Islamic country, relations, Israel, Saudi Arabia, US, UAE
03 فروری 2021 (12:08) 2021-02-03

سابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال ستمبر میں کوسووو اور سربیا کے درمیان معاشی معاہدے کے دوران اسرائیل اور کوسووو کے مابین تعلقات کی بحالی کا اعلان کیا تھا اور اس معاہدے کی بنیاد پر سربیا نے بھی یروشلم میں سفارتخانہ کھولنے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔ اس سے پہلے 13 اگست کو اپنے بیان میں انہوں نے کہا تھا ’’اب برف پگھل چکی ہے، امید ہے کہ مزید عرب اور اسلامی ممالک متحدہ عرب امارات کی پیروی کریں گے‘‘۔ متحدہ عرب امارات اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے والی تیسری عرب ریاست تھی، یو اے ای کے اس فیصلے کا متعدد علاقائی رہنماؤں نے خیرمقدم کیا تھا جن میں بیشتر کے ایک عرصہ سے اسرائیل کے ساتھ خفیہ روابط تھے۔ اس وقت کہا گیا کہ دیکھتے ہیں اسرائیل سے کھل کر تعلقات قائم کرنے والا اگلا ملک کون سا ہو گا؟ میڈیا کے مطابق کورونا وائرس کی وجہ سے آن لائن ویڈیو لنک اور ویڈیو کانفرنس کے ذریعے منعقدہ دستخط کی تقریب میں اسرائیلی وزیر خارجہ گابی اشکینازی نے کہا کہ یہ نئے تعلقات تاریخی ہیں اور خطے میں تبدیلی اور عرب اور مسلم ممالک سے اسرائیل کے تعلقات کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس دوران سفارتی تعلقات کی بحالی کی یادداشت پر دستخط کیے گئے جس کے تحت کوسووو اب مقبوضہ بیت المقدس (یروشلم) میں اپنا سفارتخانہ کھولے گا۔ کوسووو کے وزیر خارجہ ملیزا ہرادیناج نے کہا کہ کوسووو اور اسرائیل کے درمیان تاریخی تعلقات ہیں اور تعلقات کی بحالی کے لیے طویل سفر طے کیا ہے۔ کوسووو نے ایک دہائی تک جاری رہنے والے گوریلا لڑائی کے بعد 2008 میں سربیا سے آزادی کا اعلان کیا تھا۔ واضح رہے کہ ابھی تک صرف دو ممالک امریکا اور گوئٹے مالا کے سفارتخانے یروشلم میں ہیں جبکہ ہنڈورس اور ملاوی نے ان کی پیروی کرتے ہوئے اپنے سفارتخانے کھولنے کا عزم ظاہر کیا ہے۔ اب پھر چہ میگوئیاں 

اور تجزیے جاری ہیں کہ اسرائیل سے تعلقات قائم کرنے والا اگلا ملک کون سا ہو گا؟ اس سلسلے میں پہلے بھی بعض حلقے عمان کو یقینی ملک قرار دیتے تھے جس نے امن معاہدے پر اسرائیل اور یو اے ای دونوں کو مبارکباد دی تھی۔ ماضی میں عمان کئی مرتبہ عرب دنیا اور اسرائیل کے مابین مصالحت کار کا کردار ادا کر چکا ہے۔ مرحوم سلطان قابوس نے 2018 میں اسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہو کی میزبانی کی، یہ دو عشروں بعد کسی اسرائیلی وزیراعظم کا ایک خلیجی ریاست کا دورہ تھا۔ سلطان قابوس کی رحلت کے بعد جنوری میں سلطان  ہیثم بن طارق نئے سلطان بنے، انہوں نے 18 اگست اپنا وزیرخارجہ اس لئے برطرف کر دیا کہ اس نے اس روز قبل اسرائیلی وزیر خارجہ سے رابطہ کیا۔ سلطان ہیثم کا یہ فیصلہ بظاہر کابینہ میں معمول کے ردوبدل کا حصہ لگتا ہے، مگر اس اقدام کی وجہ سے سلطان ہیثم شاید خود کو کبھی محفوظ محسوس نہ کریں۔ تاہم فروری 2019 میں عمان نے باقاعدہ طور پر مسئلہ فلسطین کے حل تک اسرائیل کو تسلیم کرنے کے امکان کو رد کر دیا تھا۔ 

اسرائیل سے باضابطہ سفارتی تعلقات قائم کرنیوالے اگلا ملک بحرین بھی ہو سکتا ہے جس کی کابینہ متحدہ عرب امارات اسرائیل ڈیل کو تاریخی قرار دے چکی ہے۔ایک رپورٹ کے مطابق وزیراعظم بحرین خلیفہ بن سلمان الخلیفہ نے چند روز قبل اسرائیلی خفیہ ایجنسی کے سربراہ سے رابطہ کیا۔ بحرین اسرائیلی حکام کی میزبانی بھی کر چکا ہے۔ امریکی سفیروں نے صدر ٹرمپ کے مشرق وسطیٰ امن منصوبے کے معاشی حصے کا اعلان گزشتہ سال بحرین کے دارالحکومت منامہ میں کیا تھا۔ ننھی سی اس سلطنت کے متحدہ عرب امارات کیساتھ قریبی تعلقات ہیں، اسرائیل کی طرح یہ ریاست بھی ایران سے خطرہ محسوس کرتی ہے۔ 

 بعض حلقے سوڈان کو اگلا ملک قرار دیتے ہیں، جس کے عبوری رہنما عبد الفتاح البرہان نے رواں سال یوگنڈا میں اسرائیلی وزیراعظم سے ملاقات کی، جس میں دونوں نے معمول کے سفارتی تعلقات قائم کرنے پر اتفاق کیا۔یو اے ای کیساتھ امن ڈیل پر سوڈان نے ملے جلے پیغامات بھیجے ہیں۔ بعض حلقوں کی نظر میں شمال افریقہ کاملک مراکش یقینی طور پر اسرائیل کے ساتھ روابط قائم کر سکتا ہے۔ مراکش نے کئی مرتبہ عربوں اور اسرائیل کے مابین قیام امن کی کوششوں میں نمایاں کردار ادا کیا۔ ماضی میں یہ ملک یہودی آبادی کا گڑھ تھا۔ لاکھوں اسرائیلی شہری فخر کے ساتھ اپنا تعلق مراکش کے ساتھ جوڑتے ہیں۔ دوسری جنگ عظیم میں مراکش نے یہودی پناہ گزین ہٹلر کے دباؤ کے باوجود نازیوں کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا تھا، جس کی وجہ سے مراکش کو آج بھی اسرائیلی ایک محسن ملک کے طور پر دیکھتے ہیں۔ مراکش کا قریبی ہمسایہ موریطانیہ بھی اگلا ملک ہو سکتا ہے، جس کے 1999 سے 2009 تک اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی روابط تھے، مگر غزہ کی جنگ کی وجہ سے برقرار نہ رہے۔ موریطانیہ نے متحدہ عرب امارات کے فیصلے کی تعریف کرتے ہوئے اسے اچھا اقدام قرار دیا ہے۔

سعودی عرب اور اسرائیل کے درمیان باضابطہ سفارتی تعلقات کا ابھی خاص امکان نہیں۔ سعودی ولی عہد مگر عملی طور پر حکمران شہزادہ محمد بن سلمان کہہ چکے ہیں کہ باضابطہ سفارتی روابط سے دونوں ملک مستفید ہو سکتے ہیں۔ وہ اسرائیلی ٹیکنالوجی اور معاشی طاقت رشک کی نظر سے دیکھتے ہیں۔ ایران کے خلاف دونوں ملک ایک عرصے سے ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کر رہے ہیں۔ تاہم اس قدامت پسند ریاست کے اسرائیل کے ساتھ باضابطہ سفارتی تعلقات کی باتیں فی الحال مبالغہ آرائی سے زیادہ کچھ نہیں۔ 


ای پیپر