5فروری۔۔۔یوم یکجہتی کشمیر
03 فروری 2019 2019-02-03

دنیا بھر میں پانچ فروری مظلوم کشمیریوں سے اظہار یکجہتی کے طور پر منایا جاتا ہے۔ گزشتہ برسوں کی طرح اس سال بھی پاکستان سمیت پوری دنیا میں کشمیریوں کی لازوال قربانیوں اور تحریک آزادی کو خراج تحسین پیش کرنے کے لیے ریلیوں، جلسوں، کشمیر کارواں اور کانفرنسوں کا انعقاد کیا جائے گا۔ حکومت پاکستان نے اس مرتبہ یوم یکجہتی کشمیر کو بھرپور انداز میں منانے کا فیصلہ کیا اور اعلان کیا ہے کہ لندن میں کشمیر کانفرنس کا انعقاد کرکے مسئلہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر اجاگر کرنے کی کوشش کی جائے گی۔ کشمیر کانفرنس برطانوی دارالعوام میں ہوگی جس میں برطانوی اراکین پارلیمنٹ کے علاوہ پاکستان اور دیگر ملکوں سے تعلق رکھنے والے کشمیری رہنما خطاب کریں گے۔ وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے لندن روانگی سے قبل حریت کانفرنس کے سربراہ میر واعظ عمر فاروق سے ٹیلیفون پر رابطہ کر کے انہیں کشمیر کانفرنس میں شرکت کی دعوت دی جس پر بھارت سخت سیخ پا ہوا اور پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کر کے شدید احتجاج کیا تاہم پاکستان نے بھی بھارتی ہائی کمشنر کو طلب کر کے انڈیا کے احتجاج کو مسترد کردیا۔بی جے پی سرکار نے برطانوی حکومت سے درخواست کی کہ مذکورہ پروگرام نہ ہونے دیا جائے۔اسی طرح اور بھی کئی طرح کی سفارتی رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوشش کی لیکن وہ اپنے ان مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہو سکا۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے حریت کانفرنس کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق کو کال کر کے کشمیر کا معاملہ عالمی سطح پر اٹھانے کیلئے کی جانے والی کوششوں سے آگاہ کیا جس پرانہوں نے پاکستانی حکومت کی کوششوں کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ انسانی حقوق کی پامالیوں کے حوالے سے کشمیر یوں کا جذبہ کم نہیں ہوسکتا۔وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے حریت رہنما کو لندن میں ہاؤس آف کامنز کے زیر اہتمام ہونے والی تقریب سے متعلق بتایا جس میں 4 اور 5 فروری کو ایک نمائش بھی کی جائے گی جس پر میر واعظ عمر فاروق نے کہا کہ وہ اور ان کے ساتھی اس میں شرکت کے خواہشمند ہیں لیکن بھارتی حکومت نے ان کے پاسپورٹ ضبط کررکھے ہیں تا کہ وہ بیرونِ ملک نہ جاسکیں۔

5فروری وہ دن ہے جب پاکستان میں کشمیریوں کے حق میں ایک خاص ماحول دکھائی دیتا ہے۔ کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنا اچھی بات ہے لیکن اس سلسلہ کو صرف ایک دن تک محدود نہیں رہنا چاہیے۔بانی پاکستان محمد علی جناح نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا، اس لیے تمام سیاسی جماعتوں کے منشور میں مسئلہ کشمیر کو اولین حیثیت حاصل ہونی چاہیے، لیکن افسوس کہ ایسا نہیں ہے۔ چند ایک مذہبی اور کشمیری جماعتیں ہیں جو عوام میں جذبہ بیدار رکھے ہوئے ہیں اور کشمیریوں کو بھی اس سے حوصلہ ملتا ہے کہ حکمرانوں کی مجبوریاں ہوسکتی ہیں مگر غیور پاکستانی قوم ان کے ساتھ کھڑی ہے۔کشمیری مسلمانوں کی تاریخ قربانیوں سے بھری پڑی ہے۔ آٹھ لاکھ بھارتی فوج آئے دن نت نئے مظالم ڈھانے میں مصروف ہے۔ مقبوضہ کشمیر میں بستیوں کا محاصرہ کرکے نہتے مسلمانوں کا خون بہانا معمول بن چکا ہے۔ کشمیری تاجروں کا کاروبار سازش کے تحت برباد کیا جارہا ہے۔ بھارتی ایجنسی این آئی اے کی جانب سے پہلے حریت لیڈروں کو حراست میں لیا گیا، ان پر پاکستان سے مبینہ فنڈنگ کے الزامات لگاکر جیلوں میں ڈالا گیا، ان کے خلاف جھوٹے اور بے بنیاد الزامات پر مبنی چارج شیٹ عدالتوں میں پیش کی گئی اور اب تحریک آزادی میں حصہ لینے والے طلبا، تاجر اور وکلاء رہنماؤں کو بھی قیدو بند کی صعوبتوں کا شکار کیا جارہا ہے۔ کشمیری خواتین کی عصمتیں محفوظ نہیں۔ بھارتی فوج محاصروں کے دوران جہاں لوگوں کے گھروں میں گھس کر قیمتی سامان کی توڑ پھوڑ کرتی ہے وہیں خواتین سے دست درازی کے واقعات بھی بڑھتے جارہے ہیں۔ سرگرم کشمیری نوجوانوں کو ان کی رہائش گاہوں سے زبردستی اٹھا کر محض ترقیاں و تمغے حاصل کرنے کے لیے فرضی جھڑپوں میں شہید کیا جارہا ہے۔سات دہائیاں گزرنے کے بعد بھی کشمیری پاکستان کا پرچم لہرا رہے ہیں۔ وہ آج بھی اپنے شہدا ء کو پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر دفن کر رہے ہیں۔ کشمیری طلباء و طالبات،خواتین سب سڑکوں پر نکلتے ہیں تو پاکستان زندہ باد کے نعرے لگاتے ہیں۔بھارت متعدد بار کوششوں کے باوجود سری نگر کے لالچوک میں ترنگا نہیں لہرا سکا جبکہ کشمیری ہرروز سری نگر کے گلی کوچوں میں سبز ہلالی پرچم لہراتے ہیں اور پھر بھارت سرکار ان پرجھوٹے مقدمات بنا کر جیلوں میں ڈالتی ہے۔دختران ملت کی چیئرمین سیدہ آسیہ اندرابی پر بھی غداری کامقدمہ بنایا گیا،پاکستانی کرکٹ ٹیم کے میچ جیتنے کی خوشی میں طلباء نے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگائے تو انہیں بھی یونیورسٹیوں سے نکال کر ان پر غداری کے مقدمات بنائے گئے۔ کشمیر کے بازاروں ،گلیوں،دکانوں میں پاکستانی پرچم لگائے جاتے ہیں تو بھارتی فوج کی ایک سپیشل یونٹ پرچم اتارنے کا کام کرتی ہے۔کشمیری اپنی گھڑیاں پاکستان کے ساتھ ملاتے ہیں ،عید یں پاکستان کے ساتھ کرتے ہیں اور سال کے365 دن ہی بھارت سرکار کے خلاف یوم سیاہ مناتے ہیں۔قیام پاکستان کے وقت سے مسئلہ کشمیر وطن عزیز پاکستان کی خارجہ پالیسی کا بنیادی جزو رہا ہے۔ کشمیری قوم بھی پاکستان کو اپنا سب سے بڑا وکیل سمجھتی ہے اور الحاق پاکستان کیلئے لاکھوں جانوں کا نذرانہ پیش کر چکی ہے۔ ان حالات میں ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت پاکستان دنیا بھر میں اپنے سفارت خانوں کو متحرک کرتے ہوئے تمام بین الاقوامی فورمز پر کشمیریوں کے حق میں مضبوط آواز بلند اور انڈیا کی ریاستی دہشت گردی بند کروانے کیلئے بھرپور کردارادا کیا جائے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ پاکستان میں بعض حکومتیں انڈیا سے دوستی پروان چڑھانے کیلئے کشمیری تنظیموں اورشخصیات کی سیاسی و رفاہی سرگرمیوں میں رکاوٹیں کھڑی کرتی رہی ہیں۔ مرد مجاہد پروفیسر حافظ محمد سعید نے2017ء کو کشمیر کا سال قرار دیااور ملک بھر میں پروگراموں کے انعقاد کا اعلان کیا تو محض بھارتی خوشنودی کیلئے انہیں نظربند کر دیا گیاتاہم بعد میں عدالت میں کیس چلا اور ان کی رہائی ممکن ہوئی۔ اسی طرح 2018ء میں بھی حافظ محمد سعید نے کشمیریوں کیلئے عشرہ یکجہتی کشمیر منانے کا اعلان کیا تو ایک مرتبہ پھر انہیں حراست میں لیکر نظربند کر دیا گیا جس پر دس ماہ تک لاہور ہائی کورٹ میں کیس زیر سماعت رہا اور پھر عدالتی احکامات کے نتیجہ میں ان کی رہائی ہوئی۔یہ لمحہ فکریہ ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں حریت قیادت اور پاکستان میں مرد مجاہد حافظ محمد سعید کیخلاف اٹھائے جانے والے اقدامات میں ایسی مماثلت کیوں پائی جاتی ہے؟۔حقیقت یہ ہے کہ جماعۃالدعوۃ کے سربراہ پاکستان میں مظلوم کشمیریوں کے حق میں سب سے مضبوط آواز سمجھے جاتے ہیں تاہم جس طرح انہیں کشمیریوں کے حق میں آواز بلند کرنے سے روکنے کی کوششیں کی جاتی رہی ہیں اس سے کشمیریوں کا اعتماد مجروح ہوااورمقبوضہ کشمیر میں حریت کانفرنس سمیت تمام کشمیری جماعتوں اور شعبہ ہائے زندگی کی جانب سے اس عمل کی شدید مذمت کی گئی۔ لہٰذا پاکستان میں برسراقتدار آنے والی تمام حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ قائد اعظم محمد علی جناح کی قومی کشمیر پالیسی پر کاربند ہوں اورمحض بیرونی قوتوں کی خوشنودی کیلئے ایسے اقدامات اٹھانے سے گریز کیا جائے جس سے کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کو نقصان پہنچتا ہو اور کشمیری و پاکستانی قوم کے مورال پر اثر پڑتا ہو۔ یوم یکجہتی کشمیر کے موقع پرپوری پاکستانی قوم اس بات کا عہد کرتی ہے کہ کشمیریوں کی جدوجہد آزادی کی ہر ممکن مددوحمایت کی جائے گی اور انہیں کسی صورت تنہا نہیں چھوڑا جائے گا۔


ای پیپر