US President, Joe Biden, Ned Price reaction, military coup, Myanmar
03 فروری 2021 (09:40) 2021-02-03

نیویارک: میانمار میں فوجی بغاوت کے بعد امریکا کا ردعمل بھی سامنے آگیا ہے۔ امریکا نے میانمار کی امداد کیلئے نظرثانی کا فیصلہ کر لیا تاہم روہنگیا سمیت انسانی بحران کیلئے امداد جاری رہے گی۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ینڈ پرائس کا کہنا ہے کہ میانمار میں منتخب حکومت کا تختہ الٹنا فوجی بغاوت ہے ، دنیا کو میانمار میں جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کا احترام کرنا ہوگا ، خطے میں شراکت داروں سے مل کر کام جاری رکھیں گے۔

اس سے قبل میانمار میں ہونے والی فوجی بغاوت پر اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کیا گیا جس میں عالمی برادری نے میانمار میں فوجی بغاوت پر اپنے رد عمل کے اظہار کے ساتھ ساتھ ممکنہ اقدامات کا اعلان بھی کیا۔

واضح رہے کہ میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے بعد ملک میں نئے انتخابات کرانے کا اعلان کیا تھا۔ تازہ ترین بیان میں فوجی حکام نے کہا کہ انتخابات میں فاتح سیاسی جماعت کو ایک سال کی ایمرجنسی کے بعد اقتدار منتقل ہو گا۔

خیال رہے کہ گزشتہ روز میانمار میں فوج نے اقتدار پر قبضہ کرکے روہنگیا مسلمانوں پر مظالم ڈھانے والی رہنما آنگ سان سوچی ، صدر اور دیگر رہنماؤں کو گرفتار کرلیا تھا۔

سرکاری ٹی وی سے نشر ہونے والے فوجی سربراہ کے بیان میں کہا گیا کہ کمانڈر ان چیف میانمار من آنگ ہلاینگ کو اختیارات سونپ دیے گئے ہیں ۔ اس کے علاوہ میانمار میں ایک سال تک ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔

یاد رہے کہ میانمار میں متنازع انتخابی نتائج کے بعد فوج اور سول حکومت میں سخت کشیدگی تھی ، میانمار کی فوج نے نومبر میں ہونے والے انتخابات کے نتائج کو جعلی قرار دیا تھا۔ اس کے علاوہ فوج نے حکومت سے پیر کو ہونے والا پارلیمنٹ کا اجلاس ملتوی کرنے کا مطالبہ کر رکھا تھا۔


ای پیپر