03 فروری 2020 2020-02-03

کارل مارکس کی سرمایہ دارانہ نظام پر موجود تصنیف کیپیٹل داس کا ترجمہ نامور محقق عزیز احمد نے کیا۔ وہ لکھتے ہیں کہ ’’مارکس کے نزدیک انسان کا نوعی وصف، جو اسے دوسرے حیوانات سے ممتاز کرتا ہے، اس کا با اختیار اور شعوری تخلیقی عمل ہے جس کے ذریعے وہ اپنی ذات کا اظہار اور اس کی تشکیل و تکمیل کرتا ہے۔ محنت اسی اظہارِ ذات اور تکمیلِ ذات کا ایک ذریعہ ہے۔ انسان کی محنت اس کا اپنے آپ کو، حیوانات سے الگ، بطورِ انسانی نوع کے تسلیم کرانے کا عمل ہے۔ سرمایہ داری نظام میں یہ تخلیقی انسانی عمل سرمایہ دار کے قبضے میں چلا جاتا ہے کیونکہ مزدور کو اس کی محنت کا پھل اسی وقت اور اسی قدر ملتا ہے جب اور جس قدر سرمایہ دار کو اس کی ضرورت ہوتی ہے۔ یہی نہیں بلکہ محنت سے جڑے تمام آلات، کل، مشینیں، پراسیسز اور محنت کے نتیجے میں ہونے والی پیداوار تک سے محنت کار لاتعلق ہو جاتا ہے۔ اسی لاتعلقی کو کارل مارکس نے بیگانگی یا (Alienation) کا نام دیا ہے۔نفسیات کی دنیا میں بیگانگی یا ’’زخود رفتگی‘‘ کا یہ تصور نیا نہیں، البتہ مارکس کی تحقیق یہ ہے کہ اس مظہر کے پیچھے معاشی وجوہات اور پیداواری رشتوں کا عمل دخل ہوتا ہے۔مارکس بیگانگی کو سرمایہ داری نظام کی ایک لازمی خصوصیات بتاتا ہے اور اس حوالے سے سرمایہ داری نظام کو جاگیرداری سے بھی بدتر قرار دیتا ہے۔ مارکس نے اس بیگانگی کی چار شکلیں متعین کی ہیں۔

1۔ محنت کار کی اپنی محنت سے بیگانگی: سرمایہ دارانہ نظام میں محنت کار کی محنت اسی وقت پیداوار دیتی ہے جب سرمایہ دار کو اس کی ضرورت ہو اور وہ اس کی قیمت ادا کرنے کے لئے تیار ہو۔ اس طرح محنت، محنت کار کی اپنی ملکیت نہیں رہتی بلکہ اس کی ذات سے خارج ’’شے‘‘ بن جاتی ہے جس پر اب محنت کار کو کوئی اختیار باقی نہیں رہا۔

2۔ اپنی پیدا کی ہوئی چیزوں سے بیگانگی:مزدور اپنی محنت سے جو کچھ پیدا کرتا ہے وہ معمولی اجرت کے عوض سرمایہ دار کی ملکیت میں چلا جاتا ہے۔ سرمایہ دار ہی اس کی قیمت متعین کرتا ہے اور بسا اوقات محنت کار اپنی ہی پیدا کردہ شے کو خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتا۔ اس طرح اس کی اپنی محنت کی پیداوار اس کی حریف بن کر اس کے سامنے آ کھڑی ہوتی ہے۔

3۔ دوسرے انسانوں سے بیگانگی:انفرادیت، یا زیادہ صحیح معنوں میں نفسانفسی، سرمایہ دارانہ معاشروں کا

ایک لازمی جز ہے۔ بقول مارکس کے، محنت کی پیداوار سے بیگانگی کا، حیاتیاتی عمل اور نوعی زندگی سے بیگانگی کا، براہِ راست نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انسان دوسرے انسانوں سے بھی بیگانہ ہو جاتا ہے۔ انسان جب اپنا حریف ہوتا ہے تو وہ لامحالہ دوسرے انسانوں کا بھی حریف ہوتا ہے۔

4۔ بحیثیت انسان، نوعی زندگی سے بیگانگی:انسان اپنے آزادانہ اور با اختیار شعوری تخلیقی عمل کے ذریعے ہی اپنے آپ کو دوسرے حیوانوں سے الگ نوع کے طور پر شناخت کرتا ہے مگر محنت، محنت کی پیداوار، اور دوسرے انسانوں سے بیگانگی کے نتیجے میں انسان محض زندہ رہنے کے لئے محنت کرتا ہے۔ اس کی زندگی کا واحد مقصد پیٹ بھرنا اور بچے پیدا کرنا رہ جاتا ہے۔ اس طرح، ’’جو حیوانی ہے، وہ انسانی بن جاتا ہے اور جو انسانی ہے وہ حیوانی‘‘۔یہی بیگانگی ذاتی طور پر لایعنیت، مردم بیزاری، اور سماج سے لاتعلقی سے ہوتی ہوئی سماج دشمنی اور دیوانگی کی حد تک بھی جا سکتی ہے۔

غالب ہی نے اپنے معاشی حالاتِ کے حوالے سے، جو اس وقت کے سیاسی اور سماجی حالات کا نتیجہ تھے، سالک کے نام ایک خط میں لکھا ہے : ’’یہاں خدا سے بھی توقع باقی نہیں، مخلوق کا کیا ذکر۔ کچھ بن نہیں آتی۔ آپ اپنا تماشائی بن گیا ہوں۔ رنج و ذلّت سے خوش ہوتا ہوں۔ یعنی میں نے اپنے آپ کو اپنا غیر تصور کیا ہے۔ جو دکھ مجھے پہنچتا ہے، کہتا ہوں لو غالب کے ایک جوتی اور لگی‘‘۔بیگانگی کی اس سے بہتر تصویر اتنے کم لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں۔خدا کے بنائے ہوئے جوڑے فطری اور خوبصورت ہیں،جیسے مرد عورت، زمین آسمان !انسانوں کے بنائے ہوئے مصنوعی اور بدصورت جوڑے، جیسے امیر غریب‘‘۔

اس وقت ملک عزیز جس کڑی اور گہری دھوپ سے دو چار ہے اور کوئی بھی شجرہائے سایہ دار حکمران، سیاستدان یا سَچاسُچا اور کھرا لیڈر میسر نہیں ۔ اس کی بنیادی وجوہات میں ایک وجہ سرمایہ دارانہ نظام کی ہے۔ سرمایہ دارانہ نظام ہمیشہ ملک کی جڑیں کھوکھلی کرنے اور مزدور عوام کو غریب سے غریب تر کرنے میں بہت بڑا کردار ادا کرتا ہے۔ ملک کی بڑی سے بڑی صنعت اور چھوٹی سے چھوٹی انڈسٹری ان سرمایہ داروں کے پاس ہے۔ چینی کا بحران، آٹے کا بحران، گھی کا مہنگا ہونا، چائے کی پتی اور صابن کی قیمتوں میں اضافہ، ادویات کی قیمتوں کا آسمان سے باتیں کرنا اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں بلاوجہ اضافہ سرمایہ دارانہ نظام کا ہی شاخسانہ ہے۔ غریبی، تنگدستی، مفلوک الحالی اور فریق کا ازل کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ہمیشہ پیدا کی جاتی ہے اور ان بیماریوں کو پیدا کرنے اور بام عروج تک پہنچانے میں سرمایہد ارانہ نظام اور نا اہل حکمران اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جب سرمایہ دار اور وقت کے حکمران صرف اور صرف زر کے چکر میں پڑ جائیں تو مضبوط سے مضوبط قوم بھی رائی کا پہاڑ بن جاتی ہے اور آئیڈیکل سے آئیڈیل معیشت بھی ڈھیر ہو جاتی ہے اور ریاست مدینہ کا کھوکھلا نعرہ لگانے والے صرف اور صرف اپنے کھوکھلے نعروں اور وعدوں تک محدود رہ جاتے ہیں۔ اور عوام کو کسی ٹرک کی سرخ بتی کے پیچھے لگا کر وز کسی نئے وعدے اور نئی آس کی مدہم روشنی دکھا کر اگلے دن کی بناید رکھ دی دیتے ہیں اور عوام بے چاری اس آس و امید میں بہتے ہوئے اپنی پر بنیاد مکاں رکھ دیتی ہے اور ہر شام خوابیوں کی گٹھڑی باندھ کر سو جاتی ہے مگر اس ظلم سے نجات کا ایک ہی حل ہے اور وہ حل یہ ہے۔

ایک تیتر بیچنے والا بازار میں تیتر بیچ رہا تھا۔اس کے پاس ایک پنجرہ میں ایک تیتر ، اور دوسرے پنجرے میں بہت سارے تیتر تھے۔کسی نے اس سے تیتر کی قیمت پوچھی ، اس بیوپاری نے بتلایا : یہ جو دونمبر کا پنجرہ ہے جس میں زیادہ تیتر ہیں ، اس پنجرے کے تیتر کی قیمت 40 روپیہ فی تیتر ہے۔اس نے پنجرہ نمبر ایک کی طرف اشارہ کرکے پوچھا : وہ جو تنہا تیتر ہے اس کی کیا قیمت ہے ؟اس نے کہا : وہ تو میں بیچنا ہی نہیں چاہتا ، اگر آپ لینے کے خواہش مند ہے تو اس کے آپ کو پانچ سو روپے دینے ہوں گے۔وجہ پوچھنے پر اس بیوپاری نے بتلایا : اصل میں یہ تیتر میرا اپنا پالتو ہے ، دوسرے تیتروں کو جال میں پھانسنے کا کام کرتا ہے۔یہ چیخ وپکار کرکے اپنے دیگر ساتھیوں کو بلاتا ہے ، اور وہ اس کی پکار پر بغیر سوچے سمجھے جمع ہوجاتے ہیں ، اور جال میں پھنس جاتے ہیں۔اس کے بعد میں اس پھنسانے والے تیتر کو اس کی من پسند خوراک دیکر خوش کردیتا ہوں۔بس اسی وجہ سے اس کی قیمت زیادہ ہے…ایک سمجھدار آدمی اس مجمع میں تھا اور اس نے پانچ سو روپے میں اس دھوکے باز تیتر کو خرید کر ذبح کردیا۔کسی نے پوچھا : آپ نے ایسا کیوں کیا ؟اس نے کہا : ایسے ضمیر فروش کو زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں ہے جو اپنے مفاد کی خاطر قوم وملت کو دھوکا دیکر پھنسانے کا کام کرتا ہو۔


ای پیپر