اب اُداس پھرتے ہو سردیوں کی شاموں میں !
03 فروری 2020 2020-02-04

(چھٹی قسط، گزشتہ سے پیوستہ)!

میں گزشتہ کالم میں عرض کررہا تھا نوائے وقت سے استعفیٰ دینے کے بعد کچھ دنوں تک میں نے کالم نہیں لکھا، لکھنے کے لیے دل آمادہ ہی نہیں ہورہا تھا، میں نے سوچا مجید نظامی صاحب کے لگائے ہوئے زخموں سے چُورچُوردِل کو تھوڑا آرام ملنا چاہیے، کچھ روز بعد برادرم مبین رشید ایک تقریب میں ملے، اُنہوں نے لاہور سے تازہ تازہ نکلنے والے روزنامہ نئی بات کے مالک چودھری عبدالرحمن کی یہ خواہش مجھ تک پہنچائی کہ میں اُن کا اخبار جائن کرلوں، ساتھ ہی اُنہوں نے یہ یقین دہانی بھی کروائی ”نئی بات میں آپ کو نوائے وقت سے بالکل مختلف ماحول ملے گا، یہاں آپ کو لکھنے کی مکمل آزادی ہوگی، اور اِس کی ضمانت آپ کو نئی بات کے مالک خود دیں گے“ ....اُنہوں نے چودھری عبدالرحمن صاحب کے ساتھ میری ملاقات کا وقت طے کیا، وہ بہت ہی عزت اور محبت سے ملے، بعد میں باقی معاملات بھی طے ہوگئے، تحریری طورپر یہ بھی طے ہوگیا میرا کالم غیر ضروری طورپر ایڈٹ نہیں کیا جائے گا، اگر ایڈیٹر کو میرے کسی جملے یا تحریر پر اعتراض ہوگا، وہ جملہ یا تحریر ادارے کی پالیسی کے برعکس ہوگی تو ایڈیٹر وہ کالم اپنے تحفظات کے ساتھ مجھے واپس بھجوا دیں گے، میں نے اگر سمجھا اُن کے تحفظات جائز ہیں میں اُس کے مطابق کالم ایڈٹ کردوں گا، اور اگر میں نے غوروفکر کے بعد یہ سمجھا ان کے تحفظات جائز نہیں ہیں تو یہ کالم لازماً شائع ہوگا .... الحمد للہ 2012ءسے میں نئی بات میڈیا گروپ سے وابستہ ہوں، میں یہ بات اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر پورے اطمینان اور یقین کے ساتھ کہہ رہا ہوں لکھنے کی جتنی آزادی مجھے اس اخبار نے دی، اِس سے پہلے کسی اور اخبار میں اُس کا تصور بھی نہیں کیا جاسکتا، اِس ادارے سے مسلسل جُڑے رہنے کی بڑی وجہ یہی ہے ، اِس کے علاوہ اِس اخبار کے مالک جو عزت مجھے اور اپنے دیگر کارکنوں کو دیتے ہیں وہ بھی بہت کم مالکان اپنے کارکنوں کو دیتے ہیں، کچھ اخبارات نے اپنی طرف سے کچھ لالچیں دے کر اپنی طرف لے جانے کی پوری کوشش کی ، میں نے اُن کی خدمت میں عرض کیا ” ہم صحافی لوگ اپنے ذاتی و مالی مفادات کے لیے پارٹی بدلنے والے سیاستدانوں کو ”لوٹا“ قرار دینے کی رٹ لگائے رکھتے ہیں، مگر کوئی صحافی ایسے ہی مفادات کی خاطر ایک اخبار یا ادارہ چھوڑ کر دوسرا اخبار یا ادارہ جائن کرلیتا ہے اُسے بھی ”لوٹا“ ہی کہنا چاہیے، ہاں اگر کسی اخبار سے کسی لکھنے والے کا کوئی نظریاتی اختلاف ہو ، اور اُس کی بنیاد پر کچھ اخلاقی تقاضوں کو پیش نظر رکھتے ہوئے وہ کوئی اور اخبار یا ادارہ جائن کرنا چاہے، ظاہر ہے اِس میں کوئی حرج نہیں ہوتا، .... میرا ارادہ یہ تھا عمران خان کے ساتھ دیرینہ تعلقات کے پیش نظر اقتدار سے پہلے اُنہیں دیئے گئے اپنے اُن مشوروں پر لکھوں گا جن پر ایک فی صد بھی اُنہوں نے عمل نہیں کیا، حالانکہ جب میں نے اُنہیں یہ مشورے دیئے اُنہوں نے ہمیشہ قریب بیٹھے لوگوں سے کہا ” دیکھو یہ کتنی زبردست باتیں کررہا ہے “ .... میں سمجھتا ہوں ان مشوروں پر تھوڑا بہت عمل اُنہوں نے کرلیا ہوتا ذلت کے جس بدترین مقام پر آج وہ کھڑے ہیں بلکہ بے شرمی اور ڈھٹائی سے ڈٹ کر کھڑے ہیں اُس سے تھوڑا پیچھے ہی ہوتے، .... 2011ءمیں اُن کی مقبولیت آسمانوں کو چُھورہی تھی، مینارپاکستان میں اُن کے تاریخی جلسے کے بعد شک و شبے کی کوئی گنجائش ہی نہیں رہی تھی وہ جلد یا بادیر وزیراعظم لازماً بنیں گے، وہ عوام کو مسلسل تبدیلی کا خواب دیکھا رہے تھے، عوام بڑی تیزی سے ”تبدیلی“ کے اِس نعرے کے سحر میں مبتلا ہوتے جارہے تھے، ملک کی دوبڑی سیاسی جماعتوں اور ایک فوجی جماعت کے اقتدار کی خرابیوں سے لوگ تنگ آئے ہوئے تھے، خان صاحب نے لوگوں کی اس ”تنگی“ کو کیش کروانا شروع کردیا، ”تبدیلی“ کا نعرہ بڑا پُرکشش تھا، اِس نعرے نے آہستہ آہستہ بے شمار لوگوں کو متاثر کرنا شروع کردیا، بیرون ملک مقیم پاکستانی خاص طورپر اس نعرے کے دیوانے ہوتے چلے گئے، مجھے یادہے 2013ءمیں، میں کینیڈا گیا، وہاں ٹورنٹو میں میرے ایک عزیز نے اپنی چھوٹی بچی کے سر پر ہاتھ رکھ کر کہا ”مجھے اگر عمران خان کی خاطر جان دینی پڑے میں گریز نہیں کروں گا “ ،.... میں نے اُس سے پوچھا ”آپ کبھی خان صاحب سے ملے ہو ؟“۔ وہ بولا نہیں ملا، میں نے پوچھا ملنا چاہتے ہو ؟، اُس نے کہا ”نہیں ملنا چاہتا“ .... میں نے پوچھا ” پھر اس قدر محبت اور عقیدت کی وجہ ؟، وہ کہنے لگا ”اِس لیے کہ مجھے یقین ہے وہ نیا پاکستان بنائیں گے جو کرپشن سمیت ہرقسم کی لعنتوں سے پاک ہوگا، پھر ہم اپنے دیس واپس چلے جائیں گے، جہاں ہمارے بزرگوں

کی قبریں ہیں، جہاں سے ہم مجبوراً نکلے تھے، اِس لیے کہ وہاں جان مال عزت کا کوئی تحفظ رہ نہیں گیا تھا، .... اب میرا وہ عزیز عمران خان کے ڈیڑھ برسوں کے اقتدار میں پڑنے والے گند بلکہ مزید گند پر اس قدر مایوس ہوچکا ہے اُس نے فیصلہ کیا ہے وہ زندگی بھر پاکستان نہیں آئے گا، .... 2012ءمیں، میں نے عمران خان کے اعزاز میں اپنے گھر پر ایک عشائیہ دیا، جس کا تفصیلی ذکر میں اس سے پہلے والے کالموں میں کرچکا ہوں، اِس عشائیے میں ابتدائی کلمات ادا کرتے ہوئے میں نے عرض کیا تھا ” خان صاحب میں آپ سے بہت محبت کرتا ہوں، اِس کی واحد وجہ آپ کی سماجی خدمات ہیں، خصوصاً شوکت خانم میموریل ہسپتال کا قیام ہے، اِس طرح کے ہسپتال سرکار کو بنانے چاہئیں ، سرکار مگر اور ہی کاموں بلکہ فضول کاموں میں پڑی رہتی ہے، آپ یہ کارنامہ نہ کرتے پاکستان میں کینسر کے مریضوں کا کوئی پُرسان حال نہ ہوتا، .... اب آپ سیاست میں آئے ہیں، اللہ کرے جو خواب لے کر آپ آئے ہیں وہ پورے ہوں اور پاکستان دنیا میں ایک نیا اور خوبصورت مقام حاصل کرے، لوگوں کے دُکھ دور ہوں، دہشت گردی ، بے روزگاری، کرپشن، منافقت اور جھوٹ جیسی لعنتوں سے معاشرہ ہمیشہ ہمیشہ کے لیے پاک ہو ، .... خان صاحب میری باتوں پر ”ان شاءاللہ ان شاءاللہ “ کہتے رہے، آخر میں ، میں نے کہا ” پر خان صاحب میری دعاہے آپ کبھی اقتدار میں آئیں کیونکہ آپ ہماری آخری اُمید ہیں، اور اُمید زندہ رہنی چاہیے“ .... اُس کے بعد خان صاحب نے لمبی چوڑی تقریر فرمائی، وہ اپنی کرکٹ کی کامیابیوں کو سیاسی و انتظامی کامیابیوں سے جوڑتے رہے، اُنہیں پورا یقین تھا جس طرح کی کامیابیاں اُنہوں نے کرکٹ کے میدان میں حاصل کیں، اُسی طرح کی کامیابیاں اُنہیں سیاست اور حکومت کے میدان میں بھی ملیں گی، اُنہوں نے فرمایا ”کوئی حکمران اگر نیک نیت ہو تو معاشرے میں مثبت انقلابی تبدیلیاں رونما ہونے میں چند دن ہی لگتے ہیں“ .... اُنہوں نے میری طرف اشارہ کرکے کہا ”بٹ صاحب آپ یہ دعا نہ کریں میں اقتدار میں نہ آﺅں، آپ یہ دعا کریں اللہ اقتدار میں لا کر مجھے کامیاب کرے، .... اُن کی جدوجہد جاری رہی، بالآخر 2018ءکے عام انتخابات میں اللہ نے اسٹیبلشمنٹ کو ان کے لیے ”وسیلہ“ بنایا، وہ کمزور سے اقتدار کے مالک بن گئے، .... 2018ءکے عام انتخابات جولائی میں ہوئے، میں اُن دنوں کینیڈا میں تھا، ہر سال گرمیوں کی چھٹیوں میں ، میں اپنی فیملی کے ساتھ دنیا کے مختلف ممالک خصوصاً کینیڈا اور امریکہ چلا جاتا ہوں۔ (جاری ہے)


ای پیپر