فائل فوٹو

الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اتفاق
03 دسمبر 2019 (15:59) 2019-12-03

اسلام آباد: ایک سال بعد الیکشن کمیشن کے 2 ارکان کی تقرری پر حکومت اور اپوزیشن میں اہم پیش رفت ہو گئی ہے اور حکومت کو بلوچستان جبکہ اپوزیشن کو سندھ کے ممبر کا نام دینے پر اتفاق ہوا ہے۔

الیکشن کمیشن کے ارکان کی تقرری کے لئے وفاقی وزیر انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی کا ان کیمرہ اجلاس ہوا۔ اجلاس میں سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کے لئے نامزدگیوں کا جائزہ لیا گیا۔

حکومت اور اپوزیشن نے ابتدائی طور پر دونوں طرف سے ایک، ایک ممبر لینے پر اتفاق کر لیا ہے۔ حکومت کو بلوچستان جبکہ اپوزیشن کو سندھ کے ممبر کا نام دینے پر اتفاق ہوا ہے۔

پارلیمانی کمیٹی نے بلوچستان سے وزیراعظم عمران خان کے تجویز کردہ نوید جان بلوچ کے نام پر اتفاق ہو گیا ہے۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی میں ممبر سندھ کے لیے آج اتفاق نہیں ہو سکا اور دونوں اپوزیشن جماعتیں ایک نام پر متفق ہونے کے لئے کوشاں ہیں۔

اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے شیریں مزاری نے بتایا کہ اپوزیشن اور حکومت کا الیکشن کمیشن ارکان کی تقرری اور باہمی تعاون پر اتفاق ہو گیا ہے۔

اپوزیشن نے مشاورت کے لئے وقت مانگا ہے اور کل 2 بجے دوبارہ پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس ہو گا جس کے بعد انشاءاللہ قومی اسمبلی اجلاس سے قبل ممبران کے ناموں کا اعلان کر دیا جائے گا۔

سندھ اور بلوچستان کے الیکشن کمیشن ارکان 26 جنوری کو ریٹائر ہو گئے تھے اور آئین کے مطابق 45 روز کے اندر نئے ممبران کی تقرری ضروری ہے لیکن حکومت اور اپوزیشن کے درمیان اختلافات کی وجہ سے اس میں تقریبا ایک سال کی تاخیر ہو گئی ہے۔ چیف الیکشن کمشنر جسٹس (ر) سردار رضا کی مدت ملازمت بھی 6 دسمبر کو ختم ہو جائے گی۔

قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف شہباز شریف اور وزیر اعظم عمران خان نے سندھ اور بلوچستان سے الیکشن کمیشن کے ممبران کی تقرری کے لیے 3، 3 مجوزہ نام دیے ہیں۔

وزیراعظم نے سندھ کے لیے جسٹس ریٹائرڈ صادق بھٹی، جسٹس ریٹائرڈ نورالحق قریشی اور عبدالجبار قریشی جب کہ بلوچستان کے لیے ڈاکٹر فیض محمد کاکٹر، میر نوید جان بلوچ اور امان اللہ بلوچ کے نام تجویز کیے ہیں۔

شہباز شریف نے نئے چیف الیکشن کمشنر کے لیے ناصر محمود کھوسہ، جلیل عباس جیلانی اور اخلاق احمد تارڑ کے نام تجویز کیے ہیں جبکہ دو ارکان کی تقرری کے لیے بلوچستان سے شاہ محمود جتوئی ایڈووکیٹ، سابق ایڈووکیٹ جنرل محمد رؤف عطاء اور راحیلہ درانی جب کہ سندھ کے لئے نثار درانی، جسٹس(ر) عبدالرسول میمن اور اورنگزیب حق کے نام تجویز کئے ہیں۔


ای پیپر