Wasif Ali Wasif, Allah, Dr. Azhar Waheed, Lahore, Pakistan
03 فروری 2021 (12:42) 2021-02-03

گزشتہ جمعہ کے روز ایک عجب واقعہ گزرا۔ واقعہ وہ نہیں ‘جو حالات و واقعات پیدا کرتے ہیں بلکہ واقعہ اسے کہیں گے جوہمارے خیالات کی دنیا میں گزرتا ہے‘ خواہ اِس کے محرکات حالات و واقعات ہی کیوں نہ ہوں۔ ہوا یوں کہ روزِ مذکورہ قصور ڈسٹرکٹ کورٹ جانا ہوا۔ ایک قطعہ زمین کی ٹرانسفر تھی۔’’ لاہور انگلش سکول‘‘ کے اشفاق اور آصف کچھ عرصے سے کہہ رہے تھے کہ زندگی موت کا کچھ اعتبار نہیں‘ بہتر ہو گا کہ اِس زمین کی ملکیت کا طوق ہماری گردنوں سے اُتر جائے، مبادا ہمارے بعد ہمارے وارثین سکول کی جگہ اونے پونے بیچ دیں اور یوں ایک وقتی فائدے کی غرض میں ایک فلاحی ادارے کی غرض و غائت زمین بوس ہوجائے۔ نام’’ لاہور انگلش سکول‘‘ ہے لیکن یہ واقع ضلع قصور میںہے۔ لاہور سے تقریباً نوے کلو میٹر کے فاصلے پر قصور کے نواحی قصبے کھڈیاں سے دائیں جانب پندرہ کلومیٹر اندر’’چورکوٹ‘‘ کے نام سے ایک بے ڈھب سا گاؤں ہے‘ تین برس قبل یہاں اِس سکول کی بنیاد رکھی گئی تھی، اِس کی رُوداد قلم بند ہوچکی ہے۔ یہاں غربت و عسرت اس قدر ہے کہ خدا کی پناہ۔ اسکول کے پرنسپل اشفاق نے تنگ آکر ایک دن کہا‘ سر! یہ ولوگ اِس قدر پس ماندہ ہیں کہ بچوں کو ناک صاف کرنا بھی نہیں آتا۔ میں نے سمجھایا ‘ بس سمجھو کہ ہم صحیح جگہ پہنچ چکے ہیں۔ لاہور سے صرف نوّے کلومیٹر دُور یہ علاقہ ایسے معلوم ہوتا ہے جیسے دَورِ حاضر سے نوّے برس کے فاصلے پر ہے۔ استحصال شدہ ریاستوں میں یونہی غیر ہموار ترقی ہوا کرتی ہے۔ 

 گزشتہ برس بلال صاحب نے سکول سے ملحق ڈیڑھ کنال زمین مسجد کیلئے خرید لی، اِرادہ ہے کہ مسجد اور سکول کا ایک فلاحی ماڈل بنا دیا جائے۔ بلال صاحب بھی اپنی خرید کردہ زمین وقف الی اللہ کرنا چاہتے تھے۔ چنانچہ ملک ثنا ا للہ کھوکھر ایڈووکیٹ کہ آغاز ہی سے ہمارے ادارے کی فی سبیل اللہ قانونی مشاورت و معاونت کر رہے ہیں، اِن کی معرفت وقت لے لیا گیا، پہلے اِس زمین کی فرد نکلوائی گئی۔یہ اَمر باعث اطمینان رہا کہ اب ضلع کی زمین کا ریکارڈ کمپیوٹرائزڈ ہو گیا ہے، فول پروف طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے، کمپیوٹر سیکشن میں زمین کا مالک بنفس نفیس حاضر ہوتا ہے اور اس کی تصویر کھینچ لی جاتی ہے۔ مالکان تو وکیل صاحب کے ہمراہ اندر چلے گئے اور یہ 

فقیر اپنے احباب کے ہمراہ دھوپ سینکنے کے لیے باہر فٹ پاتھ کو بینچ بنا کر بیٹھ گیا۔ اِس دوران میں ایک عجیب منظر نظروں کے سامنے سے گزر گیا۔ میں نے احباب کی توجہ اِس طرف مبذول کرائی۔ یہاں اِس دفتر میں داخل ہونے والا ہر فرد  زمین کا انتقال کرانے کے لیے آیا ہے، وہ اپنے ہی جیسے کسی فرد کے نام پرزمین منتقل کرنا چاہتا ہے،اس انتقال کی میعاد ا نسان کی طبعی عمر سے زیادہ نہیں ہو سکتی، اگر وہ ا پنے بچے کے نام بھی زمین منتقل کرتا ہے تو یہی کچھ ساٹھ ستر برس تک…اس سے زیادہ عرصے تک یہ انتقال برقرار نہیں رہ سکتا۔ مقامِ تحیر بھی ہے اوربرکت و سعادت بھی کہ یہ انتقال کسی حادث کے نام پر نہیں ‘بلکہ ذاتِ قدیم کے نام پر ہو رہا ہے۔ اِس انتقال کا مطلب ہمیشہ کیلئے منتقل ہونا ہے، ،اب یہ زمین دوبارہ کسی بشر کے نام منتقل نہیں ہو سکتی، اور اِس زمین کا مقصد بھی لکھ دیا گیا ہے ، اب یہ سوائے مسجد اور سکول کے‘ کسی اور کام کیلئے استعمال بھی نہیں ہو سکتی۔ عجب واقعہ ہے، قابلِ غور ہے۔ اس سے فکر کی کئی پرتیں کھل رہی ہیں۔ وقف الی اللہ کا مطلب ہمیشگی ہے، ہمیشہ کیلئے محفوظ ہو جانا ہے، کسی حادث شئے کا واقعات ِ حدث و تغیر سے ماورأ و مبرّا ہوجانا ہے۔ کمال ہے ، اور کمال کی نسبت ہے، یعنی قدیم سے نسبت نصیب ہو جائے تو انسان حادث نہیں رہتا۔ قیام نسبت کو ہے، جب تک نسبت قائم ہے‘ کوئی آپ کی شناخت تبدیل نہیں کر سکتا۔ 

یہی حال سرزمین ِ پاکستان کا ہے۔ برصغیر کے اس قطع زمین کی نسبت کلمہ طیبہ کی طرف کر دی گئی ، اب اس پاک کلمے کی نسبت یہ ’’استان‘‘ پاک استان ہو گیا۔ یہ جغرافیائی قطعہ زمینی نسبتوں سے منقطع ہو گیا، یہ کسی خاص قوم ، قبیلے یا زبان کے ساتھ مخصوص نہ رہا ، بلکہ اِس کی ترکیب خاص ہو گئی۔ یہ خطہ اب روایتی ملک نہ رہا بلکہ’’خاص ہے ترکیب میں قومِ رسولِ ہاشمیؐ‘‘ کا مظہر ہو گیا۔ یہاں فلاح اسی کی نصیب میںہے ‘جو اِس نسبت پر پہرہ دے گا۔ اب جو بھی کوئی اِس ملک کی نسبت کو کلمے سے منقطع کرنے کی کوشش کرے گا‘ وہ خود قطع ہو جائے گا … اپنی شناخت سے ، عزت سے، اور اپنے حال اور مستقبل سے… مستقبل قریب اور بعید دونوں سے … مستقبل بعید کو عاقبت کہتے ہیں۔ اِس کی مثال ایسے شخص کی ہوگی جو مسجد کے لیے وقف زمین کو کسی اور کاروبار کیلئے استعمال کرنا چاہے، ایسا شخص مالک الملک کی نظر میں جعلساز ہوگا۔

مرشدی حضرت واصف علی واصفؒ  فرمایاکرتے کہ اگر تم اپنے وجود کا ایک حصہ اللہ کے نام پر وقف کردو تو رفتہ رفتہ تمہارا سارا وجود اْس کے نام پر ڈھل جائے گا۔ نہایت قیمتی نکتہ ہے، یعنی لسانی عبادت کی اہمیت بھی واضح ہو رہی ہے، ذکر کی اہمیت بھی واضح تر ہو گئی۔ اگر آج زبان کو اللہ کے ذکر کے لیے وقف کردیں تو اِس کی برکت سے کل کلاں قلب بھی وقف ہو جائے گا، اور جب قلب وقف الی اللہ ہو جائے تو انسان بلاتوقف اللہ والا ہو گیا۔ انسان ایک قدم اُس کی طرف بڑھے تو سہی… اُس نے خود کہا ہے کہ جو میری طرف ایک بالشت بڑھتا ہے، میں اُس کی طرف ایک ہاتھ بڑھتا ہوں اور جو میری طرف چل کر آتا ہے ‘ میں اْس کی طرف دوڑ کر آتا ہوں۔حضرت واصف علی واصفؒ کے پنجابی کلام’’بھرے بھڑولے‘‘ کا  ایک بند ا س ضمن میں قابلِ غور ہے: 

اوہنوں ملنا سوکھی گل ہے

اوہ آپے ای ساڈے وَل اے

سبحان اللہ!’’وفی  انفسکم افلا تبصرون‘‘ کی کیا ہی عمدہ تفہیم ہے۔  

اِسی اثنا ثنااللہ ایڈووکیٹ باہر آئے اور دریافت کیا کہ مسجد کا نام بھی لکھوانا ہے، کیا لکھا جائے۔ فی البدیہہ ایک نام ذہن میں کوند گیا، مرشدی واصف علی واصفؒ فرمایا کرتے کہ تم لوگ مسجدیں بناتے ہو ‘ اپنے مسلکوں اور ناموں کی، مسجد تو اللہ کے نام کی ہونی چاہیے ، کوئی ـ’مسجد اللہ والی‘‘ بھی بنائے۔ چنانچہ’’ مسجد اللہ والی‘‘ تجویز کردی گئی۔نمازِ جمعہ کا وقت ہو گیاتھا، قصور آئے ہوں اور بابا بلھے شاہؒ حاضری نہ ہو‘ یہ جفا و قصور ہم سے سرزد نہ ہوگا۔ جمعہ کی نماز دربار حضرت بابا بلّھے شاہؒ سے ملحق مسجد میں ادا کی، وہاں ایک واعظِ بے تاثیر سے خطبہ جمعہ کے نام پر تحریف شدہ تاریخی واقعات کے بے ربط قصے سنے ، محسوس ہوا کہ صوفی اور ملّاکی آخر کیوں نہیں بن پاتی۔ حیرت ہے‘ محکمہ اوقاف نے اپنی مساجد میں خطیب مقرر کرنے کے لیے کیسا معیار مقرر کر رکھا ہے! للعجب‘ ثم العجب!!جمعہ کی نماز کے بعد دربار عالیہ حاضری دی، اور دمِ واپسیں‘ حسب ِ دستوردربار کے بیرونی احاطے میں براجمان حاجی قوال سے بابا بلھے شاہؒ اور اپنے بابا جی واصف علی واصفؒ کاخوبصورت اور خوشبودار کلام قوالی کی صورت میں سماعت کیا۔ بڑے عرصے بعد سماع نے وجود کے اندر ایک لطف آگیں سماں پیدا کی۔ اِسی پُرکیف کیفیت میں لپٹے ہوئے مغرب کے سَمے واپس لاہور پہنچے۔


ای پیپر