Similarities, PPP, Nokia Mobile, Company
03 دسمبر 2020 (12:27) 2020-12-03

پاکستان پیپلزپارٹی جب 1967ء میں قائم ہوئی تو پارٹی کو شاید خود یقین نہیں تھا کہ یہ صرف تین سال کے عرصے میں ملک کی سب سے بڑی مقبول عام پارٹی بن کر ابھرے گی اور اقتدار حاصل کرے گی۔ 1967ء کے بعد پارٹی کو سب سے بڑا سر پرائز 2013ء میں ملا جب سندھ کے علاوہ ملک سے پارٹی کا صفایا ہو گیا یہ سرپرائز بڑی دل شکنی تھی اور پارٹی آج تک اس زخم کا علاج نہیں کر سکی۔ البتہ ملک کے قومی سیاسی افق پر پارٹی پر محیط گہرے بادلوں کی شدت میں ہلکی سی کمی آئی ہے اور اس تبدیلی کی وجہ بلاول بھٹو زرداری کی اپنی شخصیت ہے چونکہ ابھی تک آصف زرداری پارٹی فیصلہ سازی میں پس منظر میں موجود ہیں اس لیے پارٹی کے بارے میں عوامی رائے عامہ میں تبدیلی کی رفتار مدھم ہے۔ 

بے نظیر بھٹو کو یہ کریڈٹ جاتا ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد انہوں نے پارٹی کو شہرت کو ان بلندیوں پر پہنچا دیا جہاں وہ اپنے والد سے بڑی لیڈر بن کر ابھری لیکن ہر عروج کو زوال ہے وہ مرتے مرتے بھی پارٹی کو وفاق میں ایک بار پھر اقتدار تک پہنچا گئیں جس کے بعد آج تک پارٹی اپنا کھویا ہوا مقام حاصل کرنے کے لیے سرگرداں ہے۔ 

بلاول بھٹو زرداری نے اپنی انفرادی مقناطیسیت کے بل بوتے پر گلگت بلتستان الیکشن میں 2 سیٹیں لی ہیں اس کے علاوہ ایک سیٹ وہ محض 2 ووٹ سے ہارے ہیں جبکہ ان کی پارٹی انتخابات میں دھاندلی کے وسیع الزامات لگا رہی ہے۔ مگر جب تک پارٹی پنجاب اور KP میں کارکردگی نہیں دکھائے گی اس کی بقا کا سوال موجود رہے گا۔ 

یہ ایک پراگریسیو لبرل اور بائیں بازو کی پارٹی تھی جو سٹیٹس کو کے خاتمے اور انقلابی سیاست پر یقین رکھتی تھی جو ملک میں مذہبی شدت پسندی کے خلاف تھی اور اس کی سب سے خاص بات یہ تھی کہ یہ اسٹیبلشمنٹ کے خلاف ایک دیوار تھی ذوالفقار علی بھٹو اور بے نظیر بھٹو کے ادوار میںپارٹی نے انہی خطوط پر انتخابات میں کامیابیاں حاصل کیں مگر 2007ء میں بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی کی باگ ڈور آصف زرداری کے ہاتھ میں آئی تو پارٹی یکسر تبدیل ہو گئی۔ پرانے پارٹی لیڈر یا تو فوت ہو گئے جو بچ گئے ان میں کچھ پارٹی چھوڑ گئے جو باقی بچے انہوں نے پارٹی قیادت سے مفاہمت کا راستہ اختیار کیا اور یوں پارٹی میں زوال کا عمل مکمل ہو گیا۔ آصف زرداری نے ہر سٹیک ہولڈر کے ساتھ سمجھوتے کیے۔ دو سمجھوتے ایسے تھے جنہوں نے پارٹی کو غرق کرنے میں سب سے زیادہ نمایاں کردار ادا کیا۔ ایک تو ن لیگ کے ساتھ مفاہمت اور شراکت اقتدار کا فیصلہ تھا جس سے پنجاب میں پارٹی قیادت اور کارکنوں کے لیے منہ چھپانے کے مترادف تھا جن کی ساری سیاست ہی ن لیگ سے مخالفت کی بنیاد پر تھی۔ دوسرا اور اس سے بھی اہم واقعہ وہ تھا جب صدر پاکستان آصف زرداری نے اس وقت کے آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کیانی کو تین سال کی توسیع دے کر پاکستان میں ایک نئی روایت کی بنیاد رکھی جس کو پارٹی کو ڈبونے اور رہی سہی کسر پوری کرنے کے مترادف سمجھا گیا۔ 2013ء اور 2018ء کے انتخابات میں لگاتار یہ پارٹی پنجاب اور KP میں Come back نہیں کر سکی البتہ بلاول بھٹو کے منظر عام پر آنے کے بعد پارٹی میں بحالی کا سفر شروع کیا ہے مگر اس کی رفتار اب بھی بہت سست ہے۔ 

پیپلز پارٹی نے بدلے ہوئے حالات کے ساتھ اپنے آپ کو تبدیل نہیں کیا جس کا انجام وہی ہوا جو موبائل فون کی دنیا میں نوکیا کمپنی کا ہوا تھا جو اپنے وقت  میں دنیا کی سب سے بڑی موبائل کمپنی تھی مگر ان سے غلطی یہ ہوئی کہ انہوں نے عالمی مارکیٹ کے ھالات کے مطابق خود کو جدت کی طرف راغب نہیں کیا نتیجہ یہ ہوا کہ کمپنی بند ہو گئی۔ پیپلزپارٹی اس لھاظ سے خوش قسمت تھی کہ وہ سندھ میں اپنے آپ کو زندہ رکھے ہوئے ہے کیونکہ وہاں پیپلزپارٹی کے علاوہ عوام کے پاس اور کوئی چوائس ہی نہیں ہے مگر یہ کیفیت بھی زیادہ دیر تک ایسے نہیں چلے گی۔ 

پیپلزپارٹی کے come back میں ناکامی کی 2وجوہات ہیں پہلی وجہ تو یہ ہے کہ پارٹی کے پاس اپنا پروگرام نہیں وہ صرف بھٹو اور بے نظیر کا نام لیتے ہیں اور خود کو ان سے منسوب کرنے کو سب سے بڑا استحقاق سمجھتے ہیں کہ ہم چونکہ بھٹو کی نسل سے ہیں اس لیے آپ ہمیں ووٹ دیں یہ روش چھوڑنا ہو گی ۔ دوسری وجہ یہ ہے کہ سندھ میں گزشتہ 12 سال سے لگاتار پیپلزپارٹی کی حکومت ہے مگر وہاں عوام کی حالت زار ایسی ہے کہ پارٹی اقتدار کو عوامی مسائل کی وجہ قرار دیا جاتا ہے۔ 

پیپلزپارٹی جب تک پنجاب میں کارکردگی نہیں دکھائے گی اس کا دوبارہ اقتدار میں آنا ممکن نہیں پارٹی کا ایک مسئلہ یہ بھی ہے کہ اس میں نوجوان قیادت کا فقدان پایا جاتا ہے پرانی لیڈر شپ میں جو طاقتور عناصر تھے وہ پارٹی چھوڑ کر تحریک انصاف میں جا چکے ہیں ان کی خالی جگہ پر کرنے کی سنجیدہ کوشش نہیں کی گئی۔ اس کے علاوہ ایک اہم کمزوری یہ بھی ہے کہ پیپلزپارٹی کا میڈیا سیل بہت کمزور ہے خصوصاً سوشل میڈیا کے دور میں ن لیگ اور تحریک انصاف نے جس طرح سوشل میڈیا پر مورچہ بندی کر رکھی ہے پیپلزپارٹی اس دوڑ میں سب سے پیچھے ہے۔ 

پارٹی کی قومی سطح پر غیر مقبولیت کی وجہ سے عالمی اسٹیبلشمنٹ میں بھی پارٹی کو وہ اہمیت حاصل نہیں رہی جو کبھی بے نظیر کے دور میں پارٹی کا خاصہ ہوا کرتی تھی۔ بے نظیربھٹو کے دور میں امریکہ میں ہر لیول پر بے نظیر کے ذاتی رابطے ہوا کرتے تھے مگر اب وہ بات نہیں ہے۔ 

اس وقت بلاول بھٹو کو پارٹی کی بقا کا بہت بڑا چیلنج در پیش ہے۔ انہوں نے ایک دفعہ پھر پارٹی کو زیرو سے شروع کرنا ہے۔ اگر وہ پنجاب اور KP میںپارٹی کی از سر نو تنظیم سازی کرنے میں کامیاب ہو گئے تو وہ پارٹی کو دوبارہ نئی زندگی دے سکتے ہیں اس کے لیے انہیں پیپلزپارٹی کی اپنی انفرادیت کو برقرار کھنا ہو گا اگر انہوں نے 


ای پیپر