احساس....تو مَرچکا ہے
03 فروری 2020 2020-02-04

قارئین ، میں نے تو ارادہ کیا تھا، کہ میں اب سیاسی کالم نہیں لکھوں گا مگر نجانے کیوں ارادے باندھتاہوں، اور توڑ دیتا ہوں، ابھی میں خبروں میں وزیراعظم جناب عمران خان کی تقریر سن رہا تھا، انہوں نے نوجوانوں کے لیے 200ارب روپے مختص کردیئے ہیں اور میرٹ پہ بے روزگار نوجوانوں کو قرضے دیئے جائیں گے، تاکہ وہ خود کفیل ہو کر اپنے پاﺅں پہ کھڑے ہوسکیں، ان کے تقریر سن کر مجھ میں یہ احساس پیدا ہوا، کہ بحیثیت مجموعی قوم میں تو مدت ہوئی، احساس ہی مرچکا ہے ورنہ یہ دن کیوں دیکھنے پڑتے احساس کے لفظی معنی ہیں، انسان کے حواس خمسہ کے ذریعے، کسی حِس کی وجہ سے کچھ معلوم کرنا، اب جرم آدمیت کی بناءپر انسانوں میں احساس کمتری واحساس برتری بلکہ احساس تخافر بھی پیدا ہوجاتا ہے ، احساس محرومی تو بار بار ہر امیر اور غریب میں پیدا ہوتا رہتا ہے ۔

جب وطن عزیز وجود میں آیا، تو مہاجرین وانصار نئی ریاست مدینہ کا ایثار دیدنی تھا، مگر جب کچھ دوستوں نے ”جعلی کلیم“ جمع کراکے ”سیٹلمنٹ کمشنر“ کا دفتر ہی بند کرادیا، تو پھر افراتفری نے ہم وطنوں کے سارے اسباب تفریح ہی ختم کرادیئے، افراتفری ہے ، کہ ہنوز ختم ہونے کا نام ہی نہیں لے رہی، مثلاً ماہرین معاشیات کے دیئے گئے اعدادوشمار کے مطابق عالمی منڈی میں خصوصاً صدر ٹرمپ نے خواہ ایران کو نیچا دکھانے کے لیے تیل کی قیمتوں میں جس کمی کا اعلان کیا ہے ، اس حساب سے تو پاکستان میں کم ازکم تیس ، پینتیس روپے فی لیٹرکم ہونا چاہیے تھا، مگر رعایا کے نصیب میں تھوڑی سی خوشی بھی کہاں؟

ویسے اس حوالے سے حکومت کا قدم تو قابل صد تحسین کہ چھ پیسے فی لیٹر قیمت کم کرکے حاتم طائی کی قبر پہ لات مارنے سے بہتر ہے ، کہ سابقہ قیمت پر ہی بحال رکھا ہے ، دنیا بھر میں قیمتوں کا چڑھاﺅ اور اشیاءروزمرہ کا تعین ہمیشہ پیٹرول کی قیمت سے مشروط ہوتا ہے ، بلا سوچے سمجھے محض زرمبادلہ کے ذخائر کے پہاڑکو بلند سے بلند کرنے کی جدوجہد تفاخر، بالآخر رعایا کی زندگی کو کٹھن سے کٹھن بنادیتی ہے ، رعایا کی زندگی کی عکاسی مظفر شاہ نیر یوں کرتے ہیں

نیئرفضائے شہر اب اندوہ ناک ہے

یہ ساعتیں خداکرے ارباب دیکھ لیں

عرصہ ہوا کہ گلشن ہستی پہ ہے خزاں

ایسا بھی ہوکہ ہم اسے شاداب دیکھ لیں

اب اگر اس معاملے کو بھی سابقہ حکومتوں کی ناقص حکمت عملی پہ ڈال دیا جائے، تو کوئی کسی کا کیا بگاڑسکتا ہے ؟کف افسوس ملنا شاید ہم وطنوں کی قسمت میں لکھ دیا گیا ہے ، اسلامی مملکت خداداد پاکستان میں شراب کی قیمت میں تو کمی آتے ہی کردی گئی تھی، مگرمہنگائی ہے کہ رکنے کا نام ہی نہیں لیتی آئی ایم ایف یا کسی بھی دوسرے عالمی ادارے کے کہے بغیر ڈالر کی قیمت میں چار گنا اضافہ کرنے کی کیا توجیہ اور کیا تک تھی، یہ میری سمجھ سے بالاترہے، اور میری سوئی اس پہ اٹک گئی ہے ، اور وزیراعظم کا فرمان ہے کہ ڈالر کی قیمت مجھ سے پوچھے بغیر بڑھائی گئی تھی، میں پتہ کررہا ہوں کہ قیمت کس نے بڑھائی تھی ؟ لیکن کہنے کے باوجود قوم کو ان حقائق زمینی سے تاحال بے بہرہ رکھا گیا ہے ، کہ وہ کون سی ”محب وطن“ قوت تھی ، جس کے زیر سایہ آپ قوم کے نجات دہندہ بنے ؟ اور ڈالرز کی قیمت بڑھانے سے قوم اربوں کی مزید مقروض ہوگئی آپ کے بانیان تحریک انصاف کے، اور صوبہ پنجاب کے جیسے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے گورنر سرورچوہدری کم وبیش بیس سال سے قوم کو یہ مژدہ جاں فزا سنا رہے ہیں کہ ان کی زندگی کا سب سے بڑامقصد پاکستانیوں کو صاف پانی کی فراہمی ہے ، مگر کیا خود ان کا ضمیر، یا سفیر کشمیر ان سے پوچھ سکتا ہے ، کہ اب تک اس حوالے سے کوئی ایک قدم بھی اُٹھایا گیا ہے ، اس حوالے سے وہ پورے پاکستان میں صاف پانی کی فراہمی کے لیے خود کو اہل نہیں سمجھتے، تو کم ازکم صوبہ پنجاب ، جس کے وہ گورنر ہیں، اس صوبے کی خاطر ہی کچھ کرلیں، کیونکہ وعدے کی جوابدہی کے لیے بھی اللہ سبحانہ وتعالیٰ کو جواب دینا پڑے گا۔ اور بھی کچھ نہیں ، تو کم ازکم صرف لاہور شہر پہ ہی یہ احسان کردیا جائے، ورنہ تو ہر شہری فریاد کرتے ہی رہ جائے گا ، اور بقول شاعر نیر

اگرچہ عام تھا اعلان داد رسی

کوئی قریب نہ آیا، پکارتا ہی رہا

قارئین کرام، اب ذرا، ایف بی آر کے چیئرمین شبرزیدی کے بارے میں بات کرلیتے ہیں ، کہ جن کی چھٹیاں ختم ہونے کانام ہی نہیں لے رہیں میرے خیال میں وہ استعفیٰ دینا چاہتے ہیں، مگر ملک کی مقتدر قوتیں، انہیں ان کے حق سے محروم رکھ کر محض اس لیے اجازت نہیں دے رہیں، کیونکہ وہ اس عمل میں اپنے لیے سبکی محسوس کرتی ہیں مجھے تو یوں دکھائی دیتا ہے ، کہ ان کا نام ای سی ایل میں نہ ڈال دیا جائے۔ آخر میں دعا کریں، کہ اللہ سبحانہ وتعالیٰ وطن عزیز کو ”کرونا“ سے محفوظ رکھے، اور ہمارے ہمسائے چین، جوایک کمیونسٹ ملک ہے ، اور خدا کے وجود سے منکر ہے ، اسے اللہ تعالیٰ نے اسلامی طریقہ خوردونوش پہ مجبور کردیا ہے ، بلکہ وہ اس کا علاج ”وضو“ سے کررہے ہیں اور یہ طریقہ علاج پہلے ہی پاکستان کے مشہور ڈاکٹر پروفیسر جاوید اکرم نے دریافت کرلیا تھا، سنا ہے ، چین نے اب اس کی ویکسین بھی تیار کرلی ہے ، اور چودہ مریض بھی اس سے شفایاب ہو چکے ہیں، ان کو انتہائی نگہداشت کے لیے الگ کر دیا گیا ہے ، خدا کرے، کہ ہم سایے ہمیشہ ہم سایے ہی رہیں اور اسی سایے کے طفیل اسے بھی ”باوضو‘، بنادیں۔


ای پیپر