۔ ایک جگہ وہ ہے جس کا انسان سے حساب کتاب لیا جائے گا، دوسری جگہ سزا اور جزا کی ہے، ہم صرف جزا کے اُمیدوار ہیں، کیونکہ ہمیں معلوم ہے ہمارا رب بہت رحیم ہے بہت کریم ہے، بلکہ مجھے لگتا ہے اللہ نے ہمیں آپ کے اُمتی کے طورپر پیدا کرکے ایڈوانس بخش دیا ہے، اب اِس ”ایڈوانس بخشیش“ کا حق صرف اِسی صورت میں تھوڑا بہت ادا ہوسکتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نقشِ قدم پر چلنے کی دِل سے ہم کوشش کریں، اخلاق کی بلندی اِسی سلسلے کی پہلی کڑی ہے۔ آپ نے فرمایا ” روز قیامت میرے سب سے زیادہ قریب وہ ہوگا جس کے اخلاقیات بلند ہوں گے“۔ ....2018میں بے شمار کام ہم نہیں کرسکے، 2019ہمیں ایک مہلت کے طورپر مِلا ہے ، جیسے کوئی انسان رات کو یہ سوچ کر اِس پچھتاوے کے ساتھ سوئے آج بے شمار کام وہ نہیں کرسکا اور صبح اُسے ایک اور دِن مہلت کے طورپر مِل جائے۔ کہتے ہیں مہلت بار بار نہیں مِلتی ، ہماری خوش قسمتی ہمیں بار بار مہلت مِل رہی ہے اور بدقسمتی یہ اِس مہلت کو ہم بار بار ضائع کررہے ہیں !!


ای پیپر