Evidence, Indian terrorism, international community, Major General Babar Iftikhar
03 دسمبر 2020 (15:47) 2020-12-03

اسلام آباد: ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت 5 اگست 2019 کے بعد سے ہی کمزور پوزیشن پر ہے۔ پاکستان دہشت گردی میں بھارت کے ملوث ہونے کے ثبوت سامنے لایا، ڈوزیئر کے بعد پاکستان کا دیرینہ مؤقف عالمی برادری پر ثابت ہوا۔

ایک انٹرویو میں میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارتی دہشت گردی کے ثبوتوں کو عالمی برادری نے سنجیدہ لیا، ڈوزیئر کے بعد دنیا بھارتی اسپانسرڈ دہشت گردی پر بات کر رہی ہے۔ عالمی فورمز اور ذرائع ابلاغ پر بحث چل نکلی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فارن آفس نے ڈوزیئر کو پی فائیو میں پیش کیا، ڈوزیئر اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو پیش کیا گیا۔ آپ نے دیکھا او آئی سی فورم سے تازہ اعلامیہ سامنے آیا۔

انٹرویو کے دوران ڈی جی آئی ایس پی آر سے پوچھا گیا کہ کیا ڈوزیئر میں بھارتی وزیراعظم کے اینٹی سی پیک سیل کی تفصیل شامل ہے اور اس خطرے کو دیکھتے ہوئے سی پیک کی سیکیورٹی کیسے یقینی بنا رہے ہیں۔ مزید پوچھا کیا بھارت کو ڈر ہے سی پیک خطے کا گیم چینجر ہے؟

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ حقیقت میں سی پیک خطے کا گیم چینجر ہی ہے، سی پیک میں پورے خطے کی کنیکٹو یٹی کی صلاحیت ہے۔ سی پیک بہت سی دہشت گردی کی سرگرمیوں کا نشانہ ہے، بھارتی سی پیک کی ٹائم لائن مکمل نہ ہونے دینے کا فیصلہ کرچکے۔ وہ سمجھتے ہیں رکاوٹیں ڈالنے سے منصوبہ کہیں نہ کہیں جا کر رکے گا۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت سی پیک کی ترقی نہیں چاہتے تو مطلب واضح ہے وہ کیا کر رہے ہیں۔ سی پیک کو نقصان پہنچانے کی ہر بھارتی سازش کو ناکام بنائیں گے۔ سی پیک منصوبے میں پورے خطے کو جوڑنے کی صلاحیت ہے۔ سی پیک پاکستان کا نہیں پورے خطے کی خوشحالی کا منصوبہ ہے۔ بھارت کی طرف سے سی پیک کو پہلے ہی سیکیورٹی خطرات کا سامنا ہے۔

میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ بھارت افغان سرزمین کو استعمال کرکے سی پیک کو نشانہ بناتا ہے، بھارت کے پاس دہشت گرد ہیں، بھارت سی پیک پر کام کرنے والی چینی افرادی قوت، مقامی لیبر کو نشانہ بناتا ہے۔ بھارت کی طرف سے سیکیورٹی خطرات کیخلاف مکمل تیاری کر رکھی ہے۔


ای پیپر