Main problems, moral, spiritual crisis, Quran
03 دسمبر 2020 (11:51) 2020-12-03

ابو ہریرہؓ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اُس شخص کے لیے ذلت ہے، اُس شخص کے لیے ذلت  ہے، اُس شخص کے لیے ذلت ہے۔ لوگوں نے پوچھا: کس کے لیے، یا رسول اللہ؟ فرمایا، جس کے ماں باپ یا اُن میں سے کوئی ایک اُس کے بڑھاپے کو پہنچا اور وہ اِس کے باوجود جنت میں داخل نہ ہوسکا۔ (مسلم ، رقم 6510)۔

ابن مسعودؓ کی روایت ہے کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اللہ تعالیٰ کو کون ساعمل سب سے زیادہ پسند ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: وقت پر نماز پڑھنا۔ میں نے پوچھا : اس کے بعد؟ فرمایا والدین کے ساتھ اچھا برتائو۔ (بخاری، رقم 527, ۔مسلم ، رقم 252) 

ابو الدردءؓ کہتے ہیں کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے سنا کہ جنت کا بہترین دروازہ باپ ہے، اِ س لیے چاہوتو اُسے ضائع کرو اور چاہو تواُس کی حفاظت کرو۔ (ترمذی، رقم 1900)۔ 

عصرِ حاضر کا ایک بنیادی مسئلہ اخلاقی اور روحانی بحران ہے جو مغربی تہذیب میں پروان چڑھا اور اب مشرق کو پراگندہ کررہا ہے۔ مفکر و دانشور الطاف جاوید مرحوم اس بحران کی وجہ صنعتی سرمایہ داری نظام کا اجارہ دار سرمایہ داری اور سامراج کی شکل اختیار کرنا، قرار دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ ہی سبب ہے کہ انسانی شعور اور نفسیات میں بیگانگی کے عمل کے تخریبی اثرات  نے معاشرے کو متاثر کیا ہے۔اس موضوع کو انہوں نے اپنی کتاب ’’ فلسفہ ء بیگانگی اور قرآن ‘‘ میں نہایت تفصیل کے ساتھ بیان کیاہے اور فلسفہ ء بیگانگی کے تاریخی پس منظر سے آغاز کرتے ہوئے ، دولت کی پیدائش، تجارتی انقلاب، محنت اور صنعتی انقلاب ، مارٹن لوتھر کی تحریک پر بات کرتے ہوئے بحث کا اختتام انقلاب مکہ پر کرتے ہیں کرتے ہیں کہ انسان کی فلاح اور نجات کے لیے انقلاب مکہ سے بہتر اور کیا سبق ہوسکتا ہے۔ 

پاکستان ایسے معاشرے میں جہاں اسلامی معلومات سے آگاہی اورتعلیم کا سلسلہ گھر ہی سے شروع ہوتا ہے اور اعلیٰ تعلیم تک کسی نہ شکل میں جاری 

رہتا ہے۔ نمازِ جمعہ کے خطبات میں اور مختلف مواقع پر مذہبی واعظ بھی تواتر کے ساتھ والدین اور اعزہ و اقربا کے ساتھ حُسنِ سلوک اور ان کے حقوق کی یاد دہانی کراتے رہتے ہیں۔ ایسے معاشرے میں جہاں درج کی گئی احادیثِ مبارکہ سنتے ہوئے جوان ہونے والے بچوں کے بارے میں یہ گمان کسی درجے میں بھی نہیں کیا جاسکتا تھا کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ بد سلوکی کریں گے یا اُنھیں گھروں سے بے دخل کردیں گے۔لیکن افسوس صد افسوس کہ ایسے لاتعداد واقعات کا مشاہدہ ہمیں ذاتی طور پر بھی ہوتا ہے اور پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کے ذریعے بھی ایسے واقعات منظرِ عام پر آتے ہیں، کہ اولاد شادی کے بعد، جسے ہمارے یہاں عُرفِ عام میں ’’نئی زندگی کا آغاز‘‘ بھی کہتے ہیں، یا جائیداد کے لالچ یا پھر پیرانہ سالی میں اُ ن کی خدمت کی مشقت سے بچنے کے لیے انھیں گھروں سے بے دخل کرکے رفاہی اداروں میں داخل کرا دیتے ہیں۔ ایک صاحب جن سے ذاتی تعلقات ہیں وہ اکثر ایک معقول ترین مشاہرہ لینے کے باوجود چہرے پر پریشانی طاری کئے ہوئے بتایا کرتے کہ یار! اّباکا فون آتا ہے تو ڈر جاتا ہوں کہ کہیں پیسے نہ مانگ لیں، یہ اُس باپ کے بارے میں اُس کے فرزندِ ارجمند کے خیالات تھے جس نے اپنے خون پسینے کی کمائی اور اپنی ذاتی خواہشوں کا گلا گھونٹ کر اسے تعلیم کے زیور سے آراستہ کیا تھا۔  ایک ایسے سپوت سے بھی خوب واقفیت ہے جس نے ہوش سنبھالتے ہی والدین کی وفات تک ان کا جینا دو بھر رکھا۔ شادی کے بعد بیوی کو پیارا ہو گیا۔ والدین اور خاندان کے کسی غم میں شریک ہوا نہ خوشی میں، باپ کا بازو بنا نہ ماں کا فخر ، بھائیوں کا کبھی ہاتھ تھاما نہ بہنوں کے سر پر چادر دینے کی توفیق ملی۔ حتیٰ کہ باپ کے جنازے میں بھی شرکت فقط رسم نبھانے کے لیے کی اور جب خود کسی کام کے نہ رہے اور والدین کی خدمت کا وقت بھی نکل گیا تو اب اُن کی یاد میں صبح و شام سوائے ٹسوے بہانے کے موصوف کو کوئی اور کام نہیں۔ تنخواہوں کا والدین سے مخفی رکھنا عام رویہ ہے ۔ یہ بھی مشاہدہ ہے کہ ’’نئی زندگی‘‘ کے آغاز کے بعد والدین سے علیحدگی اختیار کرلی جاتی ، اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ اُنھیں گزر بسر کے لیے ایک معقول رقم کی ضرورت ہوگی،  ایک معمولی سی رقم بطور خیرات والدین کو دے دی جاتی ہے ۔ اگر والدین اہل ثروت ہوں تو پھر ان کی زندگیوں ہی میں جائیداد کے بٹوارے پر تنازعات کا آغاز ہوجاتا ہے۔ اسلام آباد ہی ایک پوش ایریا میں رات گیارہ بجے ایک اعلیٰ عہدیدار کو ایک خاتون کی فون کال موصول ہوئی ۔ خاتون ان کی صاحبزادی کی ٹیچر تھیں اور اسلام آباد کے ایک تھانے سے فون کرکے مدد کی درخواست کر رہی تھیں۔ واقعہ یہ تھا کہ ٹیچر کو اُن کے بچوں نے مار کر گھر سے نکال دیا تھا اور پولیس میں رپورٹ بھی درج کرا دی۔ قصور ان کا یہ تھا کہ وہ مکان کی فروخت کے معاہدے پر دستخط کرنے سے انکاری تھیں۔ اس طرح کے واقعات بیان کرنے لگوں تو نہ جانے کتنے کالم بن جائیں۔   

ایسے ہی واقعات کی روک تھام کے لیے وفاقی حکومت نے باقاعدہ قانون نافذ کرنے کا فیصلہ کیا ہے جو ایک قابلِ ستائش عمل ہے۔مجوزہ مسودے کے مطابق والد اپنے ملکیتی مکان سے بچوںاو ر اُن کی بیویوں کو 10دن میں آسان طریقہ اختیار کرکے بے دخل کرسکیں گے۔ آرڈیننس کے بعد بچے اپنے ملکیتی مکان سے بھی والدین کو بے دخل نہیں کرسکیں گے۔ترجمان وزارت قانون کے مطابق وزیر اعظم عمران خان نے والدین کے حقوق سے متعلق آرڈ یننس لانے کی منظوری دے دی ہے اور وزیر ِ قانون کو جلد آرڈیننس کا مسودہ تیار کرنے کی ہدایت کی ہے۔ یقینا  اس آرڈیننس کو فیضؔ کے الفاظ میں ’’ روشن کہیں بہار کے امکاں ہوئے تو ہیں‘‘  کہا جاسکتا ہے۔ اس قانون میں یہ بھی اضافہ کیا جانا چاہیے کہ جس طرح اولاد کو والدین کی آمدن اور جائیداد میں حصہ ملتا ہے اسی طرح بوڑھے والدین کو بھی اولاد کی آمدن کے تناسب سے مناسب حصہ ملنا چاہیے تاکہ ان کی گزر بسر آسانی سے ہوسکے۔

اس آرڈیننس کو مؤثر بنانے کے لیے ضروری ہے کہ ذرائع ابلاغ پر اس کی بھرپور طریقے سے 


ای پیپر