تبادلے، حکومت اور تبدیلی کے منتظر عوام
03 دسمبر 2019 (23:53) 2019-12-03

ٹرانسفرز کا متواتر عمل اس بات کا غماز ہے کہ حکومت اور بیوروکریسی ایک پیج پر نہیں

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت آئی تو تبدیلی کے نعرے کے ساتھ تھی، لیکن ایسا کوئی خوشگوار ”حادثہ“ تاحال رونما نہیں ہو سکا تاہم وزارتوں میں تبدیلیاں ہوئیں اور بیوروکریسی میں یہ عمل زور وشور سے جاری ہیں۔ وزارتوں میں تبدیلی کا آغاز اسد عمر سے ہوا تھا، جب انہوں نے وزرات خزانہ کے عہدے سے استعفیٰ دیا۔ ان کے مستعفی ہونے کے بعد وزارت خازنہ کی ذامہ داری حفیظ شیخ کے سپرد کی گئی تھی۔ بعدازاںکچھ مزید وزارتوں کے قملدان بھی بدلے گئے۔گورنر اسٹیٹ بینک اور چیئرمین ایف بی آر تبدیل کئے گئے، بیوروکریسی میں اتھل پھل اس کے سوا ہے۔ جب کہ صوبائی سطح پر وزارتوں میں تبدیلی کا آغاز وزارت اطلاعات سے ہوا تھا ، جب پنجاب کی وزرات اطلاعات فیاض الحسن چوہان، پیر صمصام بخاری کے بعد اسلم اقبال کے ہاتھوں میں آئی۔

15اپریل 2019ءکو اس وقت کے وفاقی وزیر اطلاعا ت فواد چوہدری اور ترجمان وزیراعظم ندیم افضل چن نے وزارتوں میں تبدیلی کے حوالے سے خبروں کی ترید کی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وفاقی کابینہ میں تبدیلی کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں، وزیراعظم عمران خان کابینہ کی کارکردگی کا ہر اجلاس میں جائزہ لیتے ہیں، وزارتوں کی تبدیلی کے حوالے سے چلنے والی خبریں من گھڑت ہیں، میڈیا اس ضمن میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرے، پاکستان اہم مرحلے سے گزر رہا ہے، اس نوعیت کی قیاس آرائیوں سے ہیجان جنم لیتا ہے۔ فواد چوہدری نے کہا تھا کہ حکومتی وزراءکے قلمدان تبدیل کئے جانے کے حوالے سے خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ وزراءکی تبدیلی وزیر اعظم کا صوابدیدی اختیار ہے۔ یہ بیان دیتے وقت فواد چوہدری کے ذہن میںشائد یہ بات نہیں تھی کہ ان کی وزارت بھی ان کے پاس نہیں رہے گی اور وزارت اطلاعات ونشریات میں ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان فرائض سر انجام دیں گی۔ جب اسد عمر وزارت سے مستعفی ہوئے تھے، تب ہی غلام سرور خان کو وزارت پٹرولیم سے الگ کر کے ایوی ایشن ڈویژن کی ذمہ داری سونپی گئی تھی، اعجاز احمد شاہ کو وزیر داخلہ کا عہدہ دے دیا گیا، شہریار آفریدی کو داخلہ امور کے بجائے وزیر مملکت برائے سرحدی امور مقرر کیا گیا اور اعظم سواتی کو پارلیمانی امور کا وفاقی وزیر لگایا گیا تھا۔

وزارتوں میں تبدیلیوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو پنجاب میں اعلیٰ سطح پر انتظامی عہدوں پر تبدیلیاں کی گئی ہیں، 26 نومبر کو انسپکٹر جنرل (آئی جی) اور چیف سیکریٹری کو ہٹایا گیا۔ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن سے جاری نوٹی فکیشن کے مطابق آئی جی پنجاب کیپٹن (ر) عارف نواز خان کا تبادلہ کر دیا گیا۔ وفاقی حکومت نے نیشنل پولیس فاو¿نڈیشن میں منیجنگ ڈائریکٹر کے طور پر تعینات گریڈ 21 کے افسر شعیب دستگیر کو تبدیل کر کے صوبائی پولیس افسر (آئی جی) حکومت پنجاب تعینات کیا۔ اس سے قبل وفاقی حکومت نے 15 اپریل 2019ءکو امجد جاوید سلیمی کو ہٹا کر کیپٹن (ر) عارف نواز خان کو آئی جی پنجاب مقرر کیا تھا جو اس عہدے پر ان کی دوسری تقرری تھی۔ کیپٹن (ر) عارف نواز کو 25 جولائی 2017ءکو لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے اس وقت کے قائم مقام آئی جی عثمان خٹک کو مستقل آئی جی بنانے کا نوٹی فکیشن معطل کیے جانے کے بعد آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا تھا۔ وفاقی حکومت نے گزشتہ ایک برس کے دوران متعدد مرتبہ آئی پنجاب کو تبدیل کیا جس پر انہیں تنقید کا بھی سامنا کرنا پڑا۔گزشتہ برس اکتوبر میں حکومت نے ایک ماہ میں دوسری مرتبہ تبدیلی کرتے ہوئے امجد جاوید سلیمی کو 9 اکتوبر 2018ءکو محمد طاہر کی جگہ آئی جی پنجاب تعینات کر دیا تھا۔ بعد ازاں چیئرمین پنجاب پولیس ریفارمزکمیشن ناصر درانی نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ علاوہ ازیں وفاقی حکومت نے پنجاب کے چیف سیکریٹری یوسف نسیم کھوکھر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا اور ان کی جگہ سیکریٹری داخلہ میجر ریٹائرڈ اعظم سلیمان خان کو نیا چیف سیکریٹری پنجاب تعینات کیا۔ یہ تبدیلیاں وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار اور وزیر اعظم عمران خان کے درمیاں ہونے والی ملاقاتوں کے بعد عمل میں آئی ہیں۔

پنجاب پولیس کا سربراہ پانچویں بار تبدیل کیا گیا ہے، حکومت نے 14 ماہ کے دوران بار بار آئی جی کی تعیناتی کا ریکارڈ قائم کر لیا ہے۔ نگراں حکومت نے عارف نواز کو تبدیل کر کے کلیم امام کو آئی جی تعینات کیا تھا، موجودہ حکومت نے کلیم امام کے بعد امجد جاوید کی بطور آئی جی تعیناتی کی، چند ماہ بعد ہی امجد جاوید سلیمی کی جگہ محمد طاہر کو آئی جی پنجاب تعینات کیا گیا، محمد طاہر کے بعد پنجاب پولیس کے سر کا تاج عارف نواز کو پہنایا گیا، لیکن اس کے بعد حکومت نے عارف نواز کے بعد شعیب دستگیر کو نیا آئی جی پنجاب تعینات کر دیا ہے۔

تادم تحریر اطلاعات کے مطابق وزیر اعلیٰ ہاو¿س پنجاب میں 500 سے زائد پولیس افسران کے تبادلوں کی فہرست تیار کی گئی ہے جس میں ایڈیشنل آئی جی ڈی آئی، ایس ایس پی، ایس پی، ڈی ایس پی اور انسپکٹرز شامل ہیں، یہ تبادلے آئندہ 48 گھنٹوں میں ہونے کا امکان ہے۔ طویل عرصے سے لاہور میں پرکشش سیٹوں پر تعینات انسپکٹرز کو ضلع بدر کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے، جب کہ کرائم کنٹرول نہ ہونے پر سی سی پی او اور دیگر افسران کے تبادلوں پر غور کیا گیا ہے، ذرائع کے مطابق بلال صدیق کمیانہ سی سی پی او لاہور کے لیے مضبوط امیدوار ہیں۔

صوبائی اور وفاقی محکموں میں ٹرانسفرز کا عمل کوئی عجیب بات نہیں، وقت اور حالات کے مطابق ایسا کیا جاتا ہے جس کی قانون بھی اجازت دیتا ہے لیکن تبادلہ در تبادلہ کیا کسی مسئلے کا حل ہو سکتا ہے، جب یہ کام تواتر سے ہونے لگے تو اس سے ایک تاثر یہ ابھرتا ہے کہ بیوروکریسی اور حکومت کے درمیاں خلیج نما اختلافات ہیں، اور حکومت کو اپنی بات منوانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ اس مسئلے کا حل پولیس اور دیگر انتظامی شعبوں میں اصلاحات متعارف لانا اور ان پر سختی سے عمل درآمد کرنا ہے۔ کالم نویس چوہدری فرخ شہزاد اس حوالے سے لکھتے ہیں”چاہیے تو یہ تھا کہ جب پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار آئی تھی تو ان کے پاس اس وقت پولیس ریفارم کی کوئی پروپوزل ہوتی جسے برسراقتدار آتے ہی نافذ کر دیا جاتا مگر وزارت خزانہ کی طرح ان کے پاس اس ضمن میں کچھ بھی ریڈی میڈ نہیں تھا۔ ایسی صورت میں چاہیے تھا کہ گزشتہ حکومتوں کی طرح ایک بار پھر پولیس ریفارم پر کوئی کمیشن بنا کر ان سے سفارشات لی جاتیں مگر وہ بھی نہ ہوا۔ اب صورت حال یہ ہے کہ پولیس اور سول گورنمنٹ کی کارکردگی کا سارا بوجھ عثمان بزدار کے ناتواں اور نا تجربہ کار کندھوں پر ہے جسے وہ اپنی سمجھ کے مطابق دھکیل رہے ہیں۔ ڈیڑھ سال کا عرصہ گزر چکا ہے باقی بھی اسی طرح گزر جائے گا۔۔۔۔۔۔ پولیس کو اگر سیاسی مداخلت سے پاک کر دیں تو پولیس کے 80 فیصد مسائل حل ہو جائیں گے یہ سیاسی مداخلت تھانہ سے لے کر آئی جی آفس تک ہوتی ہے جس کا سب کو پتہ ہے۔ ایک چھوٹی سی مثال کافی ہو گی۔ رخصت ہونے والے آئی جی کیپٹن عارف نواز نے پولیس رولز میں سختی سے تاکید کی تھی کہ کسی ایک ضلع میں تین سال تعینات رہنے والے پولیس افسر کی اس ضلع میں دوسری پوسٹنگ نہیں دی جائے گی۔ مگر انہوں نے اپنے ہی بنائے ہوئے قانون کو توڑتے ہوئے سردار آصف خان کو حال ہی میں چیف ٹریفک آفیسر فیصل آباد تعینات کیا جو اپنی لاہور تعیناتی سے پہلے فیصل آباد میں 3 سال سے زیادہ کا عرصہ تعینات رہ چکے تھے۔ اس کا پس منظر یہ تھا فیصل آباد میں ٹرانسپورٹ کے بہت بڑے بڑے گروپ ہیں جن کے مالکان ہر اسمبلی کا حصہ ہوتے ہیں۔ یہ عناصر اپنے کاروبار پر گرفت کے لیے براہ راست چیف ٹریفک آفیسر کے ساتھ گٹھ جوڑ کرتے ہیں تا کہ ان کی گاڑیوں کے روٹ اور چالان کے مسائل نہ ہوں۔ سردار آصف رضا کا تعلق اس گروپ کے ساتھ کافی گہرا ہے لہٰذا وہ ان کے مفادات کے نگران بن کر ایک دفعہ پھر سی ٹی او فیصل آباد ہیں ایسی اور بہت سی مثالیں ہیں آئی جی کی تبدیلی نظام کی تبدیلی نہیں۔“

وقت گزرتا جا رہا ہے اور ارباب اختیار کو شائد ابھی تک حقیقی مسائل کا ادراک ہی نہیں ہو پایا ہے، ”ہاں یہ ضرور ہوا ہے کہ عمران خان کی سیاست ایک اہم موڑ پر آ گئی ہے۔ وہ اپنی ممکنہ مدت کا ایک چوتھائی گزار چکے ہیں۔ ان کے پاس وقت اب بہت زیادہ نہیں رہا۔ اگلے سال ڈیڑھ، دو میں انہیںکچھ کر دکھانا ہے۔ عمران خان سے اب سوال ہو رہے ہیں کہ جو وعدے انہوں نے کئے تھے، ان پر کس حد تک پورے اترے؟ یہ جائز سوال ہیں، خان صاحب کو ان کا جواب دینا پڑے گا۔ صرف جذباتی نعروں اور دھواں دھار تقریروں سے بات نہیں نبھ سکتی۔ لوگ اتنے بے وقوف بھی نہیں کہ صرف لفظوں سے بہل جائیں۔ لیکن ابھی امتحان اور بھی ہیں اور دیکھتے ہیں ان امتحانات میں حکومت کتنے مارکس حاصل کرتے ہیں۔ بہرکیف سیاسی حکمت اور منطق تو یہ کہتی ہے کہ چیزوںکودوبارہ لائن اپ کیا جائے، بعض چیزیں Re-Setکی جائےں، کم ازکم پرائس کنٹرول کمیٹیوں کو تو فعال کیا جائے تاکہ عوام سکھ کا سانس لے سکیں۔ ٹیم اچھی بنائیں، کیوں کہ ان پر یہ سب سے بڑا الزام ہے کہ انہوں نے ٹیم کے انتخاب میں انتہائی بے احتیاطی سے کام لیا۔ اہم عہدوں پر بہترین لوگ نہیں لگائے گئے۔انہوں نے نااہل، اور متنازع دوستوں کو عہدے دئیے۔ دہری شہریت کے حامل، افراد کو خصوصی معاون بنایا؟میڈیا کے حوالے سے بعض نہایت متنازع شخصیات کو اہم ذمہ داری دی گئی۔کئی غیر محتاط لوگوں کو اہم وزارتیں دیں۔ شیخ رشید جیسے بے لگام وزرا کو بھی ڈسپلن میں نہیں رکھا۔ سب سے بڑھ کر پنجاب کی وزارت اعلیٰ کے لئے عثمان بزدار اور کے پی کے میں محمود خان کو لگایا۔ عمران خان کے سوا پورے صوبے میں شائد ہی دو چار لوگ ہوں گے جو بزدار صاحب کو وزیراعلیٰ بنانے کا دفاع کر سکیں۔ یہ نہایت غلط فیصلہ تھا، سوا سال سے خان صاحب مگر اس پر ناحق اڑے ہوئے ہیں۔ نظام میں تبدیلی ان کا اہم ترین نعرہ تھا۔ اس حوالے سے کچھ بھی نہیں ہو رہا۔ پنجاب میں پولیس گردی اہم ترین ایشو ہے۔ اس پر کچھ بھی نہیں کیا جا رہا۔ اصلاحات کے نام پر محکمہ صحت، پنجاب، کے پی کے میں فساد، انتشار برپا ہے۔تعلیم کے حوالے سے کچھ غیر معمولی نہیں کیا جا رہا۔دیگر شعبوں میں بھی اصلاحات نام کی نہیں۔

عمران کو چاہئے کہ اس بات کا ادراک کر لیں کہ اب وہ پاکستان کے وزیراعظم ہیں، لہٰذا تبدیلوں کو چھوڑیں اور اس تبدیلی کی طرف توجہ دیں جس کا وعدہ کر کے وہ اقتدار میں آئے تھے، اس کے ساتھ اپنا روزبیان ذرا کم کریں، اور جو نعرے لگا اور وعدے کر چکے ہیں ان پر کام شروع کریں، رکاوٹیں آئیں گی، مگر ڈٹے رہے تو سال ڈیڑھ کے اندر ہی بہت کچھ ٹھیک ہوجائے گا۔ عمران خان کچھ کر دکھائیں، تب ہی انہیں اگلی بار ووٹ ملیں گے۔ ان کے پاس وقت کم ہے، اب تاخیر کی گنجائش ہے نہ خطابات کی بلکہ یہ وقت عمل کا ہے جو انہیں بہرحال کرنا ہوگا۔


ای پیپر