عوام خوش تو ہم بھی خوش
03 فروری 2019 2019-02-03

ابھی ہفتہ گزشتہ کی بات ہے۔ ایک نہایت موقر اور معتبر تجزیاتی ادارے کی رپورٹ شائع ہوئی۔ پتہ چلا کہ عوام کی غالب اکثریت حکومت وقت سے اب بھی خوش ہے۔ سر خیاں پڑھیں۔ تفصیل پڑھنے کی ہمت نہ ہوئی۔ شام تک ٹی وی چینل اور اس سے اگلے روز تجزیوں میں اس رپو رٹ کا چرچا تھا۔ حکومتی ترجمان، میڈیا مینجر اسی رپو رٹ کی ڈگڈگی بجا رہے تھے۔ شاید بیچنے کیلئے کچھ اور میسر نہ ہو۔ رائے عامہ کے متعلق تجزیاتی رپورٹیں دینے والا یہ ادارہ گزشتہ سال وابستگان تبدیلی کی نظروں میں معتوب ہوا کرتا تھا۔ جرم اس کا ایسی رپورٹوں کا اجرا تھا۔ جن میں مسلم لیگ ن کی حکومت کی معاشی کامیابیوں کو اجاگر کیا جاتا تھا۔ تب وہ رپورٹیں اور ان کے نتائج ناگوار گزرتے۔ تبدیلی آئی اتنا تو ہوا کہ کل کا معتوب اب محبوب ہوا۔ قلمکار تو رائے عامہ کی بالادستی پر یقین رکھتا ہے۔ عوام مطمئن ہیں تو ہم اعتراض کرنے والے کون۔ویسے بھی آخری حکم تو یہی موصول ہوا تھا کہ صرف مثبت خبریں دینی ہیں۔ تجزیوں میں سب مثبت تصویر کشی کرنی ہے۔ چھ ماہ تک کی ڈیڈ لائن دی گئی تھی۔ فی الحال کوئی نیا حکم نامہ تو جاری نہیں ہوا۔ ویسے بھی ڈیڈ لائن پوری ہونے میں چار ماہ باقی ہیں۔ بتایا گیا تھا کہ چھ ماہ کے بعد سب کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ ٹھیک نہ بھی ہوا تو کم از کم ہم ایسے شوریدہ سروں کو ''عادت '' پڑھ چکی ہوگی۔ سچی بات یہ ہے کہ بیچ میں ایک آدھ دفعہ قلمکار سے کچھ گستاخی بھی ہوئی۔ مثبت تصویر دکھانے کہ یک طرفہ معاہدہ کی خلاف ورزی بھی ہوئی۔ جیسے سانحہ ساہیوال پر نہ رہا گیا۔ کچھ وا ویلا کیا۔ کچھ آنسو بہائے۔ پھر حاکم وقت کا ٹویٹ دیکھا تو دل کو تسلی ہوئی۔ امید تھی کہ قطر سے لوٹتے ہی انصاف فراہم کر دیا جائے گا۔ فی الحال تو انتظار فرمایئے کی سی کیفیت ہے۔ سو خود ساختہ وعدہ مثبت صحافت کے منشور پر چلتے رہنے میں ہی عافیت ہے۔ لہٰذا تجزیاتی ادارے کی سروے رپورٹ ٹھیک ہی ہوگی۔جس معاشرے میں سفر حج کے مہنگا ہوجانے پر بھی حاکم وقت کی معاملہ فہمی پر نعرہ تحسین بلند کرنے میں سبقت لے جانے کیلئے وارفتگان باقاعدہ دھکم پیل کر رہے ہوں۔ وہاں کوئی لکھ کر، بول کر کون سا تیر چلا لے گا۔حج اخراجات میں گزشتہ سال کی بہ نسبت ڈیرھ لاکھ کا اضافہ ہوجائے۔ لیکن علی الاعلان اس کو سبسڈی سے انکار کہہ کر حجاج کا مذاق اڑایا جائے۔ وہاں دلیل بے معنی ہے۔ کل کلاں حکومت نے فیصلہ واپس لے لیا اور سبسڈی دیدی تو یہی احباب اس رعائت کی فضیلت بیان کرتے نہیں تھکیں گے۔ سیاسی وابستگی اندھی عقیدت میں تبدیل ہوجا ئے تو اسی طرح ہوتا ہے۔ ورنہ کون نہیں جانتا کہ مفت حج اور اخراجات میں کمی دو مختلف چیزیں ہیں۔ بھارت ایران، ملائیشیا انڈونیشیا زندگی میں ایک مرتبہ اپنے شہریوں کو سستے داموں حج کی سہولت فراہم کرتی ہیں۔ لیکن منشور تبدیلی میں ایسی خواہش بھی وجہ مذاق بن کر رہ گئی۔ البتہ نو سو کے قریب نئے سینما گھروں کی تعمیر کیلئے سبسڈی کی تیاریاں ہیں۔ شوگر ملوں کے غریب مالکوں کو بھی سبسڈی خزانہ عامرہ سے جاری و ساری ہے۔ لیکن عوام پھر بھی خوش ہیں، کیسے ایک ٹی وی چینل کا ذہین اینکر کہتا ہے۔ جس کا ذاتی سروے بتاتا ہے کہ عوام کی اکسٹھ فیصد شرح بتاتی ہے وہ جناب کپتان کے وعدوں کی تکمیل کی رفتار سے مطمئن ہیں۔ پٹرول کی قیمت میں پچاس پیسے کی کمی اور ایل پی جی کی قیمت میں چھ روپے اضافے کے باوجود بھی ۔ رپورٹیں تو اور بھی بہت ہیں۔ کچھ حکومت پاکستان کے ماتحت اداروں کی اپنی مرتب کردہ۔ پاکستان شماریات بیورو کی ایک رپورٹ پڑھ لیں۔ رپورٹ کہتی ہے سال رواں کے ماہ جنوری میں گزشتہ سال کی بہ نسب مہنگائی کی شرح میں سات اعشاریہ انیس فیصد اضافہ ہوا ہے۔سال گزشتہ کے دوران گیس پچاسی فیصد، کھا د ستر فیصد، بجلی آٹھ فیصد، ڈیزل تیئس فیصد مصالحے تراسی اور تعمیراتی سریا انیس فیصد مہنگا ہوا۔ضروریات روز مرہ کی بیس اشیاء کے قیمتوں میں آٹھ تا چودہ فیصد اضافہ ہوا ہے۔ ادویات کی قیمتوں میں اضافہ تو اس قدر ہوا ہے کہ لوگ دعائیں مانگتے ہیں کہ موت آجائے بیماری نہ آئے۔ ایک طرف حکومت وقت اوورسیز پاکستانیوں کیلئے بانڈ جاری کر رہی ہے۔ کاروبار میں آسانی کیلئے نت نئی سکیمیں متعارف کرانے کی تگ ودو میں ہے۔ دوسری طرف اوور سیز انویسٹرز چیمبر کی رپورٹ پڑھ لیں۔ یہ رپورٹ خفیہ نہیں بلکہ ہفتہ کے روز اخبارات میں شائع ہوچکی ہے۔ بزنس کانفیڈینس انڈیکس ویو نامی یہ رپورٹ کہتی ہے کاروباری طبقے کا اعتماد چھبیس فیصد سے کم ہوکر منفی بارہ فیصد رہ گیا ہے، گزشتہ سال جون میں یہ کاروباری طبقے کا اعتماد مثبت چار فیصد تھا۔سروے کے مطابق ریٹیل اور ہول سیل کے شعبوں میں سب سے زیادہ منفی اعتماد سازی ہوئی ہے۔ ان سب رپورٹوں کو ایک طرف رکھ دیں اور سٹیٹ بنک کی جاری کردہ نئی مانیٹر پالیسی پڑھ لیں۔ اقتصادی صورتحال کا نوحہ ہے۔ سٹیٹ بنک کو شرح سود بڑھا کر سوا دس فیصد کرنا پڑ رہی ہے۔حکومتی اورنجی شعبہ کے قرضوں میں ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔ فصلوں کی پیداوار میں کمی ہوئی ہے۔ گندم کی پیداوار کا ابتدائی تخمینہ بھی حوصلہ افزا نہیں۔ طویل رپورٹ ہے۔ دہرانے سے کیا حاصل۔ کس رپورٹ کو جھوٹ کہا جائے اور کس کو سچ۔ قلمکار تو رائے عامہ کی اکثریت پریقین رکھتا ہے۔ رپورٹ کہتی ہے کہ عوام خوش ہیں۔ اگر ایسا ہے تو ہم کون ہوتے ہیں منفی باتیں کرنے والے۔ عوام خوش تو ہم ان سے بھی زیادہ خوش ۔


ای پیپر