کہیں کچھ ہونے جا رہا ہے؟
03 فروری 2019 2019-02-03

چند دن پہلے ایک نئے نویلے ٹی وی چینل پر چار بزرجمہر بیٹھے اس پر ٹامک ٹوئیاں مار رہے تھے کہ موجودہ حکومت رہے گی یا نہیں، رہے گی تو کتناعرصہ رہے گی ، جائے گی تو کب جائے گی، چاروں ’’عقل مندوں‘‘ میں ہر ایک اس یقین کے ساتھ با اعتماد لہجہ میں بول رہا تھا گویا وہی سچ کہہ رہا ہے ’’باقی تے زمانہ کٹا پیا چھاندا اے‘‘ (باقی ساری دنیا خاک چھان رہی ہے یعنی جھوٹ بول رہی ہے) لمبی چوڑی بحث، ایک گھنٹہ پر محیط، کچھ لفانے لینے دینے کا ذکر لیکن اصل موضوع دلچسپ، ایک بزرجمہر نے اپنے ذرائع کے حوالے سے کہا کہ کہیں کچھ ہونے جا رہا ہے، باہم مشورے ہو رہے ہیں، گویا ’’تیری بربادیوں کے مشورے ہیں آسمانوں میں‘‘۔ بات تو بڑی تھی چھوٹے سے منہ نے اگل دی، باقی تینوں بزرجمہروں نے بھی گھما پھرا کر اس کی تصدیق کی، لوگ کہتے ہیں تو پھرٹھیک ہی کہتے ہوں گے، اس سے اگلے روز سیاست کے پرانے کھلاڑی اور ہر بات کو ٹافی کی طرح منہ میں چوس چوس کر کہنے والے شاہ محمود قریشی نے جو خیر سے پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین بھی ہیں ’’بھری بزم میں راز کی بات کہہ دی‘‘ کہ فیصلہ کن قوتوں کو نواز شریف اور زرداری قبول نہیں‘‘ بات منہ سے نکلی پرائی ہوئی، سو تاویلیں ہزار تشریحیں، ہر بندے کی اپنی تشریح، ایک مبصر نے جھٹ سے کہا ’’فیصلہ ہوگیا کہ اصل فیصلہ جہاں ہونا ہے وہیں ہوگا، ہو رہا ہوگا، جلد ہو جائے گا، پتا نہیں کہاں ہوگا، کب ہوگا، لیکن’’ بات چھپتی نہیں چھپانے سے‘‘ بزرجمہروں کو کیوں کچھ ہونے کا احساس ہوا۔ نظریں گھوم پھر کر نواز شریف اور آصف زرداری پر ٹک گئیں، فیصلہ جب بھی ہو لیکن ’’وہ سمجھتے ہیں کہ بیمار کا حال اچھا ہے‘‘ حالانکہ بالکل اچھا نہیں ہے، دل کامریض اس پر جیل کی سختیاں، دل بڑا ہوگیا، ڈاکٹر نے تشویش کا اظہار کیا، تین بار کے وزیر اعظم نے رسان سے جواب دیا دل بڑا کر کے ہی تو سختیاں برداشت کر رہا ہوں، مریم نواز والد کے بارے میں پریشان ہیں لیکن بہت دنوں سے مہر بلب، سب کچھ بھول گئیں، والدہ کے انتقال پر حافظہ جواب دے گیا تھا، والد کی بیماری نے قوت گویائی چھین لی، ٹک ٹک دیدم دم نہ کشیدم، بقول انور شعور

اب فقط ایک ہی صورت ہے کہ ہم صبر کریں

اپنی قسمت میں جو لکھا ہے وہ پورا ہوگا

کیا کریں کیا نہ کریں، ن لیگ والے سبھی پریشان ہیں سو دو سو کارکن جیل کے باہر کیمپ لگا کر بیٹھ گئے، اس سے کیا ہوتا ہے ،کم از کم ایک حلقہ کے ووٹروں کے برابر تو ہوتے مگر کیا کیا جائے پارٹی قائد نے کبھی تنظیم کی جانب توجہ ہی نہیں دی، زندگی بھر موٹر ویز بناتے رہے، کارکنوں کو اسٹور میں رکھ کر بھول گئے، یہ نہ سوچا کہ موٹرویز پر سفر کرنے والے اپنے لاکھوں کارکنوں کو بھی اپنالیتے، پیپلز پارٹی تنظیم کے معاملے میں ن لیگ سے بہتر، جتنے ہیں اتنے ہی ہیں، آصف زرداری بینکنگ کورٹ آئے تو سارے ارکان اسمبلی جتھہ بنا کر پہنچ گئے، ریلی جتنے لوگ اکٹھے ہوگئے، ویسے بھی ضمانتوں میں توسیع ہو رہی ہے نیب مار نہیں رہا گھسیٹ رہا ہے، کسی نے کہا نواز شریف کو ووٹ دینے والے سوا کروڑ، جیل کے باہر سو دو سو، ممکن ہے خود منع کردیا ہو، فیصلہ کرنے والے کہیں ناراض نہ ہوجائیں، پہلے ہی مزاج یار خاص برہم ہے، خاموشی سے برہمی میں کمی آرہی ہے تو آنی چاہیے اسی لیے خاموش ہیں، نظریاتی نواز شریف نے چپ سادھ لی ہے، این آر او نہیں مانگ رہے دینے والے سوچ رہے ہیں، شاید ان ہی حالات کے تناظر میں بزرجمہر اس نتیجہ پر پہنچے کہ کہیں کچھ ہونے جا رہا ہے، سہولت کہیں سے بھی ملے رحم کے جذبات غالب آرہے ہیں، بزرجمہروں کو چھوڑیے لیکن حکومت خود بھی تو کنفیوزڈ ہے 6 ماہ گزرنے کو آئے ادھار اور مانگے تانگے پر گزارا چل رہا ہے ایک بیان میں عوام کو سہولت کی آس امید دوسرے بیان میں مایوسی، ایک دن بیان آیا کہ حاجیوں کو سبسڈی دی جائے گی بلکہ 76 سال سے زائد عمر کے بزرگوں کو مفت حج کرایاجائے گا، بزرگوں نے رخت سفر باندھ لیا ،ایک بزرگ نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھا دیے، اعلیٰ حضرت فاضل بریلویؒ کا شعر دہرانے لگے کہ

جان و دل ہوش و خرد سب تو مدینے پہنچے

تم نہیں چلتے رضا سارا تو سامان گیا

سامان بندھا رہ گیا، وفاقی کابینہ نے نہ صرف سبسڈی دینے سے انکار کردیا بلکہ حج اخراجات میں ایک لاکھ 56 ہزار تک اضافہ کردیا، کل اخراجات 4 لاکھ 26 ہزار ہوں گے، حج کر کے دکھاؤ، وفاقی وزیر مذہبی امور اجلاس سے اٹھ کر چلے گئے، دیکھنے والوں نے کہا احتجاج کے طور پر چلے گئے دوسرے دن واپس آگئے بولے ناراض ہو کر نہیں گیا تھا ،راستے کی استطاعت ہو تو حج کرلو مفت کون کرائے گا، ہے نا کیفیوژن کی بات۔ ’’کعبہ کس منہ سے جاؤ گے غالب‘‘ پیسے ہی نہیں ہیں، مالی استطاعت فریضہ حج کے لیے ضروری لیکن یہ تو ضروری نہیں کہ سابق حکومت کی سبسڈی ختم کر کے ڈھائی لاکھ میں ہونے والا حج سوا چار لاکھ میں کردیا جائے۔ حاجیوں کے خواب چکنا چور ہو رہے ہیں، ملکی معیشت کی حالت بدستور پتلی، اسٹیٹ بینک اوپر تلے سچ بول رہا ہے، قوت نمو کم، تجارتی خسارہ فزوں تر، افراط زر بڑھ گیا نوٹ چھاپے جا رہے ہیں زر مبادلہ گھٹ رہا ہے سرکلر ڈیٹ 400 ارب ہوگیا، قرضہ آئی ایم ایف سے آئے یا سعودی عرب یو اے ای یا چین سے سود کے ساتھ واجب الادا ہے ،کوئی بتائے اب نومولود کتنے سو ڈالر کا مقروض ہوگا،ا ندرونی اور بیرونی قرضوں کے تمام سابقہ ریکارڈ ٹوٹ گئے، معاشی پالیسی کہاں ہے، پالسییوں میں تسلسل نہیں معیشت کیسے بحال ہوگی، سارے کام ایسے ہو رہے ہیں جن سے عوام مشکلات کا شکار ہوں، حالات کیسے سدھریں سارے وزیر بزعم خود وزیر انکشافات ہیں، الزامات میں ایک دوسرے سے آگے، بد زبانی، گالم گلوچ، گلیوں بازاروں سے ہوتی ہوئی مقدس ایوانوں تک پہنچ گئی، مجھے گالی کس نے دی، حکومتی رکن حیران ، گالم گلوچ نہیں چلے گی منہ سنبھال کر بات کرو، اپوزیشن رکن آپے سے باہر، اسپیکر بے چارے انگشت بدنداں، گزشتہ کالم میں اخلاقیات کمیٹی کی تجویز دی تھی، کالم کہیں نظر سے گزرا ہوگا اسپیکر نے اپنی سربراہی میں 13 رکنی کمیٹی بنا دی، جس میں وزیر اعظم عمران خان اپوزیشن لیڈر شہباز شریف، آصف زرداری اور تمام پارٹیوں کے پارلیمانی لیڈر شامل ہوں گے، ضوابط طے کیے جائیں گے کہ ایوان میں کسی پر ذاتی حملے نہ کیے جائیں، ضوابط پر عمل درآمد کجا ضوابط کیسے بنیں گے؟ وزیر اعظم عمران خان شہباز شریف اور زرداری کے ساتھ کیسے بیٹھیں گے؟ پہلے عرض کرچکے کہ سیاسی مخالفت کسی نہ کسی مرحلہ پر مفاہمت میں بدل سکتی ہے لیکن قبائلی دشمنی جان لیے بغیر نہیں ٹلتی، بالفرض محال ضوابط پر عملدرآمد ہوا تو اپنے شیخ رشید اور مراد سعید کیا کریں گے ان کی جھولی میں تو الزامات کے پتھر پڑے رہتے ہیں جو وہ اجلاس کے دوران اپنے دو تین مخصوص دشمنوں پر برساتے رہتے ہیں، چور ڈاکو جیل میں ہیں، چور ڈاکو جیل جائیں گے، چور ڈاکو نہیں بچیں گے، 50 بڑے مارچ تک جیل میں ہوں گے، ایک نے انکشاف کیا کہ سینٹرل جیل کراچی میں کسی وی وی آئی پی مہمان کی آمد متوقع ہے بیرکوں کی صفائیاں ہو رہی ہیں سی سی ٹی وی کیمرے درست کیے جا رہے ہیں، دوسرے نے انکشاف کیا کہ سندھ حکومت کا جانا ٹھہر گیا ہے، شاہ محمود قریشی کے چشم کشا انکشاف کے بعد لانگ مارچ اور کوئیک مارچ کی باتیں ہونے لگیں، سب کیا ہے ؟کیا باتیں ہو رہی ہیں؟ تبدیلی ان ہاؤس یا آؤٹ آف دی ہاؤس؟ ان ہاؤس فی الحال ممکن نہیں، سیاسی لیڈروں میں ابھی سیاسی اتفاق نہیں ہوا،یا اتفاق کا اشارہ نہیں ملا، جو رسیوں سے بندھے ہیں وہ رسیاں تڑانے کی کوشش کر رہے ہیں، وقت لگے گا، اتفاق رائے کیوں نہیں ہوا؟ سب ایک ہی گملے کے پھل پھول ہیں مالی کاٹ چھانٹ کرنے اور پانی دے کر برسوں افزائش کرتے رہے لیکن افزائش نفرت اور تعصب کی بدبودار کھاد سے ہوئی نتیجہ سیاسی دشمنی کی شکل میں سامنے آرہا ہے اتفاق رائے میں وقت لگے گا مربی کی انگلی اٹھے گی یا غیبی اشارہ ہوگا، اسلام آباد میں پارلیمانی نظام کی جگہ صدارتی نظام کی سرگوشیاں سنائی دینے لگی ہیں، نظام کی تبدیلی آئین کی تنسیخ کے بغیر ممکن نہیں، آئین خدانخواستہ منسوخ ہوا تو سب کچھ ختم، ایکٹوسٹ چلے گئے، خطرات منڈلا رہے ہیں کیا واقعی کہیں کچھ ہونے جا رہا ہے؟


ای پیپر