وینز ویلا، مغربی طاقتوں کے نرغے میں
03 فروری 2019 2019-02-03

امریکی سامراج کی قیادت میں مغربی طاقتیں واضح طور پر وینزویلا میں حکومتی تبدیلی کے لیے پوری طرح متحرک ہو چکی ہیں۔ ان کا نشانہ وینز ویلا کے منتخب صدر مادورو ہیں۔ وہ صدر نکولس مادورو کو ہٹاکر ان کی جگہ پر جان گائیڈو کو صدر بنانا چاہتی ہیں۔ جان گائیڈو دائیں بازو کے خیالات رکھنے والے اور نیو لبرل ازم کے حامی ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ اس تبدیلی کو برپا کرنے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ وہ صدر مادورو کو ہٹانے اور جان گائیڈو کو صدر بنانے کے لیے ہر حربہ استعمال کرنے کے لیے تیار ہیں۔

امریکہ اور برطانیہ نے پہلے ہی وینزویلا کے اثاثے ضبط کر لیے ہیں اور وینزویلا پر اقتصادی پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔ یورپی یونین بھی ایسا کرنے کی دھمکیاں دی رہی ہے۔ مغربی طاقتیں چاہتی ہیں کہ مادورو مستعفی ہو جائیں یا پھر وینز ویلا کی فوج ان کا تختہ الٹ کر انہیں چلتا کرے۔ وہ بار بار فوج کو اکسا رہی ہیں کہ وہ مداخلت کرے اور صدر مادورو کو ہٹا کر گائیڈو کو صدر مان لے۔ یہ دراصل صدر مادورو کی حکومت کا تختہ الٹنے کی سامراجی کوشش ہے تا کہ وہ ایسی حکومت کو اقتدار میں لائے جو سامراجی مفادات کا تحفظ کر سکے۔

امریکی انتظامیہ اس وقت پوری منصوبہ بندی سے تیار کی گئی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے جس کے تحت انتہائی دائیں بازو کے سخت گیر خیالات اور سوچ رکھنے والے اعلیٰ ترین امریکی عہدیدار اس عمل میں شریک ہیں۔ نائب صدر مائیک پینس، مائیک پومپیو، جان بولٹن، سینیٹر مارکو روبیو (جو کہ جلا وطن کیوبن گروپ کے ترجمان ہیں) اور ایلیٹ البرامز اس پوری منصوبہ بندی اور عمل درآمد کا حصہ ہیں۔

ایلیٹ ابرامز لاطینی امریکہ کے مختلف ممالک میں بائیں بازو کی حکومتوں کا تختہ الٹنے اور ان کی جگہ انتہائی جابرانہ اور متشدد فوجی آمریتوں کو مسلط کرنے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ وہ 1970ء اور 1980ء کی دہائی میں گوئٹے مالا، ایل سلواڈور اور نکارا گوا میں کامیابی سے منتخب جمہوری حکومتوں کا تختہ الٹنے کے لیے انتہائی سخت گیر اور متشدد گروہوں کی تشکیل اور ان کے ذریعے تشدد اور عدم استحکام کو فروغ دینے کا وسیع تجربہ رکھتے ہیں۔ ناپسندیدہ حکومتوں کو ہٹانا اور ان کی جگہ پر امریکی مفادات کا تحفظ کرنے والی حکومتوں کو مسلط کرنا ان کی وجہ شہرت ہے۔

عراق میں امریکی فوجی مداخلت کو منظم کرنے میں بھی ان کا بنیادی کردار تھا جبکہ 2002ء کی صدر شاویز کے خلاف ہونے والی ناکام فوجی بغاوت کے پیچھے بھی ان کا ہاتھ تھا۔ صدر شاویز کو ہٹانے کے لیے امریکی سامراج کی طرف سے مسلسل کوششیں ہوئیں۔ صدر شاویز بائیں بازو کے نظریات رکھنے ریڈیکل سامراج مخالف راہنما تھے جو 1999ء سے اپنی موت تک وینز ویلا کے صدر رہے۔ موجودہ کوشش بھی اسی کا تسلسل ہے مغربی طاقتوں کو یقین ہے کہ اس مرتبہ وہ کامیاب ہوں گی کیونکہ اس وقت وینز ویلا کی معیشت شدید ترین اور بدترین کساد بازاری کا شکار ہے۔ دوسری جانب وینز ویلا کے اردگرد کولمبا، برازیل ، ارجنٹائن اور چلی میں اس وقت دائیں بازو کی حکومتیں بر سر اقتدارہیں۔ جو وینز ویلا کی حکومت کے خلاف انتہائی جارحانہ رویہ رکھتی ہیں۔

وینز ویلا میں سامراج اور رجعتی سرمایہ دار طبقے کی فتح کے وینز ویلا کے عوام پر اور براعظم لاطینی امریکہ کے محنت کش عوام کی تحریکوں پر تباہ کن اثرات مرتب ہوں گے ۔

وینز ویلا میں حکومتی تبدیلی کی مہم میں شامل افراد کا ماضی اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ ان کا محوریت ، انسانی حقوق اور لوگوں کی مشکلات سے کوئی تعلق نہیں ہے وہ جمہوریت اور انسانی حقوق جیسے اچھے تصورات کو اپنی حکومتی تبدیلی کے اصل مقاصد کو چھپانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ یہ افراد دائیں بازو کی قوتوں کو سڑکوں پر متحرک کر رہے ہیں۔ انہیں متحد کر رہے ہیں۔ وسیع پیمانے پر پروپیگنڈے کے ذریعے مادواد کے حامیوں کو مایوس کرنے کی کوشش کر رہے ہیں اور ایسے حالات پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں جن کو بہانہ بنا کر کولمبیا اور برازیل کی افواج کو وینز ویلا میں داخل کر سکیں۔ یہ فوجی مداخلت حالات پر قابو پانے کے نام پر کی جائے گی ۔

مغربی طاقتیں ایک ایسی حکومت کو وینز ویلا پر مسلط کرنا چاہتی ہیں جو کہ مغرب ی حامی ہو۔

دائیں بازو کے سرمایہ داروں پر مشتمل ہو جو کہ آزاد منڈی اور نیو لبرل معاشی پالیسیوں کو پوری شدت کے ساتھ عوام پر مسلط کر سکیں۔ وہ ایسی حکومت چاہتے ہیں جو کہ بولیوین انقلاب کی بچی کچھی حاصلات کو ختم کر سکے اور وینز ویلا کے تیل کے ذخائر تک ان کو رسائی دے۔ وینز ویلا کے پاس دنیا کے بڑے تیل کے ذخائر ہیں۔ اس کے علاوہ وینز ویلا کے پاس سونے کے بڑے ذخائر بھی موجود ہیں۔ امریکہ گزشتہ 20 سال سے ان ذخائر تک رسائی کی کوشش کر رہا ہے اور اس مقصد کے لیے پہلے شاویز اور اب صدر مادوار کی حکومت کا تختہ الٹنے کی کوشش کر رہا ہے۔ وینز ویلا میں شاویز کی بائیں بازو کی حکومت امریکی سامراج کی پالیسیوں اور منصوبوں کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ تھی۔ ان کی وفات کے بعد صدر مادوار کی حکومت کو امریکہ ایک بڑی رکاوٹ سمجھتا ہے۔

اس وقت صدر مادوار کا حکومت کو بچانے کے لیے زیادہ دارو مدار فوج پر ہے۔ ان کا اقتدار + اس وقت زیادہ تر وینز ویلا کی فوجی کمان کی حمایت پر منحصر ہے۔ ابھی تک تو فوجی جرنیل مادوار حکومت کی حمایت کر رہے ہیں۔ اس کی بنیادی وجہ تو یہ ہے کہ فوجی کمانڈ کے براہ راست مفادات اس حکومت کے ساتھ منسلک ہیں۔ ان کی طاقت اور مراعات اسی حکومت کی مرہوں منت ہیں۔ مگر یہ حالات بدل بھی سکتے ہیں۔ جب انہیں یقین ہو جائے گا کہ سامراجی کوششیں رنگ لا رہی ہیں اور مادوار حکومت کمزور ہو رہی ہے تو وہ اپنی وفاداریاں تبدیل کرنے میں زیادہ وقت نہیں لگائیں گے۔

صدر مادوار نے حزب اختلاف کو خوش کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ ان کی کوششوں کے نتیجے میں حزب مخالف اور زیادہ دلیر ہو گئی اور ان کا اعتماد بڑھ گیا ۔ اس وقت جو صورت حال وینز ویلا میں پیدا ہو چکی ہے اس صورت حال سے صدر مادوار کو صرف عوامی تحریک ہی نکال سکتی ہے۔ عوام کی وسیع پرتوں کو متحرک کیے بغیر صدر مادوار کی مشکلات بڑھیں گی ۔ عوام نے ہمیشہ بولیورین انقلاب کو بچانے کے لیے قائدانہ اور متحرک کردار ادا کیا ہے۔ مگر اس کے لیے انہیں عوام کی بنیادی ضروریات، تنخواہوں ، خوراک کی فراہمی اور معیار زندگی کو بلند کرنے کے فوری اقدامات کرنے ہوں گے ۔

مگر صدر مادوار کی حکومت نہ تو سوشلزم کی تعمیر کر رہی ہے اور نہ ہی صدر ہوگو شاویز کے عہد کی ریڈیکل معاشی اور سماجی پالیسیوں پر عمل ہو رہا ہے ۔ معاشی بحران نے خوراک اور دیگر اشیاء کے ضرورت کی چیزوں کی شدید قلت پیدا کر دی ہے ۔ معاشی تباہی نے لوگوں کی زندگی کو اجیرن کر دیا ہے ۔ عوام کو بے شمار مسائل کا سامنا ہے۔ مگر مادوار حکومت کے گرنے کی صورت میں حالات مزید خراب ہوں گے ۔ عوام کی مشکلات اور تکالیف میں اضافہ ہو گا ۔ اگر سرمایہ داروں کی دائیں بازو کی حکومت قائم ہو گئی تو وہ نج کاری اور لبرل ازم کے نام پر عوام سے وہ سب کچھ چھیننے کی کوشش کرے گی جو اس وقت ان کے پاس ہے ۔

صدر مادوار کی حکومت کے پاس دو راستے ہیں۔ ایک راستہ تو یہ ہے کہ وہ جمہوری سوشلزم کے سفر کو طے کرنے کے لیے فیصلہ کن اقدام اٹھائیں اور اس عمل کو مکمل کریں جو شاویز نے شروع کیا تھا۔ یا پھر نی لبرل ازم کی آزاد منڈی کی معاشی پالیسیوں کی طر ف لوٹ جائیں۔

وہ درمیانی صورت حال میں زیادہ تر دیر تک کھڑے نہیں رہ سکتے ۔ انہیں جلد طے کرنا ہو گا ان کے پاس وقت زیادہ نہیں ہے ۔ سامراجی کی کوشش مسلسل جاری ہیں اور ان کے خلاف بغاوت مسلسل رینگ رہی ہے۔ رینگتی ہوئی بغاوت ان تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگائے گی۔


ای پیپر