03 فروری 2020 2020-02-03

میں عام طور پر تقریبات پہ بہت کم ہی قلم اٹھاتا ہوں کیونکہ ہمارے ہاں یہ سمجھا جاتا ہے کہ جس کالم نگار کے پاس کوئی موضوع نہ ہو وہ تقریبات کا سہارا لے کر کالم سجا لیتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ عمومی طور پر تقریبات پر کالم سے گریز کرتا ہوں مگر کچھ تقریبات ایسی ہوتی ہیں جن پر کالم نہ لکھ کر ہم تقریب اور میزبانوں کے ساتھ ذیادتی کرتے ہیں اور میں کسی بھی طرح کی ذیادتی کا قائل نہیں ہوں۔پہلی تقریب تو اس لیے بھی زیادہ اہم تھی کہ وہ ہم سب کے محبوب کالم نگار اور مزاح نگار عطاالحق قاسمی کی سالگرہ کے حوالے سے سجائی گئی تھی اور میزبانوں میں بھی ہمارے بہت ہی محترم جناب شاکر حسین شاکر شامل تھے۔شاکر صاحب کا تعلق ملتان سے ہے اور ہمارے دوست گلِ نوخیز اختر کا کہنا ہے کہ’’شاکر صاحب ملتان کی ادبی و ثقافتی کنجی ہیں‘‘۔اس میں کوئی دو رائے نہیں کہ ملتان کی ادبی فضا کوبحال رکھنے میں شاکر بھائی اور رضی الدین رضی بھائی کا بہت اہم کردار ہے۔اتوار کے روز بہاالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے اساتذہ کا تعلیمی وفد لاہور پہنچا تو شاکر بھائی نے ڈاکٹر اشرف خان کے ساتھ مل کر قاسمی صاحب کی سالگرہ کا اہتمام کیا جس میں لاہور سے چند محبانِ قاسمی سمیت ملتان کے پچاس سے زائد پروفیسرز اور اسکالرز نے شرکت کی۔ یہ تقریب اپنی نوعیت کی ایک منفرد تقریب تھی کیونکہ اس میں کسی بھی طرح کی لمبی لمبی اور عمیق اردو والی تقاریر سے مکمل گریز کیا گیا اور صرف عطاالحق قاسمی کو سنا گیا جنہوں نے ہمیشہ کی طرح اپنے مزاح سے محفل کو لوٹ لیا(یہاں واضح کرتا چلوں کہ یہ لوٹنا جیب لوٹنے کے معنوں میں ہر گز نہیں آتا)۔تقریب کے دوران چند احباب نے قاسمی صاحب کی علمی و ادبی خدمات کے حوالے سے مختصر انداز میں اظہار خیال کیا اور پھر قاسمی صاحب تھے اور محفل کے قہقہے۔قاسمی صاحب ۷۷ برس کے ہو گئے اور جب یہ کالم شائع ہوگا تو ان کی اوپر ۷۷ برس تین دن ہو گئی ہوگی اور قارئین آپ یہ جان کر حیران ہوں گے کہ قاسمی صاحب درجنوں بیماریوں کے باوجود بھی ہشاش بشاش اور صحت مند ’’نوجوان‘‘ لگتے ہیں اور اس کی وجہ ان کے قہقے ہیں۔ آئے روز معاصر کے دفتر کسی نہ کسی تقریب کا اہتمام‘کسی نہ کسی دوست کے اعزاز میں ظہرانہ رکھتے ہیں اور ہم جیسے طالب علموں کو بھی مدعو فرماتے ہیں۔کچھ روز قبل بھی ڈاکٹر ناصر محمود کے شعری مجموعے کی تقریب معاصر کے دفتر میں رکھی جس میں اصغر ندیم سید‘ڈاکٹر ضیاالحسن‘ابرار احمد‘گلِ نوخیز اختر سمیت کئی دوستوں کو اکٹھا کیا۔اس کے علاوہ محبانِ قاسمی نے بھی کچھ روز قبل قاسمی صاحب کی سالگرہ کا کیک کاٹا جن میں گلِ نوخیز اختر‘ابرار ندیم‘عزیر احمد‘ڈاکٹر عائشہ عظیم اور فائزہ بخاری شامل تھیں۔فائزہ بخاری کے بنائے ہوئے کیک کی تعریفیں تو بہت سنیں مگر افسوس ہم کھانے سے محروم رہے۔قارئین میں قاسمی صاحب کا اس لیے بھی احترام کرتا ہوں کہ انھوں نے ہمیشہ نئے لکھنے والوں کو حوصلہ دیا اور جس حد تک ہو سکا انہیں ادبی تقریبات کا حصہ بنایا۔جن دنوں الحمرا ء کے چیئرپرسن تھے‘وہاں جس تسلسل سے عالمی و ادبی کانفرنسیں ہوتی رہیں‘اب وہ خواب بن کر رہ گئیں۔اب تو ادیبوں اور شاعروں کو الحمراء میں بالکل بھی اس طرح عزت و احترام نہیں دیا جاتا جیسا قاسمی صاحب کے دورِ حکومت میں تھا۔اسی طرح جب پاکستان ٹیلی ویژن میں بطور چیئرمین تقرری ہوئی تو پی ٹی وی کے مردہ گھوڑے میں جان ڈالنے اور ٹی وی پر ادبی پروگرامز شروع کرنے کا سلسلہ بھی جاری کیا اور میرے جیسے کئی نئے لکھنے والو ں کو بھی پی ٹی وی اندر سے دیکھنے کا اتفاق ہوا۔پھر قاسمی صاحب پی ٹی وی سے گئے اور پی ٹی وی کی وہ ساری رونق دوبارہ کھو گئی۔خیر میں ہمیشہ کی طرح یہی دعا کروں گا کہ قاسمی صاحب کا سایہ ہمیشہ ہمارے سروں پہ رہے تاکہ ہمیں ادبی سطح پر پذیرائی ملتی رہی۔

دوسری تقریب لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی کا سالانہ مشاعرہ تھا جسے شعبہ اردو کی چیئرپرسن ڈاکٹر حمیرا ارشاد اور ڈاکٹر عائشہ عظیم نے منعقد کروایا اور یہ مشاعرہ اس لیے بھی یادگار تھا کہ اس کے ساتھ دوروزہ غالب و فیض سیمینار بھی رکھا گیا۔مشاعرے کی صدارت ہم سب کے محبوب شاعر امجد اسلام امجد نے کی جبکہ عباس تابش‘رحمان فارس‘سعود عثمانی‘حمیدہ شاہین‘طارق ہاشمی اور عنبرین صلاح الدین سمیت کئی نامو شعراء نے شرکت کی اور چار گھنٹے مسلسل چلنے والا یہ مشاعرہ رات گئے اپنے اختتام کو پہنچا۔اس مشاعرے کی بنیادی خوبی یہ تھی کہ طالبات کی ایک کثیر تعداد نے پورے انہماک سے یہ پورا سیشن انجوائے کیا اور ہر اچھے شعر پر تالیوں سے داد ملتی رہی (اگرچہ تالیاں مشاعرے کے اداب کے خلاف ہیں)۔ ہمارے ہاں جامعات میں مگربی کلچر نے جس تیزی کے ساتھ نئی نسل بے راہ روی کا شکار کیا اس کی مثال کہیں نہیں ملتی۔یعنی آج پرائیویٹ تعلیمی اداروں میں ہر دسال میوزیکل نائٹس اور بون فائر سمیت کئی ایسے پروگرامز تو کروائے جاتے ہیں جن کی تہذیبی و ثقافتی کوئی اہمیت نہیں ہوتی مگر ایسی درس گاہوں میں اگر اردو یا انگریزی ادب کو کوئی سیمینار ‘کانفرنس کا اردو مشاعرے کا کہا جائے تو کالج انتظامیہ منہ بھر کے کہہ دیتی ہے کہ’’جی اس کا ہمیں کیا فائدہ۔۔۔؟‘‘۔ اب ان سے اگر یہ پوچھا جائے کہ میوزیکل نائٹس جس میں ڈانس اوربھنگڑا ایک عامی سی بات ہے‘کا کیا فائدہ ہے تو آگے سے کہتے ہیں کہ یہ بچوں کی انجوائے منٹ کے لیے رکھا جاتا ہے۔میں اکثر کہتا ہوں کہ اپنی زبان کو بچانا بنیادی طور پر اپنی تہذیب‘کلچر اور شناخت بچانا ہے اور جو قومیں اپنی شناخت بھول جاتی ہیں یا پسِ پشت ڈال دیتی ہیں تو تاریخ گواہ ہے کہ ان کا انجام عبرت ناک ہوتا ہے۔سو قوم کی شناخت بچانے کے لیے سجائی جانے والی تقریبات جہاد ہی ہے کیونکہ اسلامی کلچر بنیادی طور پر مشرقی کلچر ہے اور مشرقی کلچرکا ہماری زبان اور ثقافت سے بہت گہرا تعلق ہے بلکہ دونوں لازم و ملزوم ہیں۔یہی وجہ ہے کہ اردو سے محبت بھی ہماری تہذیب کا بنیادی حصہ ہے اور میں اسی لیے کہتا ہوں کہ اردو والوں سے محبت کریں کیونکہ اردو زبان زندہ رہے گی تو ہماری شناخت زندہ رہے گی ورنہ‘‘ہماری داستاں تک بھی نہ ہو گی داستانوں میں‘‘۔اس مشاعرے کی بنیادی خوبی یہ بھی تھی کہ پورے مشاعرے کو وائس چانسلر ڈاکٹر بشریٰ مرزا نے سامنے بیٹھ کر سنا حالانکہ مکمل مشاعرہ تو بے چارے خود شاعر بھی کم ہی سنتے ہیں۔اپنی باری آئی اور پڑھ کر بھاگ نکلے مگر بشریٰ مرزا صاحبہ کو اس پر داد دینی بنتی ہے کہ انھوں نے تمام شعراء کا کلام جاگتے ہوئے سنا۔ میں لاہور کالج برائے خواتین یونیورسٹی شعبہ اردو کی انتظامیہ کو تہہ دل سے مبارک باد دیتا ہوں کہ انھوں نے ایک کامیاب اور یادگار ترین مشاعرہ کروا کے تاریخ رقم کی اور جہاد کیا۔ایسی تقریبات رکنی نہیں چاہیں بلکہ ڈاکٹر حمیرا ارشاد حلقہ بزمِ مشاعرہ کو مزید فعال کریں اور ایسی تقریبات سجاتی رہیں۔عباس تابش نے اسی مشاعرے میں ایک شعر سنایا تھا جو بہت پسند کیا گیا‘آپ بھی پڑھیے۔

چاند چہرے مجھے اچھے تو بہت لگتے ہیں

عشق میں اس سے کروں گا جسے اردو آئے


ای پیپر