03 فروری 2020 2020-02-03

حضرت مولانا رومی فرماتے ہیں ’’یہ دنیا ایک پہاڑ ہے اور ہمارا عمل آواز جو لوٹ کر ہمارے پاس ہی آنے والی ہے میں سوچتا تھا کہ عمران خان جن کی زبان سے سوائے ایک شخص کے کسی کی تعریف نہیں سنی ہر شخص کے خلاف بدزبانی اور الٹے نام لے کر بات کی مخالفین کے لیے چور، ڈاکو، لٹیرا، تکیہ کلام بن گیا کوئی قانون ، کوئی آئین، کوئی ضابطہ ان کے سامنے رکاوٹ نہ بن سکا جیسے قانون نافذ اور ضابطے پر عمل درآمد کروانے والے خاموش ہی نہیں مدد گار تھے۔ ورنہ ایک عدالتی اشتہاری کیا سپریم کورٹ میں رٹ دائر کر کے وقت کے منتخب وزیراعظم کے خلاف ریلیف لے سکتا تھا؟ جلسے جلوس کر سکتا تھا؟ اسلام آباد تو ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی معاف نہیں ہوتی کہاں 126دن قانون نافذ کرنے والے منہ چھپاتے پھر رہے تھے اور وقت کے حکمران ملزم بنے بیٹھے تھے دوسری جانب سیاسی پارٹیوں کی توڑ پھوڑ اپنے عروج پر تھی اور جوڑ توڑ بھی اخلاقیات کے تمام تقاضے نظر انداز کیے دے رہے تھے۔ جناب عمران خان کا سپورٹر اس طرح چارج تھا کہ لوگوں کے گریبان محفوظ تھے نہ کسی کی عزت، دلیل کی جگہ گالی لے چکی تھی۔ انتخابات سے پہلے 100 دن کا پلان دیا گیا جس پر یوں تہلکہ مچا دیا جیسے عمل درآمد ہو چکا ہو۔ خانصاب نے مردہ زندہ کرنے کے علاوہ قوم سے ہر وعدہ کیا۔ ایسا ماحول بنایا گیا جیسے وہ واقعی اکثریت سے جیت جائیں گے ۔جھوٹ کے راج کی ایسی داغ بیل ڈال گئی کہ آج تک اس میں کمی نہیں آئی۔

فرمایا گیا کہ کسی کو موت نہیں آئے گی جب تک اس کی اصلیت کا انکشاف نہ ہو جائے جیسے مچھلی کبھی پانی سے سیر نہیں ہوتی اسی طرح وطن عزیز کے حکمران طبقوں کی حکمرانی کی طوالت و زلالت میں مزید سیر ہونے کی حس کبھی مطمئن نہیں ہوتی۔ محترمہ بینظیر بھٹو نے ایک لائن کا بیانیہ دیا تھا کہ ’’ہمیں اقتدار چاہیے مگر ہر قیمت پر نہیں‘‘ مگر دیکھا گیا وطن عزیز میں اقتدار ہر قیمت پر لینے والے ایک دوسرے کو پاؤں تلے روندے چلے جا رہے ہیں جن کو نازی، پنجاب کے سب سے بڑے ڈاکو، چپڑاسی رکھنے کے قابل بھی نہ سمجھا اُن کو اتحادی بنا لیا۔ ذہن و قلب پر عورت یوں چھائی ہے کہ مولانا قادری سے کسی بات پر سمجھوتا نہ ہوا تو خان صاحب نے فرمایا کہ میں کون سا رشتہ لینے گیا تھا، درد اور سکون کا ٹیکہ لگا تو نرسیں حوریں بن گئیں۔ دراصل انستھیزیا ٹائپ کوئی دوا دی جائے تو ہوش آنے پر بندے کی زبان پر وہی کچھ ہوتا ہے جو اس کے ذہن میں ہو میں نے اپنے ایک دوست کو آپریشن کے دوران بے ہوشی میں اور پھر ہوش میں آتے ہوئے زبان پر درود شریف کا ذکر سنا۔ ایک دوست ہوش میں آیا تو بیوی کو پکار رہا تھا ہمارے وزیراعظم کو نرسیں حوریں لگ رہی تھیں۔ عوام، مہنگائی کی وجہ سے زندگی موت کی کشمکش ہیں۔ وزیراعظم پنڈال میں سامنے بیٹھے مرد و زن کو ہنسانے کے لیے اپنا مافی ضمیر اور لاشعور بیان فرما رہے ہیں۔

وطن عزیز کو انتہائی سنجیدہ قیادت کی ضرورت تھی مگر شومئی قسمت کہ ایسے حکمران ملے جن کا ذاتی مسئلہ ہی کچھ نہیں سوائے اقتدار کے پھیلاؤ اور طوالت کے۔ کیا موجودہ حکمرانوں کو سابقہ حکمران یاد نہیں رہے۔ وہ ان سے زیادہ طاقتور اور ذہین تھے ان سے زیادہ دیانتدار بھی ہوگزرے ہیں۔ زہد و تقویٰ والے بھی گزرے ہیں لوگ سمجھتے ہیں کہ ہرعروج کو زوال ہے میں سمجھتا ہوں عروج کو نہیں تکبر کو زوال ہے۔ کردار کا عروج تو دنیا سے چلے جانے کے صدیوں بعد بھی قائم رہتا ہے جبکہ زوال اقتدار میں ہوتے ہوئے بھی ظاہر ہو جاتا ہے۔ حسن، طاقت، دولت، پائیدار نہیں ہیں۔ ان کے زوال لوگوں نے دیکھے ہوں گے لیکن اپنے آپ کو عقل کل سمجھنا، اپنی برتری کے تکبر کا جو زوال ہوتا ہے اس کا زوال پذیر ہونے والے کو قطعاً احساس ہوتا ہے نہ یقین موجودہ حکمران ٹولہ اس زوال سے دوچار ہو چکا ۔ بدترین ڈکٹیٹر بھی عوامی نمائندوں کو اپنی حکومت کا حصہ رکھتے رہے ہیں اور اپنی نا اہلیت کو چھپانے کے لیے ملٹری اور سول بیوروکریسی کا سہارا لیتے رہے ہیں ۔ سول بیورو کریسی کو میں نے بہت قریب سے دیکھا ہے یہ اپنے آپ کو رائیڈر آف دی نیشن کہتے ہیں اللہ گواہ ہے یہ عام انسانوں کو انسان نہیں کیڑے مکوڑے سمجھتے ہیں۔ وطن عزیز کی بدترین مخلوق بیور و کریسی ہے۔ بزدار کو کمرے سے نکال کر آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری سے وزیراعظم کا بات کرنا واضح پیغام ہے کہ عوامی نمائندگی فارغ ہے ملک بیوروکریسی چلائے گی۔ نا اہل حکمران ہمیشہ بیوروکریسی کا سہارا لیتے ہیں موجودہ حکمرانوں نے وطن عزیز، بیوروکریسی کے سپرد کر دیا جیسے مچھلی پانی کے بغیر نہیں رہ سکتی بیوروکریسی بدعنوانی کے بغیر نہیں رہ سکتی جو جناب عمران خان سے اب بھی امید باندھے ہوئے ہیں وہ بہت جلد جاگ جائیں گے۔ دوسری طرف سیاسی اور عوامی نمائندگی کا یہ عالم ہے کہ چوہدری پرویز الٰہی سے سیاسی اختلاف اپنی جگہ مگر اُن کا اور اُن کے خاندان کا سیاست میں پختہ کاری پر کسی کو شک نہیں ان کے ساتھ ذاتی تعلقات والے لوگ دعویدار ہیں کہ ان سے زیادہ تعلق نبھانے والے شاید ہی کوئی ہوں البتہ ایک دفعہ چوہدری مونس الٰہی نے اپنی ذاتی محفل میں کہا تھا کہ میں نے زرداری صاحب کو اپنے سے زیادہ تعلق اور دوستی نبھانے والا دیکھا ہے ظاہر ہے سیاسی لوگوں کی دوستیاں اور تعلق سیاسی ہی ہوتا ہے اور ان کی مراد بھی سیاسی ہی تھی۔ حضرت مولانا رومی ہی فرماتے ہیں جو شخص یار سے جدا ہو چاہیے سو سہارے رکھے وہ بے سہارا ہی ہوتا ہے۔

موجودہ حکمران جناب عمران خان کے ساتھ سیاسی طور پر پرانے لوگوں میں سے اب کوئی اُن کے ساتھ نہیں رہا۔ لوگ اگر اُن کا دفاع کر رہے ہیں دراصل وہ اپنے کہے اور کیے ہوئے کا دفاع کرتے ہیں ورنہ حکمرانوں کی کارکردگی ایک معاملے پر بھی ان کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔ بڑے بڑے بے لوث اور بے باک کالم نگار دانشور اب خان صاحب سے متفق نہیں رہے۔ حکمرانوں کے حالات اور رویے ایسے ہیں کہ چوہدری پرویز الٰہی جیسے سنجیدہ، پختہ کار سیاست دان بھی بول پڑے ۔ میں نہیں سمجھتا کہ اب حکمران اپنے ساتھیوں اور اتحادیوں میں اپنی کہی ہوئی بات کا وزن رکھتے ہیں۔ دوسری جانب ہم گناہگاروں کے پاس آقا کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ذات اقدس ہی دنیا و آخرت میں آخری سہارا ہے مگر موجودہ حکمرانوں نے ریاست مدینہ کا نام استعمال کر کے بہت بڑی جعل سازی کا ارتکاب کیا ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کو احساس پروگرام کا نام دینے والی جعلسازی سے تو گزارا ہو جائے گا جیسے لائلپور کو فیصل آباد بنا کر مگر حکمرانوں کو دراصل احساس نہیں کہ انہوں نے ریاست مدینہ کا نام اپنے اقتدار کے لیے استعمال کر کے اپنے زوال اور زلت کو دعوت دی ہے جبکہ وہ جانتے ہیں ان سمیت ان کی کابینہ اور مددگاران کا ریاست مدینہ کے کردار سے دور دور تک کوئی تعلق نہیں ہے۔ انسان کسی کو دھوکہ دے کر کچھ وقت گزار سکتا مگر جب وہ اپنے آپ کو خود دھوکہ دینے لگے تو پھر اس کے دروازے پر ذلت اور زوال دستک ہی نہیں دیتا دروازہ توڑ کر اس کے گھر میں داخل ہو چکا ہوتا ہے۔ موجودہ حکمرانوں کا زوال بھی دستک سے آگے بڑھ چکا ہے۔ بس ! مسئلہ صرف یہ ہے کہ ان بدترین حالات میں نئی حکومت کے لئے کوئی تیار نہیں!!!


ای پیپر