مسلمان بزدل بھی ہوسکتا ہے، اور چور بھی .... 
03 دسمبر 2020 2020-12-03

 قارئین کرام، یہ الفاظ میرے نہیں، بلکہ خاتم النبیین حضرت محمد مصطفیٰ کے ہیں، کہ مسلمان بزدل ہوسکتا ہے، اور تاریخ اسلامیہ میں اگرچہ بہت ہی کم ایسے واقعات ہوئے ہیں ، تاہم اس کی مثال دی جاسکتی ہے، دورمت جائیے، ماضی قریب میں سقوط پاکستان کا ایک ایسا دل سوز اور جاں فگار المیہ رونا ہوچکا ہے ،کہ تاریخ عالم میں بھی اس کی مثال نہیں ملتی، کہ جنرل عبداللہ خان نیازی نے 80لاکھ جوانوں کے ساتھ اپنے ہتھیار دشمن کے قدموں میں ڈھیر کردیئے، حالانکہ اُنہیں ہتھیاروں کو پھینکنے کے بجائے، اپنے اس ضمیر پہ استعمال کرکے تاریخ میں اپنا نام رقم کردیتے، مگر وہ غازی یا شہید کا نصب العین بھول کر ”بلیک بیوٹی“ کے شیطانی نعرے لگاکر اپنے جوانوں کو بھی اکسانے لگا اور پھر بنگالیوں کے دلوں میں نفرت وانتقام کا ایسا الاﺅ بھڑکنے لگا، کہ پون صدی کے پاکستان میں وہ بجھنے کا نام ہی نہیں لیتا اور ابھی تک جماعت اسلامی کے محب الوطن جانبازوں کو پھانسی کی صورت میں جان کی بازی ہارنی پڑتی ہے، مگر حسینہ واجد کا غصہ ہے کہ وہ تھمنے کا نام ہی نہیں لیتا، اور باپ کے قتل کا بدلہ کروڑوں عوام سے لینا چاہتی ہے اگرچہ یہ تصویر کا ایک رخ ہے، دوسرا رخ اگر دکھانے کی کوشش کی تو شاید مجھے اس کی اجازت ، نہ میرے ہم وطن دیں گے، اور نہ میرے ہم وطنو کہنے والے دیں گے، کیونکہ ایسا حق اور ایسا سچ شاید کلمہ حق لکھنے والے عالمی مو¿رخین ہی دے سکتے ہیں۔ 

وگرنہ ہمارے ہاں تو سقوط ڈھاکہ پہ جسٹس محمودالرحمن کمیشن کی رپورٹ بھی سامنے نہیں آسکتی، کیا زندہ قومیں اپنے مفاد میں ایسے کرتی ہیں؟ ہمارے وزیراعظم یہ فرماتے ہیں کہ وہ اس معاملے میں بالکل آزاد ہیں، کیا ہم بھی آپ کی طرح محب الوطن لکھاری اس بات کا آپ سے صدق دل سے یہ مطالبہ کرسکتے ہیں، کہ نہ صرف اُس رپورٹ کو شائع کیا جائے، بلکہ اس میں نامزد کرداروں کو بھی کیفر کردار تک پہنچایا جاسکے، ایک تو اس کا یہ فائدہ ہوگا، کہ بائیس کروڑ عوام مطمئن ہوجائیں گے، بلکہ آپ کے منتقم مزاج کو بھی اس موسم سرد میں سکون پہنچے گا۔ 

حضرت بایزید بسطامیؒ کا فرمان ہے کہ جیسا تم خدا کو کل کے لیے چاہتے ہو، تم آج اس کے لیے ویسے بن جاﺅ، قارئین اسی کو تو حسن ظن کہتے ہیں اس فرمان کے ساتھ ساتھ ان کا یہ فرمان بھی تو ذہن نشین کرنا چاہیے، ”عالم“ بے عمل کی مثال ایسی ہے، جیسے اندھے کے ہاتھ میں مشعل ، لوگ اس سے روشنی حاصل کرتے ہیں، لیکن وہ خود اندھیرے میں ہوتا ہے، اسی لیے تو سید مظفر علی شاہ کہتے ہیں کہ 

بے رضی مجبوری حالات تھی 

اس لیے تو ہم گلہ دیتے ہیں 

کیسے نیر ڈھونڈ پاﺅں گا کارواں

 ریت کے ٹیلے پتہ دیتے نہیں 

موضوع کی مناسبت سے ایک اور بات میرے ذہن میں آتی ہے، جو ہمارے ہادی برحق حضور نے فرمائی ہے، کہ بعض مسلمان تو نماز میں بھی چوری کرتے ہیں، حاضرین مجلس نے عرض کی، کہ ہمارے ماں باپ آپ پر قربان، نماز میں کوئی کیا، اور کیسے چوری کرسکتا ہے؟آپ نے فرمایا کہ نماز میں چوری، حضوری قلب سے نماز نہ پڑھنے کو کہتے ہیں، کہ بظاہر تو مسلمان نماز پڑھ رہا ہوتا ہے، مگر اس کا دھیان کسی دوسری طرف ہوتا ہے، اور کن انکھیوں سے وہ اردگرد کا جائزہ لے بھی رہا ہوتا ہے، اب قارئین کرام، کیا نماز میں چوری کے ملزم میں اور آپ دونوں نہیں اپنے دل پہ ہاتھ رکھ کر بتائیں، کہ ہم نے اب تک کتنی نمازیں امام الاولیاءحضرت علی کرم اللہ وجہہ کی مطابقت کے حوالے سے پڑھی ہیں۔ ان کی ٹانگ میں پیوست تیر، جس کو نکالنے کی تدبیر کسی کی بھی سمجھ میں نہیں آتی تھی، بالآخر یہ فیصلہ کیا گیا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ نماز اس قدر انہماک اور حضوری قلب سے ادا فرماتے ہیں انہیں گردوپیش کی خبر بھی نہیں ہوتی، لہٰذا ادائیگی نماز کے دوران وہ تیر ان کی ٹانگ سے نکال لیا جائے۔ 

لوگوں نے آخر کار دوران ادائیگی نماز وہ تیر ان کی ٹانگ سے نکال لیا، اور حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو پتہ بھی نہیں چلا اب ان متذکرہ بالا مثالوں سے، بزدلی اور چوری کا توشہ خانے سے چیزیں غائب ہوجانے کی خبریں تو زبان زد عام تھیں بلکہ بادشاہی مسجد لاہور سے حضور کے نعلین مبارک بھی کسی امیر مسلمان ریاست کے حکمران نے چوری کرالیے، بعض حکمران ایسا بھی کرلیتے ہیں، اور کچھ تو نماز پڑھنے کی تصاویر وائرل کرا لیتے ہیں، اب آئیے موجودہ حالات اور وطن عزیز کی صحافت کی جانبداری کی طرف، میڈیا پہ چند ایسے سرعت سے نقاب کشائی کرکے چھاجانے والے تبصرہ نگاروں کی طرف، کہ جو عوام کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کرتے ہوئے فرماتے ہیں، کہ مولانا فضل الرحمن کا جلسہ ناکام ہوگیا ہے، اور وہاں صرف چند ہزار لوگوں کا اکٹھ تھا، جوکوئی بھی کرسکتا ہے، پی ایم ڈی تو گیارہ جماعتوں کا مجموعہ ہے، میرا عرض کرنے کا مقصد محض اتنا ہے کہ خدارا عوام کو بے وقوف بنانے کی کوشش نہ حزب اختلاف کرے، اور نہ ہی حکمران جماعت کرے، اب اگر ہم ذرا غور کریں، کہ وطن عزیز میں کتنے ایسے سیاستدان ہیں، جو سچ بولتے ہیں، اور جھوٹ بولنے سے اجتناب کرتے ہیں، محض گنتی کے چند، مملکت خداداد پاکستان میں حضرت قائداعظمؒ کی رحلت کے بعد، سترسالوں کے عرصے کے دوران محض چند موجودہ حالات کے دوران نت نئی جماعتیں تبدیل کرنے والے، جو پرانی پارٹی چھوڑنے کے بعد اس کی برائیاں کرنے، اور نئی پارٹی میں شمولیت کے بعد اس کی تعریف میں زمین وآسمان کے ”قلابے ملارہے ہوتے ہیں، ان لوٹوں کو کون سچا کہے گا؟ صرف خلائی مخلوق۔


ای پیپر