”کئی لوگ ایسے گزرے جنہوں نے صحافت کی حرمت کیلئے جنگ لڑی“
03 دسمبر 2019 (23:59) 2019-12-03

”کئی لوگ ایسے گزرے جنہوں نے صحافت کی حرمت کیلئے جنگ لڑی“

”کبھی آئیڈیل اِزم کے اعتبار سے صحافت کو نہیں دیکھا“

سینئر صحافی، تجزیہ نگار مجیب الرحمن شامی کی ”نئی بات“ سے خصوصی نشست کا احوال

اسد شہزاد

الحمدللہ زندگی میں میرے لیے جو ممکن تھا اور جس حد تک میں جا سکتا تھا، بڑی ایمانداری، دیانتداری اور ذمہ داری سے نام اور عزت کمائی، انسان سے غلطیاں ہوتی رہتی ہیں، مجھ سے بھی غلطیاں ہوئیں اور میں نے ہمیشہ اپنی غلطیوں کا اعتراف بھی کیا ہے اور پھر ان کا ازالہ کرنے کی بھرپور کوشش کی، میرے راستے میں حاسدین بھی پیدا ہوئے۔ میرے خلاف غلط سکینڈل تک بنائے گئے مگر میں ہمیشہ اپنے مو¿قف پر ڈٹا رہا اور اصولوں کا راستہ نہیں چھوڑا۔ میں نے اپنے بچوں کو دو نصیحتیں کی ہیں، ایک نماز قائم کرو، دوسرا کبھی جھوٹ مت بولو! میں یہ دعویٰ نہیں کر سکتا کہ میں نے ہمیشہ سچ بولا، بہت ہوا تو میں نے خاموشی اختیار کی، اپنی غلطیوں پر اصرار نہ کیا کیونکہ اصرار کرنا انسانیت نہیں۔

چند روز قبل میں بین الاقوامی شہرت یافتہ معروف پاکستانی جرنلسٹ، کالم نگار، ٹی وی کے ممتاز تجزیہ کار، چیف ایڈیٹر روزنامہ ”پاکستان“ مجیب الرحمن شامی صاحب کے روبرو تھا۔ ان کی شخصیت، ان کی صحافتی زندگی کی شاندار خدمات، آزادی صحافت کے علمبردار اور ایوب خان کے دوراقتدار سے ذوالفقار علی بھٹو اور بھٹو سے جنرل ضیائ، بےنظیر بھٹو، نوازشریف، جنرل (ر) پرویز مشرف اور آصف علی زرداری اور عمران خان کی حکومتوں کے آگے کلمہ حق کی آواز کو بلند کرتے ہوئے جیل بھی کاٹی، اپنے اخباری اداروں کے ساتھ حکومتی ناروا سلوک اور اشتہارات کی بندشوں تک کو بڑے صبروتحمل سے برداشت کرنے والے مجیب الرحمن شامی کے بارے میں یہ بات ضرور ذہن میں آتی ہے کہ ابھی ان کی خدمات کا اعتراف کرنے والے لفظ تحریر کی کوکھ سے جنم نہیں لے سکے۔ کہتے ہیں کہ کتنے سادہ سے لفظوں میں کتنی عظیم حقیقتیں کھل جاتی ہیں اور یہ مبالغہ آرائی کی بات نہیں کہ مجیب الرحمن شامی ہمارے درمیان اپنی تمام تر صلاحیتوں، خوبیوں، اپنے کاموں اور کردار و ویژن میں بہت مضبوط کھڑے نظر آتے ہیں۔ ان کی زندگی میں جدوجہد مسلسل کا ایک عمل جاری ہے اور صحافت کے ستونوں میں ایک ایسا ستون نظر آتے ہیں کہ ہم بجاطور پر آج کے دور میں ان کو آئیڈیل قرار دے سکتے ہیں، وہ جہاں رُکے، جہاں ٹھہرے اور جہاں سے چلے ایک احساس تشنگی دے جاتے ہیں کہ مجیب الرحمن شامی یاد کیے اور یاد رکھے جاتے ہیں۔

کسی بڑی شخصیت کا ہونا بھی اس کی بڑی سند ہوتی ہے۔ شامی صاحب پر لکھنا میرے جیسے قلمکار کے بس کی بات نہیں، آپ ان کی ذات کے اندر جتنا اُترتے جائیں گے گہرائی اور بڑھتی چلی جائے گی اور پھر بقول حضرت علامہ اقبالؒ!

سلطانی جمہور کا آتا ہے زمامہ

جو نقش کہن تم کو نظر آئے مٹا دو

جس کھیت سے دہکان کو میسر نہیں روزی

اس کھیت کے ہر خوشہ گندم کو جلا دو

وہ اپنے قلم کو لیے ہمیشہ ڈٹے رہے۔ ان کے صحافتی اور علمی کلیات کا کہیں بھی سمونا ایسے ہی ہے جیسے آپ نہ ختم ہونے والی داستان پڑھ رہے ہوں۔ پھرمولانا مودودیؒ کے قول کے مطابق ”لوگوں سے اُلجھ کو اپنی زندگی مت ضائع کرو“۔

اور اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ جو اُلجھے یا اُلجھائے گئے، تاریخ نے ان کو دفن کر دیا اور جو اُلجھے نہیں اور شدت کے ساتھ اپنے وجود کا احساس دلاتے رہے وہ مجیب الرحمن شامی بن گئے!

گزشتہ دنوں میں نے مجیب الرحمن شامی صاحب سے ان کے آفس میں ایک ملاقات کی۔ سوالات کا انبار تھا مگر شامی صاحب کی مصروفیات نے حسب روایت ایک طویل تشنگی چھوڑ دی کہ ملاقات ہو نہ ہو دل منتظر رہے گا۔ کہتے ہیں کہ حقیقت سے حقیقت تک پہنچنے کا ایک عمل ہوتا ہے۔ ایک وہ حقیقت جو سامنے ہے، ایک وہ جس کو تلاش کرنا ہوتا ہے اور حقیقت یہ ہے کل، آج اور آنے والے کل میں شامی صاحب کی صحافتی اور تعمیری خدمات کا جو پُل صراط بن چکا ہے اس پر سے شاید ہی کوئی گزر سکے۔ ایک طویل جدوجہد مسلسل، طویل راستہ اور طویل داستان زندگی یہی ہیں مجیب الرحمن شامی، جن کا اس دور میں کوئی ثانی نہیں۔ گزشتہ دنوں بہت سے سوالات لیے، میں نے گفتگو کا آغاز کرتے ہوئے شامی صاحب سے پوچھا....

شامی صاحب! آپ کی صحافت کے ساڑھے پانچ عشرے گزر گئے، زمانہ طالب علمی میں ہی سوچ تھی کہ صحافی بننا ہے یا اس زمانے میں صحافت کا کوئی آئیڈیل تھا یا پھر کوئی حادثہ صحافت میں آنے کا سبب بنا؟

اس زمانے میں نہ کوئی آئیڈیل یا اس کا کوئی تصور تھا، میرا تعلق ایک دینی اور پڑھے لکھے کاروباری شامی گھرانے سے ہے جس کے سلسلے میں برصغیر پاک وہند کے معروف خاندان شام چوراسی سے جڑے ہوئے ہیں۔ مجھ سے پہلے میرے خاندان میں کوئی فرد صحافت کے ساتھ منسلک نہیں تھا لہٰذا آئیڈیا لائز کا تو تصور نہیں کیا جا سکتا ہے۔ زمانہ طالب علمی کے دور میں میرا یہ خیال ضرور تھا کہ کوئی ایک آزاد پیشہ اختیار کروں گا۔ صحافت یا پھر وکالت ہو سکتی تھی جبکہ زیادہ خیال اور رُجحان صحافت کی طرف زیادہ تھا اور اگر ایسا نہ ہو سکا تو پھر وکیل ضرور بنوں گا۔ 1967ءمیں میں نے صحافت کے میدان میں پہلا قدم رکھا اور یہ سلسلہ اب عشروں تک پھیل چکا ہے۔

مولانا ظفر علی خان، مولانا محمد علی جوہر اور پھر ان کے بعد آغا شورش کاشمیری کے ادوار کو دیکھا ہو گا؟

آپ حمید نظامی مرحوم کا انٹرویو نہیں کر رہے۔ آپ مجیب الرحمن شامی کے سامنے بیٹھے انٹرویو کر رہے ہیں۔ آپ نے تو مجھے ایک سو دس سالہ بابا بنا دیا۔ آپ نے جو نام لیے وہ تو صدی کے نام ہیں البتہ آغا شورش کاشمیری صاحب کے ساتھ میری نیازمندی ضرور رہی۔

میں آپ سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ اس دور کی صحافت کیسی تھی وہ لوگ کیا تھے کہ آپ نے اس دور کا مطالعہ کیا ہے اور آپ اکثر اس دور کے حوالے سے اپنی تحریروں میں کرتے رہتے ہیں؟

دیکھیں ہر دور اپنے ماحول، اپنی ترجیحات اور اپنے معاشرے کا علمبردار اور دعویدار ہوتا ہے اور اس کی تاریخ اور شناخت اسی کے حوالوں میں دیکھی اور پڑھی جاتی ہے۔ وہ ایک دور تھا جس میں آزادی پاکستان کے حصول کے لیے جہاں ایک بڑی لڑائی لڑی جارہی تھی وہاں اس زمانے کے اخبارات کے ذریعے بھی ایک جنگ جاری تھی اور اس وقت کے ہمارے لیڈران کرام انہی اخبارات کے ذریعے اپنے پیغامات لوگوں تک لے جارہے تھے۔ مولانا ابوالکلام آزاد، مولانا محمد علی جوہر، مولانا حسرت موہانی، مولانا ظفر علی خان، یہ ان لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے اپنے قلم کا سہارا لے کر اپنے اخبارات کے ذریعے آزادی پاکستان تحریک کو خوب اُبھارا، ایک سیاست ہوتی ہے۔ میدان کے اندر اور ایک اخبار کے ذریعے لہٰذا تحریک آزادی کو تقویت دینے میں اس زمانے کے اخبارات کا بڑا حصہ تھا اور یہی ہماری خوبصورت صحافتی تاریخ کا ایک بڑا کردار رہا ہے۔

1967ءسے 2019ءان ادوار میں کب صحافت آزاد تھی، آئیڈیل وقت تھا یا وہ صحافت کا بہترین دور رہا؟

پہلی بات یہ ہے کہ دور کوئی بھی ہو حالات اچھے بُرے ضرور ہوتے ہیں اور ہر دور میں وہ لوگ بھی ہوتے ہیں جو قابل تقلید اور قابل شنید ہوں یا پھر ایسے بھی جن کو وقت اپنے پاﺅں تلے روندتا چلا جاتا ہے۔ میں نے کبھی آئیڈیل ازم کے اعتبار سے صحافت کو نہیں دیکھا۔ صحافت کے ہر دور میں ایسے لوگ ضرور گزرے جنہوں نے صحافت، قلم اور لفظ کی حرمت کی پاسداری کرتے ہوئے اس کے حقوق کے لیے بڑی لڑائی لڑی اور اس کی شمع کو جلائے رکھا اور صحافت کی آزادی کے لیے طویل جدوجہد کی ہے۔

آپ نے ایوب خان سے لے کر آج عمران خان کے دور تک کو دیکھا، بعض کے قریب بھی رہے، ان حکمرانوں کے سامنے پاکستانی صحافت کیا درجہ رکھتی تھی۔ انہی کے ادوار میں صحافت پابند سلال بھی رہی، صحافیوں کو کوڑے لگے، سزائیں ہوئیں، اس کو داغ دار کیا گیا، کس حکمران کے دور میں ایسا نہیں ہوا؟

ایوب خان کا اپنا دور اور اپنا ہی فلسفہ تھا، انہوں نے سب سے پہلے جو دستور دیا۔ اس میں فنڈامیٹل رائٹس ہی نہیں دیئے گئے، وہ ایک محدود جمہوریت کے سہارے ملک میں ترقی کرنا چاہتے تھے۔ انہوں نے اپنے دور میں اخبارات اور رسائل کے ڈکلیئرشن کا حصول بھی مشکل کر دیا۔ اس زمانے میں ہماری اکنامک صورتحال بھی اتنی ڈویلپ نہیں ہوئی تھی اور اخبارات کو سرکاری اشتہارات پر گزارہ کرنے پر مجبور کردیا گیا۔ اُوپر سے انہوں نے نیشنل پریس ٹرسٹ بنا دیا۔ سرکاری اشتہارات کے علاوہ دوسرے وسائل بھی سرکاری اخبارات کو فراہم کیے گئے اور بعد میں حکومت اپنے ہی اخبارات کے اوپر حاوی نظر آئی۔ ایوب خان کے بعد ذوالفقار علی بھٹو جمہوری دور لے کر آئے۔ نیا دستور بن گیا۔ بنیادی حقوق مل گئے مگر یہاں المیہ یہ ہوا کہ مشرقی پاکستان کو ہم سے الگ کر دیا گیا اور نیوزپرنٹ چونکہ پاکستان کو امپورٹ کرنا پڑتا تھا۔ اس زمانے میں ذوالفقار علی بھٹو نے اخبارات پر بہت سی پابندیاں عائد کیں جو اس زمانے میں پی پی پی کی حمایت کر رہے تھے۔ اس دوران صحافیوں نے ضیاءحکومت کے خلاف جلوس نکالے اور اپنا بھرپور احتجاج ریکارڈ کرایا اور ساتھ ساتھ ملک میں سیاسی سرگرمیوں کی بحالی کا مطالبہ بھی کر ڈالا۔ اس تحریک کے دوران بے شمار صحافیوں کو گرفتار کیا گیا اور ان کو کوڑے بھی لگائے گئے۔ آپ یوں کہہ سکتے ہیں کہ ضیاءدور ان صحافیوں اور اخبارات کے لیے ایک مشکل ترین دور تھا جو ان کی حکومت اور ان کی کارکردگی کے مخالف تھے۔

ضیاءکے بعد کیئرٹیکر حکومت آئی تو اخباری تنظیموں نے پریس لاءآرڈیننس کو شرعی عدالت میں چیلنج کر دیا اور وفاقی شرعی عدالت نے اس کے کئی حصے ساقط کر دیئے۔ اس کے نتیجے میں ڈکلیئریشن کا حصول ممکن ہو سکا جو بہت مشکل بنا دیا گیا تھا اور یہ طے ہو گیا کہ آپ کی ڈکلیئریشن درخواست پر اگر ایک سوبیس دن کے اندر حکومتی ادارے کا جواب نہ آیا تو وہ خودبخود ڈکلیئریشن آپ کے نام ہو جائے گی۔ کیئرٹیکر حکومت کے بعد آزادی صحافت کا ایک اور دور شروع ہوا جب بےنظیر بھٹو کی حکومت آئی۔ اس سے پہلے نواز حکومت اور جنگ گروپ کے ساتھ ایک بڑی کشمکش شروع ہوئی۔ ” جنگ “ کو کافی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ان کے بہت سے اخبار نویسوں کے خلاف کارروائی کے لیے پریشر ڈالا گیا جبکہ ” جنگ گروپ“ اس کے لیے تیار نہیں تھا۔ اسی دوران نجم سیٹھی کو بھی گرفتار کیا گیا۔ ان تمام تر حالات کے باوجود آزادی صحافت کا سفر رُکا نہیں بلکہ رواں دواں رہا اور اخبارات کا نکلنا بہت آسان ہو گیا کیونکہ ڈی نیشنل لائز کا سسٹم شروع کر دیا گیا تھا۔ ہماری انڈسٹری بھی ڈویلپ ہونا شروع ہو گئی اور آزادی صحافت کے عمل کو بہت تقویت ملی۔

مشرف کا دور سب سے بہتر دور نہیں تھا کہ اسی دور میں پاکستان میں پہلی بار چینلز کا آغاز کیا گیا؟

بنیادی طور پر میرے لیے جنرل (ر) مشرف کا دور مشکلات کا دور تھا۔ ہمارے ادارے روزنامہ ”پاکستان“ کو بے شمار مسائل میں اُلجھا دیا گیا۔ روزنامہ پاکستان اسلام آباد کا جو ڈکلیئریشن ہمارے نام تھا اس کو منسوخ کر کے کسی اور کو دے دیا گیا۔ وہ مقدمہ ابھی تک سپریم کورٹ میں زیرسماعت ہے۔ ان کے دور میں اور دوسرے اخبارات بھی مشکلات کے دور سے گزرے البتہ ایک کریڈٹ ان کو جاتا ہے کہ وہ پاکستان میں چینلز لانے کا سبب بنے حالانکہ دیکھا جائے تو پرائیویٹ چینلز کی بنیاد تو بےنظیر حکومت میں ہی رکھ دی گئی تھی، البتہ مشرف جب آگرہ سمٹ کے بعد واپس آئے تو انہوں نے سوچا کہ بھارت میں بے شمار چینل ہیں اور یہ سلسلہ یہاں بھی ضروری ہے لہٰذا انہوں نے چینلز لانے کی اجازت دے دی۔ یہ ان کی سوچ تھی کہ پاکستان میں بھی اسی طرح کے بین الاقوامی طرز پر چینلز کا ہونا ضروری ہے لہٰذا حکومتی اجازت ملتے ہی بڑی تیزی کے ساتھ الیکٹرک میڈیا نے اپنا پھیلاﺅ کرنا شروع کر دیا۔ پھر اسی دوران ان کے ساتھ انہی چینلز کا جھگڑا بھی ہوا۔ بعض پر پابندیاں بھی لگا گئیں اور اسی میڈیا کے خلاف کارروائیاں بھی کی گئیں۔

ادھر پرنٹ میڈیا بھی ان کے مارشل لاءکے قوانین کی زد میں آیا اوورآل میں ان کے دور کی صحافت کا جائزہ لوں تو یہ ضرور کہوں گا کہ آزادی اور میڈیا چینلز کی ابتدا کرنے میں ان کا ایک اچھا کردار رہا ہے۔ اختلافات اپنی جگہ، یہ ہوتے رہتے ہیں دیکھیں نہ انہی کے دور میں ہمارے ہاں انٹرنیٹ آیا، ڈاکٹر عطاءالرحمن جو ان کی حکومت کے مشیر تھے، انہوں نے ہائر ایجوکیشن کے پلیٹ فارم سے میڈیا کو مزید جدیدیت میں ڈھالا۔ پھر انہی کے دور میں ڈیجیٹل میڈیا نے بھرپور طریقے سے اپنی آمد کا اعلان کر ڈالا۔ گو ان کے زمانے میں یہ اتنا ڈویلپ نہیں ہوا مگر بعد میں اس نے بہت ترقی کی۔

میرخلیل الرحمن، حمید نظامی، مجید نظامی، منہاج برنا، الطاف گوہر، فیض احمد فیض، الطاف حسین قریشی، عنایت اللہ، نسیم حجازی، نثار عثمانی یہ کتنے بڑے نام تھے، ان کا کون سا سکول آف تھاٹ تھا کہ یہ بہت بڑا نام کماگئے؟

ان کے علاوہ بھی اور بڑے نام ہیں جن کا بے مثال کردار ہماری صحافت کو بہت آگے لے کر آیا۔ یہ سب پرنٹ میڈیا کے لوگ تھے اور انہی کے زمانے میں صحافت پروان چڑھی۔ آپ ان کے نظریات، سوچ اور اداروں سے تو اختلافات کرسکتے ہیں مگر بنیادی طور پر انہوں نے بہت طویل جدوجہد کی اور انہوں نے جو کیا اور حالات کے مطابق جو لکھا یعنی وہ اپنی بات اور تحریر پر ڈٹے رہے، یہی وہ لوگ تھے جنہوں نے زمانوں کی حکومتوں کے ساتھ سمجھوتے نہیں کیے، وہ لوگ نہ بِکے نہ جھکے اور پھر بے شمار مشکلات کی صورت میں انہوں نے بُرے حالات کی صورت میں اس کی قیمت بھی ادا کی۔ دیکھیں جدوجہد کے ذریعے ہی کوئلہ آگ میں تپ کر ہیرا بنتا ہے۔ یہ بڑے نام اور صحافت کے بڑے لوگ قابل احترام رہیں گے۔ قلم اور صحافت دونوں کے لیے ان کا مقام بلند رہے گا۔ ان کا کوئی سکول آف تھاٹ نہیں تھا بلکہ یہ تو ہم سب کے سکول آف تھاٹ ہیں۔ یہی وہ لوگ تھے یا ہیں جنہوں نے پاکستان میں آزادی صحافت کے پرچم کو بلند رکھا، اس کو کبھی بھی سرنگوں نہیں ہونے دیا۔

ان کے پیچھے اپنی ہی محنت، لگن اور جدوجہد تھی کہ یہ بڑے نام بن گئے یا پھر کوئی ہاتھ، طاقت یا کوئی حادثہ؟

میں نہیں سمجھتا کہ کسی کے پیچھے کسی کا ہاتھ یا کوئی اور لوگ ہوتے ہیں۔ یہاں میرا خیال ہے کہ جن کے پیچھے کوئی ہاتھ ہوتا ہے تو وہ بے نام ونشان ہو گئے۔ صلاحیت نہ ہو، مہارت نہ ہو، سعادت نہ ہو اور کمٹمنٹ نہ ہو تو پھر کوئی آدمی آگے نہیں جا سکتا۔ ان کے اندر خوبیاں تھیں کہ یہ روشن کردار بن گئے، آپ ان کو صحافت کے ہیرو، صحافت کے آئیڈیل اور صحافت کے علمبردار کا درجہ دے سکتے ہیں۔

شامی صاحب گزشتہ تیس سالوں میں صرف چار نام مجید نظامی (مرحوم)، ضیاءشاہد، مجیب الرحمن شامی اور میرشکیل الرحمن جیسے بڑے زمانے کا نام کما گئے جبکہ آج نام تو اور بہت ہونے چاہئیں تھے؟

ایسی بات نہیں ہے جب میں بڑے نام لوں گا تو ایک طویل فہرست بن جائے گی۔ میں یہاں جنگ گروپ کے ایڈیٹر انچیف میرشکیل الرحمن کا ذکر ضرور کروں گا کہ انہوں نے اس دور میں ایک بڑی مثال قائم کی ہے گو ان کے اداروں کا بہت بڑا نام ہے۔ اس کے باوجود ان کو بُرے حالات اور سخت ترین مشکلات سے گزرنا پڑا۔ آپ کسی کی سوچ سے اختلاف کر سکتے ہیں مگر اس کے کردار سے اختلاف نہیں کر سکتے کہ وہ پوری ہمت اور جرات کے ساتھ بعض قوتوں کے آگے کھڑے رہے مگر انہوں نے سمجھوتہ نہیں کیا۔ جمہوریت کے لیے اور جوان کا اپنا ”تصورپاکستان“ ہے۔ اس کو فروغ دینے کے لیے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے اور ابھی تک وہ مختلف محاذ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔

کس دور میں آپ بطور صحافی بہت مایوس ہوئے اور کس دور میں خود کو بہتر پایا؟

میں نے مایوسی زندگی بھر نزدیک نہیں آنے دی البتہ مجھے صحافت کے میدان عمل میں بہت سی مشکلات سے گزرنا پڑا۔ ذوالفقار علی بھٹو اور نوازشریف کے دورِحکومت میں بہت سی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک زمانے میں ہمارا ہفت روزہ ”زندگی“ حکومتی پالیسز کا شکار ہو گیا۔ ساتھ ساتھ ہمارے وسائل کم کر دیئے گئے۔ ہمیں محدود سے محدود کرنے کی کوششیں کی گئیں۔ پھر ہم نے جب روزنامہ ”پاکستان“ کی ذمہ داری اُٹھائی تو وہ بھی ایک سخت جدوجہد کا پریڈ تھا بلکہ ہمیں بہت سی آزمائشوں کا سامنا کرنا پڑا مگر ہم لوگوں نے خداتعالیٰ کے فضل وکرم سے ہمت نہیں ہاری اور پہاڑنُما مشکلات کے سامنے ڈٹے رہے۔ مجھے جھکانے کی کوشش تو ہر دور میں ہوئی مگر ہم جھکے نہیں۔ اگر تھوڑا بہت رُکے تو سانس کو دم دینے کیلئے، دیکھیں میری سوچ میرے کام اور میرے ادارے سے کسی کا اختلاف ضرور ہو سکتا ہے۔ اگر میرے خیالات کسی کے خیالات سے ملتے ہیں تو میں ضرور تائید کروں گا اور کی بھی ہے اور کرتا رہوں گا لیکن اس کا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ میں نے کمپرومائز کر لیا۔ میں گزرے پچاس سالوں سے اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ یہ میرے اپنے تجربے اور مشاہدے ہیں اور اس کے پچاس سال جو ان کی پشت پر ہیں، جو پاکستان کی تحریک اور اس کی تاریخ ہے کہ آج پاکستان کو جمہوریت کی بہت ضرورت ہے۔ آج یہاں دستور کی بالادستی ہونی چاہیے اور قوم سول قیادت کے ماتحت ہونی چاہیے اور یہ بات ذہن نشین کر لیں کہ جب تک ہمارا مرکز مضبوط نہیں ہو گا، ادارے مضبوط نہیں ہوں گے۔ ہم کبھی بھی آگے نہیں بڑھ سکتے۔ آپ یوں تصورکر لیں کہ یہ میری صحافتی زندگی کا نچوڑ ہے اور میں آج بھی پوری شدت کے ساتھ اس کے ساتھ کھڑا ہوں۔

آپ کی صحافت کی بنیاد قلم نے رکھی اور بلاشبہ یہ کہا جا سکتا ہے کہ آپ پرنٹ میڈیا کے تجربہ کار پرسن جبکہ آج کے الیکٹرانک میڈیا نے آپ کو بہت عزت اور شہرت دی، آپ کی رائے کیا ہے؟

دیکھیں ہر دور کا اپنا ایک میڈیم ہوتا ہے جو حالات کے مطابق اسے لے کر چلتا رہتا ہے۔ ایک زمانہ تھا جب میں ہفت روزہ (زندگی) نکال رہا تھا اور اس دور اس کے مقابلے میں ایسا کوئی دوسرا ممتاز میگزین نہیں تھا۔ ”زندگی“ میری پہلی شناخت بنا۔ پھر میں نے جلسہ عام کے نام سے کالم نگاری شروع کی تو خدا تعالیٰ نے مجھے وہاں بھی بہت سے حلقہ احباب میں نواز دیا۔ پھر روزنامہ ”پاکستان“ کا دوبارہ آغاز کیا۔ پھر اسی دوران الیکٹرانک میڈیا آیا تو ”دُنیا“ چینل پر ایک پروگرام کا آغاز ہوا تو اس پروگرام کا ایک مائینڈسیٹ بنا جو مشہور ہو گیا اور میرے اوپر اللہ کا خاص کرم ہے کہ اس نے ہر دور میں مجھے آگے بڑھنے کا یہ موقع دیا کہ میں کسی نہ کسی پلیٹ فارم پر اپنا نقطہ نظر بیان کر سکوں اور میری رائے اور خیالات لوگوں تک پہنچ سکیں اور آج اپنے اخبار، قلم اور چینل کے ذریعے اس کا اظہارخیال کرتا رہتا ہوں۔

کچھ دن قبل آپ نے گفتگو کے دوران ایک بڑی فکرانگیز بات کی کہ ہم نے دوسرے کاروبار اس لیے شروع کیے کہ مجھے لگتا ہے کہ ایک دن ٹی وی کا سیٹھ ہمیں کچل دے گا اور اخبارات اور پیچھے چلے جائیں گے؟ جب آپ جیسا سینئر صحافی یہ بات کرے گا تو پھر فکر نہیں بلکہ لمحہ فکریہ اور لمحہ سوچ بڑھ جاتی ہے؟

دیکھیں یہ بات میں نے ایک خاص پیرائے میں جا کر کہی تھی کہ پہلے الیکٹرانک میڈیا تو پھر ڈیجیٹل میڈیا آگیا۔ اس کی ایک مثال یہ دوں گا کہ ڈیجیٹل میڈیا پر جو آن لائن ہے اور سب سے زیادہ پاکستان انٹرنیشنل ہمارا اخبار پڑھا جا رہا ہے اور آج دس لاکھ سے زیادہ لوگ اس کو پڑھتے ہیں اور یہ پوری دُنیا میں بیک وقت پڑھا جاتا ہے۔ ہماری اخباری منزل ابھی دور ہے۔ ہمارے ہاں کاغذ پر چھپے ہوئے اخبار کی اہمیت گو اب بھی برقرار ہے اور اس کا عمل پوری دُنیا میں جاری وساری رہے گا مگر ایک وقت آسکتا ہے کہ آج کا جو اخبار تیار ہو گا وہ آن لائن اخبار ہو گا وہ آن لائن زیادہ پڑھا جائے گا۔

دیکھیں اخبار کا میڈیم ایک ہی رہے گا، صرف اس کا لوگوں تک پہنچنے کا طریقہ بدل جائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس کی مارکیٹنگ بھی کسی اور انداز میں چلی جائے گی۔ اخبار میں تبدیلی نہیں آئے گی بلکہ اس کی پروڈکشن بھی ہو گی اور اسی طرح وہ پڑھا جائے گا بلکہ دیکھا جائے تو آج کے دور میں اس پر عمل درآمد شروع ہو چکا ہے۔ اب ہر صبح سویرے ہاکر کے آنے سے پہلے ہی میں اپنا اخبار آن لائن پڑھ لیتا ہوں جبکہ دوسرے اخبارات کا مطالعہ بھی ہو جاتا ہے گو یہ آن لائن سلسلہ ہے مگر پڑھتا تو اخبار ہی ہوں میں ....

میرخلیل الرحمن کے بعد میرشکیل الرحمن اور پھر میر جاوید الرحمن، پھر میرابراہیم، ضیاءشاہد کے بعد عدنان شاہد (مرحوم) اور امتنان شاہد، جمیل اطہر کے بعد ان کے بیٹے اور پھر آپ کے بعد آپ کے چاروں بیٹے فیصل شامی، عمرشامی، عثمان شامی، علی شامی، یہ سلسلہ نسل درنسل پر چلا گیا ہے، کیا آپ سمجھتے ہیں کہ جس طرح آپ نے اخبارات سنبھالے اور چلادیئے، کیا آپ کی آنے والی نسلیں ان کو سنبھال پائیں گی؟

اخبار کی پوری انڈسٹری اب ایک کاروبار میں منتقل ہو چکی ہے اور جب کاروبار ہو گا تو یقینی بات ہے کہ وہ کسی نہ کسی طرح وراثت میں جائے گا۔ یہاں بات ہے آنے والی نسلوں کے ٹیلنٹ کی۔ میرشکیل الرحمن کے اندر ٹیلنٹ تھا تو وہ اپنے ادارے کو کہاں سے کہاں لے گئے۔ پھر ان کے بیٹے میر ابراہیم نے مزید بہتر کام کیے، اس سے پہلے بات کروں تو مولانا ظفر علی خان کے بیٹے اکبر علی خان کو اخبار ملا مگر وہ اس کو نہ سنبھال اور چلا سکے کہ اس لیے کہ ان کے اندر ٹیلنٹ نہیں تھا۔ اگر مولانا اکبر علی خان کے اندر یہ صلاحیت ہوتی تو ان کے بزرگوں کا اخبار یقینا ہمارے درمیان موجود ہوتا۔ مجھے بتائیے کہ نسیم حجازی کا اخبار کہاں گیا۔ دیکھیں ٹیلنٹ ہو گا تو کاروبار نسلوں میں اُترتا نظر آئے گا۔آج کے دور کے حوالے سے بات کروں تو صحافت میں آج بڑے بڑے بزنس مین آگئے۔ میاں عامر نے پہلے اخبار نکالا، پھر وہ چینل لے آئے۔ چوہدری عبدالرحمن نے پہلے اخبار نکالا، پھر انکےدو چینل بھی سامنے آگئے۔ پھر چینل 92 والے آگئے۔ آج ان کا اپنا اخبار بھی ہے۔ ان سے قبل سلطان لاکھانی آئے، اس کا مطلب یہ ہوا کہ ٹیلنٹ اپنے جوہر دکھاتا رہتا ہے۔ اب یہاں میں آپ کو ایک بات بتاتا چلوںکہ میاں عامر محمود نے آج تک میرے کام میں کبھی مداخلت نہیں کی، گو میں خود اخلاقی اور تہذیبی دائرے میں رہ کر بات کرنے کا عادی ہوں، میرے نزدیک میاں عامر کی ترقی کا راز بھی یہی ہے کہ وہ میڈیا کی روح سے خوب واقف ہیں۔ ہمارا ایک اخبار آن لائن پیپر ہے اور دوسرا شائع ہو رہا ہے اس کو عمر شامی صاحب ڈیل کرتے ہیں۔ آج ان کی تعلیم اور ان کا ٹیلنٹ بہت کام آرہا ہے۔ عمرشامی نے تو بہت مشکل اور کٹھن حالات میں روزنامہ ”پاکستان“ کا آغاز کیا تھا۔ آپ سب لوگ اس بات کے گواہ ہیں کہ ہمیں وراثت میں کچھ بھی ہیں ملا بلکہ ہم نے طویل جدوجہد کر کے اپنی اخباری دُنیا خود بسائی ہے۔ دیکھیں آپ کی تعلیم، آپ کا ویژن، آپ کی استعادات اور آپ کی ذہانت آپ کے آگے بڑھنے کے لیے ضروری ہے۔ یہ پیسے سے ہونے والے کام نہیں ہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو جتنے بھی پیسے والوں کے اخبار نکلے وہ سب بہت ترقی کر چکے ہوتے، صحافت آج دو حصوں میں تقسیم ہو گئی ہے۔ ایک وہ جو نسل درنسل آرہے ہیں ایک وہ جو کاروباری نقطہ نگاہ سے اخبار اور چینل لائے۔

آپ نے بہت بڑا نام کمایا، عزت کمائی اور مجیب الرحمن شامی ایک بڑی شناخت بن گیا، کیا آج آپ مطمئن ہیں؟

الحمداللہ میرے لیے جو کچھ ممکن تھا یا جس حد تک میں آگے جاسکتا تھا وہ میں نے بڑی ایمانداری اور دیانتداری سے نبھایا، ایک سو روپے سے میں نے قلم کی مزدوری شروع کی تھی۔ آج ہمارے دوسرے کاروبار کے ساتھ ساتھ اخباری انڈسٹری میں بھی ایک بہت بڑے نام کو لیے۔ ہم آپ کے سامنے کھڑے ہیں اور میں پوری ذمہ داری کے ساتھ یہ بات کہہ سکتا ہوں کہ ہم نے کبھی کوئی جائز اور ناجائز کام نہیں کیا نہ کرایا۔ ہم نے رزق حلال کے بل پر اپنا نام کمایا اور اسی پر مکمل یقین رکھتے ہیں۔ دیکھیں انسان ہی سے غلطیاں ہوتی ہیں اور یہ مجھ سے بھی ہوئی ہیں اور میں نے ہمیشہ اپنی غلطیوں کا سرعام کھلا اعتراف کیا ہے اور یہی نہیں، پھر ان کا ازالہ کرنے کی بھرپور کوشش بھی کی۔ میرے راستے پر بڑے حاسدین پیدا ہوئے۔ میرے خلاف غلط سکینڈلز بنائے گئے مگر میں ہمیشہ اپنے موقف پر ڈٹا رہا اور راستے سے ہٹا نہیں اور میں آج یہ بات بڑے دعوے کے ساتھ کہتا ہوں کہ نہ میں نے آج تک کسی کو اپنا حریف سمجھا اور نہ زندگی میں کسی سے اُلجھا اور مولانا مودودیؒ کا قول ہے کہ لوگوں سے اُلجھ کر اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہیے اور آپ کو اپنا کام کرتے رہنا چاہیے۔ میں نے اپنے بچوں کو صرف دو نصیحتیں کی ہیں۔ پہلی یہ کہ نماز کی فکر کریں اور دوسرا جھوٹ نہ بولیں۔ میں نے پوری زندگی یہ کوشش کی ہے کہ جھوٹ نہ بولوں اور میں یہ دعویٰ بھی نہیں کرتا کہ میں نے ہمیشہ سچ بولا ہے۔ بہت ہوا تو میں نے خاموشی اختیار کرلی اور جہاں مجھ سے کوتاہی ہوئی۔ میں نے فوراً اس پر معذرت کی اور آج بھی میں اپنی غلطیوں پر اصرار نہیں کرتا اور غلطیوں پر اسرار کرنا انسانیت نہیں ہے۔

٭٭٭


ای پیپر