رومال نہ ہو، تو تنوروالا روٹی نہیں دے گا؟ 
03 فروری 2021 2021-02-03

 کچھ دن پہلے میں نے موجودہ چیف جسٹس جناب گلزار احمد، جن کے نام سے پہلے یا بعد میں چودھری نہیں لگتا، مگر وہ بیانات دبنگ طریقے سے دیتے ہیں، انہوں نے غالباً حکومت کو جھاڑتے ہوئے فرمایا تھا کہ کیا تنوروالا یہ کہہ سکتا ہے کہ تمہارے پاس رومال نہیں ہے تو میں تجھے روٹی نہیں دے سکتا، اور انہوں نے یہ بھی فرمایا، کہ بنیادی طورپر رشتہ جسم وجان برقرار رکھنے کے لیے، یہ ہرحکومت کا فرض ہے، کہ وہ رعایا کو بنیادی اشیائے ضروریہ کی فراہمی یقینی بنائے، ورنہ ملک میں خودکشیوں کی تعداد روزبروز بڑھتی جاتی ہے، ہمارے خیال کے مطابق سب سے بنیادی ضرورت کی چیز، اجناس اور خصوصاً گندم کا آٹا، یعنی روٹی سب سے زیادہ ضروری اور بنیادی چیز ہے، اسی لیے میں تو متعدد بار یہ ہرحکومت سے اپنے طورپر گزارش کرچکا ہوں، کہ اگر کسی حکمران نے اپنی مدت اقتدار امن وسکون سے پوری کرنی ہے، تو وہ اس بات کو یقینی بنائے، کہ عوام کیلئے گندم کا حصول نہ صرف ممکن بلکہ آسان بنائے، بلکہ اسے انتہائی سستا بھی بنائے، کیونکہ ہمارے وطن عزیز میں غرباءبلکہ مساکین کی تعداد بھی بہت زیادہ ہے، ہماری موجودہ حکومت سے تو پہلے، میں نے خود کئی دفعہ مزدوروں کو پیاز ، یا پیاز کی چٹنی ، دہی، دودھ ، اچار، کھجور، آم ، مرچیں، خالی روٹی، یا پانی میں بھگوکر یا کھیر،گڑ،چینی ، چائے وغیرہ کے ساتھ روٹی کھالیتے تھے، اور اب بھی ایسا ہوتا ہے مگر بہت کم، مزدور ، خود بھوکے رہ کر پیسے، بچوں کے لیے بچا لیتے ہیں، لوگ جسے آمر کے نام سے یاد کرتے ہیں، گو یہ ایک الگ بحث ہے مگر ایک ایسی حقیقت ، جس سے انکار ممکن نہیں، کہ جنرل محمدایوب خان کے عرصہ دس سال کے دورحکومت میں گندم، پاکستان میں بھارت کے مقابلے میں آدھی قیمت پر دستیاب تھی،اس وقت وطن عزیز میں گندم بیس روپے من، اور بھارت میں چالیس روپے من تھی بھارت کے روپے کی قیمت پاکستان کے ایک کے مقابلے میں دوروپے تھی، واضح رہے کہ پاکستان میں بھی کرنسی نوٹ، روپے کہلاتے ہیں اور بھارت میں بھی روپیہ ہی کہا جاتا ہے، اور پاکستانی فخریہ، یہ طعنہ دیتے تھے کہ بھارت کا خصوصی طورپر علاقہ پنجاب، ایک زرعی صوبہ ہے، جو اکیلابھارت کی اجناس کی ضرورت پوری کرتا ہے، مگر وہاں گندم دوگنی قیمت پر ملتی ہے۔ 

دراصل ایوب خان کی ایک خوبی، جو انہیں صرف موجودہ ہی نہیں سابقہ حکومتوں سے ممتاز کرتی ہے، انہوں نے اپنی کابینہ میں، چن چن کر نہایت اہل، عقلمند، محب وطن لوگوں کو شامل کررکھا تھا، حتیٰ کہ ان کے سرکاری افسران، سیکرٹریز، جیسے وزیر خدابخش بچہ، اور سیکرٹری زراعت، نامور ماہر ڈاکٹر غلام رسول چودھری شامل تھے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان اس وقت گندم درآمد کرنے کے بجائے برآمد کرنے کے قابل ہوگیا تھا، اور چینی کی قیمت بھی انتہائی مناسب تھی، بلکہ جنرل محمدایوب خان، کا اقتدار بھی اس لیے رخصت ہوا، کہ بدقسمتی سے ان کے دورحکومت میں چینی کی قیمت قدرے بڑھ گئی تھی اور جاتے جاتے، صدرمحمدایوب خان نے کہا تھا کہ اچھا، کوئی بات نہیں ایک وقت ایسا آئے گا کہ عوام کو جنرل ایوب خان شدت سے یادآئے گا مجھے لگتا ہے کہ شاید لوگ مسلسل دس سالہ امن سے تنگ آگئے ہیں ۔

قارئین مجھے آپ کو صرف یہ باور کرانا ہے، کہ اللہ جل وعالیٰ شانہ نے زرعی پیداوار کو اس دنیا پرعظیم الشان احسان بتایا ہے، ارشاد ربانی ہے ، کہ 

بھلا دیکھو ذرا، تم جو کھیتی کرتے ہو، اسے تم پیداوار بناتے ہیں یا ہم ؟ اگر ہم چاہیں تو اسے چورا چورا کردیں، اور تم باتیں بناتے رہ جاﺅ، کہ بلاشبہ تم پر تاوان ڈالا گیا، بلکہ تم تو محروم رہ گئے۔ اسی اہمیت کو اجاگر کرتے ہوئے محسن انسانیت زراعت کے فضائل میں گراں قدر ارشاد فرماتے ہیں، بانی ریاست مدینہ کا فرمان صرف مسلمانوں کے لیے ہی نہیں پوری انسانیت کے لیے ہے ، ان کا یہ بھی فرمان ہے، کہ رزق کو زمین کی پنہائیوں میں تلاش کرو، مزید فرمایا کہ جو مسلمان درخت لگاتا یا کھیتی باڑی کرتا ہے، اور اس سے پرند، انسان اور جانور اپنی خوراک حاصل کرتے ہیں ، تو یہ عمل اس کے حق میں صدقہ بن جاتا ہے، یعنی اجر و ثواب کا باعث بن جاتا ہے۔ اسلام کے معاشی نظام میں زراعت، کاشت کاری کو بہت زیادہ اہمیت حاصل ہے، اور یہ عمل معاشی وسائل کی بنیاد ہے، اسی لیے اسلام نے زراعت کی افزائش اورترقی کے لیے جوذرائع استعمال کیے ہیں، وہ بے شک علم معیشت کی نگاہ میں حقیقی اور بنیادی ذرائع کہے جاسکتے ہیں، مدینہ منورہ کے دوقبائل اوس و خزرج تھے، اور ان دونوں کا آبائی پیشہ زراعت اور باغبانی تھا،اور مدینہ شریف آکر بھی انہوں نے اپنا پرانا پیشہ اپنایا شمالی عرب، سارے کا پیشہ زراعت اور یہی ذریعہ معاش تھا۔ ہم بھی کہہ سکتے ہیں کیا جڑ نہیں ہوگی تو درخت نہیں ہوگا؟ 

چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ فرماتے ہیں کہ ہمارے مدینے کے انصار بھائیوں کو کھیتی باڑی کا یہ شوق، دوسرے کاموں پہ راغب نہیں ہونے دیتا تھا، اس پہ مزید روشنی ڈالتے ہوئے سیدنا رافع بن خدیجؓ کہتے ہیں کہ ہم مدینے میں سب سے بڑے کاشتکار تھے، اور انصار میں ابوطلحہؓ سب سے بڑے کاشتکار تھے، اور سب سے زیادہ نخلستان کے مالک تھے۔ 

قارئین کرام، ایک بات اس موجودہ حکومت کی حوصلہ افزا ہے کہ وہ وطن عزیز میں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے کا اعلان کرتی رہتی ہے، بلکہ وہ اپنا ہدف اربوں تک بتاتی ہے، اور اب تک اس نے جودرخت لگائے ہیں اس کے بارے میں اکثر متضاد خبریں آتی رہتی ہیں، اور تصاویر بھی عوام کو دکھائی جاتی ہیں، جبکہ ہمارا مو¿قف یہ ہے کہ اگر درخت واقعی لگ چکے ہیں تو وہ عوام کو دکھانے چاہئیں، کیونکہ تین سال کا عرصہ درختوں کو تن آور بنانے کے لیے کافی ہوتا ہے، ہم تو ہمیشہ سے یہ سنتے آئے ہیں کہ درختوں کو بچوں کی طرح پالنا پڑتا ہے، سوائے ایک درخت سوہانجنا ہے کیونکہ یہ بغیر جڑ کے صرف ٹہنی دبادینے سے بھی درخت خودبخود چل پڑتا ہے اور اس کے بے شمار اور ان گنت فوائد ہیں، اور اس کے پھولوں اور پتوں کو بھی برآمد کرکے زرمبادلہ کے ذخائر کو بڑھایا جاسکتا ہے اور صرف سوہانجنے کے ایک درخت سے ہزاروں درخت لگائے جاسکتے ہیں یہ درخت جنوبی پنجاب میں بہت پایا جاتا ہے اور اس کے پھولوں سے بنا سالن وہاں کی مرغوب غذا ہے یہ درخت یہاں بھی کامیابی سے لگتا ہے میرے گھر بھی صرف شاخ لگانے سے ہوگیا ہے۔ اب ہم بھی کہہ سکتے ہیں کیا جڑ نہیں ہوگی تو درخت نہیں ہوگا؟۔


ای پیپر