Three forms, Islam, West, Pakistan Journalists Club Grace, Dr Zahid Munir Amir
03 فروری 2021 (12:50) 2021-02-03

پاکستان جرنلسٹس کلب گریس،ایتھنزمیں راقم الحروف کے اعزازمیں عشائیہ دیاگیا۔اس موقع پرشرکائے محفل نے راقم سے کچھ اظہارخیال کرنے کے لیے بھی کہا ۔راقم نے بیرون وطن خوشبوئے وطن کے امانت داروں کی اس محفل سے خطاب کرتے ہوئے ذیل کے خیالات کاا ظہارکیا:۔ محترم سفیر پاکستان جناب خالد عثمان قیصر صاحب، جناب مرزا جاوید اقبال صاحب، احسان اللہ خان صاحب صدر پاکستانی صحافی برادری یونان، ناصر جسوکی صاحب، خالد مغل صاحب، عرفان تیمور صاحب، ظفر ساہی صاحب، ارشاد بٹ صاحب، سید محمد جمیل شاہ صاحب، بشیر احمد شاد صاحب اور کباب کڑی ریسٹورنٹ کی انتظامیہ اور معزز حاضرین کرام !رات کے اس پہر جب کہ کھانے کی خوشبو حاضرین کو اپنی لپیٹ میں لیے ہوئے ہے، مجھ سے کہاگیاہے کہ میں بیرونِ وطن پاکستانیوں کی ذمہ داریوں کے حوالے سے آپ کی خدمت میں اپنے خیالات پیش کروں ۔میرا خیال ہے کہ اگر کھانا تیار نہ ہوتو کھانے کی تیاری تک تو حاضرین تقریرکو برداشت کرسکتے ہیں لیکن کھانا تیارہوجانے کے بعد جب اس کی لپٹیں آپ کے حواس کو اپنی گرفت میں لے رہی ہوں ،تقریرکو کھانے میں حارج نہیں ہوناچاہیے اس لیے اگر دوران گفتگو کھانا آجائے تو آپ بلا تکلف کھانا شروع کردیجیے گا اور میری معروضات کو لذت کام و دہن کی راہ میں رکاوٹ نہ بننے دیجیے گا ۔

پچھلے دوتین دن سے مختلف مجالس میں آپ حضرات اور دیگر اہل یونان میرے خیالات سن رہے ہیں ۔میں بنیادی طورپر انسانی عظمت کا قائل اور اس بناپر احترام آدم کا نقیب ہوں۔ میری تقریریںہوں یاتحریریں، انہی خیالات کی اشاعت کرتی ہیں ۔میںنے اپنی ایک پہلی گفتگو میں قرآن کا وہ پیغام آپ تک پہنچایاتھا جس میں کہاگیاہے کہ جن باتوں میں اہل کتاب اور ہمارے درمیان اشتراک پایاجاتاہے آپ اہل کتاب کو دعوت دیں کہ آئوہم ان پر متفق ہوجائیں ۔آپ حضرات یونان میں مقیم ہیں، یونانیوں کا مذہب رومن کیتھولک ہے۔رومن کیتھولک اپنے معاملات اور رویوںمیں مذہبی لوگ ہوتے ہیں اس لیے میں سمجھتاہوں کہ مذہبی لوگوں کو مذہب کا پیغام پہنچانا ان لوگوں کے مقابلے میں جو کسی مذہب اورعقیدے پر یقین نہیں رکھتے زیادہ آسان ہے ۔تین آسمانی مذاہب، جن کا منبع ایک ہی ہے، ایک دوسرے کو سمجھنے، ایک دوسرے کے قریب آنے کے زیادہ امکانات رکھتے ہیں۔ اس لیے اگر آپ اس معاشرے میں اپنے پیغام کو جو بنیادی طورپر امن وآشتی کا پیغام ہے، عام کرتے ہیں تو یہاں آپ اس کے لیے زیادہ اچھے ردِّعمل کی توقع رکھ سکتے ہیں ۔اب یہ ایک سیاسی اور تاریخی معاملہ ہے کہ تاریخ کے عمل کے نتیجے میں آج جو تہذیب دنیاکی غالب تہذیب ہے وہ آپ کی تہذیب نہیں ہے اور آپ کو اپنی تہذیب کے حال کے مقابلے میں اس کا ماضی حاصل ہواہے۔ اسی لیے تو آپ اپنے وطن کو چھوڑکروہاں آکر آباد ہوگئے ہیں جہاں آپ نے کشش محسوس کی ،جہاں مقناطیس ہوتاہے ذرّے اسی جانب آتے ہیں لیکن یہ بات فراموش نہیں ہونی چاہیے کہ مقناطیس آپ کے پاس بھی ہے بس وہ گردآلوداور گم شدہ ہے ۔آپ اسے دریافت کرلیجیے اس کی گرد اتاردیجیے تو اس کی کشش آج بھی اپنا جلوہ دکھاسکتی ہے    ؎

چمن کو ہم نے خود اپنے لہو سے  سینچاہے 

ہمیں بہار پہ دعویٰ ہے اپنے حق کی طرح 

آپ ایک اجنبی تہذیب میں ہیں۔ آپ ،اپنوں سے دور ہیں، جب آپ کو ایک اجنبی تہذیب میں اپنا مقام پیداکرناہے، اپنے لیے امکانات تلاش کرنے ہیں تو سوال یہ ہے کہ آپ اس کی کتنی قیمت دینے کو تیارہیں …؟کیا آپ اپنی تہذیب ،تاریخ اور تمدن کی قیمت پر یہ مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں یا اسے برقراررکھتے ہوئے …؟ اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ دنیاملے ،چاہے اس کی خاطر تہذیب، تمدن اور تاریخ کی قربانی ہی کیوں نہ دینا پڑے تو پھرمیرا خطاب آپ سے نہیں ۔میں اقبال کا ایک طالب علم ہوں اور اس بات کے اظہار پر اقبال کوداددیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ انہوں نے ایک ایسے دور میں جب قدیم و جدید کی بحث میں قدیم، معرض شک میں مبتلاتھا بڑی وضاحت سے کہہ دیاکہ    ع 

ملک و دولت ہے فقط حفظ ِحرم کا ایک ثمر

ابھی زیادہ عرصہ نہیں گزرا کہ برطانوی کنزرویٹو پارٹی کے لیڈر اور سابق وزیراعظم ڈیوڈ ڈونلڈ کیمرون (پ:۹؍اکتوبر ۱۹۶۶ء۔ ۱۱؍مئی ۲۰۱۰ء سے ۱۳؍جولائی ۲۰۱۶ء تک برطانیہ کے وزیراعظم رہے) نے ایک مسلمان گھرانے کے ساتھ دودن گزارے جس کے بعد انہوں نے کہا کہ اگر آپ hospitality اور tolerance اورgenerosityکے حقیقی معنی جانناچاہیں تو آپ کو برطانیہ میں ایسے بہت سے مسلمان گھرانے ملیں گے جن کا طرزعمل آپ کو ان الفاظ کے حقیقی مطالب بتائے گا۔ انہوں نے برطانیہ میں ایک مسلمان گھرانے کے ساتھ گزارے ہوئے ان دو دنوں پر ایک مضمون بھی لکھا جس میں بتایاکہ وہ لوگ باعمل ( (practising مسلمان تھے لیکن ان کے بچے برمنگھم میں یہودیوں کے قائم کردہ ایک سکول میں پڑھتے ہیں، جس میں برطانوی یہودی، عیسائی اور سکھ تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ میںنے ان لوگوں سے یہ سوال کیا کہ آپ اپنے بچوں کو ایک یہودی سکول میں کیوں بھیجتے ہیں؟ تو انہوں نے جواب دیاکہ سکول کے اچھے نظم و ضبط اور اور اچھے نتائج کے باعث…تویہ ہے مسلمانوں کا طرزِعمل جس میں تعصب نہیں اور جس کی ڈیوڈ کیمرون نے بڑی فراخ دلی سے تعریف کی اور کہاکہ میں اس نتیجے پر پہنچاہوں کہ گمراہ مسلمان ہی دہشت گردہوسکتاہے ۔اس حقیقت کا اظہارتو ہیلری کلنٹن نے بھی کیا کہ اسلام ہمارا مخالف نہیں ،مسلمان پرامن لوگ ہیں ،برداشت والے ہیں اور دہشت گرد نہیں ہیں(" Islam is not our adversary","Muslims are peaceful,tolerant and have nothing to do with terrorism")اسی طرح برطانوی پارلیمنٹ کے رکن جم مارشل نے کہا تھاکہ ہمارے سامنے تین اسلام ہیں مرادیہ ہوگی کہ اسلام کے تین روپ ہیں :ایک وہ جو ہم نے کتابوں میں پڑھا ،دوسراوہ جو ہمیں ہمارے بڑوںنے بتایا، تیسرا وہ جو ہم نے اپنے سامنے دیکھا …اب ان تینوںمیں سب سے زیادہ غالب اور متاثرکن کونسا اسلام ہوسکتاہے …؟وہی جو سامنے ہے جو آج کا میڈیا پیش کررہاہے جس کی خبریں شب و روز نشر ہورہی ہیں ۔کتابی اسلام سے کتنے لوگ واقف ہوسکتے ہیں یقیناً بہت کم! بڑوںنے جو بتایااگراس میں روشن پہلوتھے توان کا تاثر ،معاصر منظرنامہ دھندلاکررکھ دیتاہے۔ لے دے کرمعاصر اسلام ہی باقی رہ جاتاہے …

اگر ماضی  منور تھا  کبھی تو  ہم نہ تھے حاضر

جو مستقبل کبھی ہو گا فروزاں ہم نہ دیکھیں گے


ای پیپر