Myanmar, military coup, elected government, elections rigging, world reaction, UNO
03 فروری 2021 (12:59) 2021-02-03

انتخابات میں دھاندلی کا الزام لگا کر میانمار کی فوج نے منتخب حکومت کا تختہ اُلٹ کر اقتدار سنبھال لیا ہے پیر کی صبح سے رون منٹ صدر اور حکمران جماعت کی سربراہ آنگ سان سوچی حراست میں ہیں ٹی وی نشریات خرابی کا کہہ کر بند کر دی گئی ہیں ملک میں گومگوکی کیفیت ہے اِس طرح ملک میں جمہوری سفر ایک بار پھررُک گیا ہے فوج نے بظاہر ایک برس کے لیے ایمرجنسی لگانے کے ساتھ جلد نئے انتخابات کراکر اقتدار جمہوری حکومت کے حوالے کرنے کا عندیہ دیا ہے لیکن میانمار میں فوج بہت طاقتور ہے اِس لیے ایک سال کے بعد کیا ہوتا ہے آیا جمہوریت بحال ہوتی ہے یا فوجی اقتدار طویل ہوجاتا ہے میانمار پر نظر رکھنے والے جواب دینے میں مخمصے کا شکار ہیں ایک خدشہ یہ بھی ہے کہ فوجی حکومت کہیں سویلین لوگوں کو سزائیں نہ دینا شروع کر دے اگر ایسا ہوتا ہے تو جمہوریت کا مستقبل طویل مدت کے لیے تاریک ہو سکتا ہے ۔

میانمار میں جمہوریت پسندوں کے لیے فوجی بغاوت پر عالمی ردِ عمل بہت زیادہ حوصلہ افزا نہیں امریکہ نے تو فوج کو دھمکی ضروردی ہے لیکن کیا دھمکی کی وجہ جمہوریت پسندی ہے اِس سوال کا جواب ہاں میںدینا ممکن نہیں بلکہ سچ یہ ہے کہ میانمار کی چین سے بڑھتی قربت سے دھمکی دینے کی نوبت آئی ہے کیونکہ چین نے بڑے پیمانے پر یہاں سرمایہ کاری کر رکھی ہے مسلم اکثریتی ریاست راکھائین سے قیمتی پتھر ودیگر معدنیات چین نکال رہا ہے جس پر امریکہ خفاہے اور بار بار چین سے دوری کا پیغام دینے کے باوجودمیانمار اپنی راہ پر گامزن ہے جو امریکہ کے لیے ناقابلِ برداشت ہے امریکہ کی خواہش ہے کہ چین کے بجائے بھارت سے دوستانہ تعلقات بڑھائے جائیں لیکن میانمار اِس پر آمادہ نہیں حالانکہ بھارت نے راکھائن میں ہونے والی مسلم نسل کشی پر تھپکی دی اور بھارت میں آنے والے مسلم مہاجرین کو واپس دھکیلنے کے لیے سختیاں کیں لیکن بھارت میں ایک خامی ہے یہ برابری کی سطح پر تعلقات اُستوار کرنے کے بجائے ڈرا دھمکاکر ساتھ رکھنے کی کوشش کرتاہے اسی بنا پر میانمار چین سے تعلقات مستحکم کرنے کا حوصلہ ہواہے بھارت کے قریبی ہمسائے بھی چین کی صورت میں اچھے سرمایہ کار کی جانب مائل ہوتے جارہے ہیں یہ ایک ایسی صورتحال ہے جس سے بھارت پریشان ہے یہ گھیرائو جیسے حالات ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ سرمایہ کاری کی بنا پر میانمار جیسا بھارت کا دوست ملک چین کا طرفدار بنا ہے۔

آنگ سان سوچی نے راکھائن میں فوجی مظالم کا ہمیشہ دفاع کیا ہے اور کبھی ایسی کوشش نہیں کی جس سے محسوس ہو کہ فوجی مظالم کی مذمت کی جارہی ہے اِس کے باوجود فوج میں  شک کی نگاہ سے دیکھی جاتی ہیں طویل عرصہ انہیں اسی وجہ سے حراست میں رکھا گیا خاتون رہنماکی ایک غیر ملکی شخص سے شادی اور بچوں کی غیر ملکی شہریت سے پر فوج  میںبے اطمینانی پائی جاتی ہے تبھی طویل عرصہ نااہلی بھی کیا گیا یہ بالکل وہی صورتحال ہے جو بھارت میں کانگرس کی سربراہ سونیا گاندھی کو درپیش ہے جنہیں انتخابات میں اکثریت حاصل کرنے کے باوجود اٹالین نژاد ہونے کی بنا پر وزیرِ اعظم بننے سے روک دیا گیا یہی کچھ میانمار میں ہورہا ہے فوج آنگ سان سوچی کو سکیورٹی رسک تصورکرتی ہے انتخاب جیتنے کے باوجودفوج انہیں خارجہ پالیسی اور دفاعی معاملات سے دور رکھتی ہے محدود اقتدار کی نوعیت کے ساتھ مزید کئی قسم کی پابندیاں ہوتی ہیں آنگ سان سوچی فوج سے پوچھ گچھ کے بجائے خود کٹہرے میں ہوتی ہے لیکن اقتدار کی لذت ترک کرنا گوارہ نہیں گزشتہ اقتدار کی مدت  ایسے ہی حالات میں گزار ی حالانکہ سوچی کوئی انسانی حقوق سے دلچسپی رکھنے والی رہنما نہیں البتہ اقتدارکی حریص ضرور ہیں جب یو این اوکے جنرل سیکرٹری انٹونیوگوٹریس نے سویلین اور فوجی گروپوں کی طرف سے روہنگیا مسلمانوں کے خلاف کارروائیاں روکنے کا انتباہ دیا تو سوچی نے ایسا کرنے کے بجائے اقوامِ متحدہ کے اجلاسوں میں شرکت کرنے سے ہی گریز کرنا شروع کر دیا ۔

نومبر2020کے عام انتخابات میں آنگ سان سوچی کی قیادت میں این ایل ڈی نے اتنی نشستیں حاصل کر لیں جس کے نتیجے میں وہ بڑی آسانی سے حکومت بنانے کی پو زیشن میں آگئی مقبولیت کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اقلیتوں مثلاً مسلمانوں سے بدھوں کے بدترین مظالم سے نا صرف چشم پو شی اختیار کیے رکھی بلکہ ظلم و جبر ختم کرنے یا کم کرنے کی کبھی کوشش تک نہیں کی جس سے بدھ اکثریت اُن سے خوش ہے اور یہی اُن کی مقبولیت کا راز ہے پھر بھی فوج کی بے اطمینانی ختم نہیں ہو سکی اور وہ انتخابی نتائج کے حوالے سے بھی تحفظات کا شکار ہے حالانکہ فوج کی سخت گرفت کے دوران انتخابی نتائج میں ہیرا پھیری کا کوئی امکان نہیں ویسے بھی پچیس فیصد نشستیں جب فوج کے پاس ہوتی ہیں اور سویلین قیادت زیادہ آزادانہ فیصلے نہیں کرسکتی دفاع سمیت سرحدی امور کی وزارتیں فوج کے پاس ہونے سے وہی اصل میں بااختیار ہوتی ہے۔

 پیر کے روز نو منتخب اراکین کا پہلا اجلاس ہونے والا تھا مگر فو ج کی خواہش تھی کہ یہ اجلاس نہ ہو یاپھر ابھی ملتوی کر دیا جائے لیکن سوچی نے ایسا کرنے سے صاف انکار کر دیا اور وہ نومنتخب قیادت کو اقتدار کی فوری منتقلی کی متمنی ہیں اسی وجہ سے فوج نے اقتدار پر قبضے کی راہ ہموار کی صدررون اور سوچی نظر بند ہیںیوں جمہوریت کا سفر ایک بار پھر رُک گیا ہے ٹیلی ویژن کی نشریات اور انٹر نیٹ بھی منقطع ہے جس سے میانمار میں سیاسی بے چینی کی کیا صورتحال ہے آیا لوگ سڑکوں پر نکلے ہیں یا خون خرابہ ہواہے یا نہیں بیرونی دنیا تک مصدقہ اطلاعات بہت کم ہیں لیکن یہ تصور کر لینا کہ سوچی کے حمایتی آرام سے گھروں میں دُبک جائیں گے مشکل ہے بلکہ یہ ملک سیاسی بحران کا شکار ہوتا دکھائی دیتا ہے ۔

میانمارمعاشی لحاظ سے کوئی امیر ملک نہیں نہ ہی فوجی حوالے سے کوئی بڑی طاقت ہے مگر ایسا بھی نہیں کہ مغربی ممالک جو کہیں میانمار تسلیم کر لے مسلمانوں کے قتل ِعام اورسخت فوجی قوانین کے خلاف اور جمہوری اقدار کی مضبوطی کے لیے غیر سرکاری تنظیمیں بلند کرتی رہتی ہیں لیکن فوجی قیادت ایسی آوازوں کوکم ہی اہمیت دیتی ہے وجہ چین پر انحصاربڑھنا ہے اب بھی جن ممالک نے فوجی اقتدار کی مذمت کی ہے وہ بھی جمہوریت پسندی کی بنا پر نہیں بلکہ اِس خدشے کی بنا پر تنقیدکی جارہی ہے کہ ملک سے غیر چینی سرمایہ کاروں کے لیے ملک کی فضا ناسازگارہونے کا امکان نظر آرہا ہے تبھی تو یہاں جمہوریت مضبوط نہیں ہورہی کیونکہ امیر ممالک مفاد سے بالاتر ہوکر دیکھنے کو تیار نہیںاور کچھ ممالک میانمار کو معاشی مفادات کا زریعہ سمجھ کر ہی اہمیت دیتے  ہیں اسی بنا پر جمہوریت بھی کمزور ہورہی ہے اور انسانی نسل کشی میں اضافہ ہورہا ہے ۔


ای پیپر