لائیو سٹاک کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے
03 فروری 2019 2019-02-03

آج ملک پاکستان کے اقتدار کے ایوانوں سے لے کر گھروں کے ڈرائینگ رومز تک اگر کوئی تجارتی شعبہ سب سے زیادہ زیر بحث ہے تو وہ لائیو سٹاک کی پیداوار اور اس کی برآمدات ہے ۔ اس کی سب سے بڑی وجہ وزیراعظم عمران خان کی اس شعبے میں ذاتی دلچسپی ہے ۔ لیکن جس شخصیت نے وزیراعظم کی توجہ اس شعبے کی ترقی کی جانب مبذول کروائی ہے وہ یقیناًخراج تحسین کے مستحق ہیں۔ آپ کو یہ جان کر حیرت ہوگی کہ اس شخصیت کا نام میاں عبدالحنان ہے ۔ میاں عبدالحنان پاکستان کی سب سے بڑی میٹ ایکسپورٹ کمپنی تازج میٹ اینڈ فوڈز کے مالک ہیں اور پندرہ سال سے گوشت کی برآمدات سے منسلک ہیں۔ عبدالحنان صاحب نے ویراعظم کو کیا مشورے اور تجاویز دیں اس کا ذکر میں آگے چل کر کروں گا۔ فی الحال میں کچھ حقائق آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔

حلال گوشت پیدا کرنے والے ممالک میں پاکستان کا پانچواں نمبر ہے جبکہ حلال گوشت کی برآمدات میں پاکستان انیسویں نمبر پر ہے ۔ پاکستان میں پچھلے کچھ سالوں سے گوشت کی برآمدات میں اضافہ ہو رہا ہے 2016 میں گوشت کی برآمدات 268 ملین ڈالر رہی جو کہ 2017 میں کم ہو کر 221 ملین پر چلی گئی اور 2018 میں بڑھ کر تقریباً 245 ملین سے زائد رہی۔ برآمدات میں اضافے کی سب سے بڑی وجہ گلف کوآپریشن کونسل ریجن میں پاکستان کی کھوئی ہوئی ساکھ کو بحال کرنا ہے ۔ اس وقت پاکستان سب سے زیادہ گوشت چھ جی سی سی ممالک میں سے پانچ ممالک بحرین، متحدہ عرب امارات، کویت، عمان اور سعودی ارب کو برآمد کر رہا ہے ۔ قطر میں پاکستان سے گوشت کی برآمدات باقی جی سی سی ممالک کی نسبت کم ہے لیکن اس میں بتدریج اضافہ ہو رہا ہے ۔جو کہ حوصلہ افزا ہے ۔

موجودہ حکومت کے قطر سے مضبوط تعلقات قائم ہو چکے ہیں اور گلف بیلٹ میں پاکستان کی اہمیت پہلے سے زیادہ بڑھ گئی ہے ۔ اگر پاکستانی گوشت پانچ گلف ممالک میں استعمال کیا جا سکتا ہے تو باقی ایک ملک میں اس کی برآمد کم ہونے کی کوئی مضبوط وجہ نظر نہیں آتی۔ حکومتی سطح پر مدعا اٹھا کر یہ معاملہ باآسانی حل کیا جا سکتا ہے ۔کویت اور متحدہ عرب امارات بھی پہلے آسٹریلیا سے گوشت کی درآمد کو ترجیح دیتے تھے لیکن آسٹریلین جانوروں کی صحت کی خرابی سے متعلق چلائی گئی سوشل میڈیا کمپین کی وجہ سے ان ممالک نے آسٹریلیا سے گوشت درآمد کرنا کم کر دیا ہے اور پاکستان اپنی جگہ بنانے میں کامیاب ہو گیا ہے ۔ سعودی عرب جانوروں کی افزائش اور فارمنگ میں خودمختار ہونا چاہتا ہے اور ملکی ضرورت کا گوشت خود تیار کرنے کے مراحل سے گزر رہا ہے ۔ حکومتی اور پرائیوٹ سیکٹر نے اس شعبے میں بلین ڈالرز انویسٹ کر دیے ہیں۔ اس سلسلے میں سعودی حکومت کا دارومدار آسٹریلین جانوروں کی درآمد پر ہے ۔ جبکہ پاکستان میں ساہیوال اور کوہستانی نسل کے جانور آسٹریلین نسل سے بہت زیادہ بہتر ہیں۔ پاکستان سعودی عرب کے ساتھ لائیو سٹاک کے متعلق اچھے تجارتی تعلقات قائم کر کے اربوں ڈالر سالانہ کما سکتا ہے ۔ انڈونیشا میں ہر سال رمضان میں گوشت کی طلب میں اضافہ ہو جاتا ہے ۔ انڈونیشا سرکار طلب کو پورا کرنے اورمضان میں قیمتوں کو کم سطح پر رکھنے کے لیے برازیل سے حلال گوشت درآمد کرتی ہے ۔ پاکستان اس موقع سے فائدہ اٹھا سکتا ہے اور انڈونیشا میں کم قیمت پر اچھی کوالٹی کا گوشت برآمد کر سکتا ہے ۔

اس کے علاوہ حلال گوشت کی برآمدات کے لیے ملائشیاکی مارکیٹ پاکستان کے لیے بہت سودمند ثابت ہو سکتی ہے ۔ ملائشیا، انڈونیشیا اور چین میں گوشت برآمد نہ ہونے کی سب سے بڑی وجہ فٹ ماؤتھ ڈیزیز (ایف ایم ڈی) ہے ۔ حکومت پاکستان ویٹنری یونیورسٹی اور ڈاکٹروں کی مدد سے اس بیماری پر با آسانی قابو پانے کی صلاحیت رکھتی ہے ۔ حکومتی سطح پر تھوڑی سی سنجیدگی پاکستان کو اربوں ڈالر کما کر دے سکتی ہے ۔ پاکستان میں اس وقت تیس سے زائد کمپنیاں آل پاکستان میٹ ایکسپورٹر اینڈ پروسیسر ایسوسی ایشن میں رجسٹرڈ ہیں۔ ان میں فوجی میٹ لمیٹڈ، پی کے لائیو سٹاک ، الشہیر کارپوریشن، زینت، انیس ایسوسی ایٹس اور تازج میٹ اینڈ فوڈ سرفہرست ہیں۔ ان کمپنیوں کے اپنے لائیو سٹاک فارمز اور جدید سلاٹر ہاوسز اور پروسیسنگ یونٹس بھی ہیں۔ پچھلے کچھ سالوں میں گوشت برآمد کرنے والی ان کمپنیوں نے اپنی مارکیٹینگ کو بہت زیادہ آگے بڑھایا ہے ۔ اس کی بڑی وجہ ای کامرس میں ترقی ہے ۔

آئیے اب تصویر کا دوسرا رخ بھی دیکھتے ہیں۔

گوشت کی پیداوار میں پانچویں نمبر پر ہونے کے باوجود ہم امریکہ، یورپ اور بیشتر ایشیائی ممالک میں گوشت برآمد نہیں کر رہے۔ جبکہ ہمارا ہمسایہ ملک ہندوستان دنیا میں گوشت کا دوسرا بڑا ایکسپورٹر ہے ۔ ملائیشیا اور تھائی لینڈ میں حلال گوشت کی پیداوار پاکستان کی نسبت کم ہے جبکہ تھائی لینڈ دنیا کے حلال گوشت کا 6فیصد مہیا کر رہا ہے ۔ اور ملائیشیا 2020 تک جی ڈی پی کا 5% پیدا کرنے میں کامیاب ہو جائے گا۔ اگر ہم بیف کی بات کریں تو بیف کی برآمدات میں برازیل دنیا کے تمام ممالک پر بازی لے گیا ہے ۔ برازیل کے بعد ہندوستان، آسٹریلیا اور امریکہ سر فہرست ہیں۔ بدقسمتی یہ ہے کہ پاکستان بیف کی برآمدات میں چودھویں نمبر پر ہے ۔ جبکہ پاکستان کی ستر فیصد آبادی دیہات میں رہتی ہے اور ان کی آمدنی کا دارومدار زراعت اور لائیو اسٹاک پر ہے ۔ اس کے علاوہ ایک اندازے کے مطابق پاکستان میں برآمدات سے منسلک سلاٹر ہاوسز اپنی مکمل صلاحیت کا صرف چالیس فیصد کام کر رہے ہیں۔ ان تلخ حقائق کی سب سے بڑی وجہ حکومتی عدم دلچسپی اور غیر متوازن پالیسی رہی ہے ۔

(جاری ہے )


ای پیپر