فوٹو بشکریہ فیس بک
03 فروری 2019 (12:36) 2019-02-03

لاہور: سابق وزیراعظم میاں محمد نواز شریف کوٹ لکھپت جیل سے سروسز ہسپتال منتقل۔ جہاں ان کو وی وی آئی پی کمرہ دے دیا گیا، جسے سب جیل قرار دیا گیا ہے۔

سابق وزیر اعظم کے بلڈ پریشر، شوگر اور یورین ٹیسٹ کیے گئے۔ مزید ٹیسٹ آج کیے جائیں گے۔ طبی معائنے کیلئے پرنسپل سمز کی سربراہی میں میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا۔

طبی معائنے کیلئے چوتھا اسپیشل میڈیکل بورڈ بھی تشکیل دے دیا گیا۔ سمز کے پرنسپل کے مطابق ضرورت ہوئی تو پی آئی سی سے کارڈیالوجسٹ کو بھی طلب کیا جاسکتا ہے۔

ادھر شریف خاندان نے نواز شریف کی صحت کے حوالے سے لاعلمی کا اظہار کردیا۔ حمزہ شہباز نے نواز شریف کی صحت بارے میں کوئی خبر نہ ملنے پر تشویش کا اظہار کیا۔ حکومت نے ہمیں علم میں لائے بغیر والد کو ہسپتال داخل کرایا، مریم نواز نے بھی ٹویٹ میں لاعلمی کا اظہار کر دیا۔

دوسری جانب نواز شریف کی ہسپتال منتقلی پر سیاست میں ایک بار پھر این آر او کی بازگشت ہونے لگی۔ وزیر ریلوے شیخ رشید نے ڈیل کے بجائے ڈھیل ملنے کا اشارہ دے دیا۔ عمران خان کبھی بھی این آر او نہیں کرے گا، معاون خصوصی افتخار درانی نے بھی واشگاف الفاظ میں بتا دیا۔

سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے بھی واضح کر دیا نواز شریف نے نہ کبھی این آرو مانگا، نہ مانگیں گے۔


ای پیپر