India, CPEC, Pakistan, China, Raw,
03 دسمبر 2020 (12:22) 2020-12-03

بھارت سی پیک کو سبو تاژ کرنے کے درپے ہے۔پاک چین اقتصادی راہداری منصوبہ شروع سے بھارت کو کھٹک رہا ہے اور اس کے خلاف بھارتی سازشیں آج کل عروج پر ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارت نے دعویٰ کیا ہے کہ مقبوضہ کشمیر میں پاکستان کی حمایت یافتہ تنظیم کی دہشت گردی کے ایک بڑے منصوبے کو ناکام بنایا گیا۔ من گھڑت الزامات کی بنیاد پر اس میں پاکستان کو ملوث کرنے کی کوشش کی ہے۔ جس سے پاکستان کے اس اندیشے کو تقویت ملی کہ مودی حکومت دہشت گردی کی کسی جعلی کارروائی کا ناٹک رچا کر اس کا ا لزام پاکستان پر عائد کرنے اور اسے پاکستان کے خلاف جارحیت کا جواز بنا کر سی پیک منصوبے کو سبوتاژ کرنے کی کسی بڑی کارروائی کے لئے زمین ہموار کر رہی ہے۔ چینی دفترِ خارجہ کے ترجمان لی جیان ژاؤ نے اقتصادی راہداری منصوبے کے خلاف سازشیں کرنے والوں کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا ہے کہ چین عالمی سطح پر انسدادِ دہشت گردی کے لئے پاکستان کے اقدامات کو سراہتا اور چین دہشت گردی کے خلاف پاکستان کی مدد کرتا رہے گا اور سی پیک کے خلاف سازشیں کرنے والے کو پاکستان چین مل کر جواب دیں گے۔ پاکستان اور چین اب محض دوست ہی نہیں بلکہ مستقبل کے اہم شراکت دار ہیں اور شراکت داری محض معیشت کے میدانوں تک محدود نہیں بلکہ علاقائی اور عالمی سیاست میں بھی اس کا اہم حصہ ہے۔ دونوں ملکوں کی یہ قربت اور ہم آہنگی خطے کے دیگر ملکوں کے لئے بھی ایک مثال ثابت ہوئی ہے۔ 

یہ بات کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ سی پیک کے منصوبے اس خطے کی معیشت اور ترقی کے لئے فیصلہ کن کردار ادا کریں گے، قوموں کے درمیان دوریاں کم ہوں گی اورا قوامِ عالم کے مابین فاصلے سکڑ کر معاشی روابط میں اضافہ ہو گا۔ اس طرح ناصرف بد اعتمادی کا خاتمہ ہو گا بلکہ دنیا میں مفقود ہوتے ہوئے امن میں بہتری کی صورت پیدا ہو گی لیکن بھارت اور امریکہ ایسا نہیں چاہتے وہ ان تمام شعوری کوششوں کی راہ میں روڑے اٹکا رہے ہیں۔ خطے کی بد قسمتی یہ ہے کہ گزشتہ چند عشروں سے بھارت کی معاشی حالت کے بتدریج بہتر ہوتے گراف نے اسے اب کسی حد تک منفرد بنا دیا ہے اور وہ اب خود کو ایشیا کا چیمپئن کہلوانا چاہتا ہے اور اس طاقتور کہلوانے کی دوڑ میں اسے کشمیر سے کولمبو تک کی سرحدیں ملی جلی سے نظر آتی ہیں۔ وہ چین سے بھی بارڈر پر چھیڑ خانی کر رہا ہے، اسی طرح پاکستان کو کسی نہ کسی بہانے پریشر میں رکھنا چاہتا ہے، ایک کے بعد ایک وار کرنے کی عادت اس کی خاصی پرانی ہے۔ جب کہ چین آگے بڑھنے کے لئے امریکہ کی طرح 

نہ تو جنگ مسلط کررہا ہے نہ ہی کسی کو دھمکیاں دے رہا ہے بلکہ حسنِ سلوک اور معاشی تعاون سے آگے بڑھ رہا ہے۔ چین کی بہت بڑی خواہش ہے کہ چین کی پرانی " سلک روڈ" دوبارہ زندہ کی جائے اورا س کے ذریعے جنوبی ایشیا، مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ سے رابطہ ممکن بنایا جائے۔ پرانی سلک روڈ چین کے " حین خاندان" کے دورِ حکمرنی میں 207 قبل مسیح سے سن 220 تک قائم رہی۔ اس راستے کے ذریعے کاروان وسطِ ایشیا اور جنوبی ایشیا سے مشرقِ وسطیٰ، افریقہ اور یورپ تک سفر کرتے تھے۔ اسی راستے کے ذریعے چین ایک دفعہ پھر ایشیا، افریقہ اور یورپ کو ملانا چاہتا ہے۔ رابطہ ممکن بنانے کے کے لئے چین دنیا کے 68ملکوں میں کھربوں ڈالر خرچ کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ جس سے ان ممالک میں انفراسٹرکچر کی ڈویلپمنٹ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔ انفراسٹرکچر کی ترقی سے ان ممالک کی معاشی ترقی میں انقلاب برپا ہو گا۔ لوگوں کی زندگی میں تبدیلی آئے گی، لوگوں کے آپس میں رابطے بڑھیں گے، ثقافتی ماحول پیدا ہو گا۔ ان ممالک کی ترقی کی راہیں چین سے شروع ہو کر چین میں ہی اختتام پذیر ہوں گی۔ یعنی سب کچھ چین کے کنٹرول میں ہو گا، اس طرح چین ہی دنیا کا لیڈر ہو گا۔ چین کے اس منصوبے میں پاکستان ایک بہت ہی اہم ملک ہے۔ پاکستان کی شمالی سرحد چین کے صوبہ سنکیانگ سے ملتی ہے۔ اس مقام پر یہ سرحد 15000 فٹ سے بھی زیادہ بلند ہے۔ اس مشترکہ بارڈر کی وجہ سے چین کو کوہ قراقرم اور بلوچستان کے راستے بحرِ ہند کے ساحل گوادر کی بندر گاہ تک رسائی ملی ہے جسے چین پاکستان اقتصادی راہداری کا نام دیا گیا ہے۔ سی پیک چین کی اپنی ضرورت تھی اور ہے لیکن یہ اس کی ایسی ضرورت ہے جو اس سے زیادہ پاکستان کی ضرورت بن گئی ہے۔ خراب معیشت اور قرضوں کی وجہ سے پاکستان اپنے وسائل میں اتنے بڑے پروجیکٹ کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔ یہ پاکستان کی گرتی ہوئی معیشت کے لئے ایک سہارا ثابت ہو گی جس سے بیرونی دنیا کا اعتماد بحال ہو گا اور یہاں بڑی مقدار میں بیرونی سرمایہ کاری آئے گی۔ معاشی لحاظ سے یہ ہمیں معاشی بحران سے ہمیشہ کے لئے نکالنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور ہماری معیشت کے لئے وہ بنیادیں فراہم کر سکتا ہے جس طرح کی بنیادوں پر چینی معیشت کھڑی ہے۔   

اگر یہ تمام منصوبے آرام سے مکمل ہو جاتے ہیں تو پاکستان ہر لحاظ سے ایک مضبوط  و مستحکم ملک بن کر دنیا کے سامنے آئے گا اور یہی ہر پاکستانی کی خواہش ہے۔ لیکن چین کے ساتھ قربت اور سی پیک کی وجہ سے گلگت بلتستان، بلوچستان اور خیبر پی کے جیسے علاقوں پر دشمن ملکوں نے بھی خصوصی نظریں مرکوز کر دی ہیں۔ خصوصاً بھارت مغرب کی ایما پر اس منصوبے کے راستے میں رکاوٹیں کھڑی کر رہا ہے۔ چین نے بھارت کو بھی سی پیک اور ون بیلٹ ون روڈ منصوبوں میں شمولیت کی دعوت دی تھی مگر اس نے دعوت کو قبول کرنے کی بجائے پاکستان کو اس منصوبے سے لاتعلق کرنے کی کوششیں کر رہا ہے، چین اس کو نظر انداز کر رہا ہے۔ اس منصوبے کا دوسرے ملکوں کی طرح بھارت کو بھی فائدہ ہو گا لیکن بھارت اس بات کو سمجھ نہیں رہا ہے۔ بھارت سی پیک کو خطے میں اپنی چودھراہٹ کے لئے خطرہ محسوس کر رہا ہے۔ بھارت کے سوا اس خطے کے تمام ممالک ترقی اور خوشحالی کے متمنی ہیں اور ایک دوسرے پر بالا دستی کے خواہشمند نہیں ہیں۔ یہ توقعات اس خطے کے ممالک کو ایک دوسرے کے قریب لانے اور باہمی تعاون بڑھانے کے لئے کردار ادا کرنے کی اہلیت سے سرفراز کرتی ہیں اور یہ سب چین کے تعاون اور مدد کے بغیر شائد ممکن نہیں ہے۔

بھارت جانتا ہے کہ یہ منصوبہ خاص طور پر پاکستان کے لئے بہت اہم ہے اس کی تکمیل پر پاکستان معاشی طور پر مستحکم ہو جائے گا جو کسی صورت بھی اسے قابلِ قبول نہیں ہے۔ اس منصوبے کے تحت ناصرف پاکستان میں انفراسٹرکچر تیار ہو گا بلکہ انڈسٹریل زون میں صنعتوں کے قیام سے ملک کی معیشت کو نئی زندگی ملے گی۔ سی پیک سے چینی کمپنیوں کو کاروبار اور پاکستان کو انفراسٹرکچر اور سرمایہ کاری ملی ہے۔ خصوصی اکنامک زون سے لاکھوں نوکریاںپیدا ہوں گی۔ سی پیک میں زراعت بھی ترقی کرے گی۔ دنیا کے تمام دوسرے ملکوں کی طرح پاکستان بھی چاہتا ہے کہ دنیا بھر سے سرمایہ کاری یہاں آئے۔ پاکستان کا بیرونی قرضہ اس حد تک بڑھ چکا ہے کہ معیشت پر اثر انداز ہو رہا ہے۔ پاکستان اس وقت آئی ایم ا یف کے قرض سے جو شرائط تسلیم کر چکا ہے اس کو پورا کرنے کے لئے اور معیشت کو بہتر کرنے کے لئے پیداوار بڑھانا بہت ضروری ہے سی پیک کے منصوبوں پر عملدرآمد سے صنعتی زون قائم ہونے کے بعد ملک میں پیداواری عمل میں تیزی آئے گی۔ صنعتی زونوں میں غیر ملکی سرمایہ کاری ہو گی۔ مشینری خام 


ای پیپر