حکومت ریاستی آمدن بڑھانے کے لیے کیا کر رہی ہے ؟
03 فروری 2019 2019-02-03

سوال یہ نہیں حج سبسڈی کی شرعی،فلاحی یا معاشرتی حیثیت کیا ہے ۔ حقیقت یہ ہے ۔ حکومت کے پاس ان سبسڈیز کے لیے پیسہ ہی نہیں ہے ۔ خزانہ خالی ہے ۔ اور آئی ایم ایف سے بیل آوٹ پیکیج لینے کے لیے آئیی ایم ایف کے جو مطالبات ہیں۔ ان میں سبسڈیز ختم کرنا۔ ٹیکس کی شرح بڑھانا، نج کاری کرنا، روپے کی قیمت گرانا ، ڈیوٹیز برھانا ، سیلز ٹیکس برھانا ، اور درآمدات کم کرنا اور برآمدات بڑھانا شامل ہے ۔ اس وقت اسٹیٹ بنک کے پاس زر مبادلہ کے ذخائر 8 ارب سے زائد ہیں۔ ان میں بھی تین ارب سعودی عرب اور تین ارب یو اے ای کے شامل ہیں۔ جبکہ دو ارب ڈالر چین سے آنے ہیں۔ لیکن یہ تمام مانگے کے آٹھ ارب ڈالر حکومت خرچ نہیں کر سکتی۔ جبکہ ان پر سود دے گی۔ تکنیکی طور پر عمران حکومت ڈی فالٹ کر چکی ہے ۔ آئی ایم ایف کی شرائط نہ مانے تو اور کیا کرے۔ اس وقت ملکی بیلنس آف پیمنٹ یعنی ادائیگیوں کے توازن کا خسارہ تیرا ارب ڈالر کے قریب ہے ۔ اس سال ہم نے کچھ مزید ادائیگیاں کرنی ہے ۔ جس کے نتیجے میں ہمارا ادائیگیوں کے توازن کا خسارہ تیس ارب ڈالر سے بڑھ جائے گا۔ ہمارا کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ اس وقت بیس ارب ڈالر کے قریب ہے ۔ جبکہ تجارتی خسارہ چالیس ارب ڈالر کی حد کو چھو رہا ہے ۔ تارکین وطن کے ترسیلات زر میں کمی ہو رہی ہے ۔ پچھلی حکومت میں افراط زر کی شرح اڑھائی فیصد سے بڑھ کر چھ فیصد تک جا رہی ہے ۔ معاشی ترقی کی نمو 5.85 فیصد سے کم ہو کر 4فیصد تک گر گئی ہے ۔ پیسے کی قیمت ان پانچ ماہ میں پہلے ہی 25 سے 30 فیصد گر چکی ہے ۔ جس سے سرمایہ کاری اور بچتوں کے نظام اور قوت خریداری کو بہت بری ضرب لگی ہے ۔ افراط زر بڑھنے سے مہنگائی تو بڑھی ہے ۔ بے روزگاری میں بھی اضافہ ہوا ہے ۔ اور اسٹیٹ بینک کی حالیہ رپورٹ کے مطابق تمام صنتعتی ، تجارتی اور مالی سرگرمیاں منفی رحجان میں چل رہی ہیں۔ اور پیسے کی حرکت رک چکی ہے ۔ جبکہ ڈالر کی بیرون ملک پرواز جاری ہے ۔ اور سیٹھوں اور تجارتی افراد کا اعتماد زیرو کو چھو رہا ہے ۔ ترقیاتی بجٹ میں تقریبا ستر سے اسی فیصد کٹوتی لگ چکی ہے ۔ اور تمام ترقیاتی منصوبے رکے پڑے ہیں جس سے ترقیاتی بجٹ کے آٹھ کھرب روپوں کی بذریعہ ترقیاتی پروجیکٹس عوام اور سرکاری اور پرائیویٹ کمپنیوں کو ترسیل رک چکی ہے اور نئی نوکریاں نکلنے کے امکانات معدوم ہو چکے ہیں۔ گردشی قرضہ ایک ہزار ارب سے بڑھ کر 1400 ارب تک جا پہنچا ہے جبکہ حکومت ان پانچ ماہ میں تقریباً 40 کھرب کا مزید قرض لے چکی ہے ۔ جبکہ روپے کی گراوٹ سے پہلے سے موجود قرضوں میں اضافہ ہو رہا ہے ۔ لیکن اس تمام تر معاشی دگرگوں صورتحال کے باوجود عمران حکومت ریاست کی آمدن برھانے اور مالی خسارہ کم کرنے کے لیے کوئی سنجیدہ کوشش کرتی نظر نہیں آتی۔ آ جا کر ادھار، قرض اور مانے تانگے کی رقم سے ملک چلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ یا یہ خوشخبری سنا دی جاتی ہے ۔ کہ عنقریب سعودی عرب اور یو اے ای سے بھاری سرمایہ کاری آ رہی ہے ۔ اللہ کرے ایسا ہو جائے لیکن یہاں سوال یہ ہے ۔ اگر امریکی لابی کے یہ دو ملک کوئی ایسی سرمایہ کاری لا رہے ہیں۔ تو جواب میں ہم سے کیا وصول کریں گے۔ اس لیے کہ ملکوں کے باہمی تعلقات میں کوئی لنچ فری نہیں ہوتا۔ افواہ یہ ہے ۔ کہ اس کا اثر پاکستان کی خارجہ پالیسی پر پڑے گا۔ امریکی اثر بڑھے گا۔ سی پیک متاثر ہو سکتا ہے ۔ یمن کا محاز گرم ہو سکتا ہے ۔ طالبان اور امریکی مجوزہ معاہدے کا تعلق بھی اس امداد سے جوڑا جا رہا ہے ۔ بہرحال یہ حکومت کا فرض ہے ۔ وہ اپنی معاشی پالیسیوں کی وضاحت کرے۔ قرض اور امداد کی پالیسی کو صاف شفاف بنائے۔ سی پیک پر قوم کو اعتماد میں لے اور خارجہ پالیسی کو کھل کر بیان کرے۔ اور خاص طور پر یہ کہ حکومت ریاست کی آمدن بڑھانے کے لیے کیا اقدامات کر رہی ہے ۔ خاص طور پر عمران حکومت نے ریاستی آمدن بڑھانے کا جو آٹھ نکاتی پلان دیا تھا۔ وہ نہ صرف مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے ۔ بلکہ قرض اور امداد لے کر ملک چلانے کی پالیسی بھی بری طرع فلاپ ثابت ہو رہی ہے ۔ وہ آٹھ نکاتی ایجنڈا یہ تھا۔ 1۔ سادگی 2۔ بچت3۔ کرپشن پر قابو 3۔ منی لانڈرنگ پر قابو 4۔ لوٹی ہوئی دولت کی واپسی 5۔ سوئزر لینڈ کے بنکوں میں رکھی دولت کی واپسی 6۔ تارکین وطن کے ترسیلات زر میں اضافہ 7۔ برآمدات میں اضافہ 8۔ سرمایہ کاری لیکن ان آٹھ ترجیحات کی بجائے ساری مالی و معاشی سرگرمی قرضے اور امداد کے حصول پر رک گئی ہیں۔ اور اسے ہی کامیابی سمجھا جا رہا ہے ۔ اور ستم ظریفی یہ ہے کہ یہ پالیسی بھی ناکام جا رہی ہے ۔


ای پیپر