یوم یک جہتیِ کشمیر اور ہم
03 فروری 2019 2019-02-03

کل پا نچ فر وری ہے، اور وطنِ عز یز میں سر کاری تعطیل ہے۔ سر کا ری ملا ز مین، نجی ادا روں میں کا م کر نے وا لے، سکو لو ں کے طلباء غر ض کہ پور ے ملک کی آ با دی دیر سے سو کر اٹھے گی۔ بچے اور نو جو ا ن نا شتے و غیر ہ سے فا ر غ ہو کر گلیو ں اور پا ر کو ں میں کر کٹ کھیلنا شر و ع کر دیں گے۔ جبکہ بڑے خو ش گپیو ں میں مصر و ف ہو جا ئیں گے۔ایسے میں کو ئی ایک دو سرے سے پو چھے گا کہ آ ج کس با ت کی چھٹی ہے تو اسے بتا یا جا ئے گا کہ آ ج یو مِ یکجیتیِ کشمیر ہے۔ بس اتنا جا ننے کے بعد پہلے کی تسلی ہو جا ئے گی اور وہ چھٹی کے پہلے سے جا ری ہنگا مے میں مصر و ف ہو جا ئے گا۔ گو یا ہم بحثیت قوم ایک ایسے لٹے ہو ئے کا رو ا ں میں تبد یل ہو چکے ہیں جس میں اپنے لٹ جا نے کا احسا س بھی با قی نہیں ہے۔ مقام افسوس یہ ہے کہ یوم کشمیر کا منایا جانا وطن عزیز میں ایک روائتی سی کارروائی بن کے رہ گیا ہے۔ جب کہ صورتِ حال یہ ہے کہ بھارت میں نریندر مودی کے برسراقتدار آنے کے بعد سے مقبوضہ کشمیر میں مسلمانوں پہ بھارتی فورسز کے تشدد میں اضافہ ہوئے جارہا ہے۔ اس صورت حال کا تقاضا ہے کہ ہم یوم کشمیر کو اہمیت دیتے ہوئے تہیہ کرلیں کہ ہم مسئلہ کشمیر کی شدت کو بشمول اقوام متحدہ دنیا بھر سے نہ صرف تسلیم بلکہ اس کے مستقل حل کی جانب مائل کرکے رہیں گے۔ اللہ پاک کا قرآن شریف میں ارشاد ہے: ’’تم میں سے ایک گروہ ایسا رہے گا جو جہاد فی سبیل اللہ جاری رکھے گا۔‘‘ اس آیت مبارکہ کے پس منظر میں کشمیر کے حالات کا جائزہ لیں تو ہم دیکھتے ہیں کہ وطن عزیز میں اس تحریک کے راستے پر چلنے والے سنجیدہ افراد کی کمی ہے۔ اہل کشمیر بھی ہمیں بے سروسامانی اور کسمپرسی کی سی حالت میں دیکھ رہے ہیں۔ یہ سچ ہے کہ آزادی و غلامی کی حق و باطل کے حوالے سے کشمکش ہی زندگی میں حرارت و حرکت کا موجب بنتی ہے۔ تاہم یاد رکھنے کی ضرورت ہے کہ آزادی حق ہی حق ہے اور غلامی باطل ہی باطل ہے۔ غلامی پر قناعت نہ صرف تخلیق انسانی کے تصور کی نفی ہے، بلکہ حیاتِ مستعار کو رائیگاں کرنے کے مترادف ہے۔ تاریخ انسانی کے اوراق کی ورق گردانی سے جو بات پایۂ ثبوت کو پہنچی ہے وہ یہ ہے کہ حضرت آدم کی تخلیق سے لے کر اب تک اللہ پاک کی جانب سے بھیجے جانے والے ہزاروں انبیاء کے علاوہ کئی دوسرے مصلح و مفکر پیدا ہوئے۔ ان میں سے کسی نے غلامی کو قبول کرنے کا درس نہیں دیا۔ جو بھی آیا اس نے آزادی کو انسانی نشوونما کے لیے ضروری قرار دیا۔ انسانوں نے اب تک کروڑوں کی تعداد میں حصولِ آزادی کی خاطر قربانیاں دیں۔

یہاں زیر بحث خطہ کشمیر جسے جنت بے نظیر کا نام بھی دیا گیا کی آزادی و غلامی کی بات ہے۔ کشمیر کی غلامی کے چرچے تو اقوام متحدہ تک ہیں، مگر اس کی آزادی کی جدوجہد کے چرچے ابھی عام نہیں ہوئے۔ کچھ کچھ صدائیں اب بلند ہوتی نظر آرہی ہیں۔ سامراجیت کا فلسفہ ہی یہ ہے کہ قوموں اور ملکوں کو غلامی کے شکنجے میں جکڑ کر خون چوستے رہو اور اس دوران کوئی آواز بلند کرے تو اس کی آواز کو ہمیشہ کے لیے دفن کردو اور یہ عمل تب تک جاری رکھو جب تک اس خطے یا قوم میں کچھ باقی ہو۔ اکثر یہ عمل منطقی انجام تک نہیں پہنچتا۔ جنوبی ایشیاء میں کشمیر ایک حساس نوعیت اختیار کرچکا ہے۔ پچھلے ا کہتر سالوں میں کئی بار اس نے یہاں کی سیاسی چالوں میں ہلچل پیدا کی۔ 14 اگست 1947ء کو تقسیم ہند سے پیدا ہونیو الا یہ تنازعہ ’’مسئلہ کشمیر‘‘ بنا۔ انسانوں کی تقسیم اور خرید و فروخت کے چکر میں اس خطے کا معاملہ متنازعہ ہوگیا۔ برصغیر پاک و ہند میں انگریز کے خلاف کی جانے والی جدوجہد کوئی باقاعدہ حیثیت نہیں رکھتی تھی۔ اس لیے تقسیم ہند کے موقع پر بھی باقاعدگی کا اختیار کیا جانا ناگزیر ہوگیا۔ اگر تقسیم ہند کا مطالعہ اس کے پس منظر میں کیا جائے تو لامحالہ اس کا تمام تر نتیجہ یہی نکلتا ہے کہ ہندو اور مسلمان دو ایسی اقوام ہیں جو اکٹھے رہ کر علاقے میں امن و سکون کا موجب نہیں بن سکتیں۔ اس لیے ان کے لیے علیحدہ علیحدہ وطن کا ہونا ناگزیر ہے۔ لیکن اس تصور کو عملی طور پر مشکلات درپیش تھیں۔ انگریز کا کردار ایک سامراجی کردار تھا اور ہندو کا کردار اس کے حاشیہ بردار کا تھا۔ مسلمانوں کی مخصوص سوچ و فکر عقیدے کی مناسبت سے یہ دو اقوام بغض رکھتی تھیں۔ ان حالات میں مسلمانوں کے تصور کی عملی مشکلات کو حل کرنے کے لیے ان اقوام کی طرف سے سردمہری اور رکاوٹ ایک فطری عمل ہے۔ دراصل برصغیر پاک و ہند پر انگریز کا دو طرح کا قبضہ تھا۔ یا دوسرے لفظوں میں برصغیر پاک و ہند کی سیاسی نوعیت دو قسم کی تھی۔ برٹش انڈیا اور برٹش سٹیٹس کے ناموں سے پورے برصغیر کی ایک تقسیم تھی۔ برٹش انڈیا یا براہ راست انگریز کے قبضے میں تھا اور یہ علاقے وائسرائے برطانیہ کے ماتحت ہوتے تھے۔ جبکہ برٹش سٹیٹس یعنی ریاستیں الگ الگ معاہدوں کی رو سے براہ راست برطانیہ سے منسلک تھیں۔ جبکہ ریاستوں کی نوعیت اور حیثیت کے مطابق یہ معاہدے کیے جاتے رہے۔ 565 ریاستوں میں سے حیدر آباد اور کشمیر ایسی ریاستیں تھیں جو ایک آزاد و خودمختار ریاست کے قریب تھیں۔ تاریخ کے ان حوالوں کو بیان کرنے کا مقصود یہ بتانا ہے کہ برصغیر کی تقسیم کن بنیادوں پر ہوئی تھی اور اس کی عملی صورت کیا تھی۔ اس عملی صورت کے مطابق جس وقت باقی کے برصغیر میں آزادی کی دلہن سج رہی تھی تو دوسری طرف کشمیر کو نئی غلامی کے شکنجے میں جکڑنے کی سازش ہورہی تھی۔ اس سازش کا ادراک کشمیریوں نے کرلیا اور 4 اکتوبر 1947ء کو کشمیر کے رہنماؤں نے نئی صورت حال کا جائزہ لینے کے بعد ایک انقلابی فیصلہ کیا۔ اگر تقسیم ہند کے پس منظر اور تحریک پاکستان کی جدوجہد اور اس وقت کے دوسرے معروضی حالات کا جائزہ لیا جائے تو یہ توتسلیم کرنا پڑے گا کہ کشمیر کے ان رہنماؤں نے آج سے تقریباً ا کہتر برس پہلے ہی راستے کی نشاندہی کرکے سنگ بنیاد رکھ دیا تھا۔آج صورتِ حال یہ ہے کہ مقبوضہ وادی میں شہداء کی لاشوں کو دفنانا مشکل ہورہا ہے۔ وہاں آزادی کے مجاہد ہر دم بھارتی فوجیوں سے متصادم ہوکر شہادت کو گلے لگا رہے ہیں۔ سخت کرفیو میں بھی نعرہ تکبیر بلند کرتے ہوئے گلیوں میں نکل آتے ہیں۔ دوسری طرف اگر ہم وطن عزیز کا جائزہ لیں تو یہاں آزادی کشمیر کے نام پر چندہ اکٹھا کیا جارہا ہے، مگر سوال تو یہ ہے کہ یہ چندہ نہتے آزادی کی سپاہیوں کی مدد کیوں نہیں کرپاتا۔ وہاں عملی امداد کی ضرورت ہے اور یہاں بات جلسوں اور تقریروں سے آگے نہیں بڑھ پارہی۔آزادی فطرت کی پکار ہے، ہر دل کا ترانہ ہے، انسانیت کی نشوونما ہے اور اسلام دین فطرت ہے۔ اسلامی تعلیمات میں سرے سے آزادی یا شہادت کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ موجود نہیں۔ ذرا قرآن کریم کی آیت کو ملاحظہ فرمائیں جس کا ترجمہ یہ ہے: ’’ اور تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کی خاطر جان کی بازی نہیں لگاتے جنہیں کمزور پا کر دبالیا گیا ہے جو فریاد کرتے ہیں ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے بڑے ظالم ہیں اور اپنے حضور سے ہمارا کوئی حامی اور مددگار پیدا کردے۔‘‘ کیا یہ آیت آزاد کشمیر اور پاکستان کے مسلمانوں پہ پوری طرح منطبق نہیں؟ قرآن پکار پکار کر کہہ رہا ہے کہ اے آزاد کشمیر اور پاکستان کے مسلمانوں تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں، عورتوں اور بچوں کے لیے نہیں لڑتے (جو کمزور پاکر دبالیے گئے ہیں)۔ مردوں، عورتوں اور بچوں کا اشارہ مقبوضہ کشمیر میں بسنے والے مرد، عورتیں اور بچے ہوسکتے ہیں جنہیں بھارتی سامراج نے کمزور سمجھ کر دبا رکھا ہے۔ وہ فریاد کررہے ہیں۔ یہ فریاد وہ پاکستانی موقع پرست سیاست دانوں سے نہیں کررہے بلکہ اس ذات باری سے کررہے ہیں کہ اے ہمارے رب ہمیں اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں۔ یہ بستی بھارت ہے، جس میں بسنے والے ہندو انتہائی ظالم و جابر ہیں۔


ای پیپر