Biden government, Israel, loyal friend, responsibility, US foreign policy
03 دسمبر 2020 (12:09) 2020-12-03

دائیں بازو کے اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو اب فکر کرنے کی ضرورت نہیں، کیوں کہ جو بائیڈن کے دور اقتدار میں امریکہ کی خارجہ پالیسی سنبھالنے والا شخص اسرائیل کا وفادار دوست ہے۔ بحران ٹل گیا۔ نومنتخب امریکی صدر جو بائیڈن کی طرف سے انتونی بلنکن کو اپنا سیکرٹری خارجہ نامزد کرنا ماسٹر سٹروک ہے۔ بلنکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے پرانے تجربہ کار، امریکی قیادت میں مضبوط مغربی اتحاد کے حامی اور اسرائیل کے دیرینہ و حقیقی دوست ہیں۔ بائیڈن کی طرف سے بلنکن کے انتخاب اور جیک سلیوان کا امریکہ کے اگلے قومی سلامتی کے مشیر کی حیثیت منتخب کئے جانے کا فوری مقصد اقوام عالم کو یہ پیغام دینا ہے کہ امریکہ ڈونلڈ ٹرمپ کی طرف سے اختیار کی گئی ’’سب سے پہلے امریکہ‘‘ کی پالیسی ختم کرتے ہوئے عالمی رہنما کی حیثیت سے اپنا سابقہ کردار ادا کرنے جا رہا ہے۔

اگرچہ یورپی باشندے اپنے امریکی محسن کو واپس لانے پر پُرجوش ہیں لیکن بِلنکن کی تقرری اسرائیل کو راضی کرنے کی کوشش نظر آتی ہے۔ 3 نومبر کو ہونے والے انتخابات میں ٹرمپ کی شکست واشنگٹن سے متعلق تل ابیب میں کافی اضطراب کا باعث بنی۔ اسرائیلی گھبرائے ہوئے تھے کہ ٹرمپ کا مجوزہ امن منصوبہ، جو بنیادی طور پر اسرائیل کے تمام مطالبات پورے کرنے کی کوشش تھی، سرد خانے کا شکار ہو جائے گا۔ تاہم بائیڈن انتظامیہ نیتن یاہو کے باراک اوباما کے اقتدار میں ڈیموکریٹک انتظامیہ کے مابین تناؤ کا شکار رہنے والے تعلقات سے محتاط رہنے کے لئے کوشاں ہے۔ امریکہ کے اعلیٰ سفارت کار کا کردار ادا کرنے کے لئے بلنکن کے انتخاب پر متعدد سیاق و سباق میں غور کیا جانا چاہئے۔ اول، اسرائیل کو فوری طور پر یقین دہانی کرانا کہ جو بائیڈن ٹرمپ کی پالیسی کے مطابق چلیں گے۔ دوم، اگلے سیکریٹری آف اسٹیٹ کو رخصت ہونے والے مائیک پومپیو کے مقابل اسرائیل میں گرم جوشی ملنے کی ضرورت تھی۔ اور تیسرا، ایرانی جوہری پروگرام کے مسئلہ کو انتہائی سنجیدگی کے ساتھ نمٹانا ہے۔ بائیڈن نا صرف مناسب ترین انتخاب میں کامیاب رہے بلکہ اسرائیلی بھی اس سے خوش ہیں۔ تمام مرکزی سیاسی جماعتوں کے اسرائیلی رہنماؤں نے بائیڈن کے انتخاب کی داد دی ہے اور متفقہ طور پر اعلان کیا ہے کہ بلنکن ’’اسرائیل کے لئے اچھا ہے‘‘۔

خاص طور پر نیتن یاہو کے حامی سیاستدان بلنکن کی زیرقیادت امریکی خارجہ پالیسی کے لئے خوش اور اضطراری کیفیت میں ہیں۔ اسرائیل کی وزارت خارجہ کے ڈائریکٹر جنرل کی حیثیت سے رہ چکے نیتن یاہو کے قریبی ساتھی ڈور گولڈ نے ہارٹیز کو بتایا کہ وہ بلنکن سے ’’متاثر‘‘ تھے اور اسے ’’بہترین و پیشہ ور‘‘ پایا تھا۔ اوباما انتظامیہ میں دوسرے عہدیداروں کے مشکل رویوں کے برعکس گولڈ نے بلنکن کو ’’بہت کھلا‘‘ اور ’’کسی بھی طرح اسرائیل مخالف‘‘ نہیں پایا۔ دیگر اسرائیلی بھی انہی جذبات کا اظہار کرتے ہیں، یہ اجتماعی تفہیم اس بات کی عکاس ہے کہ جو بائیڈن اپنے پیشرو کے اٹھائے گئے کسی بھی اہم اقدام کو رد نہیں کریں گے۔ سابق وزیر خارجہ ژیپی لیونی نے امریکہ اسرائیل تعلقات کے حوالے سے خوشی کا اظہار کیا ہے۔ زیادہ تر اسرائیلیوں کی طرح، ان کو بھی ٹرمپ پومپیو ٹیم کے جانے کا غم نہیں، انہیں یقین ہے کہ بائیڈن اور بلنکن بھی اسرائیل کے لئے یکساں مفید ہوں گے۔ اگرچہ اسرائیلیوں کو یقین دلایا جا رہا ہے کہ ٹرمپ کے اسرائیل نواز اقدامات میں سے کسی کے بھی رول بیک کئے جانے کا امکان نہیں لیکن فلسطینی قیادت اس سے غافل دکھائی دیتی ہے۔ فلسطینی عہدیداروں سے بات کرنے کے بعد، ٹائم میگزین نے فلسطینی اتھارٹی کی توقعات محض تکنیکی اور سفارتی حوالوں میں ہونے کا بتایا ہے، جیسے واشنگٹن میں فلسطینی مشن دوبارہ کھولنا، مشرقی یروشلم میں فلسطینیوں کے لئے نئے امریکی قونصل خانے کا قیام اور مالی اعانت کی بحالی۔ فلسطینیوں کی جانب سے اس چیلنج کی نوعیت سمجھنے سے قاصر رہنا بھی ان کی گفتگو سے ظاہر ہوا۔ اسرائیل میں عرب سیاسی اتحاد کے اہم رہنما ایمن اودیح کا خیال ہے کہ بائیڈن ٹرمپ کے امن منصوبے کو ’’سرد خانے میں‘‘ رکھیں گے۔ اگرچہ یہ سچ ہے کہ بائیڈن ٹرمپ کی تفریق پر مبنی کسی سوچ پر عمل نہیں کریں گے لیکن وہ یقینی طور پر اپنے پیشرو کے امن منصوبے کی روح کو زندہ رکھیں گے۔ ٹرمپ امن منصوبہ امریکہ کے مخصوص مفادات پر مشتمل ہے جس کا مقصد مشرقی یروشلم، مغربی کنارے اور گولن کی پہاڑیوں پر اسرائیل کے غیر قانونی دعوؤں کی توثیق کرنا اور ساتھ ہی عرب ممالک سے تعلقات کو معمول پر رکھنا ہے۔ ان میں سے کسی کے بدلے جانے کا امکان نہیں، چاہے ٹرمپ کی اصطلاحات میں سے باقی سب کچھ ختم ہو جائے۔

اس سب کے باوجود تل ابیب اور واشنگٹن کے مابین مستقبل میں تصادم کے امکان کو مکمل طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ تاہم، اگر اختلاف رائے پیدا ہو جاتا ہے تو، یہ فلسطین میں اسرائیل کی غیر قانونی کارروائیوں کا خاتمہ نہیں ہو گا بلکہ امکان یہ ہے کہ امریکہ ایران کے ساتھ اپنے جوہری معاہدے کے بارے میں بات چیت کا دوبارہ آغاز کرے گا۔

ایران پر، نیتن یاہو کا بائیڈن کے لئے پیغام فیصلہ کن اور غیر منطقی تھا۔ 22 نومبر کو اسرائیلی وزیر اعظم نے متنبہ کیا کہ ’’پچھلے جوہری معاہدے پر واپس جانے کی بات نہیں ہو سکتی۔‘‘ اس انتباہ کو ذہن میں رکھتے ہوئے، بلنکن کے لئے اسرائیلی خدشات پر قابو پانا بہت مشکل ہو گا کہ ایران کے ساتھ بات چیت میں تل ابیب کو نظر انداز کر دیا جائے۔ اسرائیل کے بارے میں امریکی یقین دہانیوں کا دباؤ مکمل طور پر فلسطینیوں کی گردن پر آیا ہے، جیسا کہ غیر قانونی بستیوں کو توسیع دینے میں آزادی، جدید اسلحہ اور اقوام متحدہ میں غیر مشروط امریکی مدد۔

صرف اقتدار پر براجمان شخص کی تبدیلی کے علاوہ بائیڈن کی اسرائیل پالیسی ٹرمپ کا تسلسل ہی ثابت ہو گی۔ یہ افسوسناک ہے کہ فلسطینی قیادت مسئلہ کی سنجیدگی سمجھنے سے قاصر ہے اور اس کے بجائے امریکہ کی طرف سے اسرائیل کے معاملات 


ای پیپر