Nai Baat Magazine
03 فروری 2021 (22:48) 2021-02-03

منصور مہدی

یوں تو حکومتی کرسی ہمیشہ سے ہی کانٹوں کی سیج قرار پائی ہے، مگر ایسے حکمرانوں اور سیاسی رہنمائوںکی بھی کوئی کمی نہیں ہے کہ جو یا تو قتل کر دیئے گئے یا انھیں پھانسی چڑھا دیا گیا۔ اگر دنیا کی تاریخ پر ایک طائرانہ نظر ڈالی جائے تو ایسا ہی ایک قتل 1710میں ملتا ہے جب لیوارڈ جزائر کے برطانوی گورنر ڈینئل پرک کو ایک مظاہرین نے ان کے گھر میں گھس کر مار مار کر قتل کر دیا تھا۔ لیکن اگر ماضی قریب میں دیکھا جائے توایسے متعدد سیاسی رہنما اور حکمران قتل کیے گئے اور پھانسی چڑھائے گئے کہ جن کی تفصیل لکھنے کیلئے ایک کتاب درکار ہو۔ذیل میں چند قتل ہونے والے رہنمائوں کی تفصیل ہے۔

 جان ایف کینیڈی:

جان فٹزجیرالڈ کینیڈی المعروف جان ایف کینیڈی یا جے ایف کے 29 مئی 1917کو پیدا ہوئے اور وہ ریاستہائے متحدہ امریکا کے 35 ویں صدر تھے۔ وہ 1961 سے 1963 میں اپنے قتل تک اس عہدے پر فائز رہے۔ وہ امریکا کی تاریخ کے کم عمر ترین اور واحد رومن کیتھولک صدر تھے۔ان کا قتل بھی آج تک ایک معما بنا ہوا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ انہیں لی ہاروے اوسوالڈ نامی ایک شخص نے قتل کیا جبکہ عوام سمجھتے ہیں کہ انہیں امریکی حکومت نے قتل کرایا۔کینیڈی ایک امیر اور بااثر خاندان سے تعلق رکھتے تھے۔امریکا کے شہر نیویارک کا ہوائی اڈا انہی کے نام سے "جان ایف کینیڈی ایئرپورٹ" کہلاتا ہے۔

موہن داس کرم چند گاندھی:

موہن داس کرم چند گاندھی، جو عام طور پر مہاتما گاندھی کے نام سے جانے جاتے ہیں، کو 30 جنوری 1948 کو برلا ہاؤس (موجودہ گاندھی سمرتی) میں قتل کیا گیا جہاں گاندھی کسی مذہبی میل ملاپ میں اپنے خاندان کے ساتھ موجود تھے، اس جگہ ہندو مہاسبھا سے تعلق رکھنے والا ایک انتہا پسند و قوم پرست ہندو شخص نتھو رام گوڈسے پہنچا اور اس نے موہن داس گاندھی پر گولی چلائی۔ حادثہ کے بعد گاندھی کو فوراً برلا ہاؤس کے اندر لے جایا گیا مگر تب تک وہ دم توڑ چکے تھے۔ اس حملے سے پہلے ان پر پانچ مزید حملے بھی ہوئے تھے مگر ان سب میں قاتل ناکام رہے۔ ان میں سب سے پہلی ناکام کوشش 1934 میں کی گئی تھی۔ برلا ہاؤس پرگاندھی کے قتل کی پہلی ناکام کوشش کے بعد ناتھورام گوڈسے اور نارائن آپٹے بمبئی (حالیہ ممبئی ) کے راستے سے پونے لوٹے۔ گنگادھر ڈنڈوتے کی مدد سے ناتھورام گوڈسے اور نارائن آپٹے نے بیریٹا پستول خریدی اور 29 جنوری 1948کو دہلی پہنچے۔ دونوں نے ریلوے کے رہائشی کمرہ نمبر 6 میں قیام کیا جہاں ان لوگوں نے قتل کا منصوبہ تیار کیا۔اور 30 جنوری 1948 کو برلا ہاؤس (موجودہ گاندھی سمرتی) میں انھو ں نے گاندھی جی کو قتل کر دیا۔

اندرا گاندھی:

اندرا گاندھی اصلی نام اندرا پریا درسن نہرو بھارتی سیاست دان۔ پنڈت جواہر لعل نہرو کی بیٹی، الہ آباد میں پیدا ہوئیں۔ سوئزرلینڈ، سمر ویل کالج آکسفورڈ اور بعد میں وشوا بھارتی شانتی نکتین میں تعلیم حاصل کی۔ گیارہ برس کی عمر میں سیاست میں حصہ لینا شروع کیا۔ انگلستان میں قیام کے دوران اور بعد ازاں ہندوستان واپس آکر بھی طلبہ کی تحریکوں میں سرگرم حصہ لیتی رہیں۔ تحریک آزادی میں حصہ لینے کی پاداش میں تیرہ ماہ کے لیے جیل بھیج دی گئیں۔ 1942 میں ایک پارسی نوجوان فیروز گاندھی سے شادی کی۔ اسی زمانے میں بھارت چھوڑ تحریک زور پکڑ رہی تھی جس میں حصہ لینے پر وہ اور ان کے خاوند قید ہو گئے۔ 1947 میں آل انڈیا کانگرس ورکنگ کمیٹی کی رکن منتخب ہوئیں۔ بعد میں کانگرس کے شعبہ خواتین کی صدر، مرکزی انتخابی کمیٹی اور مرکز پارلیمانی بورڈ کی ممبر بنیں۔ فروری 1959 میں انڈین نیشنل کانگرس کی صدر چنی گئیں۔ 66۔ 1964 میں وزیر اطلاعات و نشریات ہوئیں۔ 1966  میں لال بہادر شاستری کے انتقال کے بعد وزیراعظم منتخب ہوئیں۔1967 کے انتخابات میں کانگرس کی فتح کے بعد وزیر اعظم بنیں۔ 1971 کے انتخابات کے بعد تیسری مرتبہ وزیراعظم چنی گئیں۔مارچ 1977ء کے پارلیمانی انتخابات میں ان کی پارٹی کانگرس آئی نے جنتا پارٹی سے شکست کھائی۔ وہ خود بھی جنتا امیدوار راج نارائن سے ہار گئیں۔ 1978 میں مہاراشٹر کے ایک حلقے کے ضمنی انتخاب میں لوک سبھا کی رکن چن لی گئیں۔ لیکن دوران حکومت اختیارات کے ناجائز استعمال کے جرم میں دسمبر 1978 میں لوک سبھا سے ان کی رکنیت منسوخ کر دی گئی۔ اورقید کی سزا دی گئی۔ تقریباً ایک ہفتے بعد رہا کر دی گئیں۔ جنوری 1980 میں لوک سبھا کے عبوری انتخابات میں کانگرس آئی کی جیت ہوئی اور اندرا گاندھی نے مرکز میں وزارت بنائی۔ سکھوں کے خلاف انھوں نے فوجی اپریشن کا آغاز کیا۔ اور گولڈن ٹمپل پر فوجی حملے کے بعد سکھوں میں ان کی ساکھ کو بہت نقصان پہنچا۔چنانچہ 1984 میں دو سکھ محافظوں نے گولی مار ان کو قتل کر دیا۔

راجیو گاندھی:

راجیو گاندھی بھارت کے پانچویں وزیر اعظم تھے۔ وہ جواہر لعل نہرو کے نواسے اور اندرا گاندھی کے بیٹے تھے۔ راجیو گاندھی 20 اگست، 1944 کو ممبئی میں پیدا ہوئے۔1960 میں انہوں نے دون اسکول دہرادون سے سینیر کیمبرج پاس کیا اور 1960 میں اعلیٰ تعلیم کے لیے برطانیہ کا سفر کیا۔ 1963 میں انہوں نے میکنیکل انجینیئرینگ کے لیے ٹرینیٹی کالج کیمبرج میں داخل ہوئے۔ یہاں سونیا میانو ایک اطالوی سے ملاقات ہوئی جو کیمبرج کے تدریس زبان کے اسکول میں زیر تعلیم تھیں اور 1965 میں سونیا میانو سے شادی کی۔1968 انڈین ایر لائنس میں بحیثیت پائلٹ شامل ہوئے۔ 11 مئی 1981 سیاست میں شامل ہوئے۔ کانگریس کی ابتدائی رکنیت حاصل کی۔ 15 جون 1981 امیٹھی پارلیمانی حلقہ سے ممبر پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ 2 فروری 1983 کانگریس کے جنرل سکریڑی مقرر ہوئے۔ 31 اکتوبر 1984 اپنی والدہ اندرا گاندھی (جو اس وقت ہندوستان کی وزیر اعظم تھیں ) کے قتل کے بعد ہندوستان کے وزیر اعظم بنے۔ نومبر 1984 راجیو گاندھی کی قیادت میں کانگریس واضح اکثریت سے اقتدار میں واپس آئی۔ 31 دسمبر 1984 دوسری بار ہندوستان کے وزیر اعظم کی حیثیت سے حلف لیا۔ نومبر 1989 پارلیمنٹ میں حزب مخالف کے لیڈر چنے گئے۔ 21 مئی 1991 سری پیرومبدور( تامل ناڈو) میں کانگریس پارٹی کی انتخابی مہم کے دوران میں بم دھماکے میں ہلاک ہوئے۔

لیاقت علی خان:

لیاقت علی خان پاکستان کے پہلے وزیر اعظم تھے۔ آپ ہندوستان کے علاقے کرنال میں پیدا ہوئے اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری لی اور 1922 میں انگلینڈ بار میں شمولیت اختیار کی۔ 1923 میں ہندوستان واپس آئے اور مسلم لیگ میں شامل ہوئے۔ 1936 میں آپ مسلم لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے۔ آپ قائد اعظم محمد علی جناح کے دست راست تھے۔آپ کرنال کے ایک نامور نواب جاٹ خاندان میں پیدا ہوئے۔ نواب زادہ لیاقت علی خان، نواب رستم علی خان کے دوسرے بیٹے تھے۔ آپ 2 اکتوبر، 1896کو پیدا ہوئے۔ آپ کی والدہ محمودہ بیگم نے گھر پر آپ کے لیے قرآن اور احادیث کی تعلیم کا انتظام کروایا۔ 1918 میں آپ نے ایم اے او کالج علی گڑھ سے گریجویشن کیا۔ 1918 میں ہی آپ نے جہانگیر بیگم سے شادی کی۔ شادی کے بعد آپ برطانیہ چلے گئے جہاں سے آپ نے آکسفورڈ یونیورسٹی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔1923 میں برطانیہ سے واپس آنے کے بعد آپ نے اپنے ملک کو غیر ملکی تسلط سے آزاد کروانے کے لیے سیاست میں آنے کا فیصلہ کیا۔ آپ نے مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی۔ 1924 میں قائد اعظم محمد علی جناح کی زیر قیادت مسلم لیگ کا اجلاس لاہور میں ہوا۔ اس اس اجلاس کا مقصد مسلم لیگ کو دربارہ منظم کرنا تھا۔ اس اجلاس میں لیاقت علی خان نے بھی شرکت کی۔1926 میں آپ اتر پردیش سے قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940 میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے رکن منتخب ہونے تک آپ یو پی اسمبلی کے رکن رہے۔1932 میں آپ نے دوسری شادی کی۔ آپ کی دوسری بیگم بیگم رعنا لیاقت علی ایک ماہر تعلیم اور معیشت دان تھیں۔ آپ لیاقت علی خان کے سیاسی زندگی کی ایک بہتر معاون ثابت ہوئیں۔16اکتوبر 1951میں آپ کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں گولی مار کر قتل کر دیا گیا۔

ذوالفقار علی بھٹو:

پاکستان کے سابق وزیر اعظم لاڑکانہ سندھ میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر شاہ نواز بھٹو مشیر اعلیٰ حکومت بمبئی اور جوناگڑھ کی مسلم ریاست میں دیوان تھے۔ پاکستان میں آپ کو قائدِعوام یعنی عوام کا رہبر اور بابائے آئینِ پاکستان بھی کہا جاتا ہے۔ آپ پاکستان کی تاریخ کے مقبول ترین وزیر اعظم تھے۔ذو الفقار علی بھٹو نے 1950 میں برکلے یونیورسٹی کیلیفورنیا سے سیاسیات میں گریجویشن کی۔ 1952  میں آکسفورڈ یونیورسٹی سے اصول قانون میں ماسٹر کی ڈگری لی۔ اسی سال مڈل ٹمپل لندن سے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا۔ پہلے ایشیائی تھے جنھیں انگلستان کی ایک یونیورسٹی ’’ساؤ تھمپئین‘‘ میں بین الاقوامی قانون کا استاد مقرر کیا گیا۔ کچھ عرصہ مسلم لا کالج کراچی میں دستوری قانون کے لیکچرر رہے۔ 1953 میں سندھ ہائی کورٹ میں وکالت شروع کی۔1958 تا 1960 صدر ایوب خان کی کابینہ میں وزیر تجارت، 1960  تا 1962 وزیر اقلیتی امور، قومی تعمیر نو اور اطلاعات، 1962 تا 1965وزیر صنعت و قدرتی وسائل اور امور کشمیر جون 1963 تا جون 1966 وزیر خارجہ رہے۔ دسمبر 1967 میں پاکستان پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھی۔ 1970کے عام انتخابات میں پیپلز پارٹی نے مغربی پاکستان میں نمایاں کامیابی حاصل کی۔ دسمبر 1971 میں جنرل یحیٰی خان نے پاکستان کی عنان حکومت مسٹر بھٹو کو سونپ دی۔ وہ دسمبر 1971 تا 13 اگست 1973 صدر مملکت کے عہدے پر فائز رہے۔ 14 اگست 1973 کو نئے آئین کے تحت وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔1977 کے عام انتخابات میں دھاندلیوں کے سبب ملک میں خانہ جنگی کی سی کیفیت پیدا ہو گئی۔ 5 جولائی 1977 کو جنرل محمد ضیا الحق نے مارشل لا نافذ کر دیا۔ ستمبر 1977 میں مسٹر بھٹو نواب محمد احمد خاں کے قتل کے الزام میں گرفتار کر لیے گئے۔ 18 مارچ 1978 کو ہائی کورٹ نے انھیں سزائے موت کا حکم سنایا۔ 6 فروری 1979 کو سپریم کورٹ نے ہائی کورٹ کے فیصلے کی توثیق کر دی۔ 4 اپریل کو انھیں راولپنڈی جیل میں پھانسی پر لٹکا دیا گیا۔

بے نظیر بھٹو:

بے نظیر بھٹو پاکستان کی پہلی خاتون وزیر اعظم تھیں۔ پہلی بار آپ 1988 میں پاکستان کی وزیر اعظم بنیں لیکن صرف 20 مہینوں کے بعد اس وقت کے صدر پاکستان غلام اسحاق خان نے بدعنوانی کا الزام لگا کر اپنے خصوصی اختیارت سے اسمبلی کو برخاست کیا اور نئے الیکشن کروائے۔بے نظیر بھٹو کا تعلق پاکستان پیپلز پارٹی سے تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی بڑی صاحبزادی سابق وزیر اعظم بے نظیربھٹو 21 جون، 1953  میں سندھ کے مشہور سیاسی بھٹو خاندان میں پیدا ہوئیں۔

بے نظیر بھٹو نے ابتدائی تعلیم لیڈی جیننگز نرسری اسکول  اور کونونٹ آف جیسز اینڈ میری  کراچی میں حاصل کی۔ اس کے بعد دو سال راولپنڈی پریزنٹیشن کونونٹ میں بھی تعلیم حاصل کی، جبکہ انھیں بعد میں مری کے جیسس اینڈ میری میں داخلہ دلوایا گیا۔ انھوں نے 15 سال کی عمر میں او لیول کا امتحان پاس کیا۔ اپریل 1969 میں انھوں نے ہارورڈ یونیورسٹی کے میں داخلہ لیا۔ بے نظیر بھٹو نے ہارورڈ یونیورسٹی  سے 1973 میں پولیٹیکل سائنس میں گریجوایشن کر لیا۔ اس کے بعد انھوں نے آکسفورڈ یونیورسٹی میں داخلہ لیا جہاں سے انہوں نے فلسفہ، معاشیات اور سیاسیات میں ایم اے کیا۔ وہ اکسفورڈ یونیورسٹی میں دیگر طلبہ کے  درمیان کافی مقبول رہیں۔

27 دسمبر 2007کو جب بے نظیر لیاقت باغ میں عوامی جلسے سے خطاب کرنے کے بعد اپنی گاڑی میں بیٹھ کر اسلام آباد آ رہی تھیں کہ لیاقت باغ کے مرکزی دروازے پر پیپلز یوتھ آرگنائزیشن کے کارکن بے نظیر بھٹو کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ اس دوران جب وہ پارٹی کارکنوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لیے گاڑی کی چھت سے باہر نکل رہی تھیں کہ نامعلوم شخص نے ان پر فائرنگ کر دی۔ اس کے بعد بے نظیر کی گاڑی سے کچھ فاصلے پر ایک زوردار دھماکا ہوا جس میں ایک خودکش حملہ آور جس نے دھماکا خیز مواد سے بھری ہوئی بیلٹ پہن رکھی تھی، خود کو دھماکے سے اڑا دیا۔ اس دھماکے میں بینظیر بھٹو جس گاڑی میں سوار تھیں، اس کو بھی شدید نقصان پہنچا لیکن گاڑی کا ڈرائیور اسی حالت میں گاڑی کو بھگا کر راولپنڈی جنرل ہسپتال لے گیا جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہو گئیں۔ بے نظیر کی وصیت کے مطابق پیپلز پارٹی کی قیادت ان کے 19 سالہ بیٹے بلاول زرداری بھٹو کو وراثت میں سپرد کر دی گئی۔

 ابراہم لنکن:

 ابراہم لنکنایک ڈاکیے اور کلرک سے زندگی شروع کر کے امریکا کے سولہویں صدر بنے۔ اپنی ذاتی محنت سے قانونی امتحان پاس کیا۔ وکالت کا پیشہ اختیار کیا۔ آہستہ آہستہ امریکن کانگرس کا رکن بن گئے۔ 1856 میں امریکا کی جمہوری جماعت میں شامل ہو گئے۔ 1860 میں امریکا کے صدر منتخب ہوئے۔ 1864 میں دوبار صدر منتخب ہوئے۔ حبشیوں کو غلامی سے آزاد کرانے کی سر توڑ کوشش کی۔ انسان کو انسان کا غلام ہونا غیر فطری سمجھتے تھے۔ 1863 میں حبشیوں کی آزادی کا اعلان کیا۔ 1865 میں کسی پاگل نے اسے اس وقت گولی مار کر قتل کر ڈالا جب وہ فورڈ تھیٹر میں ڈراما دیکھ رہے تھے۔متحدہ امریکا کے 5 ڈالر کے کرنسی نوٹ پر ابراہم لنکن کی تصویر ہوتی ہے۔اگرچہ ابراہم لنکن کی کوششوں سے 1863 میں افریقی غلاموں کو آزادی ملی۔

مارٹن لوتھر کنگ:

مارٹن لوتھر کنگ جونیئر  ایک امریکی پادری، حقوق انسانی کے علمبردار اور افریقی،امریکی شہری حقوق کی مہم کے اہم رہنما تھے۔ آپ نے امریکا میں یکساں شہری حقوق کے لیے زبردست مہم چلائی۔ کم از کم دو مسیحی گرجاؤں نے کنگ کو شہید کا درجہ دیا۔ انہوں نے 1955 کے منٹگمری بس مقاطعہ کی قیادت کی اور 1957 میں جنوبی مسیحی قیادت اجلاس کے قیام میں مدد دی اور اس کے پہلے صدر بنے۔ کنگ کی کوششوں کے نتیجے میں 1963 میں واشنگٹن کی جانب مارچ کیا گیا، جہاں کنگ نے اپنی شہرہ آفاق "میرا ایک خواب ہے" تقریر کی۔ انہوں نے شہری حقوق کی مہم کے حوالے سے عوامی شعور اجاگر کیا اور امریکا کی تاریخ کے عظیم ترین مقررین میں سے ایک کی حیثیت سے اپنی شناخت مستحکم کی۔1964 میں نسلی تفریق اور امتیاز کے خلاف شہری نافرمانی کی تحریک چلانے اور دیگر پرامن انداز احتجاج اپنانے پر لوتھر کنگ کو نوبل امن انعام سے نوازا گیا۔ آپ اس اعزاز کو حاصل کرنے والے سب سے کم عمر شخص تھے۔ 1968 میں اپنے قتل سے پہلے آپ نے غربت کے خاتمے اور جنگ ویتنام کی مخالفت کے لیے کوششیں کی اور دونوں کے حوالے سے مذہبی نقطہ نظر سامنے لائے۔ 4 اپریل 1968 کو میمفس، ٹینیسی میں لوتھر کنگ کو قتل کر دیا گیا۔

شاہ فیصل:

فیصل بن عبد العزیز آل سعود 1964تا 1975سعودی عرب کے بادشاہ تھے۔شاہ فیصل اپریل 1906میں پیدا ہوئے، ان کی والدہ کا نام طرفہ تھا۔ فیصل شروع ہی سے سمجھدار اور باصلاحیت انسان تھے۔ سلطان ابن سعود کو ان پر بہت اعتماد تھا اور وہ سعود کے مقابلے میں فیصل کو ترجیح دیتے تھے۔ فیصل نے نوجوانی میں ہی اہم کارنامے انجام دینا شروع کردیے تھے۔ حجاز انہوں نے ہی فتح کیا تھا۔ 1920 میں انہیں حجاز کا گورنر مقرر کیا گیا۔ 1934 میں یمن کے خلاف جو کامیاب فوجی کارروائی کی گئی تھی وہ فیصل ہی کی سرکردگی میں کی گئی تھی۔ وہ یمن میں بندرگاہ حدیدہ تک پہنچ گئے تھے اور اگر ابن سعود جنگ بندی پر راضی نہ ہوتے تو فیصل آسانی سے باقی یمن بھی فتح کرلیتے۔شاہ فیصل بچپن سے ہی اسلام پسند جانے جاتے تھے۔ وہ اتحاد امت کے عظیم داعی تھے اور اپنے پورے دور حکومت میں اس مقصد کے حصول کی کوششیں کیں۔25 مارچ 1975 کو ان کے بھتیجے نے شاہی دربار میں گولی مار کر قتل کر دیا۔ شاہ فیصل کے بعد ان کے بھائی خالد بن عبدالعزیز تخت پر بیٹھے۔

صدام حسین:

صدام حسین سابق عراقی صدر اور بعث پارٹی کے سربراہ جو بغداد کے شمال میں واقع شہر تکریت کے ایک غریب گھرانے میں پیدا ہوئے۔والد کی جلد ہی وفات کے بعد ان کی والدہ انہیں اپنے رشتہ داروں کے پاس چھوڑ کر کسی اور گاؤں چلیں گئیں۔ چند سال بعد انہوں نے دوسری شادی کر لی۔ سوتیلے والد کا صدام کے ساتھ برتاؤ اچھا نہ تھا۔ صدام حسین کے لیے زندگی مشکل تھی اور اسرائیلی مورخ امتازیہ بیرون بتاتے ہیں محلے کے بچے نو عمر صدام کا مذاق اڑاتے تھے۔صدام حسین کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اس عرصے کے دوران وہ قدرے تنہا رہتے تھے اور آس پاس کے لڑکوں پر دھونس بھی جماتے تھے۔بارہ برس کی عمر میں انہوں نے اپنا گھر چھوڑا اور تکریت میں اپنے ایک چچا کے ساتھ رہنے لگے۔ ان کے یہ چچا یوں تو استاد تھے لیکن تاریخ عراق پر کتاب "دی ماڈرن ہسٹری آف عراق" کی مصنفہ پیبی مار کہتی ہیں ان کا ماضی خاصہ دلچسپ تھا۔

اپنے لڑکپن میں صدام حسین حکومت مخالف مظاہروں میں خاصے سرگرم رہے۔ مگر عراقیوں کی طرح وہ برطانوی نو آبادیاتی حکومت اور امیر جاگیرداروں کے خلاف ہوتے گئے۔1958 کے انقلاب میں عراق میں برطانیہ حامی بادشاہت کا خاتمہ کے بعد ملک میں پرتشدد بحرانی دور کا آغاز ہوا۔ لیکن صدام حسین کے لیے 60 کی دہائی اہم ترین ثابت ہوئی۔ عراقی بعث پارٹی کے رکن کی حیثیت سے صدام پارٹی کے ایک سینئر رہنما اور ان کے چچا کے قریبی رشتہ دار احمو حسن الباقر کے منظور نظر اور قریبی ساتھی بننے میں کامیاب ہو گئے۔صدام اس وقت نہ کوئی افسر تھے اور نہ فوج کا حصہ لیکن مورخ کہتے ہیں کہ احمو حسن باقر کے لیے وہ خاصے مفید کام انجام دیا کرتے تھے۔

1968 میں بعث پارٹی اقتدار میں آئی اور احموحسن الباقر ملک کے نئے صدر بن گئے۔ صدام حسین اسی دور میں احموحسن کے دست راست رہے حکومت کے اہم اور خفیہ کام وہ خود انجام دینے لگے جن میں مخالفین کو منظر عام سے ہٹانا بھی شامل تھا۔ ان مخالفین میں سے کچھ تو قتل کر دیے گئے، کچھ جلا وطن اور کچھ کو چپ کرا دیا گیا۔1979میں انھوں نے حکومت پر قبضہ کر لیا اور صدر بن گئے۔فروری 2003میں امریکہ نے دوبارہ عراق پر حملہ کیا اور عراق پر قبضہ کر لیا۔اس قبضے کے بعد 22 جولائی 2003 کو معزول صدر صدام کے دونوں بیٹوں کو عودے اور قوصے حسین کو عراق کے شمالی شہر موصل میں حملہ کر کے قتل کر دیا گیا۔ 14 دسمبر 2003 کو ہفتے کی شب مقامی وقت کے مطابق شب 8 بجے عراق کے شہر تکریت کے قریب سے ایک کارروائی کے دوران گرفتار کیا گیا۔ جس کے بعد ان پر امریکا کی نگرانی میں مقدمہ چلایا گیا جس نے 3 نومبر کو صدام حسین کو 148 کردوں کے قتل کے الزام میں سزائے موت سنائی۔

کرنل قذافی:

معمر القذافی جنہیں کرنل قذافی کے نام سے بھی جانا جاتا ہے، 1969سے 2011تک لیبیا کے رہنماء تھے۔ وہ 7 جون 1942 کو پیدا ہوئے۔ 1979 کے بعد سے اگرچہ ان کے پاس کوئی حکومتی عہدہ نہیں مگر اصلاً وہی لیبیاکے سب سے بڑے رہنما ہیں جن کو حکومت میں سب سے زیادہ عمل دخل حاصل ہے۔ وہ ریاستہائے متحدہ افریقہ بنانے کے بڑے حامی ہیں۔ حال ہی میں انہیں افریقی اتحاد، جس میں 53 افریقی ممالک شامل ہیں، کا صدر نشین (چئیرمین) چنا گیا ہے۔2011 میں نیٹو اور قبائلی باغیوں نے قذافی کے خلاف جنگ شروع کر دی۔ 20 اکتوبر 2011 کو اپنے آبائی شہر سرت میں حملہ آوروں کا مقابلہ کرتے ہوئے قذافی شہید ہو گئے۔

اب اگر پاکستان کو دیکھا جائے تو یہاں پر لیاقت علی خان، ذوالفقار علی بھٹو، بے نظیر بھٹو کے علاوہ بھی کئی سیاسی رہنما قتل کیے گئے، اگست 1988 پاکستان کے اہل تشیع کے سیاسی مذہبی قائد سید عارف حسین حسینی کو گولیاں مار کر قتل کیا گیا۔2005کو پرویز مشرف دور میں نواب اکبر بگٹی مارے گئے۔2009 میں بلوچستان کے صوبائی وزیر برائے تعلیم شفیق احمد خان کو کوئٹہ میں قتل کیا گیا۔2009 میں مذہبی عالم سرفراز احمد نعیمی، کو قتل کیا گیا۔2009 ہزارہ ڈیموکریٹک پارٹی کے چیئرمین حسین علی یوسفی کو قتل کر دیا گیا۔2010 میں بلوچ قوم پرست رہنما حبیب جالب کو بھی صوبائی دار الحکومت کوئٹہ میں قتل کر دیا گیا تھا۔2 اگست 2010 کو سندھ میں حکمران اتحاد میں شامل جماعت ایم کیو ایم کے صوبائی رکن پارلیمان رضا حیدر کوکراچی میں گولی مار دی گئی۔16 ستمبر 2010 کو متحدہ قومی موومنٹ کے بانی رکن اور لندن میں جلاوطنی کی زندگی گزارنے والے عمران فاروق کو برطانوی دار الحکومت میں قتل کر دیا گیا۔4 جنوری 2011 وفاقی مخلوط حکومت میں شامل بڑی پارٹی پی پی پی سے تعلق رکھنے والے صوبہ پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کا اسلام آباد میں اپنے ہی محافظ کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔2011 پاکستان کے وفاقی وزیر برائے اقلیتی امور شہباز بھٹی کو راولپنڈی میں نا معلوم نے افراد قتل کر دیا تھا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔


ای پیپر