تبدیلی و تبادلہ سرکار!
03 دسمبر 2019 2019-12-03

گزشتہ ہفتے ہمارے محترم وزیراعظم خان صاحب لاہور تشریف لائے۔ اُن کی مہربانی اُنہوں نے یاد کیا پر پیغام رساں کی خدمت میں عرض کیا ”عمران خان سے ملنے کی ہروقت خواہش دل میں رہتی تھی، وزیراعظم عمران خان سے ملنے کی کوئی خواہش دل میں نہیں ہے، اللہ کرے وہ کارکردگی کے اعتبار سے خود کو کسی منفرد مقام پر لے آئیں، پھر ہم خود اُن سے بار بار ملاقات کی خواہش اور گزارش کریں گے“ .... وہ جب سے وزیراعظم بنے ہیں اندرون ملک سب سے زیادہ دورے اُنہیں لاہور کے پڑے۔ ہمیں یاد ہے سب ذراذرا، اُنہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو وہ جب وزیراعظم نہیں تھے تو سابق حکمران اعظم نواز شریف پر ایک تنقید وہ یہ بھی کیا کرتے تھے” وہ لاہور بہت آتے ہیں “ .... اب خان صاحب لاہورکے زیادہ دورے شاید اس لیے کرتے ہیں کہ پنجاب کے وزیراعلیٰ کا ”اضافی چارج“ بھی ان ہی کے پاس ہے، بزدار صاحب کو تومحض ذلیل کروانے کے لیے رکھا ہوا ہے، جس قسم کی ہمارے محترم وزیراعظم کی کارکردگی ہے اُس کے بعد ہم یہ توقع کرنے میں حق بجانب ہیں وزیراعلیٰ بزدار کی ”گڈلک“ نے مزید ساتھ دیا، وہ وزارت عظمیٰ کے منصب پر فائز ہوگئے، اِس منصب کو وہ بھی اُسی طرح بڑی آسانی سے چلا لیں گے جس طرح خان صاحب بڑی آسانی سے چلا رہے ہیں، پاکستان کا یہ شاید واحد منصب ہے جس پر بیٹھا کوئی اور ہوتا ہے، اُسے چلا کوئی اور رہا ہوتا ہے، ہمارے طاقتور حلقے جس طرح کا وزیراعظم لے کر آئے، وہ آگے سے پنجاب میں اُسی طرح کا وزیراعلیٰ لے کر آگیا ہے، اب ”خوب گزررہی ہے مل بیٹھے ہیں جو دیوانے دو“ .... ہم تو دعا ہی کرسکتے ہیں اس ملک کی جان ”ڈاکو ٹولے“ سے چھوٹ کر ”نااہل ٹولے“ کے ہاتھ میں آہی گئی ہے کہیں یہ ثابت نہ ہو جائے نااہلی، ڈاکو پن سے زیادہ مہلک ہے، کہیں یہ ثابت نہ ہو جائے کسی ملک کو اتنا نقصان کرپشن نہیں پہنچاتی جتنا نااہلی پہنچاتی ہے، ....نااہلی کی انتہا ہم نے آرمی چیف کو ایکسٹینشن دینے کے نوٹیفکیشن کے معاملے میں دیکھ لی، جس طرح ملک کے ایک اہم اور حساس عہدے اور ادارے کی جگ ہنسائی اور رسوائی ہوئی ماضی میں اُس کی کوئی مثال نہیں ملتی، بدتمیزیوں، بداخلاقیوں، بدانتظامیوں اور نااہلیوں کی نت نئی مثالیں قائم کرنے میں موجودہ حکمرانوں کا کوئی ثانی ہی نہیں ہے، اپنی ایک ہی ”خوبی“ بلکہ مبینہ خوبی کا پرچار مسلسل وہ کرتے جارہے ہیں کہ ہم ایماندار بہت ہیں، ایمانداری اُن کے نزدیک صرف کرپشن نہ کرنے کا نام ہے، دوسرے گناہ جن کی سزائیں ہمارے دین میں کرپشن کی سزاﺅں سے زیادہ سخت ہیں اُن گناہوں کی ان کے نزدیک کوئی اہمیت ہی نہیں ہے.... محترم وزیراعظم سے بس اتنی گزارش ہے پاکستان کو ریاست مدینہ بنانے کی بات کرنا چھوڑ دیں، وہ پاکستان کو ”پاکستان “ ہی بنادیں ہم ان کے شکر گزار ہوں گے، پاکستان کو ”ناپاکستان“ بنانے کی جو کوششیں اور کاوشیں دانستہ یا غیر دانستہ طورپر کی جارہی ہیں، پاکستان کو ٹوٹ کر چاہنے والے اُس پر دل گرفتہ ہیں، اُمید کا دامن اب بھی ہاتھ سے ہم نے مگر نہیں چھوڑا، اُمید کا دامن شاید اس لیے اب بھی ہمارے ہاتھوں سے نہیں چھُوٹ رہا کہ یہ ”چراغ“ بھی خدانخواستہ گُل ہو گیا آگے اندھیروں کا نہ ختم ہونے والا اِک سفر ہے۔ اللہ کی قسم ہم دِل سے خان صاحب کو کامیاب ہوتے ہوئے دیکھنا چاہتے ہیں، ہم نے برسوں اِس کے لیے جدوجہد کی ہے، مگر اُن کی بعض حرکتوں پر دل دُکھتا ہے تو یہ درد اس لیے کاغذ پر اُتر آتا ہے کہ سند رہے ہم نے اِس ملک اور اُس کے کروڑوں مظلوم اور بے بس لوگوں کی محبت میں اپنی چوبیس سالہ رفاقت کی پروا بھی نہیں کی تھی، .... اپنے گزشتہ ہفتے کے دورہ لاہور میں محترم وزیراعظم نے پنجاب میں نئے تعینات ہونے والے افسران سے خطاب کیا، اس خطاب میں انہوں نے کوئی نئی بات نہیں کی۔ اسی طرح کا خطاب اُنہوں نے وزیراعظم بننے کے فوراً بعد اسلام آباد میں پاکستان کی تقریباً ساری بیوروکریسی کو اکٹھا کر کے کہا تھا،تب بھی اُنہوں نے یہی فرمایا تھا ”آپ آزادی کے ساتھ کام کریں، کسی قسم کی سیاسی مداخلت قبول نہ کریں، آپ کو ہرطرح کا تحفظ فراہم کیا جائے گا“ ....اب اس طرح کی باتیں ہفتے کو لاہور میں افسران سے خطاب کرتے

ہوئے اُنہوں نے کہیں، مسئلہ اصل میں یہ ہے باتیں وہ بہت کرتے ہیں، ایک شعر اِس حوالے سے چند روز پہلے میں نے اُنہیں واٹس ایپ پر بھیجا تھا ” یہ درست ہے کام چلایا باتوں سے ہم نے .... اگرچہ بات بھی آئی ہمیں بنانی کہاں“ کچھ عرصہ قبل لکھا بھی تھا ”اِس ملک میں دو وزیراعظم ہونے چاہیئں ، ایک باتیں اور تقریریں وغیرہ کرنے کے لیے، دوسرا ملک چلانے کے لیے ....کاش ہمارے محترم خان صاحب نے جہاں اپنی طرف سے میرٹ پر تعینات ہونے والے ”ایماندار افسروں“ کو اکٹھا کرکے اُن سے خطاب کیا اور وہاں موجود افسران کو زبانیں بند رکھنے کی پوری اجازت عنایت فرمائی، وہاں وہ ان افسروں کو بھی بلالیتے جنہیں مختصر عرصے میں بار بار اُنہوں نے بلا ضرورت تبدیل کیا، اُن سے پوچھ لیتے وہ بے چارے اپنی اہلیت کا مظاہرہ کیوں نہیں کر پارہے؟ ہر دوتین مہینے بعد مختلف افسران کو محض اِس ”جرم“ میں تبدیل کردیا جاتا ہے ”وہ پرفارم نہیں کررہے“ ،....سوال یہ پیدا ہوتا ہے محترم وزیراعظم خود ڈیڑھ برس میں کوئی پرفارمنس نہیں دیکھا سکے تو بے چارے افسران ڈیڑھ دوماہ میں کوئی پرفارمنس کیسے دکھا سکتے ہیں؟ جبکہ تبادلے کا خوف بھی اُن کے سروں پر سوار ہو، محترم وزیراعظم ابھی تک اپنی کوئی کارکردگی نہ دکھا سکنے کا الزام مختلف ”مافیاز“پر دیتے ہیں، سب سے بڑا ”مافیا“ تو وہ ہے جو مختلف اقسام کے ان ”مافیاز“سے نمٹنے کی صلاحیت ہی نہیں رکھتا، ایک بڑا ”مافیا“ ہمارے کچھ ارکان اسمبلی کی صورت میں بھی ہے، اِس ”مافیا“ کے چند ارکان اِدھر اُدھر ہو جائیں وزیراعظم کی ”کچی کرسی“ سلامت نہیں رہ سکتی، .... اپنی نااہلی اور خراب کارکردگی کو کب تک مختلف ”مافیاز “ کے کھاتے میں ڈال کر اپنا دامن بچانے کی ناکام کوشش وہ کرتے رہیں گے؟ اپنی حکمت عملی اُنہیں تبدیل کرنی چاہیے، جو صرف اچھی ٹیم کے ساتھ ہی وہ کرسکتے ہیں، آرمی چیف کی ایکسٹینشن کے معاملے میں اُن کی ”قانونی ٹیم“ بُری طرح ایکسپوز ہوگئی، اِس سے قبل اُن کی ”معاشی ٹیم“ بھی بری طرح ایکسپوز ہوچکی ہے جس کے نتیجے میں اُنہیں اپنا وزیر خزانہ جسے اپنی ٹیم کا وہ سب سے قابل رُکن قرار دیتے تھے تبدیل کرنا پڑا، اُن کی ”انتظامی ٹیم“ بھی بُری طرح ایکسپور ہوچکی ہے جس کا ایک ثبوت یہ ہے ہر دوسرے چوتھے مہینے تھوک کے حساب سے افسران اُنہیں تبدیل کرنا پڑ جاتے ہیں، اُن کی میڈیا ٹیم بھی مکمل طورپر نااہل ہے کہ اُن کی آٹے میں نمک کے برابر اچھی پالیسیوں کو بھی میڈیا کھل کر سپورٹ نہیں کررہا ۔ (جاری ہے)


ای پیپر