Politics, Pakistan, hereditary, monopoly, two, four families
03 دسمبر 2020 (12:37) 2020-12-03

پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) کے زیراہتمام اور پیپلز پارٹی کی میزبانی میں ملتان میں منعقدہ جلسہ عام سے ذوالفقار علی بھٹو کی نواسی، آصف زرداری اور بے نظیر بھٹو کی صاحبزادی آصفہ زرداری بھٹو کا خطاب اور میدان سیاست میں قدم رکھنے سے ایک مرتبہ پھر یہ سوال اٹھ کھڑا ہوا ہے کیا پاکستان میں سیاست موروثی اور دو چار خاندانوں کی اجارہ داری بن گئی ہے… اگر بلاول بھٹو کرونا کے مرض میں گرفتار ہو جانے کی وجہ سے ملتان نہیں آ سکے تو ان کی جگہ چھوٹی بہن پورے کرّوفر کے ساتھ کراچی سے خصوصی طیارے میں سفر کرتی ہوئی تشریف لے آئیں… اسی طرح اگر نوازشریف لندن میں مقیم ہیں اور بوجوہ پاکستان نہیں آ سکتے تو ان کے خلاء کو بیٹی مریم نواز پورا کر رہی ہیں… باپ کی متبادل بن کر سیاسی اکھاڑے میں اتر کر دھواں دھار تقریریں کرتی ہیں… مسلم لیگ (ن) کی صدارت کا منصب پہلے ہی نواز کے چھوٹے بھائی اور ان کے دور کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے پاس ہے جبکہ تیسرے درجے پر حمزہ شہباز کھڑے نظر آ رہے ہیں… تو کیا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) دونوں ملک گیر اور جمہوریت کی دعویدار جماعتوں کے اندر صاحبزادگان اور شہزادیوں کے علاوہ کوئی باصلاحیت اور تجربہ کار لیڈر نہیں جو قائدین کی جگہ لے سکے… اور کیا پاکستان کی سیاست بھٹو اور شریف خاندانوں کے گھر کی لونڈی بن کر رہ گئی ہے… کیا موروثیت اور جمہوریت ایک دوسرے سے متضاد نہیں… مخالفین اسے بڑے خاندانوں کا مافیا بھی کہتے ہیں جو پچھلی چار دہائیوں سے پاکستان کی حکومت و اقتدار پر قابض رہا ہے اور اب بھی جمہوریت کی آڑ میں اس کے حصول کے لئے برسرپیکار ہے… صرف پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) جیسی دنیادار سیاسی جماعتوں پر اکتفا نہیں پی ڈی ایم نامی اتحاد کے قائد مولانا فضل الرحمن بھی اپنی دینی جمع سیاسی تنظیم کی سربراہی کے منصب پر اس لئے فائز چلے آ رہے ہیں کہ مفتی محمود مرحوم کے بیٹے ہیں… اپنے جانشین کے طور پر بھی صاحبزادے اسد محمود کو تیار کر رہے ہیں جو اس وقت قومی اسمبلی میں ان کی جماعت کی نمائندگی کرنے والے واحد رکن ہیں… حالانکہ جمعیت علمائے اسلام جیّد علماء سے بھری پڑی ہے… مگر کسی کی مجال نہیں مولانا موصوف کے قد سے اونچا ہو کر دیکھ سکے… یہ صورت حال ہمارے جمہوری مستقبل اور ملک میں صحت مندانہ سیاست کے فروغ کے لئے سوالیہ نشان ہے… اس کے اسباب و عوامل کا جائزہ لینا وقت کی اہم ضرورت ہے…

مگر یہ معاملہ صرف پاکستان تک محدود نہیں… جسے برصغیریا آج کل کی لغت میں جنوبی ایشیا کہا جاتا ہے اس کی ایک بڑی زمینی حقیقت ہے… بھارت جو اس خطے کا آبادی و رقبے کے لحاظ سے بڑا ملک اور ہم اہل پاکستان کے ساتھ ہزار سال کی مشترک تاریخ رکھتا ہے وہاں آزادی کے بعد سے اب تک نہرو گاندھی خاندان سیاسی افق پر چھایا رہا ہے… 1947 سے 1964 تک ملک کی آزادی کے ہیرو نمبر 2 پنڈت جواہر لال نہرو سترہ برس تک تادم مرگ وزیراعظم رہے… ان کے بعد صرف ڈیڑھ پونے دو برس تک لال بہادر شاستری کو یہ عہدہ ملا جن کی 1966 میں تاشقند میں اچانک موت کے بعد اقتدار کا پکا پکایا پھل نہرو کی واحد اولاد اور بیٹی اندرا گاندھی کی گود میں آن گرا… موصوفہ اپنے پہلے دور میں 1977 تک وزیراعظم رہیں کوئی ان کے سامنے دم نہیں مار سکتا تھا… اس برس تمام مخالف جماعتوں نے آپس میں ضم ہو کر جنتا پارٹی بنائی… اندرا ایمرجنسی نافذ کرنے کی وجہ سے وقار کھو بیٹھی تھیں… انتخابات میں انہیں شکست ہوئی… مگر 1980 میں دوبارہ چنائو جیت کر آ براجمان ہوئیں… ان کا دبدبہ اور طنطنہ دیکھا نہیں جاتا تھا… تب یہ خیال عام ہوا کہ بھارت کے عوام کے اندر نہرو نام سے اس حد تک وابستگی پائی جاتی ہے کہ خاندان کو سیاسی بتکدے کی حیثیت حاصل ہو چکی ہے کوئی سر نہیں اٹھا سکتا… اندرا بہت زیادہ اناپرستی کی شکار ہو چکی تھیں یہی زعم انہیں لے بیٹھا… جون 1984 میں امرتسر کے اندر سکھوں کی مقدس ترین عبادت کا گولڈن ٹیمپل یا دربار صاحب پر فوجی یلغار کر دی اس کی پاداش میں نومبر 1984 کو اپنے سکھ باڈی گارڈ بے انت سنگھ کی گولیوں کی بوچھاڑ کی نذر ہو گئیں… ان کی موت پر بیٹے راجیو نے وزارت عظمیٰ کی گدّی سنبھال لی حالانکہ اس وقت وہ لوک سبھا کے رکن بھی نہیں تھے… 1989 میں انتخابات ہار گئے مگر کانگریس کے بلاشرکت غیرے لیڈر رہے… 1991 میں عین اس وقت جبکہ اگلے انتخابات سر پر کھڑے تھے اور یہ بات یقین کے ساتھ کہی جا رہی تھی کہ راجیو گاندھی ایک 

مرتبہ پھر وزیراعظم بن جائیں گے اچانک ریاست تامل ناڈو سے ان کے قتل کی خبر آ گئی… جون 1991کے چنائو میں کانگریس سب سے بڑی جماعت کی حیثیت سے ابھری لیکن راجیو کا بیٹا راہول عمر کے لحاظ سے بہت چھوٹا تھا اس لئے مجبوراً نرسمہا رائو کو وزیراعظم مقرر کیا گیا تاہم فیصلہ کن حیثیت راجیو کی اطالوی نژاد سونیا گاندھی کو حاصل ہو گئی… اگلے چنائو کے بعد پھر بی جے پی کے اٹل بہاری واجپائی وزیراعظم بن گئے… 2004 میں کانگریس کو ایک اور کامیابی ملی… وزارت عظمیٰ کے لئے سونیا گاندھی امیدوار تھیں… کانگریس کا ایک بڑا حلقہ ان کی حمایت میں پیش پیش تھا… مگر ان کا اطالوی نژاد ہونا آڑے آیا… متعصب ہندوئوں نے اعتراض جڑ دیا… مجبوراً سورن سنگھ کو عہدے پر لا کر بٹھانا پڑا… مگر سارے عرصے کے دوران حکم سونیا کا چلتا تھا اس لئے کہ نہرو گاندھی خاندان کی بہو ہیں اور مہارانی کا درجہ رکھتی ہیں… اب اگرچہ بی جے پی 2014 سے دوبارہ برسراقتدار ہے… نریندر مودی طاقتور وزیراعظم ہیں 2019 کا چنائو بھی جیت چکے ہیں… لیکن ان کے متبادل کے طور پر نہرو گاندھی خاندان کے چشم و چراغ راہول گاندھی اسی طرح اپنے موقعے کے انتظار میں کھڑے ہیں جس طرح پاکستان میں مریم نواز اور بلاول زرداری بھٹو ہیں… جنوبی ایشیا کا تیسرا بڑا اور پاکستان سے علیحدہ ہونے والا ملک بنگلہ دیش ہے… جس کے بانی شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد آمرانہ اختیارات کے ساتھ وزیراعظم بنی بیٹھی ہیں… مرضی کے انتخابات کراتی اور جیتتی ہیں… مقابلے میں نام نہاد آزادی کے ایک اور ہیرو اور سابق صدر جنرل ضیاء الرحمن کی بیوہ خالدہ ضیاء ہیں جنہیں حسینہ واجد نے سیاسی خوف کی بنا پر جیل میں ڈال رکھا ہے… یعنی بنگلہ دیش کی دونوں بڑی لیڈر بھی خواتین اور سیاسی مورثیت کی علامت ہیں… مذہبی گدّی نشینی کی طرف لوٹ آیئے باپ کی جگہ بیٹے کو اگلے مرشد اور پیشوا کی دستار پہنا دی جاتی ہے… تقریباً تمام دارالعلوموں کا بھی یہی حال ہے… بات لمبی ہو جائے گی… تازہ ترین مثال مولانا خادم حسین رضوی ہیں… جن کا کئی ریکارڈ توڑ دینے والا جنازہ ہوا… وارث ان کا بیٹا بنا ہے… جس کے بارے میں بتایا جاتا ہے عالم دین ہے نہ حافظ قرآن… لوگ نشے کی باتیں بھی کرتے ہیں لیکن باپ کی جگہ اسی نے سنبھالنی تھی… سو جبہ و دستار زیب تن کئے بیٹھا ہے… ہمارے یہاں کی بڑی دینی جماعتوں میں مفکر اسلام مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودی کی جماعت اسلامی اور بیسویں صدی کے سب سے بڑے مبلغ اسلام مولانا محمد الیاس دہلوی کی مشہور و معروف تبلیغی جماعت البتہ ایسی دو بڑی اور اپنی اپنی جگہ عہد ساز تنظیمیں ایسی ہیں جن کے یہاں موروثیت ہرگز رواج نہیں پا سکی… اس میں بہت کچھ دخل مولانا مودودی کی دور جدید کے دماغوں کو متاثر کرنے والی اسلامی انقلابی فکر اور مولانا محمد الیاس کی بے لوث اور تبلیغ کے مشن کو پوری دنیا میں پھیلا دینے کا جذبہ پیچھے چھوڑ جانے والی شخصیت کو حاصل ہے…

پاکستان کے اندر سیاسی موروثیت ہرگز جڑیں نہ پکڑتی اگر اس ملک کی آدھی تاریخ کو مارشل لائی عفریت ڈنگ مار کر زہر آلود نہ کرتا… مملکت خداداد کے بانی قائداعظم محمد علی جناحؒ کا سیاسی وارث مرحوم کی بیٹی کی بجائے قیام پاکستان کی جدوجہد میں ان کے دست راست لیاقت علی خان قرار پائے… انہیں قتل کر دیا گیا تو دو بیٹے موجود تھے… اب تک شاید بقید حیات ہیں… کسی نے باپ کی سیاسی جانشینی کا دعویٰ نہیں کیا… ان کے بعد خواجہ ناظم الدین اور پھر حسین شہید سہروردی وزیراعظم بنے… سہروردی بڑے قد کاٹھ کے لیڈر اور اکثریتی صوبے مشرقی پاکستان میں بہت مقبول اور مغربی حصے میں جاندار سیاستدان کی حیثیت سے جانے جاتے تھے… ان کی بیٹی مگر باپ کی مسند کی دعویدار نہ بنیں… یہ تو بدقسمتی سے جنرل ایوب کا دس سالہ مارشل لا آیا اور ردعمل میں اس کی کوکھ سے ذوالفقار علی بھٹو سول سیاستدان بن کر ابھرے… 1970کا پہلا عام انتخاب شیخ مجیب کی طرح اپنے نام کیا… بچے کھچے پاکستان کے وزیراعظم بنے… بلاشبہ زوردار عوامی شخصیت تھی… ایٹمی پروگرام کا آغاز کیا… بہت سے متنازع فیصلے بھی کئے تاہم 1977 کے انتخابات میں انتخابی دھاندلیوں کے الزامات نے ان کے سیاسی وقار کو بری طرح متاثر کیا… زندہ رہتے تو زیادہ سے زیادہ ایک یا دو انتخابات کی مار تھے مگر تیسرے مارشل لاء نے انہیں بالواسطہ قتل میں ملوث ہونے کے الزام میں سپریم کورٹ کے منقسم فیصلے کے تحت تختہ دار پر لٹکا کر مرحوم کے نام کو زندہ جاوید کر دیا… خاندان اور پارٹی کو ایک شہید مل گیا… بھٹو کی بیٹی بے نظیر سیاسی وارث بنیں… پارٹی میں جو بھی اختلاف کی راہ پر چلا یا باغی ہوا اپنی سیاسی قبر کھودنے کا باعث بنا… دو مرتبہ باپ کے نام پر وزیراعظم بنیں… پھر عین چوراہے پر وہ بھی سفاک قاتلوں کے عتاب کا نشانہ بنیں… پی پی پی والوں کو دوسرا شہید مل گیا… اس نہ ختم ہونے والی جذباتی فضا میں بلاول نانے اور ماں کی سیاسی وراثت کا تمغہ سجائے پاکستان کے سیاسی افق پر چھایا ہوا ہے تو تعجب کس بات کا… اسی طرح کے حالات بلکہ کئی مبصرین کے نزدیک فوج والوں کی خفیہ کاری کے سبب ایک مرتبہ نوازشریف کو وزیراعظم بنا دیا گیا… پھر وہ اپنے پیروں پر کھڑا ہوگیا… اقتدار کے مالکوں نے برطرف کر دیا… اس نے چیلنج قبول کیا… دوسری مرتبہ اپنی عوامی طاقت کے بل بوتے پر وزیراعظم بنا… بھارت کے جواب میں ایٹمی دھماکے کر ڈالے پاکستان کے دفاع کو ناقابل تسخیر بنایا… موٹروے جیسے ترقیاتی کاموں کی داغ بیل ڈالی مگر چوتھے فوجی ڈکٹیٹر نے شب خون مار کر پھر نکال باہر پھینکا… نواز جدہ جا بیٹھا… پاکستان میں اس کے نام کا سیاسی سکہ رائج الوقت ہوا… واپس آ کر تیسری بار وزیراعظم بنا… چین کے ساتھ سی پیک جیسے خطے کا سٹرٹیجک اور اقتصادی نقشہ بدل کر رکھنے والے منصوبے کا آغاز کیا… مگر غیرآئینی قوتوں نے اقامہ جیسے بھونڈے الزام کے تحت اس مرتبہ بھی آئینی مدت پوری کرنے نہ دی… نوازشریف کا نام ہماری سیاسی سرزمین پر ایسا ثبت ہوا ہے کہ مٹائے نہیں مٹ رہا… حالانکہ اگر برطرف نہ کیا جاتا تو اگلے ایک دو انتخابات کی نذر ہو جاتا… آج وہ دوبارہ جلاوطن ہے… جہاں سے اس کی للکار جاری ہے… بیٹی مریم باپ کی جگہ ملک کے اندر ایک کے بعد دوسرا جلسہ کرتی ہے… بڑے عوامی مجمعوں سے خطاب کرتی ہے… کامیاب مقرر کہلاتی ہے… اگر بار بار کے مارشل لائوں اور نہ ختم ہونے والی فوجی حکمرانی نے ہماری سیاسی فضا کو آلودہ نہ کر رکھا ہوتا اور دریا کو فطری بہائو پر بہنے نہ دیا ہوتا تو پاکستان 


ای پیپر