آپاشمیم اختر!
03 دسمبر 2020 2020-12-03

شریف خاندان کی ”چھاﺅں“آپا شمیم اختر بھی دنیا سے رخصت ہوگئیں، وہ اپنی زندگی کے آخری دنوں میں لندن میں اپنے صاحبزادے نواز شریف کے پاس تھیں، میں سوچ رہا تھا والدین اپنی اولاد کے لیے ہمیشہ آسانیاں ہی آسانیاں پیدا کرتے ہیں، آپا شمیم اخترنے آخری آسانی اپنے بڑے بیٹے نواز شریف کے لیے یہ پیدا کی نواز شریف اپنے علاج کے لیے چند ماہ پہلے لندن گئے وہ اِس کے باوجود اُن کے پاس لندن چلی گئیں کہ اپنی عمرکا آخری حصہ وہ پاکستان میں گزارنا چاہتی تھیں، ممکن ہے وہ یہ سوچ کر نہ چاہتے ہوئے بھی نواز شریف کے پاس چلی گئی ہوں کہ پاکستان میں اگر اُن کی وفات ہوگئی اُن کے صاحبزادے نواز شریف پاکستان آمد کے حوالے سے مزید آزمائش کا شکار ہوجائیں گے، ظاہر ہے یہاں اُن کے خلاف کئی مقدمات عدالتوں میں زیرالتواءہیں، حکمران اور ادارے اُن کے بدترین مخالف ہیں، اِن حالات میں والدہ کی وفات پر پاکستان آنے کے حوالے سے وہ یقیناً آزمائش کا شکار ہوسکتے تھے، .... بے شمار لوگوں کو یہ معلوم نہیں تھا آپا شمیم اختر اپنے صاحبزادے کے پاس لندن میں ہیں، چنانچہ اُن کے انتقال کی خبر آنے پر بے شمار لوگ یہ سوچنے لگے اُن کے آخری دیدار یا آخری رسومات میں شمولیت کے لیے نواز شریف پاکستان آنے کا فیصلہ کریں گے یا نہیں؟، بعد میں پتہ چلا آپا شمیم اختر اُن کے پاس لندن میں ہی تھیں، میں والدین کی طرف سے اپنی اولاد کے لیے ہمیشہ آسانیاں پیدا کرنے کی بات کررہا ہوں اِس حوالے سے ایک واقعہ مجھے بھی اپنی والدہ محترمہ کا یاد آگیا، یہ کسی ماں کی اپنی اولاد کے ساتھ محبت کی انتہا کا واقعہ ہے، 2011ءمیں میری والدہ اچانک ہارٹ فیل ہونے پر انتقال فرما گئی تھیں، میری بڑی بہن جب یہ خبر سُن کر میرے گھر پہنچی ، کچھ دیر میت کے پاس بیٹھ کر اُنہوں نے مجھے اپنے پاس بُلایا ، اُنہوں نے مجھے ایک بند لفافہ دیا اور کہا یہ بند لفافہ امی نے ایک ہفتہ پہلے مجھے دیا تھا اور کہا تھا جس روز یا جس وقت تمہیں میرے مرنے کی اطلاع ملے یہ بند لفافہ میں تمہیں دے دوں.... میں نے بڑی بہن سے پوچھا ”اِس میں کیا ہے؟“، وہ بولی ”مجھے نہیں معلوم، امی نے مجھ سے وعدہ لیا تھا یہ لفافہ تم نے کھولنا نہیں ہے“،....میں نے جب یہ لفافہ کھولا اُس میں دولاکھ روپے تھے، ساتھ اُن کے ہاتھوں سے لکھا ہوا خط تھا، اُنہوں نے لکھا تھا ”یہ تھوڑے بہت پیسے میں نے جوڑے ہوئے ہیں، مجھے نہیں معلوم کس روز میرا آخری وقت آجائے، ممکن ہے یہ چھٹی کا روز ہو، بینک بند ہوں، یہ بھی ممکن ہے تمہارے پاس اتنے پیسے نہ ہوں کہ تم میری آخری رسومات میں شرکت کے لیے آنے والے مہمانوں کی اُس شان وشوکت سے تواضع کرسکوجو تمہارے ابوجان کی روایت ہے، مجھے پتہ ہے تم نے ساری زندگی حلال کمایا ہے، ساری زندگی کسی کے آگے ہاتھ نہیں پھیلایا، یہ رقم تم میری آخری رسومات پر اُٹھنے والے اخراجات میں شامل کرلینا“ ....میں امی کی وفات کے فوراً بعد کے لمحے میں اتنا نہیں رویا تھا جتنا اُن کا یہ خط پڑھ کر رویا، موجودہ وزیراعظم عمران خان شام کو تعزیت کے لیے میرے گھر آئے، میں نے امی کا وہ خط اُنہیں پڑھایا اور امی کے وہ دولاکھ روپے شوکت خانم ہسپتال کے لیے اُنہیں دے دیئے،.... گوکہ میاں محمد شریف ایک دولت مند انسان تھے مگر آپا شمیم اختر کا تعلق ایک عام سے گھرانے سے تھا، اصل میں وہ زمانہ بڑا خوبصورت ، بہت شرم وحیا والا بہت محبت مروت اور شرافت کا زمانہ تھا، تب رشتے کسی کی حیثیت یا دولت دیکھ کر نہیں شرافت دیکھ کر طے ہوتے تھے، لڑکی یا لڑکے کا رشتہ طے کرتے ہوئے اپنے بزرگوں کوہمیشہ یہ کہتے ہوئے ہم نے سُنا”ہمیں صرف شرافت چاہیے“.... افسوس وہی شرافت اب ایک طعنہ بلکہ ایک ”گالی“ بن کر رہ گئی ہے، اب اکثر لوگ صرف اِس وجہ سے رشتے ٹھکرا دیتے ہیں کہ لڑکی والے یا لڑکے والے بہت ”شریف لوگ“ ہیں....مجھے نہیں معلوم نواز شریف اور شہباز شریف کی والدہ آپا شمیم اختر کے بزرگ یا اُن کے والدین کہاں کے رہنے والے تھے؟ مگر اُن کے ایک بھائی عبدالحمید بٹ بیڈن روڈ لاہور کے رہائشی تھے، وہ سیاست میں شرافت کی شاید اکلوتی مثال ملک معراج خالد کے ہمسایے تھے، معراج خالد پاکستان کے نگران وزیراعظم بھی رہے، اُس سے پہلے وہ وزیراعلیٰ پنجاب، وفاقی وزیر قانون، اور سپیکر قومی اسمبلی بھی رہے، پاکستان میں اخلاقی روایات سے لبالب بھرے ہوئے ایسے سیاستدان آٹے میں نمک کے برابر بھی اب نہیں ہیں، اب تو سارا ”چھان بورا“ یا کوڑا کرکٹ ہی رہ گیا ہے جس نے ہمارے سیاسی اور اخلاقی ماحول کو اتنا آلودہ کردیا ہے محبت مروت والے لوگوں کے لیے سانس لینا دشوار ہورہا ہے،.... نواز شریف کی ساری شکل وصورت، قدکاٹھ اپنے ماموں عبدالحمید بٹ جیسا ہے، بٹ صاحب کا بیڈن روڈ والا گھر بہت بڑانہیں تھا، میرے خیال میں یہ شاید چھ سات مرلے کا تین چارمنزلہ گھر ہوگا، نواز شریف اکثر اُس گھر میں آتے تھے، اُن کی والدہ آپا شمیم اختر کا زیادہ وقت بھی یہیں گزرتا، میری بڑی بہن نازلی طارق فاروق (مرحومہ) کا گھر نواز شریف کے ماموں کے گھر کے بالکل سامنے تھا، نواز شریف کی والدہ جب اپنے بھائی کے گھر آتیں بے شمار مستحق لوگ اپنی اپنی درخواستیں ہاتھ میں پکڑے وہاں پہنچ جاتے، آپا شمیم اختر اُن سب کی مشکلات بہت تحمل سے سنتیں، اُن کی مدد کرتیں، عبدالحمید بٹ شاید اُن کے اکلوتے بھائی تھے، اُنہیں اپنے اِس بھائی سے بہت محبت تھی، عمر کے آخری ایام میں جب اُن کی یادداشت چلی گئی وہ اپنے بیٹے نوازشریف کو اپنا بھائی سمجھنے لگی تھیں، اپنا بھائی سمجھ کر دیرتک وہ اُن سے باتیں کرتی رہتیں، کچھ پرانی یادیں، عزیزوں اور والدین کے ساتھ گزرے ہوئے کچھ خوشگوار واقعات جو اُن کے ذہن کے کسی گوشے میں تھے اُن کا اظہار کرتے کرتے وہ اپنے مرحوم بھائی کے پاس چلی گئیں، وہ بہت پاکیزہ بہت نیک خاتون تھیں، اُن کے میاں محمد شریف نے بھی اخلاقی کرپشن کا کوئی داغ اپنے دامن پر لگنے نہیں دیا، میاں محمد شریف پر تنقید صرف ایک حوالے سے ہوتی تھی کہ اُن کے صاحبزادگان میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف اپنے سیاسی خصوصاً حکومتی معاملات صرف اُن ہی کے مشوروں سے چلاتے ہیں، یہ کوئی ایسا بُرا حوالہ بھی نہیں تھا مگر شریف خاندان کے سیاسی مخالفین اِس ”حوالے“ کو اپنے سیاسی و دیگر مقاصد کے لیے استعمال کرنے میں کوئی حرج نہیں سمجھتے تھے، دوسری طرف یہ بھی حقیقت تھی جب تک میاں محمد شریف زندہ رہے اور تندرست رہے اُن کے دونوں صاحبزادے سیاسی وحکومتی حوالوں سے بہت کم مشکلات کا شکار ہوئے، اندر کی باتیں تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے پر کبھی کبھی مجھے احساس ہوتا ہے جنرل مشرف کو ہٹانے کے فیصلے میں میاں محمدشریف کی مشاورت شاید شامل نہ ہو، البتہ میں یہ بات کہنے کا تصور بھی نہیں کرسکتا کہ اُن کے والد نے اُنہیں جنرل مشرف سے پنگا نہ لینے کا حکم دیا ہو اور اُنہوں نے اپنے والد کے اِس حکم کو نظرانداز کردیاہو، یہ حقیقت ہے والدین کی خدمت اور اُن کے ساتھ محبت کا جوحق جس انداز میں میاں محمد نواز شریف، میاں محمد عباس شریف اورمیاں محمد شہباز شریف نے ادا کرنے کی کوشش کی، ایسی توفیق اللہ سب اولادوں کو دے، کچھ لوگوں کو خدشہ ہے ماں کی وفات کے بعد میاں محمد نواز شریف اور میاں محمد شہباز شریف میں شاید وہ محبت یا سلوک اتفاق نہ رہے جو ماں کی موجودگی میں تھا، جتنا میں اس خاندان کو جانتا ہوں اور جس انداز میں دونوں بھائیوں کی والدین نے تربیت کی ہے میرے خیال میں یہ کچھ لوگوں کی تمنا ہوسکتی ہے حقیقت نہیں ہوسکتی.... دعا ہے اللہ مرحومہ کے درجات بلند فرمائے!!


ای پیپر