کشمیرکا مستقبل اور مودی کی خوفناک حکمت عملی
03 دسمبر 2019 (23:55) 2019-12-03

بھارتی فوج اور حکومت انتہا پسند ہندوو¿ں کے اثر آکر مسلم کش پالیسیوں پر عمل پیرا ہیں

امتیاز کاظم

امریکی صحافی ”ایلن بیری“ نیویارک ٹائمز کی نئی دہلی میں بیوروچیف تھیں، انہوں نے 2016ءکے آخری ایام میں مقبوضہ کشمیر کا دورہ کیا تھا۔ ایلن بیری نے کشمیریوں کا جو آنکھوں دیکھا حال لکھا تھا، وہ اُسے خود بھی رُلا گیا۔ لکھتے ہوئے جو رقت انگیز مناظر اُس کی آنکھوں میں تخیلات کے رستے حقیقت بن کر اُبھرے تو آنسو اُس کے صفحات پر گرے۔ میں ایلن بیری سے درخواست کرتا ہوں کہ وہ اب جبکہ کشمیریوں کو قید کیے ہوئے چار ماہ گزر چکے ہیں تو وہ کشمیر کا دورہ کریں اور نیویارک ٹائمز سمیت دوسرے امریکی اخبارات اور امریکی صدر سمیت کابینہ کے ارکان کو اپنی رپورٹ بھیجیں۔ اُس وقت بھی جبکہ بھارتی درندے فوجی پیلٹ گنز (اے۔کے 47رائفلز) کا استعمال کرتے ہوئے کشمیری نوجوانوں اور بچوں کو اندھا کر رہے تھے تو وہ بھارتی فوجی افسر ”بھاویش چوہدری سے ملیں، اُس کے بیانات ریکارڈ کیے، ”سری مہاراجہ ہری سنگھ ہسپتال سری نگر“ خود گئیں اور وہاں کے وحشت انگیز مناظر اور تڑپتی سسکتی زندگی کے رقت آمیز مناظر اپنی تحریروں میں قلمبند کیے۔ نئی دہلی سے آنے والے سرجن ”ڈاکٹر ایس نانا رنجن“ سے کشمیریوں کی آنکھوں کے آپریشن کے بارے میں معلومات لیں جن کے متعلق ڈاکٹر کا کہنا تھا کہ ان میں سے اکثر اندھے ہو چکے ہیں۔ اب جبکہ مقبوضہ وادی میں انسانوں کو باندھ کر مودی کو آزاد چھوڑ دیا گیا کہ وہ جس کا چاہے خون کرے، ان چار ماہ میں ڈیڑھ ہزار کشمیری نوجوان لاپتہ ہو گئے ہیں اور اہل علم اور اہل قلم جانتے ہیں کہ وہ کہاں گئے۔ ایلن بیری کی اُس وقت کی تحریریں بھی عالمی سطح پر اُجاگر ہوئیں لیکن کوئی بھی ٹس سے مس نہ ہوا، کسی عالمی لیڈر کا مردہ ضمیر نہ جاگا کہ وہ ظلم کے خلاف آواز بلند کرے۔

22اگست 2016ءکو چیف جسٹس آف انڈیا ”ٹی ایس ٹھاکر“ نے رولنگ دی کہ ”کشمیر میں جاری بدامنی کی مختلف جہتیں ہیں اس لیے یہ مسئلہ سیاسی طور پر حل کیا جانا چاہیے، ہر چیز عدالتی دائرہ کار میں طے نہیں کی جا سکتی“۔

ستمبر 1998ءمیں ڈربن میں غیروابستہ ممالک کی تحریک کا سربراہ اجلاس ہوا۔ اس کا افتتاح جدید تاریخ کے حریت فکر کے عالمی رہنما نیلسن منڈیلا نے کیا تھا۔ اجلاس میں بھارتی سابق وزیراعظم واجپائی بھی موجود تھے۔ کیوبا کے صدر فیڈل کاسترو اور اُس وقت کے اقوام متحدہ کے جنرل سیکرٹری کوفی عنان بھی موجود تھے تو نیلسن منڈیلا اپنے خطاب میں کشمیر کا ذکر کیے بغیر نہ رہ سکے اور کہا کہ ”غیروابستہ ممالک کی یہ تحریک (NAM) مسلسل جاری مسئلہ کشمیر کو حل کرنے میں بھرپور معاونت کرے گی“۔

بھارتی حکومت نے بہت واویلا کیا تاہم واجپائی خاموش رہے۔ واجپائی نے کبھی ایک خوبصورت جملہ بولا تھا کہ ”کشمیر کے مسئلے کو انسانیت کے دائرے میں حل کیا جائے گا“۔ کیا یہ ہی انسانیت ہے کہ 80لاکھ کشمیریوں کو دُنیا کی سب سے بڑی جیل میں قید کر دیا جائے۔ کیا دُنیا کا کوئی انسان اس کا جواب دے سکتا ہے کہ وہ چار ماہ سے قید ہیں، کہاں سے کھا رہے ہیں؟ کیا اُن کے پاس راشن ہے؟ کیا کپڑے دھونے کے لیے صابن، سرف ہے؟ بچوں کے لیے دودھ کہاں سے آئے گا؟ ضروریاتِ زندگی کی دوسری اشیاءکہاں سے آئیں گی جبکہ راستے مکمل بند کر کے رسد بند کر دی گئی ہے۔

اقوام متحدہ کے ایجنڈے پر یہ سب سے پُرانا مسئلہ ہے جو کہ اقوام متحدہ کے وجود میں آنے کے بعد سے اب تک اپنے منطقی حل کا منتظر ہے اور اسے حل نہ کرنے میں دُنیا اپنے مفادات دیکھ رہی ہے جو کہ بھارت سے وابستہ ہیں تاہم انسانیت اور مفادات اکٹھے نہیں چل سکتے۔ دُنیا کو اور یو این او کو انسانیت کی قدر پہچاننا ہو گی۔ بھارت کے سنجیدہ اور حقیقت پسند تجزیہ کار بار بار یہ کہہ چکے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر بھارت کے ریاستی تسلط سے تیزی سے نکلا جا رہا ہے اور مودی کا کشمیریوں پر ریاستی جبر وتشدد خود بھارتی سلامتی کے لیے خطرہ بنتا جا رہا ہے لیکن مودی اپنے کٹر بنیاد پرستانہ اور ہندو انتہاپسندانہ پالیسیوں پر گامزن ہے۔

انڈیا کے ممتاز دانشور بھانو پرتاپ مہتا کہتے ہیں کہ وزیراعظم نریندر مودی کی نظروں کے سامنے کشمیر پستی کے غار میں ڈوبا جا رہا ہے۔ ایک عام انسان بھی یہ سمجھ سکتا ہے کہ چار ماہ سے نافذ کرفیو میں قید کشمیری جب کرفیو اُٹھے گا تو کیا حشر برپا کریں گے۔ کشمیری جو کرفیو کی پابندیاں توڑ کر رہے ہیں، تو جب کرفیو اُٹھے تو پھر کیا حالات ہوںگے یقینا حشر نشر ہو گا۔ راہول گاندھی برملا کہہ رہے ہیں کہ مودی کشمیر کو غلط طریقے سے ہینڈل کر رہے ہیں اور کشمیر کو بھارت کی کمزوری بنا رہے ہیں۔ مارک ورشک منڈل کے رُکن اور سابق مرکزی وزیر یشونت سنہا کا تجزیہ اور آپ بیتی اس سے بھی خطرناک ہے۔

سابق ممبر پارلیمنٹ سنتوش بھارتیہ اور ہندی اخبار کے صحافی ابھے دوبھے کا مشترکہ دورہ کشمیر دونوں کو آنسوﺅں میں رُلا گیا اور ان کے تحریرکردہ خط کا مودی نے جواب نہ دیا۔ بھارتی ممتاز دانشور ارون دھتی رائے نے جب نئی دہلی میں محترم علی گیلانی کے ساتھ بیٹھ کر کشمیر میں جاری تحریک کی پُرزور حمایت کی تو بھارت سرکار نے ان پر غداری کا مقدمہ درج کرا دیا، جس پر ارون دھتی رائے نے کہا تھا کہ پھر یہ مقدمہ تو پنڈت جواہر لال نہرو کے خلاف بھی درج ہونا چاہیے کیونکہ انہوں نے بھی کشمیریوں سے استصواب رائے کا وعدہ کیا تھا۔ ہندوستان کے باضمیر لوگ بھارتی سرکار کے دیئے ہوئے اعتراضات تمغے اور میڈل واپس کر رہے ہیں۔ بھارتی فوجی ظلم کرتے کرتے تنگ آکر خودکشیاں کر رہے ہیں۔

بھارتی سرکار اپنے ہی فوجیوں کو خود مروا کر پاکستان پر الزام تراشی کر رہی ہے۔ جعلی سرجیکل سٹرائیک کے دعوے کر رہی ہے۔ غیرت مند وزیراعظم اور فوج کے یہ چالے نہیں ہوتے۔ بھارتی وزیراعظم اور فوج غیرت مند بنے اور آبرومندانہ فیصلے کرے نہ کہ بھاجپا (BJP) اور آرایس ایس کے دباﺅ میں بنیاد پرستانہ اور کٹرہندو انتہاپسندانہ فیصلے کرے۔ عالمی سطح پر ملکوں کی ساکھ غیرت مندانہ فیصلوں سے ہی بنتی۔ 27 اکتوبر 1947ءمیں جب بھارت نے اپنی فوج کشمیر میں داخل کی تو اقوام متحدہ میں یہ مسئلہ چند ماہ بعد ہی بھارت خود لے کر گیا تھا۔

لارڈ ماﺅنٹ بیٹن کے سیکرٹری جانسن کی کتاب ”مشن وِد ماﺅنٹ بیٹن“ چشم کشا حقائق سے بھری پڑی ہے جس میں ہندو بنئے پنڈت جواہر لال نہرو کی چانکیہ کی چالاکیوں کا بھی ذکر تفصیلات موجود ہے اور 3 جون 1947ءکا منصوبہ بھی موجود ہے۔ کشمیر پر ظلم وستم، جبرواستبداد کی داستان مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور سے چلتی ہوئی اس کے بیٹے دلیپ سنگھ سے ہوتی ہوئی کشمیر کے خریدار مہاراجہ گلاب سنگھ اور آخری کشمیری راجہ ”مہاراجہ ہری سنگھ“ تک آتی ہے۔ ہری سنگھ کا بیٹا کرن سنگھ آج بھی زندہ ہے، اس نے یکم مارچ 1965ءکو لال بہادر شاستری کو خط لکھا تھا کہ اُسے برطانیہ میں ”بھارتی ہائی کمشنر مقرر کر دیا جائے، یہ ہی کرن سنگھ جس نے ”ویرات ہندو سماج“ تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا پہلا صدر یہ خود بنا اور اس کے تمام باقی عہدیداران آرایس ایس اور بی جے پی سے تعلق رکھنے والے بڑے بڑے ”گپتے۔ تیاگی اور پنڈت تھے“ اپنی انہی کرتوتوں کی وجہ سے کرن سنگھ 1984ءمیں جموں میں ہونے والے انتخابات ہار گیا تھا۔

بھارتی سیاسی پنڈت بھارت کے زیرتسلط جموں کشمیر کے بھی تین چار حصے کرتے اور سمجھتے ہیں۔ یہ بھارتی سیاستدان جموں کو ہندو علاقہ گردانتے ہیں۔ کشمیر کو دو حصوں میں تقسیم کرتے ہیں، ایک حصے کو لداخ کا بدھ مت کا علاقہ قرار دیتے ہیں جبکہ دوسرے حصے کو کارگل کا علاقہ جہاں مسلمان اکثریت میں ہیں لیکن اب بھارتی درندہ اور ہتھیارا مودی سارے کشمیر کو ہڑپ کرنے کے چکر میں ہے کیونکہ 4 ماہ سے نافذ کرفیو کشمیریوں کو جھکانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے کہ اپنی ضد چھوڑ دو۔ آزادی کا درس بھول جاﺅ تمہیں سب کچھ ملے گا لیکن یہ ہتھیارا نہیں جانتا کہ جس دل میں آزادی کی شمع روشن ہو جائے وہ بجھتی نہیں۔

مودی میں اگر ہمت ہے تو کرفیو اُٹھا کر دیکھ لیں۔ اپنے ہی ملک کے سیاستدانوں کو کشمیر کے دورے کی اجازت کیوں نہیں دیتے۔ بیرونی دُنیا اور مغربی ممالک سے آنے والوں کو دورے کی اجازت کیوں نہیں دیتے۔ انہیں وہاں جانیں دیں تاکہ دنیا جان سکے کہ بھارتی مظالم کی وجہ سے کشمیری خواتین کتنی متاثر ہوئی ہیں، کتنی خواتین شہید ہوئیں، اور حوا کی کتنی بیٹیوں کی عصمت دری کی گئی، کشمیر میڈیا کی ایک حالیہ رپورٹ کے مطابق 30 سال میں بھارتی فوج کی ریاستی دہشتگردی میں 2 ہزار 377 خواتین شہید کی گئیں جب کہ 11 ہزار175 خواتین کی عصمت دری کی گئی اور 22 ہزار 910 خواتین بیوہ ہوئیں۔آسیہ اندرابی اور فہمیدہ صوفی سمیت 6 کشمیری خواتین بھارتی جیلوں میں نظربند ہیں۔ اور قابض بھارتی فوج کی ریاستی دہشت گردی کا سلسلہ جاری ہے، اور محاصرے کی آڑ میں آئے کشمیری نوجوانوں کو شہید کیا جا رہا ہے۔ لیکن پھر بھی بھارتی مظالم کے خلاف کشمیریوں کی مزاحمت جاری ہے اور وہ پوسٹروں کے ذریعے بھارت مخالف مظاہرے جاری رکھنے پر پ±رزور ہیں، اور سری نگر اور اس کے نواحی علاقوں میں لگائے گئے پوسٹرز میں کشمیریوں کی جانب بھارت کے غیرقانونی اقدامات کے خلاف سول نافرمانی کی اپیل کی گئی ہے۔ جبکہ بھارت نے مقبوضہ وادی میں فوج، بحریہ اور فضائیہ کے خصوصی اہلکار بھی تعینات کر دیئے ہیں۔

اس لیے کہ ان کے ظلم سے پردہ اُٹھ جائے گا جو تم نے کشمیرمیں برپا کر رکھا ہے لیکن یہ سب کچھ تم چھپا نہیں سکو گے۔ لہورنگ وادی کا چپہ چپہ جوانوں کے خون سے رنگین ہے۔ یاد رکھو! ”ظلم پھر ظلم ہے بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے، خون پھر خون ہے ٹپکے گا تو جم جائے گا“۔

مودی کو مخاطب کر کے یہی کہا جا سکتا ہے کہ مودی تم خود بھی مضطرب ہو، بھارت پر کتنی دیر حکمرانی کر لو گے، تم نے جو خون سے شمع روشن کی ہے، یہ بجھنے کی نہیں۔ بھارت کا جو چہرہ تم نے بھارتی الحاق شدہ ریاستوں اور اقلیتوں کو دکھا دیا ہے وہ سیکولر بھارت نے منہ پر تو طمانچہ ہے۔ اب بھارت میں مسلمان سکھ، پارسی، عیسائی اور OBe's بھی خود کو محفوظ تصور نہیں کرتے، تم غیرمحفوظ بھارت کے کٹربنیادپرست اور ہندوتوا کے قائد ہو اور کشمیریوں کے خون سے تمہارے ہاتھ رنگے ہوئے ہیں۔ کشمیر تمہارے لیے ڈراﺅنا خواب بن چکا ہے۔

٭


ای پیپر