03 فروری 2020 2020-02-03

پاکستان بھر میں5 فروری کا دن مقبوضہ کشمیر میں بسنے والوں سے اظہارِ یکجہتی کے دن کے طور پر منایا جاتاہے۔اس دن کی مناسبت سے پاکستان میں سیاسی اور مذہبی جماعتوں کی طرف سے احتجاجی جلسے جلوس منعقد کیے جاتے ہیں اور سرکاری سطح پر تقریبات کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں اس دن کو منانے کی شروعات کب اور کیسے ہوئی اور کس شخصیت نے سب سے پہلے ریاستی سطح پر اس دن کو منانے کا مطالبہ پیش کیا، اس حقیقت سے بہت سے لوگ ناواقف ہونگے۔ 5فروری کویوم یکجہتی کشمیر منانے کا سلسلہ 1990 سے شروع ہوا۔پاکستان میں اس وقت کے امیر جماعتِ اسلامی قاضی حسین احمد نے 1990 میں پہلی دفعہ یہ مطالبہ کیا کہ کشمیریوں سے تجدیدِ عہد کے لیے ایک دن مقرر کیا جائے۔'قاضی حسین نے پہلی دفعہ یہ کال دی تو پنجاب میں مسلم لیگ کی حکومت تھی اورنواز شریف اس وقت وزیرِ اعلی پنجاب تھے جبکہ مرکز میں پیپلز پارٹی کی حکومت تھی اوربے نظیر بھٹو وزیرِ اعظم تھیں۔'قاضی حسین احمد کے مطالبے کو نہ صرف پنجاب، وفاق بلکہ باقی صوبوں نے بھی اہمیت دی اور پہلی مرتبہ یہ دن 5 فروری 1990 کو منایا گیا اور اس وقت سے اب تک یہ دن منایا جاتا ہے۔یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ اس دن کو منانے کا مطالبہ کرنے والوں میں قاضی حسین احمد کے علاوہ سردار محمد ابراہیم بھی پیش پیش تھے۔قاضی حسین احمد مرحوم کے مطابق اس سے پہلے بھی پاکستان گاہے بگاہے کشمیر میں بسنے والوں سے یکجہتی کا اظہار کرتا رہا ہے تاہم اس کے لیے کوئی خاص دن مخصوص نہ تھا۔

پاکستان کی تاریخ میں سب بڑا احتجاج ذوالفقار بھٹو کے دور میں ہوا تھا ۔یہ 28 فروری 1975 کا دن تھاجب پاکستان میں کشمیرسے اظہار یکجہتی کے لیے اتنا زبردست احتجاج اور ہڑتال ہوئی کہ لوگوں نے اپنے جانوروں تک کو پانی نہ پلایا۔ یہ مثالی ہڑتال تھی جو بھٹو صاحب کے کہنے پر ہوئی۔ کشمیر سے اظہار یکجہتی کا مقصد یہ ہے کہ ہم مقبوضہ کشمیرمیں بسنے والے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہیں۔ان کی خاطر سب کچھ کرنے کو تیار ہیں۔ ان کے دکھ سکھ میں برابر کے شریک ہیں ۔ان سے یکجہتی کے لیے کشمیر کی سرحد پرانسانی ہاتھوں کی زنجیر بنائی جاتی ہے جس سے یہ ثابت کرایا جاتاہے کہ پاکستان کی عوام اپنے کشمیری بھائیوں کے ساتھ ہے۔

1947سے 2019تک کشمیر ہندوستان کے ماتحت رہا مگر اس کی اپنی الگ حیثیت تھی۔ 2019میں مودی حکومت مسلم دشمنی میں اتنا آگے نکل گئی کہ انہوں نے ریاست جموں و کشمیرکو خود مختاری کا درجہ دینے والی آئینی دفعہ 370 کو ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ بھارتی

حکومت کی طرف سے پانچ اگست کو آئینی شِق 370 کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ ہی جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت ختم ہوگئی ہے۔ جس کی وجہ سے اس دن سے تاحال کرفیونافذ ہے۔ کشمیر ی عوام اپنے گھروں میں قید ہوکر رہ گئی۔امت مسلمہ خاموش تماشائی بنی ہوئی ہے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ یوم یکجہتی کشمیرمنا کر پاکستانی حکمران کون سا معرکہ انجام دینا چاہتے ہیں؟ گزشتہ کئی سالوں میں اس دن کے حوالے سے جو سرگرمیاں ہوئیں ان کے کیا نتائج برآمد ہوئے؟اگر دیکھا جائے تو ہماری اور امت مسلمہ کی بے حسی کی وجہ سے آج کشمیری عوام اپنی آزادی کی جنگ لڑتے لڑتے خود محصور ہوکر رہ گئی مگر ابھی تک کوئی محمد بن قاسم بن کر میدان میں نہیں نکلا۔

اب سوچنا یہ ہے کہ اس طرح دن منانے سے کیا کشمیری عوام کی نجات ممکن ہے؟ یقیناً نہیں۔ اگر ایسا ہونا ہوتا تو شاید بہت پہلے ہو چکا ہوتا۔ کشمیری عوام سے 5فروری کو یکجہتی منانے سے کشمیر آزاد نہیں ہوگا۔ اگر اسکی آزادی منظور ہے تو اس کے لیے عملی اقدام کرنا ہونگے۔آج کوئی شخص کسی کے ایک فٹ جگہ پر قابض ہو جائے تو وہ لوگ اسے زندگی موت کا سوال بنا لیتے ہیں تو پھر پاکستان کشمیر کو کیسے دشمنوں کو دے سکتا ہے؟پچھلے کافی عرصہ سے کشمیر کے حل کے لیے ایک کشمیر کمیٹی بنائی ہوئی ہے اسکا کیا فائدہ؟ سوائے ملک کے خزانے پر بوجھ کے۔ اگرہمارے حکمرانوں نے تجارت کرنی ہوتو چندماہ میں ڈائیلاگ کرکے تجارت کے لیے سرحدیں کھول دی جاتی ہیں مگر کشمیر کے نام پریہ حکمران خاموش تماشائی بنے بیٹھیںہیں۔کشمیر ی عوام پرجو ظلم ہندوستانی حکمران ڈھا رہے ہیں اس کی مثال کہیں بھی نہیں ملتی۔ آج بھی کشمیر کے لوگ محمد بن قاسم کا انتظار کر رہے ہیں جو آئے اور ان کا آزادی دلائے۔کشمیر کا سودا کوئی بھی مسلمان قبول نہیں کرسکتا کیونکہ ہمارے بزرگوں نے جو قربانیاں کشمیر کی آزادی کے لیے دی ہیں کیا ہم ان قربانیوںکو رائیگاں جانے دیںگے؟ کشمیر کی آزادی کے بغیر پاکستان کا بچہ بچہ بھارت کو کبھی اپنا دوست قبول نہیںکرے گا۔

آج یوم یکجہتی کشمیر یا کشمیر ڈے پر پاکستانی عوام کو یہ ضرور سوچنا ہو گا کہ کشمیری عوام سے یکجہتی کی بنیاد اور طریقہ کار کیا ہو گا؟ کیا یکجہتی حکمران طبقے کے نقطہ نظر پر کی جانی چاہئے یا عوام کے؟ سعودی عرب نے 34مسلم ممالک کافوجی اتحاد تشکیل دیا تھا اس کا کیا فائدہ؟ وہ 34ممالک کی فوج اتحاد کس کے لیے کررہے ہیں کیا ان کو کشمیر میں ہونے والا عذاب نظر نہیں آرہا ؟ درحقیقت سعودی عرب اپنے مفاد کے لیے امریکہ سے پینگیں بڑھا رہا مگر یاد رکھیں غیرمسلم کبھی بھی مسلمان کا دوست نہیں ہوسکتا۔

آئیے آج اس کشمیر ڈے (یوم یکجہتی کشمیر)کے موقع پر ہم عہد کریں کہ ہم اپنے مسلم حکمرانوں کو کشمیر کے آزادی کے لیے مجبور کریں گے اور کشمیر ی بھائیوں کو ان کا حق دلائیں گے خواہ اس کے لیے ہمیں اپنی جانوں کی قربانی کیوں نہ دینی پڑے اور بھارت کے ساتھ اس وقت تک تعلقات نہیں بنائیں جب تک وہ ہمارے کشمیر بھائیوں کو انکا حق نہیں دے دیتا ۔اگر ایسا نہ کیا تو پھرکشمیر کی آزادی کے دن تک پاکستان کے بچے بچے کی زبان پر ایک ہی نعرہ رہے گا’’ کشمیر کی آزادی تک، جنگ رہے گی جنگ رہے گی۔ بھارت کی بربادی تک، جنگ رہے گی جنگ رہے گی‘‘ کشمیر پاکستان کی شہ رگ ہے۔ ہم اہم دن پر قائداعظمؒ کے قول تو بہت یادرکھتے ہیں مگر کشمیر کے نام پر ہمیں اور ہمارے حکمرانوں کو کچھ یاد نہیں رہتا۔ کشمیر کو اگر اسی طرح آگ میں جلنے دیا تو پھر یاد رکھیں ایک دن یہ آگ ہمارے گھروں تک بھی پہنچ سکتی ہے۔ اس لیے آئیے ہم تمام دنیا کے مسلمان آج عہد کریں کہ کشمیر سے فی الفور کرفیو ختم کرتے ہوئے کشمیر یوں کو ان کا حق دلائیں ورنہ تمام مسلم ممالک بھارت سمیت جو اس کے حمایتی ممالک ہیں ان سب کا بائیکاٹ کردیں ۔


ای پیپر