ہم منصف مصروف بہت ہیں، چیف جسٹس
03 دسمبر 2019 2019-12-03

قارئین محترم ، اپنے وطن عزیز کی اعلیٰ وارفع اور نچلی عدالتوں کے بارے میں ”قلم کشائی“ کرنے سے پہلے اعلیٰ ترین تو نہیں ، مگر ایک منصف اعلیٰ کے چند اشعار جو ان کی طویل ترین نظم سے لیے ہیں، پیش خدمت ہیں، لکھتے ہیں ایوان عدل کے باہر عدل جہانگیری کی روایات انصاف کا اظہار یوں کیا ہوا ہے

باہر ہیں زنجیریں لٹکی

دروازوں پہ لکھا ہے، انصاف ملے گا

جب فریادی در پہ آئے

پوچھے اُس سے درباں آکر

کوئی لفافہ کوئی چٹھی لے آئے ہو؟

فریادی یہ سن کر بولے، میں دھرتی کا باشندہ ہوں، میرا حق پامال ہوا ہے

جاﺅ بولو اُس سے درباں

دھرتی کے قانون مطابق ، عرضی لکھ کر لائے پہلے

اپنا ایک وکیل کرے، اخراجات عدل بھی دے وہ

پھر ہم اُس کی بات سنیں گے ہم منصف مصروف بہت ہیں

پچھلے دنوں سپہ سالار پاکستان قمر جاوید باجوہ کی توسیع کا معاملہ جسے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس جناب آصف سعید کھوسہ نے ازخود نوٹس میں بدل کر قانونی سقم کی نشاندہی کی، انہوں نے جمعرات والے دن تک مہلت دے کر یہ کہا تھا کہ اٹارنی جنرل سمیت دیگر ماہرین قانون عدالت میں اپنے دلائل دیں، ورنہ عدالت اس کا فیصلہ خود کردے گی۔

چونکہ سابقہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار صاحب ”چوکیدار ڈیم بھاشا“ نے کہا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلہ جات کے خلاف تبصرہ وتنقید کا ہر شہری کو حق حاصل ہے، کیونکہ یہ حقوق انساں میں شامل ہوتا ہے، لہٰذا میں سمجھتا ہوں کہ ہم اس پر لب کشائی کے ساتھ ساتھ قلم کشائی بھی کرسکتے ہیں، میں سمجھتا ہوںکہ جمعرات والے دن کے فیصلے کے مطابق ملک میں، ایک سلسلہ تکرار ، توں توں اور میں میں کی نقاب کشائی کردی گئی ہے، چھ ماہ کے عرصے میں جناب آصف سعید کھوسہ صاحب تو ریٹائرہوجائیں گے، مگر یہ مسئلہ جوں کا توں رہ جائے گا، عدالت عظمیٰ میں یہ آواز بھی بلند ہوئی تھی، کہ یہ قانون انگریزوں کا بنایا ہوا ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے، کہ اگر یہ انگریزوں کا بنایا ہوا قانون ہے، تو یہ قانون بھارت میں بھی لاگو ہوگا، مگر کیا وجہ ہے کہ وہاں بہتر سالوں میں ایک بھی مارشل لاءنہیں لگا، جبکہ ہم جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاءالحق ، جنرل مشرف وغیرہ کو بھگتا چکے ہیں، کیا یہ عدالت عظمیٰ کے چیف جسٹس نہیں تھے، کہ جنہوں نے”نظریہ ضرورت“ ایجاد کرکے مارشل لاءکو قانونی حیثیت دے کر جمہوریت کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر مستقبل میں آمریت کی راہ ہموار کردی۔ جناب چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے مشرف کی تقلید میں ہوا میں مکے لہرائے، اور فرمایا اب اس کا فیصلہ بھی آنے والا ہے، مگر وہ تو خود چیف ہوکر دوسرے چیف کا فیصلہ مصروف ہونے کی بنا پر خود نہ کرسکے، مگر ہمیں تو یوں دکھائی دیتا ہے کہ ساٹھ سالہ چیف جسٹس کے مقابلے میں تقریباً اسی سالہ عسکری چیف کے مکے میں زیادہ طاقت ہے، جیسے جنرل عبداللہ نیازی اور جنرل یحییٰ خان، میں ایسی ان دیکھی طاقت تھی کہ انہیں پاکستان کو دو لخت کرنے کے اعزاز واحترام کی بنا پر پاکستانی پرچم میں لپیٹ کر فوجی سلامی کے ساتھ وطن کی مٹی میں سپرد خاک کرکے سقوط ڈھاکہ کے حقائق کو بھی کفن کے ساتھ دفن کردیا گیا تھا۔

قوم کی دل جوئی، تسلی و تشفی کے لیے ایک عدالتی کمیشن جسٹس حمود الرحمن بنایا گیا، جس نے اپنی رپورٹ میں جس کو مورد الزام ٹھہرایا، وہ منظر عام پر ابھی تک کیوں قوم کے سامنے نہیں لائی گئی، اب ہم ملتجی ہیں جناب جسٹس آصف سعید کھوسہ سے کہ جو بقول ان کے کسی کے دباﺅ پہ نہیں آتے، کسی بھی دباﺅ میں آئے بغیر اس کی رپورٹ کو قوم کے سامنے پیش کیا جائے، تاکہ 1971ءکے بعد ذمہ داران کا تعین کرکے آئندہ اس حوالے سے ”بھارتی مکتی باہنی“ کا داخلہ بلوچستان میں بھی بند کیا جاسکے۔ ایک اور بات جو میرے ذہن میں بار بار آتی ہے، وہ یہ سوال ہے کہ سپریم کورٹ کو تو یہ اختیار حاصل ہے، کہ وہ قانونی موشگافیوں کی تشریح کرسکتی ہے، ایک ایسی قومی اسمبلی ، جو قانون سازی کی بجائے آرڈی ننس کا سہارا لینے پہ اکتفا کرتی ہو تو اس نازک مرحلے پہ سپریم کورٹ کے ججوں کا تنخواہ لینا رزق حلال ہے؟ لیکن کسی سے کیا گلہ کرنا سابقہ چیف جسٹس جناب ثاقب نثار نے قوم سے وعدہ کیا تھا، کہ بھاشااور مہمند ڈیم کے لیے چندہ دیں، اور قوم نے دل وجان سے ان کا ساتھ دیا، اور 9.2بلین ان کے سپرد کیا، کیونکہ ثاقب نثار صاحب نے کہا تھا، کہ ان پیسوں کی ضمانت سپریم کورٹ کی ہے، اور یہ بھی کہا تھا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد میں بھاشا ڈیم کا چوکیدار بننا زیادہ پسند کروں گا۔ مگر قوم کو بالکل نہیں پتہ کہ جسٹس ثاقب نثار کہاں گئے، اور ان اربوں روپوں کا کیا بنا؟ حالانکہ سابق چور اور ڈاکو جو اربوں روپوﺅں کی زمین خرید گئے تھے اس کا کیا بنا؟ اب نہ تو قوم کو پیسوں کا پتہ ہے اور نہ ہی چیف جسٹس کا کہ وہ کہاں ہیں کیونکہ پاکستان کے سابق چیف جسٹس نے تو اب یہ کہنا شروع کردیا ہے، کہ دراصل میں مہمند اور بھاشا ڈیم کا نام لے کر قوم کا شعور بلند کرنا چاہتا تھا کہ ان کا پانی کے بارے میں شعور بلند ہو سابقہ چیف جسٹس ثاقب نثار کے بچوں کے چچا ملک کے بلکہ پیپلزپارٹی کے جیالے جنہوں نے شاید جلسوں، اور جلوسوں میں دھوپ میں بال سفید کرلیے ہیں، فرماتے ہیں، کہ چیف جسٹس جناب کھوسہ صاحب تو سپہ سالار قمر جاوید باجوہ کا کیس سننے کے مجاز ہی نہیں، مگر وزیراعظم اسلامی مملکت پاکستان کے حق گو وزیراعظم نے تو خود کہا تھا کہ جب میں حالت کنٹینرپہ تھا، تو جناب آصف سعید کھوسہ صاحب نے مجھے پیغام بھجوایا تھا کہ فلاں سال میں میرے پاس آنا، میں تمہاری شنوائی کروں گا، غلطی ہر انسان سے ممکن ہے، کیا یہ غلطی کسی جسٹس کی نہیں جنہوں نے رسول پاک ، جیسی ہستی کے ناموس کا تقدس نہ رکھتے ہوئے عمران خان کو صادق اور امین کہہ دیا تھا، غلطی ہرایک سے ممکن ہے کیا آصف سعید کھوسہ کے سسر محترم نے ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی کا حکم نامہ دینے کے کئی سال بعد وفات سے قبل یہ نہیں کہا تھا کہ بھٹو صاحب کی پھانسی عدالتی قتل تھا، اور میں قوم سے معافی مانگتا ہوں۔ جہاں تک سپہ سالار کی توسیع کا مسئلہ ہے، بہتر یہ تھا کہ باجوہ صاحب توسیع لینے سے خود انکار کردیتے جب بھی وہ ریٹائرہوں گے ان کی جگہ لینے کے قابل فوج کے پاس کوئی دوسرا کمانڈر نہیں ہوگا، حالانکہ وقت پہ تو ریٹائر ہوکر سپہ سالار امت مسلمہ کے سالار اعظم بن جاتے ہیں۔

قارئین اب اس بات پہ غور کریں، فوج کا ہر افسر حلف اٹھاتا ہے کہ وہ سیاست میں بالکل حصہ نہیں لے گا .... مگر اب تو حکومت اور فوج بڑے دھڑلے سے روزانہ اعلان کرتے ہیں کہ بہتر سال میں پہلی دفعہ فوج اور حکومت ایک صفحے پہ ہیں اور سپہ سالار ہر کابینہ میٹنگ میں بھی بیٹھے ہوتے ہیں، اور تاریخ میں پہلی دفعہ پوری کابینہ کو جی ایچ کیو بلا لیا تھا کیا یہ حلف سے وفاداری ہے؟ اگر وفاداری نہیں تو کیا ہے؟

کیونکہ آصف سعید کھوسہ صاحب کی سماعت توسیع کے بعد عمران خان، چور، ڈاکو کے بعد اب مافیا، مافیا کہنا شروع ہوگئے ہیں حدتو یہ ہے کہ اب سکھ یاتری تحفتاً اور عقیدتاً کرتار پور ٹماٹر لے کر آتے ہیں، مگر ہم نے سنا ہے ملک کی معیشت بہت بہتر ہے۔


ای پیپر