کارکر دگی کی بنیا د پر وزراءکو تبدیل کرنا پڑا تو کرینگے :وزیر اعظم عمران خان
03 دسمبر 2018 (20:05) 2018-12-03

اسلام آباد:وزیر اعظم عمران خان نے صحافیوں سے بات کر تے ہوئے کہا کہ ہماری حکومت اداروں کو مضبوط کرنے کی پوری کوشش کر رہی ہے ، معلومات وہ شخص چھپاتا ہے جسے کوئی خوف ہوتا ہے، میں چاہتا ہوں کہ ہماری حکومت شفاف ہو، سنسر شپ بری چیز ہے،انہوں نے کہا کہ اگر میرا کوئی وزیر بھی کوئی غلط کام کرے تو اس کو سامنے لایا جائے ،وزراءکی 100روزہ کارکردگی پر انہیں تبدیل کر نا پڑا تو کرینگے ۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ قبل از وقت انتخابات ہو سکتے ہیں، کپتان کی سٹریٹجی کسی وقت بھی تبدیل ہو سکتی ہے، عمران خان نے کہا کہ پچھلی حکومت 19ارب ڈالر کا خسارہ چھوڑ کر گئی ،ہم نے ملکی معیشت کے استحکام کیلئے دوست ملکوں سے مدد لی جن میں چین ،سعودی عرب اور یو اے ای شامل ہیں ،ہم اس وقت چین کے ماڈل پر چل رہے ہیں ،اتنی بحران میں حکومت پہلے کبھی نہیں تھی ۔میں نے اتنی محنت پہلے کبھی نہیں کی تھی جتنی اس سیٹ پر بیٹھ کر کر ہا ہوں صرف ایک دن چھٹی کی ہے ،وزراءنے اپنی اپنی کارکردگی مجھے بھیج دی ہے ،اس ہفتے سب کی فائل دیکھوں گا ہوسکتا ہے کچھ وزیروں کو تبدیل کرنا پڑے ۔

اداروں میں مداخلت کے حوالے سے بات کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ چیف جسٹس نے زلفی بخاری کے حوالے سے یہ کہا کہ اس میں فیورٹزم کا عنصر نظر آیا ہے جس پر مجھے بہت افسوس ہے کہ میں نے آج تک نمل ،شوکت خانم اور اپنے کرکٹ کے 10سالہ کیرئیر میں کبھی کسی کی کوئی حمایت نہیں کی ۔

وزیراعظم نے کہا کہ منی لانڈرنگ سے متعلق سخت قانون لا رہے ہیں، ہمیں تباہ حال معیشت ملی، ڈالر کا بڑھنا یا کم ہونے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں، بھارت کا نفرت پھیلانے کا منصوبہ روکنے کے لیے کرتارپور کھولا۔

وزیراعظم نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ جنوبی پنجاب صوبہ بنانا ایک لمبا مرحلہ ہے، ہو سکتا ہے ملک میں قبل از وقت انتخابات ہوں، آنے والے 10 دنوں میں وزارتوں میں بھی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں،وزیراعظم عمران خان نے منی لانڈرنگ سے متعلق سخت قانون لانے کا بھی اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ بڑے بڑے لوگ نام سامنے آنے سے ڈر رہے ہیں، گو سلو پالیسی والے افسران کو کامیاب نہیں ہونے دیں گے اور اگر اپوزیشن ساتھ نہیں چلنا چاہتی تو نہ چلے، شہباز شریف کو پبلک اکاو¿نٹس کمیٹی کا چیئرمین نہیں بنائیں گے۔

معاشی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں تباہ حال معیشت ملی، ڈالر کا بڑھنا یا کم ہونے میں حکومت کا کوئی کردار نہیں ہے،یہ سب سٹیٹ بینک کی وجہ سے ہوا ہے ۔ وزیراعظم نے ڈالر کی قیمت بڑھنے سے متعلق بھی انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ پہلے بھی جب ڈالر کی قیمت میں اضافہ ہوا تو ان کو علم نہیں تھا اور گزشتہ روز بھی انہیں اس حوالے سے ٹی وی سے پتا چلا، روپے کی قدر اسٹیٹ بینک نے گرائی تھی جو ایک اتھارٹی ہے اور خود یہ کام کرتے ہیں، انہوں نے ہم سے اس حوالے سے نہیں پوچھا لیکن اب ہم میکنزم بنارہے ہیں کہ اسٹیٹ بینک حکومت کو اعتماد میں لیے بغیر روپے کی قدر نہ گرائے۔

کرتارپور راہداری سے متعلق وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ ہم نے بھارت کے نفرت پھیلانے کا منصوبہ ناکام بنا دیا اور اس نفرت آمیز منصوبے کو روکنے کے لیے ہی کرتارپور کھولا، کرتارپور کھولنے کا مقصد کسی کو دھوکا دینا نہیں تھا جبکہ یہ فیصلہ گگلی نہیں ایک سیدھا سادہ فیصلہ ہے۔

100 روزہ پلان کے حوالے سے عمران خان نے کہا کہ اگر ایک پ±ل بھی بناتے ہیں تو وہ 100 دن میں نہیں بنتا، 100 دنوں میں حکومت کی سمت طے ہوتی ہے، ہم سرکاری اسپتالوں کو بہتر بنانے پر کام کررہے ہیں، ہیلتھ کارڈ پورے پاکستان میں لارہے ہیں،وزیراعظم نے کہا کہ جوغریب اپنا کیس نہیں لڑسکتا، حکومت اس غریب کو وکیل کرکے دے گی۔

انہوں نے کہا کہ ہم مسئلہ کشمیر کے حل کے لیے پرعزم ہیں، دونوں حکومتیں چاہیں تو یہ مسئلہ حل ہو سکتا ہے۔ وزیراعظم نے ایک بار پھر اپنے یوٹرن کے موقف کی حمایت کی اور کہا کہ یوٹرن عظیم لوگ ہی لیتے ہیں۔


ای پیپر