03 فروری 2020 2020-02-03

پاکستان میں گزشتہ دو عشروں سے جاری دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے بڑا مسئلہ لاپتہ افراد کا ہے۔گزشتہ چند برسوں سے ملک میں دہشت گردی کے واقعات میں نہ صرف نمایاں کمی ہوئی ہے،بلکہ ہم کہہ سکتے ہیں کہ ملک سے دہشت گرد اور دہشت گردی تقریبا ختم ہوچکی ہے۔متاثرین جنگ کی دوبارہ آبادکاری بھی بہت حد تک ہوگئی ہے،لیکن لا پتہ افراد کا مسئلہ تاحال حل طلب ہے۔2008 ء میںاقتدار میں آنے سے قبل پیپلز پارٹی نے اس مسئلے کو حل کرنے کا وعدہ کیا تھا لیکن حکومت ملنے کے بعد وہ اس معاملے پر کوئی خاطر خواہ پیش رفت نہ کر سکی۔مسلم لیگ (ن)نے بھی 2013ء میں حکومت سنبھالنے سے قبل اس مسئلے کے حل کے لئے وعدہ کئے تھے مگر افسوس کہ وہ بھی اس اہم مسئلے کو حل کرنے میں ناکام رہی۔2018 ء میں اقتدار میں آنے سے قبل تحریک انصاف نے بھی قوم کو یقین دلا یا تھا کہ حکومت میں آنے کے بعد وہ اس اہم مسئلے کو حل کرنے کے لئے اقدامات کریگی ،مگر ڈیڑھ بر س کی حکمرانی میں وہ اس اہم انسانی مسئلے کو حل کرنے کے لئے کوئی سنجیدہ قدم نہ اٹھا سکی۔ لاپتہ افراد کا مسئلہ ایک پیچیدہ ،سنگین اور انسانی المیہ ہے۔اس اہم انسانی مسئلے کو حل کرنے کے لئے سنجیدگی کے ساتھ قانون سازی کی ضرورت ہے۔بغیر قانون سازی کے یہ اہم مسئلہ حل نہیں ہو سکتا۔سب سے پہلے ضرورت اس بات کی ہے کہ لاپتہ افراد کی مکمل تفتیش اور تحقیق کے بعد درجہ بندی کی جائے۔جب تک معتبر تفتیش کے ذریعے درجہ بندی نہیں کی جاتی اس وقت تک اس مسئلے کو حل نہیں کیا جاسکتا۔

لاپتہ افراد کی درجہ بندی کیسے کی جائے ؟اس کے لئے ضروری ہے کہ قانون سازی کے ذریعے صوبائی سطح پر ہائی کورٹس کے ماتحت ’’ درجہ بندی کمیشن برائے لاپتہ افراد ‘‘ تشکیل دیا جائے۔ہا ئی کورٹ کا سینئرجج اس کا سربراہ ہو۔چیف سیکرٹری اور صوبائی پولیس کا سربراہ اس کے ارکان ہوں۔جو افراد لاپتہ ہیں ان کی رپورٹس متعلقہ تھانوں میں درج ہیں۔ترتیب وار ہر لاپتہ فرد کے رشتہ داروں کو کمیشن بلائے۔ان سے بیان حلفی لیں کہ ان کے

گھر کا فرد کس طرح لاپتہ ہوا ہے۔سب سے پہلے تو کمیشن لاپتہ افراد کے خاندانوں کو تفتیش کے بعد بتا ئیں کہ ان کے گھر کا فرد زندہ بھی ہے کہ نہیں؟زیر حراست ہے کہ نہیں؟ اگر زندہ ہے اور زیر حراست ہے تو فوری طور پر خاندان والوں کے ساتھ ان کی ملاقات کرائی جائے تاکہ ان کو تسلی ہو۔اس کے بعد ان کے مقدمات کو انسدادی دہشت گردی کی عدالتوں میں بھیج دئے جائیں۔اگر کوئی لاپتہ فرد زندہ نہیں ہے مگر اداروں کو معلوم ہے کہ وہ مارے گئے ہیں تو بھی خاندان والوں بتایا جائے اور ان کو فوری طور پر مالی معاوضہ دیا جائے۔ساتھ ان کو یہ بھی بتایا جائے کہ ان کے خاندان کا جو فرد مارا گیا ہے وہ گناہ گار تھا یا بے گناہ۔اگر وہ دہشت گردی میں ملوث تھا اور مارا گیا ہے تو پھر بھی ان کے خاندان والوں کو معاوضہ دے کر راضی کیا جائے ۔اگر بے گناہ تھا اور غلطی فہمی کی بنیاد پر مارا گیا ہے تو ان کے خاندان والوں کو زیادہ مالی معاوضہ دیا جائے اور اگر ممکن ہو تو کچھ اور بھی مراعات دی جائے۔ مالی معاوضہ دیتے وقت کمیشن لاپتہ فرد کے خاندان والوں سے بیان حلفی لیں کہ وہ آئندہ اس معاملے پر کوئی احتجاج یا عدالتی کارروائی نہیں کریں گے۔اس لئے کہ اس معاملے کا اب فیصلہ ہو گیا ہے۔اگر وہ راضی نہیں ہوتے تو پھر ان کو مالی معاوضہ نہ دیا جائے اور ان کو قانونی کارروائی کرنے کی اجازت دی جائے۔جو شخص مارا گیا ہے وہ گناہ گار ہے یا بے گناہ اب وہ دوبارہ زندہ نہیں ہو سکتا اس لئے حکومت کو چاہئے کہ خاندان والوں کے ساتھ مالی مدد کرکے مسئلے کو حل کریں جبکہ خاندان والوں کو بھی چاہئے کہ حکومت کے ساتھ تعاون کریں تاکہ یہ مسئلہ حل ہو۔

اسی طرح بعض لاپتہ افراد ایسے بھی ہے کہ جن کے بارے میں اداروں کو معلوم نہیںکہ وہ کہاں ہیں؟جن کے بارے میں معلوم نہیں کہ آیا وہ زندہ ہے کہ نہیں؟ وہ زیر حراست بھی نہیں ہے۔مگر ہے لاپتہ ۔حکومت کو چاہئے کہ ایسے لاپتہ افراد کے خاندانوں کو بتادیں کہ ہمیں کچھ معلوم نہیں۔لیکن خاندان کے افراد کے ساتھ مالی مدد کی جائے۔ لاپتہ افراد کے بارے میں ایک طرف اگر حکومت کو درست معلومات دینے کی ضرورت ہے تو دوسری طرف خاندان والوں کو بھی چاہئے کہ وہ حکومت کو درست معلومات فراہم کر یں۔ لاپتہ افراد میں سے ایسے بھی ہیںکہ وہ افغانستان چلے گئے ہیں اور واپس نہیں آئے۔ان کے خاندان والوں کو معلوم بھی ہے لیکن وہ بتاتے نہیں۔ایسے بھی ہے کہ خاندان والوں کو معلوم ہے کہ ان کے گھر کا فرد دہشت گردی میں ملوث تھا ۔فوجی آپریشن میں وہ مارا گیا ہے لیکن وہ ماننے کو تیار نہیں۔کئی سارے بے گناہ بھی ہیں۔اداروں کو معلوم ہے کہ وہ بے گناہ تھے لیکن ادارے بھی غلطی ماننے کو تیار نہیں۔ جو زیر حراست ہے ضرورت اس بات کی ہے کہ ان سے خاندان والوں کی ملاقات کرائی جائے۔

صورت حال جو بھی ہو حکومت کی ذمہ داری بنتی ہے کہ اس اہم انسانی مسئلے کو آئین اور قانون کے دائرے میں رہتے ہوئے حل کرنے کی کوشش کریں۔جو نقصان ہوا ہے اس کا ازالہ اب کسی بھی طرح ممکن نہیں۔لیکن خاندان کے افراد کو معلوم ہوجانے سے کہ ان کے گھر کا فرد اب اس دنیا میں نہیں کم از کم اطمینان ہو جائے گا۔اگر ان کے ساتھ مالی مدد کی جائے قانون کے مطابق تو وہ اپنے معاملات شروع کردیں گے۔آئے روز اس معاملے پر احتجاج ہورہے ہیں۔بعض لوگ اس اہم مسئلے کو ذاتی مفاد کے لئے بھی استعمال کر رہے ہیں۔بین الاقوامی سطح پر ریاست کی بد نامی ہو رہی ہے۔اندرونی طور پر بھی لوگوں کی دلوں میں ریاست کے خلاف بغض اور عناد مو جود ہے۔حکومت کو چاہئے کہ اس مسئلے کے حل کے لئے سنجیدگی کے ساتھ قانون سازی کرے۔متعلقہ اداروں اور محکموں کی بھی ذمہ داری ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ معلومات کے تبادلے میں مکمل ایمانداری کے ساتھ تعائون کریں جبکہ متاثرہ خاندانوں کی بھی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ حکومت کے ساتھ نہ صرف تعائوں کر یں بلکہ لاپتہ فرد کے بارے میں ان کو درست معلومات دیں تاکہ ان کو فیصلہ کرنے میں آسانی ہو۔گزشتہ دو عشروں سے ملک میں جاری فوجی کارروائیوں میں گناہ گاروں کے ساتھ بے گناہ لوگ بھی مارے گئے ہیں ۔لیکن اب وقت ہے کہ ریاست اس کا ازالہ کرے ،ازالہ تب ممکن ہے کہ ریاست قانونی طریقہ کار کے مطابق اس مسئلے کو حل کرنے کے لئے اقدامات اٹھا ئیں۔اگر حکومت قانونی طریقہ کار کے مطابق اس اہم انسانی مسئلے کو حل کرنے کی کوشش نہیں کرتی تو پھر اندرونی اور بیرونی دونوں تخریب کار اس مسئلے کو اپنے مفاد کے لئے استعمال کرتے رہیں گے۔


ای پیپر