Nai Baat Magazine
03 فروری 2021 (22:56) 2021-02-03

اسد شہزاد

 انسان کا جب سے کتاب اور ادب سے سلسلہ ٹوٹا ہے ہمارا معاشرہ بے حس ہوگیا نہ ہماری ثقافت نہ تہذیبی رشتے نہ روایات جس سے دھرتی سے ناطے جڑے ہوئے تھے وہ بھی ٹوٹ گئے پوری دنیا ترقی یافتہ ہوئی، اس لئے کہ ان کی قوموں نے کتاب اور ادب سے رشتہ نہیں توڑا، شاید یہی وجہ ان کی ترقی اور خوشحالی کی ضامن بنی، جدیدیت کے دور میں ہمارے معاشرے کو بہت نقصانات کا سامنا کرنا پڑا اور سب سے بڑا نقصان علم،رشتوں اور ورثوں سے نسلوں کو دور کردیا گیا اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ دوری گزری بری داستان کی طرف لے کر چل پڑی ہے۔ 

ادیب کسی بھی معاشرے کا ایک رول ماڈل ہوتا ہے جہاں وہ اس کی شناخت بنتا ہے وہاں اپنی دھرتی کو شناخت دینے کیلئے اپنی خوبصورت لفاظی کے ساتھ زمینی حقائق کو زندگی کے کینونس میں یوں بکھیرتا ہے کہ وہ حسین زندگی کا حسین نظارہ بن جاتاہے، قاضی کی بات ہو یا ذکر حال کا، اردو ادب اور فنون لطیفہ کا وسیع کینونس ، قلمی وادبی رعنائیوں کے دم میں ادیب کوشان وشوکت کچھ اور ہی ہوتی ہے۔ 

میں نے آپ سے اپنی گفتگو کے آغاز میں ایک بات کہی تھی کہ دنیا میں وہی قومیں سرخرو ہوتی ہیں جو پہلے  اپنے آپ کو سمجھتی ہیں، اپنے ادب، اپنی تہذیب اور اپنے فکروفلسفے کو سمجھنے کی کوشش کرتی ہیں اور پھر دنیا بھرکے ادب، سماجیات اور فکروفلسفہ سے اپنی ذہنی کشادگی میں اضافہ کرتی ہیں ادیب اور شاعر ہرمعاشرے میں سنہرے موتی ہوتے ہیں اور اگر ان بکھرے موتیوں کو سمیٹ کر سینہ قرطاس پر نقش کریں تو معاشرہ خوبصورت ہو جاتا ہے۔

عارفہ صبح خان کا نام اب ادبی، شاعری، سماجی اور صحافتی حلقوں میں کسی تعارف یا تعاریف کی دسترس میں نہیں آتا کہ وہ اپنے قلمی محاذ پر بڑی خوبصورتی سے چمک دمک رہی ہے وہ بولتی ہے تو خوب بولے، وہ لکھے تو خوب لکھے بات کرے تو خوب کرے وہ لفظ کی حرمت اور اس کی پاسداری کی امین ہے جب وہ شاعری کرتی ہے تو پورے ماحول اور فضا کو سمیت لیتی ہے کئی کتابوں کی مصنف ہونے کے ساتھ ساتھ یہ سلسلہ ہنوز جاری وساری ہے کہ لکھنا ہی اس کا اوڑنا بچھونا ہے وہ لفظوں کی محتاج نہیں لفظ اس کی تلاش میں رہتے ہیں۔ 

عارفہ نے اپنی زندگی کا آغاز دریا کی طرح کیا، وہ موج کی طرح بن کر اٹھیں، سنگلاخ چٹانوں کا مقابلہ کیا، راستہ بنایا، مایوسیوں ناامیدیوں اور ناموافق پہاڑوں کو کاٹ کر ندی کی شکل اختیار کی اورپھر صحافت کی تاریخ کے کئی باب رقم کرتے ہوئے اپنے ہم عصروں سے کئی بارمیدان مارا اور پھردریا بن کر اپنی گہرائی کا اعلان کرڈالا۔ 

عارفہ صبح خان بیک وقت تین اننگز کی کھلاڑی ہے صحافت، شاعری اور ادب کے بعد اس نے اپنی چوتھی اننگز بھی کھیلتے ہوئے تعلیمی میدان میں بڑی مہارت کے ساتھ استادی کرتے ہوئے کالجز اور یونیورسٹیوں میں پڑھانے کا اعزاز حاصل کرڈالا، بطور انسان، شائستگی آہستگی اور لہجے میں پیارومحبت لیے وہ سب میں یکساں اپنے سلسلوں کو جاری رکھے ہوئے ہے یہی اس کا کمال فن اور عمربھر کی کمائی ہے جو اس نے آج تک کمایا۔ 

اور آخری بات …

اس کے بارے میں یہ بات کہی جاسکتی ہے کہ وہ اپنے قلم سے پیاز کو اس فنکاری کے ساتھ چھیلتی ہے کہ پیاز ختم ہو جاتا ہے مگر ایشو اس کی مٹھی سے باہر نہیں نکلتا، عارفہ کی ایک خاص بات وہ متکبر نہیں جس طرح کسی بڑے آدمی کے ہونے کو سند نہیں ہوتی اسی طرح عارفہ کے کئے کاموں کی کوئی سند نہیں کہ اب وہ دریا بن کر سمندر میں اترچکی ہے اوراب عشروں میں اترتے ہوئے وہ جس قافلے کی مسافر ہے وہ کہیں گھڑی بن کے رکتا ہے اور پھر رواںدواں ہو جاتا ہے اور عارفہ تو ہمیشہ اس قافلے کی مسافررہی ہے۔  

گذشتہ دنوں ہم نے عارفہ صبح خان جو کئی محاذوں کی کھلاڑی ہیں سے ایک ملاقات کی اور ان کی زندگی کے بارے بہت باتیں واتیں کیں۔ جو قارئین کی نذر ہیں۔

سوال:آپ کو ایک بولڈ صحافی کے طور پر مانا جاتا ہے، یہ بہادری وقت کا تقاضا تھی یا فطری تھی؟

جواب: آپ کی شخصیت ہمیشہ آپ کی فطرت سے منعکس ہوتی ہے۔ بہادری میرا جوہر ہے۔ جس طرح شاعری سیکھنے سے شاعری میں آہنگ، حلاوت اور شاعرانہ صفات پیدا نہیں ہوتیں، اسی طرح بہادری، جرأت اور دلیری بھی انسان کے اندر ہو تو نکلتی ہے۔ میں نے بے شمار بودے صحافی، نکمے ڈاکٹر، ڈرپوک سیاستدان اور احمق استاد دیکھے ہیں۔ جس طرح ذہانت ہر شخص کو ودیعت نہیں کی جاتی۔ جس طرح حسن ہر ایک کی دسترس میں نہیں ہوتا، جس طرح شرافت ہر ایک کی میراث نہیں ہوتی، بالکل اسی طرح بہادری ہر آدمی کے بس میں نہیں ہوتی۔ میں بہادر ہوں اور بہادر انسان اس وقت ہوتا ہے جب اس کا کردار مضبوط ہوتا ہے۔ میں بہادر تھی، اتفاق سے صحافت بھی بہادروں کا پیشہ ہے، اگرچہ بہت سے مصلحت پسند، ڈرپوک اور بُزدل بھی اس پیشے سے وابستہ ہیں لیکن صحافت کو بہادری اور جرأت کی ہی ضرورت ہوتی ہے۔

سوال:صحافت کو مقدس اور سچا کھرا ہونا چاہیے، کیا آج یہ پیمانہ قائم ہے؟

جواب: ہماری صحافت کو مقدس اور آئینہ کی طرح شفاف ہونا چاہیے مگر بدقسمتی سے یہ سب خوبیاں اب قصۂ پارینہ بن چکی ہیں۔ یہ الفاظ اب درسی کتب تک محدود رہ گئے ہیں۔ صحافت بھی ٹیچنگ، نرسنگ اور ڈاکٹری کی طرح آلودہ ہو چکی ہے۔ پہلے ایک خبر پر تھرتھری مچ جاتی تھی۔ اب تمام ثبوتوں کے ساتھ خبر لگ جاتی ہے مگر کچھ نہیں ہوتا۔ آج صحافت ایک پھاپھا کُٹنی بن چکی ہے۔ بکائومال بنتی جارہی ہے۔ میں نے دس پندرہ سال پہلے کہا تھا کہ سب ادارے ناکام ہو جائیں تو کوئی بات نہیں مگر عدلیہ اور صحافت کے ستون نہ لڑکھڑائیں ورنہ پاکستان کی سالمیت خطرے میں پڑ جائے گی۔ میڈیا میں آج کل جو کچھ ہورہا ہے، اس میں خطرے کی بُو بڑھتی جارہی ہے۔ آج کل تو ویسے بھی صحافت اور صحافیوں پر نحوست کے بادل چھائے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر جب سے پرنٹ میڈیا کا گلا گھونٹا گیا ہے۔کچھ حکمران سمجھتے ہیں کہ میڈیا کی دُم پر پائوں رکھیں گے تو میڈیا ہمارے آگے سرنگوں ہو جائے گا، ماضی کے حکمران میڈیا کو خوش کرنے میں لگے رہتے تھے۔ دونوں ہی رویے انتہائی غلط ہیں اور دونوں رویوں سے میڈیا پر منفی اثرات رونما ہوئے ہیں۔

سوال:آپ کے نوازشریف فیملی سے بہت اچھے تعلقات رہے ہیں، خاص طور پر کلثوم نواز اور مریم نواز سے … کیا مریم نواز سیاست میں اپنا مقام  بنا سکیں گی؟

جواب: یہ تعلقات میرے بچپن سے تھے۔ میاں نواز شریف کے ماموں اور ہمارے گھر ساتھ ساتھ تھے۔ نوازشریف جب وزیراعلیٰ تھے بلکہ وزیرخزانہ تھے تو اپنے ماموں کے گھر آیا کرتے تھے۔ میری دادی اور مریم نواز کی دادی کی دوستی تھی لیکن میرا اصل تعلق بطور صحافی بڑھا۔ کلثوم نواز مجھے بہت شوق سے پڑھتی تھیں۔ انہوں نے اردو ادب میں ایم اے کیا تھا۔ انہیں علم وادب سے گہرا لگائو تھا۔ میں اکثر ماڈل ٹائون اور پھر جاتی امراء جاتی رہی ہوں۔ مریم نواز کو اس وقت سیاست سے قطعاً لگائو نہیں تھا۔ وہ اپنے ہیئرسٹائل بنواتی تھیں اور اپنے بچوں کے ساتھ لگی رہتی تھیں۔ کلثوم نواز ان کے پورے خاندان میں سب سے اچھی اور پیاری خاتون تھیں۔ بہت ذہین تھیں جب نوازشریف جیل میں تھے تو بہت روتی تھیں اور نوازشریف کی باتیں کرتے ہوئے کانپنے لگتی تھیں۔ مجھے کہتیں کہ نوازشریف کو پھانسی تو نہیں ہو گی نا؟ پھر جب کلثوم نواز بیمار ہو کر ہسپتال میں زندگی موت کی جنگ لڑرہی تھیں اور نوازشریف، مریم نواز پاکستان میں جلسے جلوسوں میں لگے ہوئے تھے تو مجھے بہت دکھ ہوتا تھا کہ کلثوم نواز کی محبت کا کیا معیار تھا اور یہ لوگ سیاست چمکا رہے تھے۔ نوازشریف ایک اچھے انسان ہیں لیکن انہوں نے اپنی بیوی کو تنہا چھوڑا۔ مجھے بہت افسوس ہوا۔ اب جب نوازشریف کی کرپشن کے قصے سنتی ہوں تو بھی افسوس ہوتا ہے۔ باقی مریم نواز تو دُنیا کی خوش قسمت عورت ہیں کہ انہیں سب کچھ ملا۔ مریم کا سیاست کی طرف رُجحان نہیں تھا، اپنے والد کی تیسری وزارت عظمیٰ میں انہیں سیاست میں آنے کا شوق چڑھا۔ اب دولت کے انبار، پوری پارٹی، لڈوشکر، باپ کا نام، شوہر کی حمایت سے وہ دن رات جلسے جلوس کررہی ہیں لیکن مریم نواز سیاست میں آگے جاتی نظر نہیں آرہیں۔ پانامہ کے بعد براڈشیٹ کیس بھی خوابوں کو چکناچور کرسکتا ہے۔ دوسرے شہبازشریف ابھی سیاست میں خاموشی سے اپنی چال چلنے والے ہیں۔ شہبازشریف اپنے بیٹے حمزہ کے مقابلے میں مریم نواز کو برداشت نہیں کریں گے۔

سوال:لیکن شہبازشریف جیل میں ہیں اور خاموش ہیں؟

جواب: اسی خاموشی میں تو طوفان پل رہا ہے۔ شہبازشریف میں لاکھ خرابیاں، خامیاں، فتور سہی لیکن پاکستان میں وہ واحد اچھے ایڈمنسٹریٹر ہیں۔ میرا خیال ہے کہ اسی سال تبدیلی آئے گی اور شہبازشریف بطور وزیراعظم آئیں گے۔ ان حالات میں شہبازشریف ہی سب سے بہتر ثابت ہوں گے۔ مریم نواز تو ابھی اپنے چچا تک نہیں پہنچ سکیں لیکن وہ بینظیر بھٹو بننے کی کوشش کرتی ہیں لیکن کیا وہ بینظیر بھٹو کی طرح قربانیاں دے سکتی ہیں۔ پاکستان کو ایک منظم، مدبر اور صلح جو آدمی کی ضرورت ہے۔ حالات کے تناظر میں شہبازشریف ہی بہترین آپشن ہیں۔

سوال:کہا جاتا ہے کہ عمران خان کرپٹ نہیں ہیں، کیا وہ پانچ سال پورے کریں گے؟

جواب: (ہنستے ہوئے) ہمارے ہاں جو بھی برسراقتدار ہوتا ہے، اسی کی تعریفوں کے پُل باندھے جاتے ہیں۔ عمران خان نے ابھی تک کون سا تیر مارا ہے۔ دُنیا جہاں کی امدادیں، قرضے، ٹیکس، ریونیو مل رہے ہیں۔ مہنگائی اور ٹیکسوں نے عوام کی زندگیوں میں زہر بھر دیا ہے۔ ہر طرف بے یقینی اور نحوست کے بادل منڈلا رہے ہیں، کون سی تبدیلی آئی ہے، بجٹ سال میں ایک بار آتا ہے لیکن یہاں تو ہر ہفتے گیس، بجلی، پانی، پٹرول، ڈیزل، آٹا، چینی، گھی کی قیمتیں بڑھ جاتی ہیں۔ حد تو یہ ہے کہ دال اور سبزیوں کی قیمت بھی ہر ہفتے بڑھا دی جاتی ہے۔ لوگ خودکشی کررہے ہیں، روزگار ختم ہوچکے، بھوک اور افلاس ننگے ہو کر ناچ رہے ہیں۔ کوئی فلاحی یا ترقیاتی کام نہیں ہورہا۔ کوئی نہیں بتاتا کہ کھربوں روپیہ کہاں جارہا ہے۔ جب کوئی حکمران اقتدار سے نکال دیا جاتا ہے اور اس کے تمام اختیارات ختم ہو جاتے ہیں تب کوئی کہے کہ عمران خان کرپٹ نہیں تھا، پھر یہ بات مانی جائے گی۔ ہمارے ہاں تو چاپلوسی اور خوشامد باقاعدہ ایک فن بن چکا ہے۔ آج کامیابی اور ترقی کا گُر صرف خوشامدی حربوں سے مشروط ہے۔ میرٹ اور تعلیم تجربے کا پہلے بھی خون کیا جاتا تھا، آج بہت زیادہ ہو گیا ہے۔

سوال:کیا آپ موجودہ حکومت کے میرٹ سے متفق نہیں؟

جواب: کون سا میرٹ، کتنے وزیر مشیر میرٹ پر ہیں۔ کتنے ٹکٹ میرٹ پر دیئے گئے اور کتنے عہدے میرٹ پر تقسیم کیے گئے؟ میرٹ کی تو دھجیاں بکھیری گئی ہیں۔

سوال:پاکستان میں سیاسی عدم استحکام کی وجہ؟

جواب: ناانصافی، کرپشن، عدم مساوات، رشوت، چاپلوسی، منافقت، بے ایمانی اور حسد ورقابت۔ ہر شخص دوسرے سے نالاں ہے۔ اپوزیشن منافق، حریص اور ابن الوقت ہے۔ حکمران بے حس اور ناکام ہیں۔ ویژن کی شاید کمی ہے۔ سب اداروں میں ناانصافی، کرپشن اور میرٹ کا خون کیا جاتا ہے۔ شبلی فراز اس لیے وزیر اطلاعات ہیں کہ وہ احمد فراز کے بیٹے ہیں۔ ولید اقبال اس لیے سینیٹر ہیں کہ وہ جاوید اقبال کے بیٹے ہیں۔ عمرایوب اس لیے وزیر ہیں کہ وہ گوہرایوب کے بیٹے ہیں۔ مریم نواز اس لیے لیڈر بن رہی ہیں کہ وہ نوازشریف کی بیٹی ہیں۔ حماد اظہر اس لیے وزیر ہیں کہ وہ میاں اظہر کے بیٹے ہیں۔ بلاول بھٹو اس لیے چیئرمین پیپلزپارٹی ہیں کہ وہ آصف زرداری کے صاحبزادے ہیں۔ سیاست میں ہر بڑے عہدے اور وزارت پر وہ لوگ بیٹھے ہیں جن کے باپ دادا، ماں، بہن بھائی یا چچا ماموں سیاست میں رہے ہیں۔ سیاست میں کسی پڑھے لکھے، قابل، شریف اور متوسط طبقے کے لیے گنجائش نہیں ہے۔ سیاست میں موروثیت کا غلبہ ہے۔ نکمّے اور نااہل لوگ سر پر مسلط کردیئے جاتے ہیں، اسی لیے پاکستانی سیاست میں چوں چوں کا مربہ ہے۔

سوال:لیکن یہ معاملات باقی شعبہ جات میں بھی تو ہیں؟

جواب: جی ہاں … جب بڑے ایسے ہوں تو سب جگہ ایسی ہی مثالیں ملیں گی۔ حکمران مثالیں قائم کرتے ہیں مگر یہاں رواج ہے کہ اندھا بانٹے ریوڑی اپنے اپنے کودے۔ باقی اداروں میں بھی یہی چلن ہے۔ دُنیا کی آنکھوں میں دُھول جھونکنے کے لیے اشتہارات چھپتے ہیں۔ بظاہر انٹرویو کیے جاتے ہیں لیکن پہلے سے طے شدہ لوگ رکھے جاتے ہیں۔ پاکستان میں کرپشن کے ایک نہیں ہزاروں طریقے ہیں۔ فارن فنڈنگ کرپشن کی تازہ مثال ہے۔

سوال:بینظیر بھٹو آپ کو اپنی چھوٹی بہن کہتی تھیں، ان کی دعوت کے باوجود آپ ان کی پارٹی میں شامل نہیں ہوئیں، آپ سیاست میں کیوں نہیں آئیں؟

جواب: میں صحافی تھی اور صحافی ہوں۔ بینظیر بھٹو نے مجھے تین چار مرتبہ دعوت دی لیکن سیاست میں بہت منافقت، ریاکاری اور عیاریاں ہیں۔ سیاست میں جن کے ضمیر نہیں ہوتے، وہی کامیاب ہوتے ہیں۔ میرے اندر ان میں سے ایک بھی خوبی نہیں تھی اس لیے میں نے بینظیر بھٹو سے معذرت کرلی۔ پاکستانی سیاست میں آنے کے لیے بندے کو بہت ڈھیٹ اور بے شرم ہونا چاہیے۔ مجھے اللہ نے میرے شعبوں میں بہت عزت دی اور علمی وادبی لوگ سیاست میں کیسے چل سکتے ہیں، وہ تو بات بھی نرم وملائم طریقے سے کرتے ہیں۔

سوال:بلاول بھٹو میں وزیراعظم بننے کی صلاحیت ہے؟

جواب: بلاول بھٹو ایک بار ضرور پاکستان کا وزیراعظم بنے گا۔ اگر اس کی درست سطور پر تربیت کی جائے تو وہ ایک اچھا حکمران بن سکتا ہے لیکن اسے کم ازکم دس سال بعد وزارت عظمیٰ کا سوچنا چاہیے۔

سوال:پہلے آپ عمران خان کو بہت سپورٹ کرتی تھیں، پھر ہاتھ کیوں کھینچ لیا؟

جواب: میں تو عمران خان کو بچپن سے سپورٹ کرتی آرہی تھی۔ عمران خان کے حق میں آرٹیکل لکھتی تھی۔ 2018ء کے الیکشن میں بھرپور سپورٹ کی کہ شاید عمران خان ملک کو ترقی کے راستے پر ڈالے گا لیکن عمران خان نے مجھ سمیت 22کروڑ عوام کی توقعات توڑدیں۔ عمران خان تو سابقہ حکمرانوں سے بھی گیا گزرا نکلا۔ اڑھائی سال میں پورا ملک بحرانی کیفیت میں آگیا۔ میرٹ کا خون کیا۔ عمران خان نے نااہلی کا ثبوت دیا۔ لوگ شدید تکلیف میں آگئے ہیں۔ عمران خان کو خدا نے بہت بڑا موقع دیا لیکن افسوس عمران خان اہل ثابت نہ ہوا۔

سوال:آپ نے ایک تنظیم ’’ابنِ آدم‘‘ بنائی ہے جس کی ہر جگہ دُھوم ہے، یہ دُنیا کی پہلی تنظیم ہے جو مردوں کے حقوق کے لیے بنائی گئی ہے اور ایک خاتون نے بنائی ہے، کیسے خیال آیا؟

جواب: یہ خیال مجھے پہلی مرتبہ 1997ء میں آیا جب ایک عورت نے اپنے شوہر پر جھوٹے الزامات لگائے۔ میں کچھ سالوں سے خواتین کے حقوق کے لیے بہت سرگرم تھی اور کئی سال عورتوں کے حقوق کی جنگ لڑتی رہی۔ اس دوران احساس ہوا کہ بعض جگہ مرد بھی مظلوم اور دُکھیا رہے ہیں۔ میں نے پہلی مرتبہ 1999ء میں اپنی تقریروں میں اس بات پر روشنی ڈالی اور لکھا۔ میرا مشاہدہ تیز ہے۔ جلد ہی میں اس نتیجے پر پہنچی کہ کچھ مرد بھی دُکھی ہیں اور ان کے حقوق ماں بہن بیٹی بیوی اور کولیگز بھی مارتی ہیں۔ پھر ہراسگی کا قانون پاس ہونے سے دو تین مردوں کے ساتھ زیادتی ہوئی۔ مردوں کے لیے کسی نے بھی آواز نہ اُٹھائی۔ اس لیے مردوں کی مظلومیت، بے بسی، حق تلفی پر میں نے آواز بلند کی۔ اپریل 2020ء میں باقاعدہ ’’ابنِ آدم‘‘ کے نام سے یہ تنظیم بنائی۔ میں اس کی چیئرپرسن ہوں۔ اس تنظیم میں ملک کی سرکردہ شخصیات عہدیدار ہیں۔ مردوں کے حقوق پر بننے والی یہ دُنیا کی پہلی تنظیم ہے۔ اس کا جونہی اعلان کیا تو مجھے سینکڑوں لوگوں نے ممبرشپ کے لیے درخواستیں بھجوائیں۔ اس تنظیم کے چرچے پاکستان میں ہی نہیں، دُنیا بھر میں ہیں۔ اس تنظیم کو بہت سراہا گیا اور مرد بہت  خوش ہیں کہ کسی نے ان کی فریاد بھی سُنی۔

سوال: چار جلے ہوئے غریب بچوں کی امریکہ سے پلاسٹک سرجری کرانے کا کیا قصہ ہے؟

جواب: میرے پاس چار مختلف غریب خاندانوں کے جلے ہوئے بچے آئے۔ ان کی حالت بہت خراب تھی۔ میں نے ان کی ایک موثر خبر بنائی اور کالم لکھا تو لوگوں نے اتنی مدد کی کہ مجھے اگلے دن دوبارہ خبر لگانی پڑی کہ ہمارے پاس جلے ہوئے بچوں کے لیے وافر رقم اکٹھی ہو گئی لہٰذا اب مزید رقم نہ بھیجیں۔ یہ بچے تین سال سے سب سے مدد مانگ رہے تھے۔ میں نے ان کے ٹکٹ کے لیے پیسے شالیمار ہسپتال کو دیدیے جہاں سے انہیں اگلے ہفتے امریکہ بھجوا دیا گیا۔ ایک سال بعد یہ بچے ایئرپورٹ سے سیدھے میرے پاس آئے۔ چاروں بچوں کی پلاسٹک سرجری ہو چکی تھی۔ یہ بچے آج بھی مجھ سے ملتے اور مجھے دعائیں دیتے ہیں۔

سوال:کیا آج کل تعلیم آسان ہو گئی ہے کہ ڈگریاں ریوڑیوں کی طرح مل رہی ہیں؟

جواب: یہ بات ایچ ای سی کو سوچنی چاہیے کہ محض ڈگریاں جاری کرنے سے پاکستان میں تعلیم کی شرح میں بڑھے گی۔ آج کل تو ایم فِل، پی ایچ ڈی کی ڈگری بھی بی اے کی ڈگری کی طرح آسان کردی گئی ہے۔ اندر انتہائی گھپلے ہیں۔ یہ جو پانچ چھ سالوں میں ڈگریاں دی گئی ہیں۔ آپ ان ڈگری ہولڈرز کا امتحان لے کر دیکھ لیں۔ ان کے تھیسز دیکھ لیں۔ سب کچھ غیرمعیاری ہے۔ آج ڈگریاں تو دھڑادھڑ دی جارہی ہیں لیکن جس طرح کی تعلیم ہے، اس میں تربیت کا فقدان ہے۔ تربیت کی کمی نے پورے پاکستانی معاشرے میں خلجان بلکہ ہیجان پیدا کردیا ہے۔

سوال:آپ اکثر سیمینارز، مشاعروں اور ادبی اجلاسوں میں دکھائی نہیں دیتیں؟

جواب: کیونکہ میں خوشامد کرنا نہیں جانتی۔ جھوٹی تعریفیں، قصیدہ خوانی اور فضول کی جی حضوری میرے مزاج میں شامل نہیں۔ نہ ہی مجھے کسی سے غیرضروری باتیں کرنا یا لوگوں کے پاس جا جا کر بیٹھنا پسند۔ نہ میں لوگوں میں کتابیں بانٹتی اور نہ تحائف بھجواتی ہوں۔ ہماری سیاست، ثقافت، ادب سب کچھ صارفین کی بھینٹ چڑھ چکا ہے۔ لوگ تعریفوں کے بھوکے ہوتے ہیں۔ کسی نے جھوٹی تعریف کی اور موم بتی کی طرح پگھل کر بہہ جاتے ہیں۔ یہ جو سیمینار، مشاعرے، اجلاس ہوتے ہیں، کیا اس سے اردو ادب میں کوئی اضافہ ہوا ہے؟ اضافہ تب ہو جب ٹیلنٹڈ لوگوں کو سامنے آنے دیا جائے۔ چند وہی مخصوص چہرے اور نام ہر جگہ دکھائی دیتے ہیں۔ سارا ادب پی آرشپ پر چل رہا ہے۔ پی ٹی وی اور پاکستان آرٹس کونسل کے پاس چند مخصوص لوگوں کے نمبر ہیں۔ انہی کو بلا کر روایتی تعزیزیں کرا لیتے ہیں۔ اگر یہ ادبی اجلاس زرّخیز ہوتے تو آج پاکستانی ادب کا دُنیا میں کوئی مقام ومرتبہ ہوتا۔

سوال:ادب معاشرے کو سنوارتا ہے لیکن ہمارے معاشرے میں بہت انتشار ہے؟

جواب: جب ادب ہی جینوئن نہیں ہو گا تو معاشرہ کیا خاک سدھرے گا۔ ہمارا ادب زیادہ تر عورت اور مرد کے رومانوی معاملات تک محدود رہ گیا ہے۔ افسانے اُٹھا کر پڑھ لیں، ناول پڑھ لیں، شاعری سن لیں یا ڈرامے دیکھ لیں۔ کہانی مرد اور عورت کے تعلقات سے آگے نہیں نکلتی۔ ہمارے تمام ڈراموں کا آغاز عشق محبت، شادی بیاہ، خلع طلاق سے ہوتا ہے۔ سارا ڈرامہ اسی کے گرد گھومتا ہے یا پھر ناجائز تعلقات دکھائے جاتے ہیں۔ جب ادب میں صحت مند رُجحانات نہیں ہوں گے تو معاشرے میں بھی تخریب، ابتدال اور انتشار ہو گا، منفی رویے پرورش پائیں گے۔

سوال: آج کل کتاب اور قاری کا رشتہ تیزی سے ٹوٹ رہا ہے، اس کی کیا وجہ ہے؟

جواب: کتاب اور قاری کا رشتہ ٹوٹنا اس صدی کا المناک باب ہے۔ دُنیا کے تمام ترقی یافتہ ممالک میں اخبار، کتاب اور لائبریری سے لوگوں کا رشتہ مضبوط ہے۔ وہ ہم سے کہیں زیادہ مہذب اور ترقی یافتہ اس لیے ہیں کہ وہ پڑھتے ہیں۔ ہمارے ہاں پبلشرز کی وجہ سے بھی لوگوں میں دوریاں آئی ہیں۔ پبلشرز نے جب سے پیسے لے کر دونمبر اور جعلی ادب چھاپنا شروع کیا تب سے اصلی ادیب شاعر منظر سے ہٹ گئے ہیں۔ جب بونگی، بے معنی، بے مصرف، بے کار چیزیں چھپیں گی تو قاری کتاب خریدنا بند کردے گا۔ ساری قوم ناچ گانے اور بے ہودہ قسم کے ٹوئیٹس، ٹک ٹاک، چیٹنگ پر لگ گئی ہے۔ امیر سے فقیر اور تعلیم یافتہ سے لے کر جاہل تک سب کے ہاتھوں میں موبائل ہے۔ موبائل ایک مفید چیز ہے لیکن اس کے بے تحاشا اور غلط استعمال نے پاکستانی ثقافت کو برباد کردیا ہے، جرائم کی بڑی وجہ یہی جدید سوغات ہے۔

سوال:ڈاکٹریٹ میں آپ نے ’’تنقید‘‘ جیسے بوجھل مضمون کو کیوں منتخب کیا؟

جواب: تنقید پر کام کرنے کا فیصلہ میرا اپنا تھا۔ ایم فِل میں ڈاکٹر سلیم اختر میرے استاد اور نگران تھے۔ وہ کہا کرتے تھے کہ تنقید نظری اور عملی دونوں طرح مشکل، خشک اور پیچیدہ مضمون ہے۔ اس موضوع پر تو مرد بھی کام کرنے سے کتراتے ہیں، آپ کیوں اپنے لیے مشکلات پیدا کررہی ہیں، یہ زمانہ تنقید کا نہیں، خوشامد کا ہے۔ میں نے انتہائی سکون سے کہا کہ میری تو فطرت ہی مشکلات سے ٹکرانا ہے لہٰذا میں نے ضد کر کے تنقید پر کام کیا۔ پہلی بار کسی کو تھیسز پر 100 میں سے 90نمبر ملے تھے۔ میرا یہ تھیسز پی ایچ ڈی میں داخلے سے پہلے ’’اردو تنقید کا اصلی چہرہ‘‘ کے نام سے کتابی صورت میں شائع ہوا ۔ پاکستان کے علاوہ مصر اور بھارت میں بھی اس کو پڑھایا جاتا ہے۔

سوال:غالباً آپ کی نئی کتاب ’’تنقیدی گرہیں‘‘ آپ کی پی ایچ ڈی کا مقالہ ہے؟

جواب: جی بالکل۔ میں نے اس میں جدید ترین تنقید پر کام کیا، یہ مقالہ 1912ء سے لے کر 2012ء تک کی تنقید پر مشتمل ہے۔

سوال:آپ پہلے ڈرامے بھی لکھتی تھیں، اب کیوں نہیں لکھتیں؟

جواب:پہلے مجھے یاورحیات، منیزہ ہاشمی، شرافت نقوی، یاسین ملک، شہزاد انجم، راحیل رائو کی طرف سے آفرز آتی تھیں۔ یہ لوگ کمال کے قدردان تھے، عزت بھی کرتے تھے اور کام کو بھی سمجھتے تھے۔ مجھے ڈرامے کی طرف لانے میں بڑا ہاتھ منیزہ ہاشمی کا ہے۔ جب وہ پی ٹی وی کی جی ایم تھیں تو انہوں نے مجھ سے ڈرامے لکھوائے۔ اینکرنگ بھی کرائی اور گیسٹ بھی بلوایا۔ 

سوال:اینکرنگ کیوں چھوڑ دی؟

جواب:میں نے مختلف چینلز پر اینکرنگ کی۔ ان میں پی ٹی وی، رائل، سٹارایشیا وغیرہ شامل ہیں۔ اس کی بڑی وجہ تو یہ تھی کہ میری بیٹی چھوٹی تھی، میں اسے وقت نہیں دے پاتی تھی۔ پھر اتنے زیادہ میک اپ سے بھی مجھے الرجی ہوتی تھی۔ تیسرے پروڈیوسر چاہتے تھے کہ ٹاک شو فاسٹ ٹیمپو میں ہو۔ خوب لڑائی جھگڑا ہو۔ میں ٹاک شوز میں ڈسکشن، معلومات اور نتائج کو فوکس کرتی تھی، بس یہی وجوہات تھیں۔

سوال:صدارتی ایوارڈز پر اکثر ادباء وشعراء ناراض دکھائی دیتے ہیں، کیا آپ بھی؟

جواب:ادبی یا صدارتی ایوارڈ بہت معزز ہوتے ہیں لیکن جو لوگ دیتے ہیں ان سے نہ لینا ہی بہتر ہے۔ ادباء وشعراء کی ناراضی بجا ہے کیونکہ یہ ادباء وشعرا کو نہیں، سفارشیوں، راشیوں، منافقوں، خوشامدیوں کو ملتے ہیں، میرا تعلق ادب سے ہے بے ادبوں سے نہیں۔

٭…٭…٭


ای پیپر