کراچی: تجاوزات مہم، سیاست کا شکار!
03 دسمبر 2018 2018-12-03

سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں کراچی ناجائز تجاوزات ختم کرنے کی مہم کے بارے میں سندھ حکومت گومگو کا شکار ہے ۔ شہر کے اہم تجارتی مراکز اور سڑکوں ایمپریس مارکیٹ، بولٹن مارکیٹ اور لی مارکیٹ سے شروع ہونے والی مہم اب شہر کی رہائشی بستیوں سے شہر کے شمال مشرق میں کئی میلوں تک ہاؤسنگ منصوبوں اور قدیمی گاؤں تک جا پہنچی ہے۔اس ضمن میں سندھ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے 300 سے زائدصفحات پر مشتمل ایک فہرست جاری کی ہے جس میں ہزاروں مقامات کو غیر قانونی قرار دیا گیا ہے۔یہ فہرست 2017 میں مرتب کی گئی تھی۔ بلڈنگ کنٹرول اتھارٹی نے شہر کے قریبی علاقوں میں جگہ جگہ پر انتباہ کے نوٹس بورڈ لگا دیئے ہیں کہ نہ کوئی تعمیرات کی جائے اور نہ زمین کی خریدوفروخت۔ نتیجے میں کراچی شہر میں جائیدادوں کی خریدوفروخت کا کاروبار تقریبا ختم ہو گیا ہے۔ وزیراعظم عمران خان نے حکومت کے ایک سو روز مکمل ہونے پر اربوں روپے کی زمین واگزار کرنے کا دعوا کیا تھا۔ جس کے بعد تجاوزات کے خلاف مہم میں سیاسی رنگ آگیا ہے۔عمران خان نے جب وزیراعظم ہاؤس اور گورنر ہاؤس اور دیگر بڑے سرکاری ہاؤسز کو ختم کرنے کا اعلان کیا تھا تب کوئی اندازہ نہ کرسکا کہ گورنر ہاؤسز سے شروع ہونے والی بات نیچے بستیوں تک بھی جائے گی۔

یہ درست ہے کہ گزشتہ کئی عشروں سے کراچی شہر کی عمودی ترقی ہوئی ہے۔ یہ ترقی افقی نہیں۔مستقبل پر نظر سے عاری اور منصوبہ بندی کے فقدان نے کراچی کو مسائلستان بنا دیا۔عمودی ترقی کے باوجود شہر کی پچاس فیصد آبادی کو واٹر سپلائی کی پائپ لائنیں نہیں ہیں۔ افقی ترقی کے لئے حکومت اور اس کے اداروں کو مواصلات اور شہری سہولیات کا لمبا اورمزید نیٹ ورک بنانا پڑتا۔ جو کہ شہری اور صوبائی حکومت کے ادارے نہ بنا سکے۔لہٰذا انہیں یہ آسان لگا کہ شہر کو عمودی ترقی کی طرف لے جائیں۔ نتیجے میں شہر میں تجارت اور کاروبار کا ارتکاز ہوا۔ عمودی ترقی کے لئے اچھی حکمرانی اور اچھی انتظامیہ کاری اہم ہوتی ہے۔ ان دونوں کا فقدان کراچی شہر کو دہشتگردی، کرائیم سمیت کئی مسائل کی طرف لے گیا۔

انہدامی مہم جب رہائشی بستیوں تک پہنچی تو سندھ حکومت خبردار ہوئی۔سندھ کابینہ نے تجاوزات کے خلاف مہم اور اس کے ممکنہ اثرات کا تفصیلی جائزہ لیا۔نہ صرف بعض قدیمی بستیاں بلکہ کئی کچی آبادیاں بھی اس کی لپیٹ میں رہی ہیں۔ سپریم کورٹ کا فیصلہ اپنی جگہ پر لیکن اس اقدام کے سماجی، معاشی اور سیاسی اثرات بھی مرتب ہونے ہیں۔گزشتہ تین عشروں کے دوران ملک کے بالائی علاقوں سے ہی نہیں بلکہ اندرون سندھ سے بھی بڑے پیمانے پر لوگ کراچی میں آکر بسے ہیں۔فاٹا

،وزیرستان، سوات کے آپریشن کے متاثرین بھی کراچی میں آکر آباد ہوئے۔ جبکہ 90 کے عشرے کے دوران بڑے پیمانے پر افغان پناہ گزین بھی کراچی میں آئے اور یہاں پر کاروبار کرنے لگے۔ ان تمام لوگوں کا بے گھر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک انتظامی مسئلہ بھی کھڑا ہورہا تھا۔کابینہ نے تجاوزات اور ناجائز قبضے کے خلاف جاری آپریشن کے دوران قدیم گاؤں اور رہائشی بستیوں کو منہدم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے کے ایم سی سمیت تمام اداروں کو آبادیوں کے خلاف کارروائی روکنے کا حکم دے دیا ہے۔ حکومت کا کہنا ہے کہ وہ کسی کو بے گھر نہیں کرے گی۔وزیراعلیٰ کا کہنا ہے کہ غیر قانونی قبضوں کے خلاف بھرپور ایکشن جاری رکھا جائے گا۔ لیکن رہائشی بستیوں کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔ کراچی کے وہ گاؤں یادیگر بستیاں جن کی لیز نہیں ہے، یا غیر قانونی قرار دی گئی ہیں۔ وہاں ہزاروں لوگ آباد ہیں ان کے خلاف کارروائی نہیں کی جائے گی۔

سپریم کورٹ کے فیصلے پر قانونی رائے دیتے ہوئے اطلاعات و قانون کے مشیر مرتضیٰ وہاب نے کہا کہ سپریم کورٹ نے ان مقامات اور سڑکوں سے تجاوزات ہٹانے کی ہدایت کی ہے۔ جہاں لوگوں کو آمدرفت میں مشکلات درپیش آرہی ہیں۔ رہائشی بستیوں کا ذکر نہیں کیا گیا۔ صنعتی پلاٹوں پر غیر قانونی طور پر کمرشل تعمیرات ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔

اگرچہ سندھ حکومت نے رہائشی بستیاں منہدم نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے، لیکن وہ گومگو کا بھی شکار ہے۔صوبائی حکومت کے اس فیصلے کے نتیجے میں تجاوزات اور قبضوں کے خلاف مہم تعطل کا شکار ہو جائے گی۔ابھی تک کوئی بھی سیاسی جماعت یا کوئی سرکاری اور غیر سرکاری ادارہ یہ طے نہیں کرسکا ہے کہ اس انہدامی مہم کے شہر کی زندگی پر کیا اثرات مرتب ہونگے؟ عدالتی فیصلہ جماعت اسلامی کی درخواست پر آیا ہے۔لیکن اب جوصورتحال بن رہی ہے ، جماعت اسلامی بھی اس کی حمایت نہیں کر پا رہی۔ تجاوزات ہٹانے کی مہم کی زد میں مہاجر آبادی بھی آرہی ہے۔ لیکن ایم کیو ایم اور اس کی کوکھ سے جنم لینے والے گروپ اس بات پر خوش ہیں کہ نوے کے عشرے کے بعد جو لوگ ’’باہر سے‘‘ آئے ان کو شہر کے مرکزی علاقوں سے ہٹایا جارہا ہے۔ ایم کیو ایم کی یہ پرانی خواہش بھی تھی اور کوشش بھی۔

سپریم کورٹ کے فیصلہ کے بعد یہ کون طے کرے گا کہ کس تاریخ یا سال کو ’’ کٹ ڈیٹ‘‘ قرار دیا جائے؟ اگر 70 کے عشرے کے بعد ہر عشرے کے اپنے اپنے رخ ہیں۔ 80کا عشرہ جنرل ضیاء الحق کا کہلاتا ہے۔ جب افغان پناہ گزین اور دیگر غیر ملکی تارکین وطن آنا شروع ہوئے اور اسی عشرے کے آخر میں ایم کیو ایم وجودد میں آئی اور اس نے بلدیاتی انتخابات جیتے۔ 90 کے عشرے میں سویلین دور رہا۔صوبے میں پیپلزپارٹی کی حکومت آتی جاتی رہی۔ ایم کیو ایم کسی نہ کسی طرح سے اقتدار کا حصہ رہی۔مشرف دور میں ایم کیو ایم کا باقاعدہ راج رہا۔ وہ سفیدو سیاہ کی مالک بنی رہی اور یہ سلسلہ 2008 تک رہا۔ اس کے بعد بھی شہر پر کنٹرول ایم کیو ایم کا ہی رہا۔ 2014 کے بعد جب کراچی میں آپریشن شروع ہوا تب شہر پر ایم کیو ایم کی گرفت کمزور پڑی۔ 2008 کے بعد پیپلزپارٹی صوبے میں مسلسل اقتدار میں رہی۔اس عرصے میں حکومت نے نئی ہاؤسنگ اسکیمیں نہیں بنائی۔حکومت کی اس ناکامی پر لوگوں نے اپنے طور پر مسئلہ کا حل تلاش کرنا شروع کیا۔ نتیجے میں ہزاروں کچی آبادیاں وجود میں آئیں۔

بلاشبہ شہر کو منصوبہ بندی کی ضرورت ہے۔ کیونکہ شہر کی موجودہ آبادی کو بھی شہری سہولیات حاصل نہیں۔ ماہرین کے مطابق آئندہ دس سال میں شہر کی آبادی میں بیس فیصد کا مزید اضافہ ہو جائے گا۔دیکھنا یہ ہے کہ سپریم کورٹ اور حکومت سندھ کیا فیصلہ اور اقدامات کرتے ہیں؟ تاہم تجاوزات اور ناجائز قبضوں کے خلاف مہم اب تعطل کا ہی نہیں سیاست کا شکار ہو رہی ہے۔


ای پیپر